2016 ءمیں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال


کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو سالانہ پورے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنی رپورٹ شائع کرتا ہے۔ یہ رپورٹ ایک آزادانہ مستند دستاویز ہوتی ہے جو کمیشن برائے انسانی حقوق کے ممبران دن رات ان تھک محنت سے تیار کرتے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے بھی بیس سال ہونے کو ہیں۔ اس دوران میں نے دیکھا ہے کہ اس شعبے میں ایسے کام عموماً پیشہ ورانہ کاروباری لوگوں سے یا اپنے ہی ادارے کے چھوٹے ملازمین سے بیگار میں کروائے جاتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ میں نے خودکمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی سابقہ چیئر پرسن محترمہ عاصمہ جہانگیر کو گلگت میں لوگوں سے ملتے، شواہد اکٹھے کرتے اور دور دراز علاقوں تک سفر کرتے دیکھا۔ اور پھر آج تک میں نے تو کم از کم یہ نہیں سنا کہ ان کی کسی رپورٹ کے مندرجات کو کسی عدالت میں غلط ثابت کیاگیا ہو۔ یہ اور بات ہے کہ یہاں حکومتیں چاہے جمہوری ہوں یا غیر جمہوری اور ہر دور کے ریاستی ادارے ایسی رپورٹ نہ پڑھتے ہیں اور نہ درخور اعتنا سمجھتے ہیں۔

یہ رپورٹ بہت سارے پہلوو¿ں کا احاطہ کرتی ہے جو ریاستی اداروں ، قانون سازی،عدالتی نظام ، صحت ،تعلیم اور ماحولیات سمیت بہت سارے شعبہ ہائے زندگی میں بنیادی حقوق کی صورت حال پر اعداد و شمار پیش کرتی ہے۔ ہمارے لئے پوری رپورٹ کا اختصاریہ ان صفحات میں سمونا مشکل ہے اس لئے اس کے چیدہ چیدہ پہلو قارئین کی نذر کرتے ہیں۔

اس سا ل کی رپورٹ بھی ویسی ہی ہے جیسے یہاں ہوا کرتی تھی۔ غیرت کے نام پر قتال جاری و ساری ہے۔ صرف گلگت بلتستان میں درج کئے گئے قتل کے 23 مقدمات میں سے 13 غیرت کے نام پر قتل کے تھے۔ خیبر پختونخوا میں سال کے دس مہینوں میں 187 عورتیں قتل ہوئیں جن میں سے 40 غیرت کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

سال 2016 ء میں ملک کی عدالتوں میں تیس لاکھ مقدمات زیر التوا رہے۔ وکلا اور ججوں کے خلاف تشدد بڑھ گیا ہے۔ دس مسلمانوں اور پانچ غیر مسلموں پر توہین مذہب کے مقدمات قائم ہوئے۔ دو مسلمانوں سمیت کئی ایک مسیحیوں کو توہین مذہب میں سزائے موت سنائی گئی۔ ایک شخص کو چار سال جیل میں رہنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے الزام سے بری کیا۔ ایک شخص کواکتوبر میںقتل کے ایک مقدمے میں پھانسی کے ایک سال بعد سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دیا۔ ایک اور شخص کو 19 سال بعد قتل کے الزام سے عدالت نے بری کیا جبکہ اس کی وفات کو بھی دو سال ہو چکے تھے۔

سال2016 ءمیں کم از کم تین انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کا قتل ہوا۔ پنجاب پولیس نے 340 مجرموں کو 291 پولیس مقابلوں میں ماردینے کا دعویٰ کیا۔ سندھ پولیس نے 248 ڈاکو، 96 دہشت گرد اور گیارہ اغوا برائے تاوان کے ملزمان ماردیے۔ بلوچستان میں 229 مشتبہ دہشت گرد مارے گئے جبکہ قبائلی علاقوں میں 315 ، خیبر پختونخوا میں 40 اورگلگت بلتستان میں 4 مبینہ دہشت گردوں کے ماورائے عدالت قتل کے اعداد بتائے گئے ہیں۔ سال 2016ء میں 426 مجرموں کو مختلف عدالتوں نے موت کی سزا سنائی جن میں سے 87 کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔ 728 لوگوں کی جبری گمشدگی ہوئی ہے جو گزشتہ چھ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

اقلیتوں کی عدم تحفظ کی وجہ سے نہ صرف نقل و حرکت محدود ہوئی ہے بلکہ بہت سوں کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ احمدیوں کے خلاف تشدد کا رجحان بڑھ گیا ہے اس برادری کے قتل ہونے والوں میں چار ڈاکٹر بھی تھے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے مختلف مسالک کے لوگ جن میں زیادہ تر سنی اور شیعہ شامل ہیں، فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہوئے ہیں جس میں ان کی مساجد ، عبادت گاہوں اور درگاہوں پر حملوں کے نتیجے میں 110 لوگ مارے گئے۔

چھ صحافیوں اور بلاگرز کے قتل نے صحافت کے شعبے کو خود ساختہ سنسر شپ پر مجبور کردیا۔ سائبر قوانین نے آزادی اظہار رائے کو مزید مسدود کردیا کیونکہ یہ قوانیں حکام کو لوگوں کی اظہار رائے میں مداخلت کی اجازت دیتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی حقوق کے علمبردار اور سیاسی کارکن زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سماجی کارکنان امن کا پرچار کرنے پر حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔2016 ءمیڈیا اور ٹی وی چینلز ،اخبارات اور پریس کلبوں پر مذہبی انتہا پسندوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی طرف سے حملوں کے لئے بد ترین سال تھا۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے عام لوگوں کی نقل و حمل پر بندشوں کے واقعات سے ہسپتال بر وقت نہ پہنچنے سے اموات بھی ہوئی ہیں۔ بعض سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں خواتین کارکنان کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ مزدوروں، گھریلو ملازمین اور طلبا کی حق انجمن سازی کا مسئلہ 2016 ء میں بھی حل نہ ہوسکا۔ بلوچستان کے وکلا کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جس میں 70 وکیل مارے گئے۔ غیر سرکاری تنظیموں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرزیر عتاب رکھا گیا۔

خواتین کی سیاسی، معاشی اور سماجی میدان میں بہتری نہیں آسکی۔ تحفظ نسواں کے مختلف قوانین کے باوجود خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔ خواتین کا مزدور وں میں 26 فیصد حصہ ہونے کے باوجود صنعت یا کسی اور شعبے میں 3 فیصد سے زیادہ خواتین ملازم نہ ہو پائیں۔ خواتین کا تعلیم میں بھی مردوں کی نسبت تناسب کم رہا اور قابل علاج بیماریوں سے شرح اموات زیادہ رہی۔ 2016ء میں 2500 خواتین تشدد کا شکار ہوئیں جس میں جنسی تشدد، جسم جلانا اور اغوا کے واقعات شامل ہیں۔ بچوں پر جنسی تشدد ، ان کے فحش فلموں میں استعمال اور اغوا کے واقعات مجرمانہ حد تک بڑھ گئے۔ سال 2016ء میں بچوں کے اغوا، غائب ہونے اور کم عمری کی شادی کے4139 واقعات ہوئے جوروزانہ گیارہ کے حساب سے سال 2015 ءسے دس فیصد زیادہ بنتے ہیں۔

سال 2016ء میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 25 ملین سے کم ہوکر 24 ملین ہوگئی لیکن شرح خواندگی 58 فیصد سے کم ہوکر 56 فیصد پر آگئی۔ ملک کے 48 فیصد سکولوں میں بیت الخلا ، چاردیواری اور پینے کا پانی نہیں۔ بڑے دعوو¿ں کے باوجود وفاقی حکومت ، حکومت پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے تعلیم کے بجٹ میں کمی کی۔ مفت تعلیم کا وعدہ کہیں بھی پورا نہ ہوسکا اور نہ ہی جسمانی طور پر معذور لوگوں کی تعلیمی سہولیات میں کوئی بہتری آئی۔

پاکستان اپنی جی ڈی پی کا صرف اعشاریہ نو فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے جہاں 1038 لوگوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر، 1613 لوگوں کے لئے ایک ہسپتال کا بستر اور 11513 افراد کے لئے ایک دانتوں کا ڈاکٹر دستیاب ہے جو انتہائی ناکافی ہیں۔ پاکستان پیدائیش کے دوران بچوں کی اموات میں دنیا کے ممالک میں سب سے آخر میں آتا ہے۔ ملک مین پانچ کروڑ لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں جن کے لئے ملک کے طول و عرض میں پانچ نفسیات کے ہسپتالوں میں صرف 320 ماہر نفسیات دستیاب ہیں۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں دنیا میں ساتویں نمبر پر آتا ہے جس کا مجموعی قومی پیداوار کا نو فیصد سالانہ نقصان ہوتا ہے۔ اسی فیصد لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ 2016ء میں پشاور اور راولپنڈی بالترتیب دنیا بھر میں دوسرے اور چوتھے نمبر پر گندے ترین شہر رہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔