ہم بدعنوان کیوں ہیں؟ (2)


mujahid hussain01پہلی قسط میں ہم میاں منظور احمد وٹو کے صاحبزادے کی شادی میں ارکان اسمبلی کی طرف سے پیش کیے گئے ’تحائف‘ تک پہنچے تھے۔ اگر اپنی رپورٹنگ کے تاریخ وار بیان کو جاری رکھوں تو اگلا واقعہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے ایک انتہائی متقی ، دین و وطن کے زبردست رکھوالے اور جہاد عام کے پرچارک جناب جنرل حمید گل مرحوم سے متعلقہ داستان یہاں بیان کرنا میرا مقصود ہے۔ ایک عام چلن اور ’مٹی پاو‘ تصور یہ ہے کہ جو اس دنیا سے چلا گیا اُس کے بارے میں کوشش کرکے اچھی بات ہی کرنا چاہیے۔ لیکن کیا کریں جب حقائق کے بیان کی بات کی جائے اور اُن اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے جو سماجی طور پر آج بھی جاندار ہیں تو اکثر اوقات’گڑھے مردے‘ اُکھاڑنا چنداں مضر نہیں ہوتا۔ جب کہ ماضی کے کردار اکثر انتقال شدہ ہی ہیں۔ انتہائی یقین کے ساتھ میرا یہ دعوی ہے کہ اس وقوعے پر دوبارہ لکھنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ موضوع کی ضرورت کے مطابق ایک اہم اور موثر کردار کی زندگی کے اُس گوشے کو سامنے لانا ہے، جو بہت سے لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے ۔ یکم جون انیس سو پچانوے کو لاہور کے آواری ہوٹل میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور روس کی افغانستان میں شکست کے ہیرو جناب جنرل حمید گل نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریک اتحاد کا اعلان کیا۔ تین نکاتی منشور میں اُنہوں نے سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا۔ ابھی وہ اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرہی رہے تھے کہ راقم نے سوال کردیا کہ جناب آپ نے دوران ملازمت جعل سازی کے ذریعے پنجاب کے ایک ضلع میں پندرہ مربع اراضی اپنے اور خاندان کے نام پر منتقل کروائی ہے، کیا ہم یہیں سے آپ کا احتساب شروع کرسکتے ہیں؟ میں چوں کہ ایک ہفت روزہ اخبار میں کام کرتا تھا اور وہاں پریس کانفرنس میں دیگر اخبارات کے نمایندگان بھی موجود تھے، اور سب سے بڑھ کر ابھی میری رپورٹ شائع ہونے کے لیے پریس میںتھی، اس لیے میں نے جان بوجھ کر شکرگڑھ کا نام نہ لیا۔ کیوں کہ اس صورت میں کسی روزنامے کا رپورٹر میری خصوصی محنت رائیگاں بنا سکتا تھا۔ جنرل صاحب نے پہلے تو کہا کہ میرے خلاف کوئی کیس کسی عدالت میں نہیں اور اگر ایسا کوئی معاملہ ہوا تو میں اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کروں گا۔ پھرفوری طور پرمشتعل ہوگئے اور میرے چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹر کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان کھینچ کرمجھے وہاں سے نکل جانے کا حکم جاری کردیا۔ موقع پر موجود جناب ارشاد حقانی نے ان کی تائید کی اور جنرل صاحب کے قریبی لوگوں نے مجھے پریس کانفرنس سے نکال دیا۔ ایک رپورٹر کے طور پر اپنا سوال اور جنرل صاحب کا موقف ریکارڈ کرچکا تھا اور یہی میرے لیے کافی تھا۔

hameed gulآئی ایس آئی کے تاریخ ساز سابق سربراہ اور ہماری روایتی عسکری سوچ اور حب الوطنی کے مشہور عام بیانیہ کے معمار عظیم جناب جنرل حمید گل انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے فوری بعد تحصیل شکرگڑھ میں ایف آئی یو کے عہدیدار کے طور پر تعینات ہوئے۔ ابھی پاکستان میں ایسے مہاجرین کے کلیم اراضی ہندوستان سے آرہے تھے جو تقسیم کے بعد پاکستان آگئے تھے۔ ایسا ہی ایک کلیم اراضی مہر بی بی کے نام سے تحصیل کے مال دفتر میں جمع موصول ہوا۔ اس کلیم کے مطابق مہر بی بی ریاستی مہاجر کی ضلع گورداسپور میں ایک کنال بارہ مرلہ زمین تھی، لہذا چوں کہ مہر بی بی گورداسپور سے ہجرت کرکے شکرگڑھ پہنچ چکی ہے اس لیے سائلہ کو تحصیل شکرگڑھ میں ایک کنال اور بارہ مرلہ زمین آلاٹ کی جائے۔ اس کلیم کی ایک نقل پٹواری عبدالحمید آف مورلی(مورلی گاوں کا نام ہے)لے کر ایف آئی یو کے نوجوان کمانڈر کیپٹن حمید گل کے دفتر پہنچا۔ پٹواری نے صاحب کو سیلوٹ کیا اور کلیم کی نقل سامنے رکھ دی۔ مہر بی بی بیوہ اور بے اولاد تھی اور اُس کا کوئی رشتہ دار بھی موجود نہیں تھا جو اراضی کی آلاٹ منٹ میں اُس کی قانونی مدد کرتا۔ اگلے دن مذکورہ پٹواری دوبارہ صاحب کے دفتر حاضر ہوا لیکن اس مرتبہ وہ اکیلا نہیں تھا، ایک انتہائی کمزور اور ضعیف عورت بھی اُس کے ہمراہ تھی۔ مہر بی بی نے اپنا ایک کنال بارہ مرلے ملکیت کا کلیم نوجوان فوجی افسر کے سامنے رکھا اورپٹواری عبدالحمید کے بقول پانچ سو روپے نقد کے عوض اسٹامپ پیپر پرملکیت سے دستبرداری کے لیے انگوٹھا لگا دیا۔

اس کے بعد عظیم محکمہ مال کے اہلکاروں اور بااثر فوجی عہدیدار نے کمال عقل مندی کے ساتھ ایک کنال بارہ مرلے زمین کو پندرہ مربعہ دس ایکٹر میں تبدیل کیا اورقبضے کی جنگ شروع ہوگئی۔ مقامی دیہات اولیا، آدھا اور بھوپا میں موجود اراضی جو پہلے ہی مقامی لوگوں کی ملکیت چلی آتی تھی، بارڈر ایریا ایکٹ کمیٹی کے تعاون سے چھین لی گئی۔ حمید گل نے خصوصی طور پر یہ زمین اپنے دونوں بیٹوں عبداللہ گل اور عمر گل کے نام پر منتقل کروائی جب کہ ایک بڑا حصہ اپنی زوجہ شہناز گل کے نام پر بھی منتقل کروادیا۔ اپنی زوجہ کے نام منتقلی میں البتہ یہ احتیاط برتی گئی کہ اُنہیں کاغذات ملکیت میں غیر شادی شدہ ظاہر کیا گیا اور خصوصی طور پر آنسہ شہناز بیگم دختر محمد اکبر خان قوم پٹھان یوسف زئی ساکن سرگودھا تحریر کروایا گیا۔ حالاں کہ ملکیت کے دوسرے کاغذات میں عبداللہ گل اور عمر گل کو اپنا فرزند ظاہر کیا گیا تھا۔

ایک دن نوجوان فوجی افسر حمید گل مقامی ہٹ دھرم کاشتکاروں سے قبضہ لینے اپنی کار میں سوار ہوکر چلے آئے۔ ان کے پاس اپنا سروس ریوالور بھی تھا۔ جب کاشتکاروں نے اپنی آبائی زمین کا قبضہ دینے سے انکار کردیا تو نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ حمید گل نے فوری طور پر اپنا سرکاری ریوالور نکالا اور فائرنگ شروع کردی۔ غریب دیہاتی وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے جب کہ حمید گل مقامی پولیس تھانہ شاہ غریب پہنچ گئے اورمراد بخش، رحمت، محمد بوٹا، خادم حسین مہنگا، محمد شریف اور محمد اکرم نامی کاشتکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ پولیس فوری طور پر حرکت میں آئی اور ’ملزمان‘ کی تھانے میں کئی دن تک خوب چھترول ہوتی رہی، اس کے بعد اِنہیں جیل بھجوادیا گیا۔ جب مذکورہ ملزمان جیل سے رہا ہوئے تو انہیں خبر ملی کہ اِن کی آبائی ملکیت حساس ادارے کے افسر کے باقاعدہ قبضے میں چلی گئی ہے۔ اِن کی زمینوں پر حمید گل کی چڑھائی کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد باقی ماندہ زمینوں پردریائے راوی بھی چڑھ دوڑا۔ تینوں دیہات موضوع آدھا، بھوپا اور اولیا کے یہ لٹے پٹے کاشتکار اپنے بال بچوں کو سمیٹ کر لاہور کے مضافات گورائیہ پارک میںجھونپڑیاںڈال کر بیٹھ گئے اور لاہور کی عدالتوں میں اپنی چھینی گئی زمینوں کی بازیابی کے لیے طویل مدتی مقدمات میں اُلجھ گئے۔ یہ بے زمین کاشتکار محکمہ مال کے اہلکاروں اور عدالتوں کے ہاتھوں کمزور سے کمزور تر ہوتے گئے اور دوسری طرف حمید گل ترقی کی منازل طے کرتا ہوا جنرل کے عہدے پر پہنچ گیا۔ غریب کاشتکاروں کی آخری چارہ جوئی کا ریکارڈ انیس سو چھیاسی میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کے دفتر سے ملتا ہے جس میں اُنہوں نے اپنے لٹنے کی داستان وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کی ہے۔ جنرل ضیا الحق اور جنرل غلام جیلانی کے مشکور شریف خاندان کا فرزند وزیراعلیٰ ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار سے کس طرح زمین واپس لے کر اُجڑے ہوئے لوگوں کو واپس دلواسکتا ہے؟یہ درخواست بھی وزیراعلیٰ نواز شریف کے دفتر میں فوت ہوئی اور ساتھ ہی غریب کاشتکاروں کی امیدیں بھی دفن ہوگئیں۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ہم بدعنوان کیوں ہیں؟ (2)

  • 26-02-2016 at 2:36 pm
    Permalink

    کسی نے صحیح ہی کہا ہے۔

    اے وطن کے سجیلے جرنیلوں۔۔۔ سارے رقبے تمہارے لیے ہیں!

  • 27-02-2016 at 2:50 am
    Permalink

    مجاہد حسین، بہت خوب۔ خدا آپ کو سلامت رکھے۔???

Comments are closed.