پورے آٹھ سال بعد جنوبی وزیرستان میں واپسی


(انور خان محسود)۔

سات سال 9 مہینے بعد، ہاں! یقیناً 2 ہزار 790 دنوں بعد آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے 25 کلومیٹر لمبی پٹی پر مشتمل وادی بدر میں واقع خوبصورت گاؤں سینہ تیژہ کو دیکھ رہا ہوں۔ 16 اکتوبر 2009 کو آپریشن راہِ نجات کی وجہ سے گھروں سے بے گھر اپنے گاؤں کے مکینوں کے جذبات اور حالات مجھ سے بدتر تھے۔ سفید ریش محمد یوسف چند منٹ کی دوری پر اپنے گاؤں دیکھنے کے لئے لپک پڑا۔ گاؤں کے دوسرے مشران نے اسے روکا اور سمجھایا کہ بغیر سیکیورٹی اہلکاروں کے وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ سرخ و سفید چہرے پر سفید داڑھی لیے ہوئے محمد یوسف نے میری طرف رُخ کیا، اُن کے لرزتے ہونٹوں سے صرف ہی الفاظ نکلے کہ مجھے اپنا گھر جانا ہے۔ مجھ سے اُن کے لرزتے ہونٹ، جذبات سے کانپتے ہاتھ، توانا سرخ و سفید چہرے پر پھیکا پن برداشت نہ ہو سکا۔ مجھے وہاں موجود میجر سلمان جو پوری ڈیلیگیشن کو لیڈ کر رہا تھا سے درخواست کرنی پڑی اور کہا کہ یہ کرنل مراد کے والد صاحب ہیں اور وہ اپنا گھر دیکھنا چاہتا ہے۔ میجر سلمان نے اُنھیں دیکھ کر کہا کہ محترم ویسے بھی چند دنوں بعد آپ سب لوگ آیئں گے اس وقت دیکھ لینا۔ اُن کے انکار پر میں حیران ہوا اور ہم اگلے پڑاؤ کی طرف روانہ ہوئے۔

تقریباً ڈھائی سو میڑ آگے ایک اور دل خراش منظرہمارے سامنے تھا۔ گیگا خیل قوم سے تعلق رکھنے والے ایک اور سفید ریش بزرگ روڈ سے چند گز دور اپنے ٹوٹے ہوئے مکان کو دیکھ کر رندھی ہوئی آواز میں کہہ رہے تھے کہ دیکھو میرے گھر کا کیا حشر ہو چکا ہے۔ جذبات، احساسات اور وہ رندھا لہجہ اب بھی میرے کانو ں میں گونج رہی ہے۔ اب میں سمجھا کہ میجر صاحب نے کیوں انکار کیا تھا۔ کیونکہ اس محترم بزرگ کی صدائیں سننے کی ہمت کسی میں بھی نہیں تھی۔ کاروان اور میرے ساتھ موجود نور خان محسود چہرے پر غصے سے سرخی کی تپش محسوس کر کے آگے روانہ ہوئے۔ آپ لوگ بھی حیران ہوں گے کہ میں نے یہ کیا قصہ شروع کردیا ہے بلا شبہ یہ کہانیوں کا مجوعہ ہے جو سچی اور رونگٹے کھٹرے ہونے پر مشتمل ہے۔

اس تحریر کو سفر نامہ تو نہیں کہ سکتے لیکن غم نامہ ضرور کہ سکتے ہیں۔ اس غم نامہ کو آگے بڑھانے سے پہلے میں مشکور ہوں نورخان محسود کا جس کی بدولت مجھے پونے آٹھ سال بعد اپنے گاؤں تک رسائی ملی۔ اُن کی پولیٹیکل انتظامیہ سے درخواست تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ متاثرین کے واپسی کی مقرر کردہ تاریخ سے پہلے وادی بدر کے مشران کو اپنے علاقے دیکھنے کا دورہ کروایا جائے۔ اور ہاں! اس تحریر کو قطعاً رپورٹنگ نہ سمجھیں میں بھی آپ ہی کی طرح اس وقت اور اس دن کا شدت سے منتظر ہوں جب مجھے اپنے علاقے کی رپورٹنگ کرنے کی مکمل آزادی ہو۔

تو آئیں میرے ایک دن کی سفر کی کچھ سنسر شدہ جھلکیاں پڑھیے۔

صبح نو بجے جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل کمپاؤنڈ ٹانک سے اسسٹنٹ پولیٹیکل آفیسر محمد شعیب کی سربراہی میں نو گاڑیوں پر مشتمل قافلہ، جس میں ایکسن سی این ڈبلیو وحیدااللہ بیٹنی، ایف ڈی ایم اے جنوبی وزیرستان کے کوارڈینیٹر سید عمر صاحب، ایس آر ایس پی کے کوارڈینیٹر امان اکبر، تحصیلدار ظفر محسود کے زیر کمان دو گاڑیوں پر مشتمل لیویز سکوارڈ اور نور خان محسود کی درخواست پر بننے والے وادی بدر کے مشران کا وفد جنوبی وزیرستان کی خوبصورت وادی بدر کی طرف روانہ ہوا۔

 ٹانک سے تقریباً 18 کلومیٹر دور کوڑ قلعہ کے مقام پر بنے چیک پوسٹ پر ہمیں رکنا پڑا۔ کلیرنیس ملنے پر آگے روانہ ہوئے۔

منزئی چیک پوسٹ کو کراس کر کے خرگی کیمپ جہاں پر متاثرینِ وزیرستان کی رجسٹریشن ہوتی ہے تیسری بار ہمیں رکنا پڑا۔ اس طرح آگے چلتے ہوئے ایف آر ٹانک کے حدود کا آخری علاقہ جنڈولہ سے چند منٹ کے فاصلے پر ہموار اور خوبصورت سڑک سے کچے میں اُترنا پڑا۔ وہاں بنا پُل سیلاب کا مقابلہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنا وجود کھو بیٹھا تھا۔ گاڑی کی تھرتھراہٹ اور جسم میں لگنے والے جھٹکے کے ساتھ خوبصورت روڈ کی خوبصورتی میں یہ داغ دیکھ کر دل میں پُل بنانے والے ٹھیکیدار کو بُرا بھلا کہنا پڑا۔ ایف آر ٹانک کا علاقہ کراس کر کے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں داخل ہوئے۔ پرانے واقعات اور حالات میرے دل ودماغ میں امڈتے اور بکھرتے رہے۔ سوچوں میں اس وقت رخنہ پڑا جب سپنکئی رغزائی کے مقام پر بنا کیڈٹ کالج کے چیک پوسٹ پر ہمارا قافلہ روکا گیا۔ خوبصورت عمارت کی خوبصورت چاردیواری میں موجود اپنے قوم کے مستقبل کے سپوتوں کے احساس نے دل کو اطمنانیت بخشی۔ اس طرح چلتے رکتے کوٹکئی پہنچ گئے۔ چند سال قبل دیکھے ٹوٹے مکانات کی بکھری چاردیواری کو دوبارہ تعمیر اور لوگوں کو روزمرہ کاموں میں مشغول دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اپنے گاؤں لے جانے والے کم ترین فاصلے کی سڑک جو کوٹکئی سے کانیگرم براستہ کڑامہ کی بندش نے دل میں مایوسی ڈال دی۔ پونے آٹھ سال بعد بھی اس روڈ کی بندش سے پولیٹیکل انتظامیہ اور فاٹا سیکٹریٹ کی نا اہلی آشکار ہوئی۔

لمبے روٹ کو اختیار کرکے سراروغہ کی جانب گامزن ہوئے۔

راستے میں ہرے بھرے کھیت دیکھ کر مایوسی بتدریج کم ہوتی گئی۔ ان کھیتوں کے بیچ ہمارے ایم این اے صاحب کی زمنوں کو لمبی چوڑی سرکاری پروٹیکشن وال کے گرد محصور دیکھ کر حیرانگی بھی ہوئی۔ سراروغہ کے چیک پوسٹ پر روکنے کی وجہ سے آپریشن راہِ نجات سے ملیامیٹ بازار دوبارہ آباد دیکھنے کو ملا۔ اس طرح چلتے رکتے مکین کے مقام پر بنے چیک پوسٹ پر ہم سے آگے لیویز سکوارڈ کی گاڑی بغیر رکے ذرا آگے نکلی جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا۔ مکین کے وسط میں محسود ایریا کا سب سے بڑا بازار جو سینکڑوں دوکانوں پر مشتمل تھا کا وجود فنا ہو چکا تھا۔ اور وہ قلعہ نما مکانات بھی نظر نہ آئے جس پر مکین کے لوگ فخر کیا کرتے تھے۔ یہ تکلیف دہ مناظر دیکھ کر صرف بے بسی سے آہیں بھرتے رہے۔ اس طرح آ گے اور دل خراش مناظر دیکھتے ہوئے ہم لدھا کو پار کرکے سام پہنچ گئے جہاں پر ڈویلپمینٹ انچارج میجر ناصر نے ہمارا استقبال کیا۔

متاثرین وزیرستان کے مسائل پر بات چیت ہو رہی تھی کہ اس دوران حال ہی میں ریٹائرڈ کرنل متین محسود آئے۔ دعاء سلام کے بعد کرنل متین نے اے پی او اور میجر ناصر سے شکوہ کیا کہ آپ لوگ آبادی اور علاقے کو دیکھ کر متاثرین کی واپسی کا پروگرام بنائیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ صبح خرگی کیمپ پہنچے تھے اور رات دو بجے تک اپنے لوگوں کا رجسٹریشن کروا سکے۔ کرنل صاحب کی باتیں سُن کر میں اپنے لوگوں کے لیے پریشان ہوا۔ میری پریشانی تو اُس وقت اور زیادہ بڑھ گئی جب سید عمر کے شیلٹر کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں میجر ناصر نے بتایا کہ ایک جگہ پر چار سو ٹینٹس ہیں اور کچھ دوسری جگہ پر ہیں۔ ٹینٹس کی اتنی قلیل تعدار کا سُن کر میں اس اسحاق ڈار کی بے حسی پر حیران ہوا کہ اُن کے خزانے میں میٹرو بس سروس اور اورنج ٹرین کے لیے اربوں کھربوں روپے تو میسر ہیں لیکن برف سے ڈھکی اور گیارہ ہزار فٹ سے زیادہ بلند و بالا پیر غر کے دامن میں واقع علاقہ مشتہ اور وادی بدر کے ہزاروں خاندانوں پر مشتمل آبادی کو ٹینٹس کے لئے رقم تک موجود نہیں ہے۔ میجر صاحب کے بڑوں کو چاہیے کہ ایسے حساس ترین کام جس سے لوکوں کے امیدیں اور توقعات وابستہ ہوں سے اس وقت اجتناب کرنا چاہیے جب تک حکومت سے مکمل سہولیات میسر نہ ہوں۔ خیر واپس آتے ہیں اپنے سفر کی طرف۔ میجر ناصر کی باڈی لینگویج سے پتہ چل رہا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے لئے ٹینٹس کی اتنی قلیل تعداد کا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بار بار اسسٹنٹ پولیٹکل افیسر اور خاص کر نور خان محسود کو مخاطب کرکے کہہ رہے تھے کہ لوگوں کو سمجھائیں کہ ٹینٹس وہ لوگ لیں جن کو ضرورت ہوں اور ٹیننس کو اپنے علاقے سے باہر لے جانے سے تو بالکل منع کریں۔ اس دوران میجر نے ایک فون اٹینڈ کر کے ہمیں بتایا کہ مجھے تو ایک اور جگہ جانا ہے اور ڈویلپمینٹ سروے کے لئے ایک اور دن مقرر کریں گے، لیکن آپ لوگوں کو بوسپہ کیمپ جانا ہو گا۔ جہاں پر آپ لوگوں کے لئے کرنل صاحب نے کھانے کا انتظام کیا ہے۔ میجر صاحب کی مہمان نوازی سے اپنی تھکاوٹ مٹا کر بوسپہ کیمپ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں شاہ بلوت کے گھنے جنگلات میں واقع سید عمر کے خوبصورت گاؤں کو ویران دیکھ کر ان سے پوچھ ہی بیٹھا کہ کیا وجہ ہے ایک سال قبل اوپن ایریا شمار ہونے کے باوجود کوئی بندہ نظر نہ آیا۔ انہوں نے لوگوں میں مایوسی، ٹنیٹس اور زندگی کی ابتدائی سہولیات نہ ہونے کی وجوہات بتائیں۔ اس طرح سید عمر کے گاؤں سے آگے اونچے پہاڑوں کے چڑھائی اور اترائی طے کرنے کا سفر جاری تھا۔ ان اونچی چوٹیوں کے دیار اور شاہ بلوت کے اونچے درختوں میں نظر خیل قوم کے مکانوں میں ایک گھر بھی صحیح سلامت نظر نہ آیا۔ آخر اس دشوار اور تھکا دینے والے رستے کا اختتام ہوا۔ 8800 فٹ بلندی پر واقع بوسپہ کیمپ میں کرنل کا اضافی چارج لیے ہوئے میجر سلمان نے ہمارا استقبال کیا۔ تعارف کا دور شروع ہوا۔ میجر سلمان نے پہلے تو معزرت کر کے کہا کہ اگر انہیں صحیح معلومات ہوتی کہ ڈیلیگیشن کی اکثریت وادی بدر کی ہے تو وہ خود ہمارا استقبال کرنے کے لئے سام پہنچ جاتے مشران سے معزرت کرنے کے بعد سلمان صاحب نے انہیں شارٹ کٹ راستے سے خود وادی بدرپہنچانے کی نوید بھی سنائی۔ صحیح معلومات نہ دینے کی بات پر میرے ساتھ بیٹھے کچھ مشران کی نظریں اے پی او محمد شعیب کی جانب اٹھیں۔ بعد میں مشران کو بریفنگ دیتے ہوئے میجر صاحب نے ان سے دو باتوں کا تعاون مانگا۔ ایک تو شام سات بجے سے صبح سات بجے تک کرفیو کا احترام کا تعاون اور دوسری روڈ کے کنارے نصب آئی ڈیز یا کوئی دوسری بارودی مواد کی، اسے تعاون تو نہیں کہہ سکتے بلکہ مشران کہ کندھوں پر ذمہ داری بھی ڈالی۔

اے پی او کی میجر سلمان کو اپنی تعارف اور عہدے کی ذمہ داری بتانے کے دوران مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ احساس یہی ہوا کہ شاہد یہاں خود تعاون کا فقدان ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر وزیرستان میں موجود بیورو کریسی کے درمیان مس کوارڈینیشن کا خاتمہ ہو گیا تو ہمارے آدھے مسائل تو خود بخود حل ہو جائیں گے۔ بہر حال پر تکلف کھانے کے بعد پوری ڈیلیگیشن میجر سلمان کی سربراہی میں وادی بدر کی طرف روانہ ہوا اپنے گاؤں پہنچ کر دیکھنے کی حسرت رہی۔ اپنے گاؤں دیکھے بغیر الوداع کہہ کر سپراونی گاؤں کی جانب بڑھنے کرنے لگے۔ راستے میں گیگا خیل قوم سے تعلق رکھنے والے بزرگ کی صداؤں کی بازگشت نے ہم سب کو بدترین حالات کا شکار کر دیا۔ ہمارے سفر کے دوران محسود قوم کی تباہی اور اس بزرگ کی صداؤں نے شاید نور خان محسود کے اعصاب چکنا چور کر دیے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے غصے سے تھرتھراتے ہونٹوں سے بدعائیں، لعنتیں پتہ نہیں کیا کچھ نکلا۔ ریاست اور ان کی اداروں کی بے حسی اور موجودہ حکمران کی جبر و زیادتی کے خلاف ان کی بے لگام زبان کو اس وقت بریک لگی جب ساتھ بیٹھے محسود قوم سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری اہلکار نے اس سے کہا کہ آپ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ لیکن جس کی وجہ سے یہ تباہی ہوئی ہے کیا وہ ہمارے بھائی، بھتیجے اور بھانجے نہیں تھے؟ یہ سن کر نور خان کی آنکھیں میری طرف گھومیں پھر گاڑی میں خاموشی چھا گئی۔ گاڑی میں جاری خاموشی اس وقت ٹوٹی جب نور خان نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں کھو گئے ہو؟ لمبی سانس خارج کر کے میں نے اس کے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کے خوبصورت ہال میں ریٹائرڈ جنرل اور وفاقی وزیر قادر بلوچ کا خطاب یاد آرہا ہے۔ جو گزشتہ سال محسود ویلفیر ایسوسی ایشن کے زیر انتظام ایک پروگرام میں بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ قادر بلوچ کا کہنا تھا کہ محسود قوم نے پاکستان کے بقا کی جنگ لڑی۔ ریاست پاکستان، حکومت پاکستان اور ہم سب محسود قوم سے شرمندہ ہیں کہ ان کی اتنی بڑی قربانی کے باوجود محسود قوم کو جائز مقام بھی نہ دے سکے۔ پتہ نہیں نورخان! راستے میں صدائیں دینے والے بزرگ کے کیا احساسات ہوں گے جب ہمارے حکمران احسان جتا کر چار لاکھ روپے تھما دیں گے؟ حالانکہ پرانے طرز پر ان کا گھر ساٹھ لاکھ روپے پر بننا مشکل ہے۔ ہماری جاری بحث کا خاتمہ اس وقت ہوا جب ہمارے ساتھ بیٹھے جمعیت کے سرگرم رکن اور انگریزی زبان کے بڑے اچھے شاعر سیف االلہ سیفی کی منہ سے کرب میں ڈوبی آواز ہمارے کانوں میں گونجی۔ ان کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے کہ میرے سرخ گھر کی بلند و بالا چاردیواری کس طرح زمین بوس ہوچکی ہے۔ ہم رکنے پر مجبور ہوگئے۔ روڈ سے ندی کے اس پار وہ اپنے تباہ شدہ گھر کی موبائیل سے تصویریں بنانے کے دوران بڑبڑا بھی رہا تھا کہ میں یہ تصویریں اپنے بابا جی کو نہیں دکھا سکتا اور اپنے والد کو کس طرح اس مکان کی منظر کشی بتاؤں گا جس کی دیواریں خود اس نے اپنے ہاتھوں سے کھڑی کیں تھیں۔ نور خان کی تسلی اور حوصلہ مندی پر وہ ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھا اور ہم سب آگے روانہ ہوگئے۔ زرا آگے پوندیاخیل گاؤں کی تباہی نے ہم سب کو زبان بند کرنے پر مجبور کردیا۔

وادی بدر کے آخری گاؤں ژاوربدر سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ہم نہ جا سکے۔ بائیں جانب تحصیل شکئی سے تین کلومیڑ پر واقع سپین نرائی نامی گاؤں کی جانب روانہ ہوئے۔ ذرا آگے ہمیں کیکاڑائی قوم کے تباہ شدہ مکانات کا لرزہ خیز نظارہ بھی دیکھنے کو ملا۔ آخر کار چلغوزے اور دیار کے گھنے جنگلات میں واقع ہمارے سفر کے آخری گاؤں سپین نرائی کی حدود میں داخل ہوئے۔ ایک چوٹی پر عبدالرحمان خیل قوم سے تعلق رکھنے والے قاسب نامی جوان نے یہاں کے روایتی کھانے کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ مشران نے اے پی او سے تحصیل شکئی سے وادی بدر کو منسلک کرنے کے لئے رابطہ سڑک بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران تیس مکانات پر مشتمل سپین نرائی گاؤں کے ایک بزرگ ہاتھ میں درخواست لیے ہوئے وارد ہوئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ روڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنے مریضوں کو گدھے اور اونٹوں پر لے جاتے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ رابطہ سڑک سے صرف دو کلو میٹر پر واقع ہمارے گاؤں کے لئے کچی سڑک بھی بنائی جائے تو ہم مشکور ہوں گے۔

کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ایک سال قبل اوپن ہونے کے باوجود اس گاؤں کے نصیب میں کچا سڑک بھی نہیں تھا۔ پولیٹیکل انتظامیہ کی بے حسی پر حیران ہوا کہ اس سال ایک ارب 95 کروڑ کے سالانہ ترقیاتی فنڈ میں چند لاکھ روپے کی گنجائیش بھی نہ نکل سکی۔ حالانکہ اس سال ترقیاتی فنڈ کی تفصیل دیکھ کر بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔ پانچ اور سات لاکھ روپے کی ایک سکیم میں تین اور چار بندوں کو پارٹنر بنا کر کسی کو کرپشن کی کھلی ترغیب دینے کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ اب تو نیب کو بھی فاٹا تک رسائی کا اختیار ملا ہے۔ اگر وہ کچھ جرات کر کے اس سال جاری سکیموں کا معاینہ کریں تو اُنھیں کئی سونے کے انڈے مل جائیں گے۔ وفاقی حکومت کے بٹھائے ہوئے گورنر کو سوچنا چاہیے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے حکومتی دعوؤں کا کیا ہوگا جو آئے روز ٹی وی سکرین پر اُن کے وزرا اور خود وزیراعظم کرتے نہیں تھکتے۔ اگر کئی سال بعد بھی ان قبائیلوں کی صحیح داد رسی نہ کی گئی، اُن کو باقی پاکستانیوں کی طرح تسلیم کر کے آباد نہ کیا گیا اور قبائیلی علاقوں میں کرپشن سے پاک ترقیاتی پرگرام کا جال نہ پھیلایا گیا تو مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اتنی آسانی سے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ پر قابو نہیں پا سکتے۔ ہمارے ہاں خواتین کی خاندان کے بدترین دشمن کو بدترین بددعائیں یہی تھیں کہ خدا تمہارا بیٹا مار دے اور گھر مسمار کر دے۔ محسود جرگے مشران کے مطابق جاری جنگ میں اب تک پندرہ ہزار کے قریب محسود مارے گئے اور جہاں تک گھروں کی بات ہے مجھے تو راستے میں ایک گھر بھی صحیح سلامت نظر نہ آیا۔

خدا نہ کرے کہ ہمارے پڑوس میں بیٹھا وہ مکار دشمن جس نے 1971 میں ہم سے ایک بازو جدا کیا اور اب قبائلی علاقوں میں کوئی مکارانہ چال چل جائے؟ ریاستِ پاکستان اور اُن کے اداروں کے بااختیار لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں؟ اگر نہیں تو قبائلیوں کو باقی پاکستانیوں جیسے حقوق دینے ہوں گے۔ شاید میں جذباتی ہو گیا۔ چلو واپس چلتے ہیں اپنے سفر کی طرف۔ دن میں دو بار کھانے کے بعد واپسی کی راپ لی۔ ژاور بدر گاؤں کے مشران کی ڈیمانڈ پر روڈ نہ ہونے کے باوجود شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے ایک سمارٹ سا اور وادی بدر کا انچارج میجر حُسین اُن کے ہمراہ ہوئے۔ باقی ہم وادی بدر کے ابتدا میں واقع گاؤں چلویشتی کی طرف پلٹے۔ مغرب کی نماز اپنے گاؤں کے دامن میں واقع چشمے کے کنارے سبزہ زار میں ادا کی۔

کہتے ہیں کہ چشمے میں پانی پینے اور پھول توڑنے کے لیے انسان کی اکڑی گردن ضرور جھکتی ہے۔ اے میرے لڑکپن کے یادوں کی سر زمین میری آزادی کا وہ غرور ہی ٹوٹ گیا جس پر مجھے وار آن ٹیرر سے پہلے ناز تھا۔ اب تو آپ کے سینے پر قدم رکھنے کے لئے بھی مجھے اجازت لینی ہوگی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ اے میرے پیارے گاؤں کہ تمہیں جھکی ہوئی گردن سے الوداع کہہ رہا ہوں۔ اے حسن کے شاہکار سینہ تیژہ میں سخت شرمندہ ہوں کہ آپ کو دیکھے بغیر جارہا ہوں۔ اے میری شناخت بننے والے ٹکڑے میں تمہیں دیکھنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے خدا حافظ کہہ رہا ہوں!

اپنے گاؤں سے ہم کلامی کے بعد ہم سب گاڑی میں سوار ہو کر آگے جانے لگے۔ چلتی گاڑی میں کھڑکی کے ایک فٹ چوڑے شیشے کے اُس پار شفاف نیلے آسمان کی روشنی میں چوٹی پر بنے اپنے ٹوٹے گھر کے نظارے میں کھویا ہوا تھا کہ رات کے اندھیرے میں میرے گھر کا وہ مدھم عکس بھی مجھ سے چھپ گیا۔ رخساروں پر بہتے آنسو خشک کر کے رات کے اندھیرے نے گاؤں کی طرف میری موڑی گردن کو سامنے دیکھنے پر مجبور کردیا۔ اور ہیڈ لائٹس کی روشنی میں مجھے سامنے چلویشتی گاؤں کے حدود نظر آئے۔ چلویشتی کے اندر پہنچ کر گاڑیوں کی روشنی میں گاؤں کے مکینوں کے گھروں کی ٹوٹی اور بکھری ہوئی دیواریں نظر آئیں۔ سابق کور کمانڈر لاہور اور مارشل لا ایڈمنسڑیٹر پشاور، جنرل عالم جان محسود کے آبائی گاؤں چلویشتی میں بنا سب سے بڑا گھر بھی جنگ کی نذر ہو چکا تھا۔ نورخان محسود اپنے چچا جنرل عالم جان کے مشرکہ گھر کے سنڑ میں حیران و پریشان کھڑا کہہ رہا تھا کہ چلو دروازوں اور کمروں پر بچھائی ہوئی چادروں کو کوئی بھی لے جا سکتا ہے لیکن میرے دادا (معروف شخصیت میر دل کاکا جس نے نہرو کو تھپڑ مارا تھا) کے ہاتھو ں بنی وہ مضبوط لوہے کی سیڑھی جو دوسری منزل تک رسائی کا ذریعہ تھی بغیر کرین کے کوئی کس طرح لے جا سکتا تھا؟ گھر سے باہر آ کر وہ مجھ سے کہنے لگا کہ اگر ہم مشران پونے آٹھ سال بعد یہاں آنے والے لوگوں کو منع کریں تو زیادتی ہے اور یہاں آنے کا کہیں پھر تو ظلم ہی ہے۔ ہم کیا کریں؟ میری طرف سے جواب نہ ملنے پر وہ صرف مجھے گھور کر رہ گئے۔

تھوڑے سے قیام کے بعد ہمیں خدا حافط کہنے میجر سلمان مانڑہ نامی جگہ تک جانے پر بضد رہا اور مجھے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کی دعوت دی۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ہماری تلخ و شریں باتوں کا آغاز ہوا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ گاڑی کے مدھم بلب کی مدھم روشنی میں میرے تلخ سوالات کے اس نے مسکراتے چہرے سے بڑے مدلل جوابات دیے۔ میجر صاحب کی حوصلہ مندی سے جرات کر کے میں اُن کے بڑوں سے درخواست کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ اگر واقعی وزیرستان کو دوبارہ آباد دیکھنا چاہتے ہو تو کوئی ایسا میکانیزم بنانا ہو گا جسے وزیرستان کے اندر بنی چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہو۔ میری درخواست کے دوسرے نکتے کو قظعاً مذاق نہ سمجھیں۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ روڈ کے کنارے نصب آئی ڈیز یا دوسری بارودی مواد کی وجہ سے بے بس قبائیلوں کے سروں سے ایف سی آر کی شق ’اجتماعی ذمہ داری‘ کا بوجھ اُتار کر پولیٹیکل انتظامیہ کے سر ڈال دیا جائے تا کہ بے تحاشہ وسائل کی وجہ سے چڑھی چربی میں کچھ تو کمی ہو جائے۔ آخر کار میجر سلمان کے ساتھ ہمارے سفر کا اختتام ہوا اور ہم مانڑہ پہنچ گئے۔ میجر صاحب نے ہمیں خدا حافظ کہا اور اپنے دشوار اور 8800 فٹ بلندی پر واقع بوسپہ کیمپ کی طرف روانہ ہوئے اور ہم مختلف چیک پوسٹوں پر تعارف کرواتے ہوئے ڈھائی گھنٹے کا سفر پانچ گھنٹے میں طے کر کے رات ایک بجے ضلع ٹانک پہنچ گئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔