چڑیا گھر کی سوزی چل بسی 


چڑیا گھر کی سوزی چل بسی !  وہ ایک اچھی ہتھنی رہی ہوگی اور نجانے اس نے کتنے جبر سہے ہونگے  چڑیا  گھر میں اصحاب فیل کے ہاتھوں ! خدا اسکے درجات بلند کرے!
بنیادی طور پر میں چڑیا گھر کو اس لیے ناپسند کرتی ہوں کیونکہ جانوروں کو زبردستی ایک تنگ جگہ میں قید کر دیا جاتا ہے. عجیب و غریب لوگ ٹکٹ لے کر جانوروں  کو  ایسے دیکھتے ہے جیسے وہ کوئی مریخی مخلوق ہیں.  پتہ نہیں بیچارے جانور کیا سوچتے ہون گے. آخر یہ جانور بھی جاں دار ہیں ، ان کے بھی احساسات ہیں .  آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ بچے پوچھتے ہیں،  یہ بندر اتنا اداس کیوں ہے؟ جنگل کا آرام اور آزادی چھن جانے پر کوئی جانور  کیسے خوش و خرم ہو سکتا ہے.؟
اس شیر کا قصہ سبھی سن چکے ہیں جسے گوشت  کے بجاۓ کیلے کھانے کو ملتے تھے کیونکہ  وہ بندر کے ویزے پر سعودی عرب گیا تھا!
سرکس کے ظلم و ستم بھی کچھ کم نہیں،  آج ہیں یہیں ، کل کہیں نہیں ، وقت سے پرے ، مل گئے کہیں !
بچپن کی  اکثر یادیں پکنک یا چڑیا گھر کی سیر سے جڑی ہوتی ہیں . یادیں اچھی یا بری کیسی بھی  ہو سکتی ہیں.  سوزی مرحومہ نے آج کچھ یادیں تازہ کر دیں .
ہاتھی  کی سواری میرے بچپن کی ایک بھیانک یاد ہے۔ ایک تو اسکی بدبو سے دماغ اڑ گیا تھا اور دوسرے مجھے اپنی جان ناتواں کے لالے پڑے ہوۓ تھے؛ کیونکہ جس گدی پر تین چار پتلے دبلے چلبلے بچے گھس ٹھس کر بٹھاۓ گۓ تھے وہ ہمار قومی خارجہ پالیسی کی طرح توازن سے عاری تھی!
جب بھی کوئی ہلتا تھا تو گر پڑنے کا امکان قوی ہو جاتا.
لگتا تھا کسی بھی لمحے میں اونچائ سے سب کی نظروں میں اور نظروں کے سامنے زمین پہ جا گرونگی
( اس صورت میں “مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو مجھے تم کبھی بھلا نہ سکو گے”؛ کیونکہ کسی کا ہاتھی سے گر جانا کسی طور بھلایا نہیں جا سکتا ) اور ۱۰۰ ٹن کا ہاتھی بےرحمی سے مجھے روندتا ہوا گزر جاۓ گا۔ منیر نیازی کی غزل ناہید اختر کی آواز میں بیک گراونڈ  میں گونج رہی تھی :
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا؟
چونکہ اس سواری پر بیٹھنے میں ہماری مرضی ہرگز شامل نہ تھی سو؛
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا؟

 اقبال نے صاف کہا تھا ، “محمل نہ کر قبول ”   مگر یاد رہے، ہم کسی محمل میں تو تشریف فرما تھے نہیں. قبول و ایجاب کا موقع ہمیں نہیں دیا گیا تھا!

خیر خدا خدا کر کے دس سال کی عمر میں دنیا کی بے ثباتی پہ غور کرتے ہوۓ دس منٹ کی سواری اختتام کو پہنچی تو اترتے وقت بھی جان جانے کا خطرہ میرے چھوٹے سے سر پر منڈلاتا رہا۔ وہ دس منٹ ایک صدی پر محیط تھے۔ اس سے اتر کر سکھ کا سانس لیا ہی تھا کے  ایک  ناعاقبت اندیش بچے نے  فضول ائیڈیا پیش کیا؛ چلو اب اونٹ پر بیٹھیں!

کہا کوہان کا ڈر ہے
کہا کوہان تو ہوگا

اس نادان کو سمجھایا کہ یہ چڑیا گھر ہے، ہاکس بے نہیں . اب حالات یہ ہیں کے ہم قوم  کو سمجھا رہے ہیں کے یہ وطن عزیز ہے، چڑیا گھر نہیں !

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں