دہشت گردی اور پہاڑی طالبان ….


arif mustafa

 بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کی فارنسک رپورٹ آ گئی ہے اور اس میں دوٹوک انداز میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اس بدقسمت فیکٹری میں آگ کسی شارٹ سرکٹ یا کسی اور حادثے سے نہیں لگی تھی بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے پانچ مختلف جگہ آتش گیر کیمیکل چھڑک کر 250 انسانی نفوس کو زندہ جلا کر پھونک دیا گیا تھا اور ان بدنصیب کی سوختہ لاشیں کل عالم انسانیت سے انصاف کا مطالبہ کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن اس پہ بات کرنے سے پہلے ذرا جائزہ ملک میں دہشت گردی کے انسداد کی صورتحال کا لے لیں پھر اس موضوع پہ بھی آتے ہیں۔ بلاشبہ آپریشن ضرب عضب نے طالبان کو خاصا تھکایا ہے لیکن یہ کہنا کہ ان کی کمر توڑدی گئی ہے ابھی ذرا قبل از وقت ہے کیونکہ آپریشن کے بعد سے اب تک کے واقعات خصوصاً حالیہ چند ماہ کے واقعات اس دعوے کی پوری طرح توثیق کرنے سے قاصر ہیں۔ پہلے یہ گمان تھا کہ وہ تتر بتر ہو کر رہ گئے ہیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے اور جہاں تہاں پناہ ڈھونڈھنے کے لیئے سرگرداں ہیں لیکن اب لگ یہ رہا ہے کہ کسی ایک بڑے ٹھکانے سے نکالے جانے پہ وہ بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹھکانوں میں جا چھپے ہیں اور ان کی تخریبی صلاحیت اگر کم بھی ہوئی ہو تب بھی سارے ملک میں بکھر جانے کے باعث ان کا دائرہ تخریب بہت بڑھ گیا ہے اور وہ بے شمار چھوٹے چھوٹے اور کبھی کبھار بڑے زخم لگانے کی ایسی صلاحیت کے حامل ہوگئے ہیں کہ جس سے دہشت گردی ایک اور کروٹ لیتی دکھائی دے رہی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ اسکے سوا کوئی آپشن بھی شاید بچا ہی نہ تھا اور اسی حقیقت کے پیش نظر تقریباً ساری قوم، حکومت، ادارے اور جماعتیں اس ضمن میں کسی بھی تنقید کی طرف مائل نہیں نظر آتیں اور ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں پہ خواہ بم گرائے جائیں یا ان کے گھروں پہ توپوں کے گولے برسائے جائیں، عوام اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان سے مطلق کوئی ہمدردی نہیں، اور ہونی بھی نہیں چاہیئے اور یہ سب ابھی تک ایک ہی صفحے پہ ہیں اور اس صفحے پہ ٹی ٹی پی کے لیئے کسی قسم کی رو رعایت برتنے سے صاف ان کار کا مشترکہ عزم واضح طور پہ جگمگا رہا ہے۔

لیکن یہاں ٹھہریں، رکیں، اور ذرا دیکھیں تو سہی کہ اس پہاڑی طالبان کی دہشت گردی والے صفحے کے دوسری طرف بھی تو ایک اور صفحہ ہے کہ جس پہ اتنے ہی موٹے حروف میں شہری طالبان لکھا ہوا ہے اور ان کی دہشت گردی بھی کم و بیش ویسی ہی گھناؤنی و خونی حرکتوں سے عبارت ہے کہ جیسی کہ ٹی ٹی پی یا پہاڑی طالبان کی ہیں۔ دونوں کے ہاتھوں بے شمار انسان خاک و خون میں تڑپائے گئے ہیں، بہت سے گھرانے اجاڑے گئے ہیں اور انسان کا لہو تو لاریب یکساں طور پہ محترم ہوتا ہے اور اسے بہانے والا یکساں طور پہ مجرم۔ لیکن پھر یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا کہ ان کے ساتھ ویسا مارنے اور کھدیڑنے والا برتاؤ بالکل نہیں کیا گیا کہ جو پہاڑی طالبان کے ساتھ کیا گیا تھا۔ وہاں تو پہلے ہی مرحلے میں ٹی ٹی پی کو کالعدم قرار دیکر ان کے ہر قسم کے عام شہری حقوق معطل کردیئے گئے تھے (جو کہ درست اقدام تھا اور ہے ) لیکن گزشتہ برس 11 مارچ کو رینجرز کے چھاپے میں ‘شہری طالبان’ کے مرکز سے ولی خان بابر کے قتل کا سزائے موت یافتہ مجرم فیصل موٹا، بیشمار انسانوں کا قاتل عبید کے ٹو اور دیگر کئی سزایافتہ مفرور مجرم پکڑے گئے، بہت سا غیرملکی اسلحہ بھی برآمد ہوا ( اور یہ سب کارروائی خود وہاں معمول کے مطابق پہلے سے نصب سی سی کیمروں میں ریکارڈ بھی ہوئی کہ جس کی فوٹیج قطعی ناقابل تردید ہے ) لیکن ان کی تنظیم کو معطل کرنا تو دور، اگلے ہی ماہ منعقد ہونے والے این اے 246 عزیزآباد کے ضمنی الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کی یوں اجازت دیدی گئی کہ جیسے کسی ایکسائز پولیس کے چھاپے میں ان کے کھیسے سے چرس کے دھوکے میں بابو بیڑی کے بنڈل پکڑ لئے گئے ہوں۔

یہاں اس بدعملی اور امتیازی سلوک نے نہ صرف متعدد شبہات کو جنم دیا بلکہ شہری طالبان کو بڑی مدد ملی کہ وہ اپنی بداعمالیوں اور دہشت گردی سے ناراض ہوکر ٹوٹتے ووٹ بینک کو یہ کہ کر گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجائے کہ ” دیکھا ہم نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تھا اور یہ سارا چھاپہ ہی بدنیتی پہ مبنی تھا۔ ورنہ یہ لوگ ہمیں الیکشن میں حصہ ہی کیسے لینے دیتے۔ فوج اور رینجرز والے ہمیں ایسے ہی کیوں چھوڑدیتے۔ ۔ ؟ ” اور یوں اپنی کرپشن و دہشت گردی کے مکافات عمل کے ملبے تلے مرتے کھپتے اس گروہ کو یہ موقع مل سکا کہ وہ پوتر ستی ساوتری بن جائے اور ہر کوچے و ہر گلی میں جی بھر کے اس چھاپے کا تمسخر اڑائے اور مرتے مرتے اچان ک نئی زندگی و استحکام پالے، پھر یہ کہ سیاست کی کتاب میں انسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا ہی تو سب سے کارگر ہنر ہے اور کسی طور مظلوم دکھائی دے سکنا اور اسکی بنیاد کسی خاص علاقے یا زبان سے تعلق ہونے کو قرار دینا ہی ووٹ بینک کو بہت پرجوش اور سرگرم کر ڈالتا ہے کیونکہ عام آدمی کی نفسیات یہی ہے کہ مظلوم کی سرپرستی و دستگیری کی جائے اور خصوصاً ایسے کہ جب اپنی جیب سے کچھ بھی نہ جاتا ہو اور وہ مظلوم بھی خود کو ‘اپنا’ باور کراتا ہو۔ یہ مظلومیت کی چھاپ کارگر رہی اور تمام دنیا نے وہاں این اے 146 میں بیلیٹ بکسوں سے نتائج کے ایسے زمزمہ محبت کو ابلتے دیکھا کہ جو ہر معقول سوچ کو بہا کرلے گیا۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ اس امتیازی رویئے سے جو سب سے بڑا اور نہایت معقول سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ آپریشن دہشت گردی کی اصطلاح کی الگ الگ تعریف کا حامل ہے اور یہ کہ کیا مجرموں کے وہی حقوق ہوتے ہیں کہ جو کسی عام آزاد شریف شہری کے ہوتے ہیں کہ وہ آزادانہ نقل و حرکت کریں، تجارت و کاروبار یا ملازمت کریں، کھلے بندوں اپنے خیالات کا اظہار کریں اور سیاسی و دیگر پارٹیوں میں شامل ہوں اور الیکشن میں حصہ لیں یا ان کے جرائم ثابت ہونے سے قبل مگر متعدد شواہد مل جانے کے بعد قانونی کارروائی کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور انہیں حراست میں لے لیا جاتا ہے اور ان کے شہری حقوق سکڑ سمٹ کر بس اتنے ہی رہ جاتے ہیں کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرسکیں اور اور اسکے لیئے کسی من پسند وکیل کی مدد لے سکیں، لیکن 11 مارچ 2015 کو تو گھناونے جرائم کے متعدد شواہد سامنے آجانے کے بعد بجائے اسکے کہ شہری طالبان کی جماعت کو بھی ٹی ٹی پی کی مانند کالعدم کردیا جاتا، اس پہ الیکشن لڑنے تک کی عنایت خسروانہ کردی گئی اور یوں خود ہی ملک کے ایک نہایت قابل اعتبار ادارے یعنی رینجرز کو قطعی بے توقیر اور اسکے چھاپے کو ناقابل اعتبار کردیا گیا کیونکہ فوج اور رینجرز کی جانب سے کوئی مزید ٹھوس تادیبی قدم اٹھانے اور قانونی کارروائی نہ کرنے سے اسکا مرکز پہ چھاپہ اور وہاں سے ہونے والی سب برامدگیاں قطعی جھوٹی و فرضی ٹھہرا دی گئیں۔

دنیا نے دیکھا کہ رینجرز کے آپریشن کو حکومت نے کیسے جھوٹا ٹھہرا دیا اور شہری طالبان کیسے مظلوم بنا دیئے گئے اور اسکے نتیجے میں ہمدردی کی وہ لہر اٹھاڈالی گئی کہ انہیں ایک ضمنی انتخاب ہی میں نہیں بلکہ بعد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی شاندار کامیابی نصیب ہوئی۔ لیکن اب معاملات نے ایک اور نئی کروٹ لی ہے، دو ضمنی انتخابات بھی سرپہ ہیں لیکن اب دہشت گردی کا اور بربریت کا ایک لرزہ خیز سانحہ اب اپنے ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پہ آچکا ہے کیونکہ 2012 میں بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹ فیکٹری میں زندہ جلائے جانے والے سانحے کی فارنزک رپورٹ سامنے آگئی ہے کہ جس سے یہ آتشزدگی شہری طالبان کے جرائم میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کرگئی ہے اور ساتھ ہی جے آئی ٹی رپورٹ نے اسکے ذمہ داران کی پوری حقیقت اور اس واقعے کی پوری تفصیل بھی کھول کر بیان کردی ہے تو اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب بھی انہیں کالعدم نہیں کیا جائے گا اور وہ اپنے عام آزاد شہری والے حقوق سے اب بھی پہلے کی طرح لطف اندوز ہوتے رہیں گے اور انہیں یہ ضمنی الیکشن لڑنے دیئے جائیں گے یا انہیں معطل یا کالعدم کرکے متعلقہ عدالت میں اپنی صفائی کا کھلا موقع ہی دیا جائے گا اور اگر جرم ثابت ہوجائے تو پھر انہیں بھی ٹی ٹی پی کی طرح بدترین نشان عبرت بنادیا جائیگا۔ ا گر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر معاف کیجیئے گا منتخب دہشت گردی کے تعاقب سے کسی کو دلچسپی نہیں رہے گی اور یہی سمجھا جائے گا کہ جو بارگاہ مغرب سے مردود ٹھہرا بس وہی دہشت گرد ہے ورنہ 250انسانوں کو سوختہ کردینا بھی ایسی کوئی بڑی دہشت گردی نہیں۔ اور یہ سلسلہ خاکم بدہن مغرب کے لے پالک ‘برخورداروں’ کے ہاتھوں اس خطے کے جغرافیے میں نئی اور بڑی تبدیلی کی بین الاقوامی خواہش کی تکمیل تک ہرگز نہیں رکے گا….


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “دہشت گردی اور پہاڑی طالبان ….

  • 26-02-2016 at 5:22 pm
    Permalink

    True, but our establishment’s favourite game is “Good Guy, Bad Guy”, they retaliated against Pahari Taliban only after they started hitting back their old masters. The Samundri Taliban wil be tolerated to the same extent.

Comments are closed.