فحاشی کی تعریف کون کرے گا؟


پاکستان میں انسداد فحاشی کے مختلف قانون تو موجود ہیں لیکن ایک اسلامی جمہوری مملکت میں فحاشی کیا قرار پائے گی اس کا تعین آج تک نہیں ہوسکا۔

سوال یہ ہے کہ کب کس حرکت پر جذبات برانگیختہ ہونگے؟  فحش چیزوں کی نشر و اشاعت کو روکنے کے لیے بارہ ستمبر سنہ 1923 میں جینوا کے مقام پر ایک بین لاقوامی کنونشن منعقد ہوا تھا جس کی قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سن انیس سو پینسٹھ میں پاکستان نے قانون فحش نشر و اشاعت پاس کیا۔

اس کے علاوہ تھیٹر، فلم، اشتہارات کے لیے الگ الگ قوانین بھی ہیں جبکہ صوبائی انتظامیہ اور ضلعی حکومتیں مفاد عامہ کے ایک صدارتی آرڈیننس سولہ ایم پی او کے تحت بھی فحاشی کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں ۔

تعزیرات پا کستان میں فحاشی کی کوئی واضح تعریف نہیں ہے تاہم قانون کی کتابوں میں درج مبہم تشریح کے مطابق فحش کا مطلب ہے اخلاق بگاڑنے والی چیز۔

اگر کسی کتاب کو پڑھ کر، تصویر کو یافعل ہوتا دیکھ کرعام مرد یا عورت کے جذبات برانگیختہ ہوں تو وہ ”فحش” کہلاۓ گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کب کس حرکت پر ایسے جذبات پیدا ہونگے؟

پاکستان کے مختلف علاقوں اور طبقات میں فحاشی کے مختلف معیار ہیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں جینز کی پتلونوں میں ملبوس کوئی جوڑا اگر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کسی پارک یاجدید بستی کے فٹ پاتھ پر چہل قدمی کررہا ہو تو شائد اس کا کوئی خاص نوٹس نہ لیا جا ۓ لیکن سرحد اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں اور ملک کے بعض دیگر حصوں میں ایسا نہ صرف قابل اعتراض بلکہ فحاشی کی مروجہ تعریف کے مطابق دیکھنے والوں میں جذبات مجروح کرنے کا سبب ہو سکتا ہے۔

پنجاب پولیس کے ایک افسر نے اعتراف کیا کہ قانون میں ایسا کوئی پیمانہ نہیں ہے جو فحاشی کی وضاحت کرے۔اسں پولیس افسر نے بتایا کہ فحاشی کیا ہے اس کا فیصلہ پہلے تھانیدار کرتا ہے اور مقدمہ درج کرتاہے پھر عدالت دیکھتی ہے کہ یہ الزام درست ہے یا نہیں۔

دو تین ماہ قبل فحاشی کا الزام عائد کر کے تھیٹروں پر چھاپے مارے گئے اور درجنوں سٹیج اداکاراؤں کو گرفتار کیا گیا تو موقع سے فرار ہوجانے والی معروف اداکارہ نرگس نے ضمانت کے بعد ایک بھری تقریب میں کھڑے ہوکر پنجاب کے ایک بڑے افسر سے سوال کیا تھا کہ وہ دو روز قبل الحمرا ہال کے سٹیج پر ان کے روبرو ناچی تھیں تو اس وقت یہ فحاشی نہیں تھی اب اچانک ان کی اسی طرح کی پر فارمنس فحاشی کیوں قرار پائی ہے؟

اداکاراؤں کے وکیل نثار وارثی ایڈووکیٹ کے مطابق انہوں نے عدالت میں نکتہ اعتراض اٹھایا تھا کہ مقدمہ میں فحاشی کا الزام تو لگایا گیا ہے لیکن اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ آخر یہ اداکارائیں ایسی کونسی حرکتیں کر رہیں تھیں جن سے عوام کے جذبات مجروح ہو رہے تھے ان کے مطابق کوئی پولیس افسر اس کی وضاحت نہ کر سکا تھا۔

جس قسم کے لوگ اس قانون کے تحت گرفتار ہوتے ہیں اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قانون صرف غریبوں کو فحاشی سے دور رکھنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے- تعزیرات کے زیادہ تر مقدمات ان غریب نو عمر لڑکوں پر درج کیے جاتے ہیں جو پانچ یا دس روپے دیکر کسی گندے اور غلیظ کمرے پر مشتمل منی سینما گھر میں ٹی وی/ وی سی آر پر اخلاق سوز فلم دیکھتے پکڑے جائیں- اسی دفعہ کے تحت فحش رسالے تصاویر وغیرہ کی برآمدگی پر ملزم راہ گیر اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔فلمی عید کارڈ فروخت کرنے والے غریب خوانچہ فروش بھی اسی قانون کے شکنجے میں کسے جاتے ہیں۔

اکثر پولیس کسی ایسے جوڑے کو پکڑ لیتی ہے جن پر شبہ ہو کہ وہ گھر والوں سے چھپ کر ملاقات کر رہے ہیں لیکن گھر سے چوری ملاقات کیونکہ تعزیرات کے مطابق جرم نہیں اس لیے پکڑنے والا اہلکار ان پر سر عام بوس و کنار کر کے عوام کے جذبات مجروح کرنے کی دفعہ لگادیتا ہے۔

پولیس اگرچہ ایسے بے شمار مقدمات درج کرتی ہے لیکن کسی اثرو رسوخ کے حامل دولت مند کے خلاف ایسے کسی مقدمے کا اندراج کبھی سننے میں نہیں آیا ۔

سٹیج سے گرفتار ہونے والی اداکاراؤں نے بجا طور پر الزام عائد کیا تھا کہ جتنی فحاشی کا الزام دیکر انہیں گرفتار کیا گیا اس سے کئی گنا زیادہ فحاشی فلموں میں ہوتی ہے جس کا ثبوت بھی فلم کی ریل کی صورت میں موجود ہوتا ہے لیکن فحاشی کے خلاف مہم چلانے والوں کو یہ فحاشی نظر نہیں آتی۔

فلموں میں ہیروئینوں کے کپڑے مختصر ہوتے جا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فحاشی کا معیار تبدیل ہوتا جا رہا ہے- کبھی فلموں میں ہیروئن کا بھیگے کپڑوں میں ڈانس دکھانا فحاشی تھا لیکن اب نہیں ہے ۔

صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں ٹی وی پر گانے کے دوران گلوکارہ  رقص کے نام پر اگر پاؤں بھی ہلاۓ تو فحاشی تھا آج ایک اور فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں رقص کے نام پر ہر قسم کے دھما چوکڑی بھی فحاشی نہیں ہے

منٹو کے مشہور زمانہ افسانہ” ٹھنڈا گوشت” کونصف صدی قبل لاہور کی عدالت میں فحش قرار دیا گیا۔آج بے شمارتصانیف ایسی ہیں جو” ٹھنڈے گوشت” سے زیادہ ”گرم” ہیں لیکن انتظامیہ کو ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

فلم سنسر بورڈ کے ایک سابق رکن نے بتایا کہ جیسی حکومت آتی ہے ویسے بورڈ کے ارکان منخب کر لیے جاتے ہیں اور ان اراکین کی سوچ کے مطابق فحاشی کا معیار گھٹتا بڑھتا جاتا ہے۔

(تحریر :علی سلمان 15/08/2002)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 471 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp