یہ کوئی جمہوریت ہے؟


پچھلے کالم میں ذکر کیا تھا کہ جمہوریت کی روح دراصل جمہوری فیصلہ سازی ہے۔ کوئی نظام حکومت کتنا جمہوری ہے یہ جاننے کیلئے بنیادی کسوٹی بھی جمہوری فیصلہ سازی ہے۔ جس قدر حکومت کو چلانے کیلئے فیصلہ سازی جمہوری انداز سے ہو گی اتنا ہی اس نظام حکومت کو جمہوری کہا جا سکتا ہے۔ جمہوری فیصلہ سازی اگر منزل ہے تو اسکو حاصل کرنے کے کئی ذریعے ہیں جو جدید جمہوریت نے سینکڑوں سالوں کی جدوجہد کے بعد پروان چڑھائے ہیں۔ جیسا کہ عام انتخابات، آزاد میڈیا، آزاد عدلیہ، اقتدار کی تقسیم، چیک اینڈ بیلنس، سویلین بالا دستی وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام تصورات جو اب اداروں کی شکل اختیار کر چکے ہیں یہ خالی خولی ہوائی تصورات نہیں ہیں بلکہ یہ فلسفیانہ بحث و مباحث، ٹرائل اینڈ ایرر، عملی تجربات، مخالفانہ رد و تردید جیسے مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی ارتقائی منازل طے کر کے ہم تک پہنچے ہیں۔ ارادہ ہے کہ ان تمام تصورات اور اداروں کی جمہوری فیصلہ سازی کیلئے اہمیت کو ایک ایک کر کے کالم میں زیر بحث لاﺅں گا لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی غلطی جو ہمارے ہاں عام بحث کا حصہ ہے اسکو رفع کرنا ضروری ہے۔

ہم ایک سوال اکثر سنتے ہیں’کیا یہ جمہوریت ہے؟‘۔ اصل میں تو یہ سوال اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اٹھایا جا تا ہے، پھر وہاں سے ہدایات لینے والے میڈیا پرسن اور سیاستدان اس سوال کو خوب اچھالتے ہیں اور پھر یہ سوال ایک عوامی بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے۔ آج کل ہر کوئی یہ پوچھتا نظر آتا ہے، ’جمہوریت ایسی ہوتی ہے؟‘ یہ سوال صرف موجودہ حکومت سے ہی نہیں پوچھا جا رہا بلکہ پچھلی حکومت بھی اسی سوال کا جواب دیتے دیتے روانہ ہوئی اور اگلی حکومت کو بھی اسی سوال سے لہو لہان کیا جائے گا۔ اس سوال کے کئی پہلو ہیں۔ اول، اگر تو یہ سوال جمہوری فیصلہ سازی بہتر بنانے کیلئے پوچھا جائے پھر تو یہ مثبت پیش رفت تصور ہو گا۔ دوم، اگر اس سوال کا مقصد جمہوریت کی تصور کو مجروح کر کے اسٹیبلشمنٹ کی بالا دستی قائم کرنا ہوتو پھر یہ سوال یقینا منفی پیش رفت ہے۔ سوم، یہ سوال بذاتِ خود غلط نہیں ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے سیاستدان جمہوریت کا نام استعمال کر کے آمرانہ اور شخصی حکومت قائم کرنے کے رسیا ہیں۔ چہارم، جب یہ سوال ایسے لوگ اور انکے پروردہ کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان میں بدترین فوجی آمریتیں قائم کیں، تو انکا مقصد بالواسطہ آمریت کا جواز پیدا کرنا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ظالم سے محبت: نفرت کی نفسیات کا ایک دلچسپ پہلو

اب اس سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں۔ اگر مجھ سے ایک لائن میں جواب مانگا جائے تو میرا جواب ہو گا،’نہیں! یہ جمہوریت نہیں ہے۔‘ لیکن اگر مجھے اس صورتحال کی وضاحت کرنے اور اسکا حل تجویز کرنے کا کہا جائے تو پھر میرا جواب ہو گا کہ اس صورتحال کو سمجھنے سے پہلے ہمیں اس بنیادی غلطی کا ادراک کرنا ہو گا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا۔ یہ غلطی اپروچ یا اندازِ فکر کی غلطی ہے۔ ہم اگر اپنے ذہن میں کوئی آئیڈیل جمہوری نظام بنا کر اس کی کسوٹی پر موجودہ نظام کو پرکھیں گے تو یقینا ہمیں بہت دکھ ہو گا۔ لیکن ہم یہ بھول جائیں گے کہ وہ آئیڈیل نظام بہر حال ایک خیالی نظام ہو گا جسکا ہمارے ذہن سے باہر کوئی وجود نہیں ہو گا۔ ہم اسے ’مثالی لیکن خیالی‘ نظام کہہ سکتے ہیں۔’مثالی لیکن خیالی‘ نظام کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے اگر ہم اپنا اندازِفکر تبدیل کر لیں اور موجودہ حکومت کی جمہوریت کا پچھلی حکومتوں کی جمہوریتوں سے موازنہ کریں تو ہم غلطی سے بچ سکتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی حکومت کا موازنہ’غیر مثالی لیکن حقیقی‘نظام سے کرنا چاہئے نہ کہ’مثالی لیکن خیالی‘ نظام سے۔

نئی اپروچ کے ساتھ اب واپس سوال کی طرف آتے ہیں، ’کیا یہ جمہوریت ہے؟۔ ہمیں درست جواب تلاش کرنے سے پہلے سوال کو درست کرنا ہو گا۔ اگر ہم اپنے سوال درست کر لیں تو پھر اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں سے بھی بچ جائیں گے اور ہمارے سوال خرابی پیدا کرنے کی بجائے نظام حکومت کو مزید بہتر اور جمہوری بنانے میں بھی مدد کریں گے۔ درست سوال کچھ یوں ہونے چاہئیں۔ مثلا ًکیا نواز شریف کی حکومت زرداری کی حکومت سے زیادہ جمہوری ہے؟، کیا نواز شریف کی حکومت مشرف کی حکومت سے زیادہ جمہوری ہے؟،کیا مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت، عمران خان کی کے پی حکومت اور زرداری کی سندھ حکومت سے زیادہ جمہوری ہے؟کیا نواز شریف کی حکومت بھارت میں مودی سرکار سے زیادہ جمہوری ہے؟کیا نواز شریف کی حکومت مغربی جمہوری حکومتوں سے زیادہ قریب ہے کہ زرداری اور مشرف کی پچھلی حکومتیں زیادہ قریب تھیں؟ میرے پاس ان میں سے ہر سوال کا جواب ہے لیکن فی الوقت میں انکے جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔ اور آپ کا حق ہے کہ ان سوالوں کے جواب کی روشنی میں آپ اگلے انتخابات میں ووٹ کا حق استعمال کریں۔

اسی بارے میں: ۔  ہمیں بے لچک موقف کی بجائے نئے حالات کو سمجھنا چاہیئے

آخر میں موجودہ سیاست کے حوالے سے بات مزید واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر ہم ’مثالی لیکن خیالی‘ کسوٹی پر نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کو پرکھیں تو ان میں سے کوئی بھی جمہوریت (عوام یعنی آپ کے حق حکمرانی) کا خیر خواہ نظر نہیں آئے گا، ہر کسی کی اقتدار، اختیار اور دولت کی بھوک واضح نظر آ رہی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ تناظر میں آپ کے پاس ان تینوں میں سے دو کو رد کرنے کا اختیار تو ہے لیکن آپ تینوں کو رد نہیں کر سکتے۔ تینوں کو رد کریں گے تو پھر تاک میں بیٹھی ہوئی غیر جمہوری قوتیں اقتدار پر قابض ہو جائیں گی، جی ہاں! وہی قوتیں جو اس سوال’کیا یہ جمہوریت ہے؟‘ کو ہوا دے رہی ہیں۔ جبکہ اگر ہم اپنا اندازِ نظر بدل لیں اور تمام خامیوں سمیت نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کے اندازِ حکمرانی کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنے کی اپروچ اپنا لیں تو شاید ہم ان تینوں کے درمیان ایک مثبت مسابقت کی فضا قائم کر سکیں۔ درست سوال اٹھانے سے ان پر بھی دباﺅ بڑھے گا کہ وہ اپنے اندازِ حکمرانی میں زیادہ سے زیادہ جمہوریت لے کر آئیں اور اگر یہ اپنی روش نہیں بدلتے تو قدرتی طریقے سے نئی سیاسی قوتوں کیلئے جگہ بنے گی جنہیں پھر زیادہ جمہوری انداز میں ملک کو چلانا پڑے گا۔ اس ساری بحث سے البتہ ایک بات واضح کرنا مقصود ہے کہ نواز شریف، عمران خان اور آصف زرداری کی جمہوریت میں سو خامیاں ہیں لیکن ان خامیوں کو کسی بھی صورت میں کسی نئی فوجی آمریت کا جواز نہیں بننا چاہئے، جو سرا سر تباہی کا راستہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔