ڈاکٹر عبدالسلام اور محترم عامر خاکوانی ….


tahir bhatti

 عاجز نے جب سے ‘ہم سب’ میں لکھنا شروع کیا ہے تو خود کو اس بات سے باز رکھنے کی مقدور بھر کوشش کی ہے کہ دیگر قلمکاروں سے نام لے کر اختلاف رائے بھی نہ کیا جائے۔ لیکن آج جلیل القدر عامر خاکوانی صاحب کا نرگس ماول والا کے حوالے سے مضمون دیکھا تو کچھ باتیں عرض کرنے کی مجبوری آن پڑی ہے کہ خود اس عاجز، ’ہم سب‘ اور آپ سب کو دیر تلک اور دور تلک جانے کی امید لگائے ہوئے ہوں۔ اس لئے اس بظاہر محدود اور ابتدائی فورم کی بنیادوں میں دیرپا مسالہ اور نیتیں بھر لی جائیں تا کہ اس کو اندر سے زوال نہ آئے۔

پاکستان کا سیاسی اور سماجی طور پر دیانت کے ضروری معیار سے بھی ساقط ہونا پڑھنے والوں کے لئے عام معلومات کی بات ہے اور اس میں کوئی فوری اور انقلابی تبدیلی نظر بھی نہیں آتی۔ لیکن حوصلہ شکن مرحلہ یہ ہے کہ ہمارے اہل دانش فکری بد دیانتی کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہے ہیں اور جو اس ننگ کی طرف اشارہ کرے اس کی جان کو آجاتے ہیں۔ اب نام کیا گنوانا…. یوں سمجھ لیں کہ ایک بھی اخبار، ادارہ، میڈیا ہاﺅس یا جامعہ آج کے دور میں عبدالمجید سالک، حمید نظامی، فیض احمد فیض، منظور قادر، ایم آر کیانی، پروفیسر حمید احمد خان، قاسم پیرزادہ، ابو الخیر کشفی ، ڈاکٹر مہدی حسن، ڈاکٹر اسلم سید یا ڈاکٹر پرویز ہود بہائی جیسے اہل علم و فن کے حوالے سے شہرت نہیں رکھتا اور ان اسمائے گرامی میں میں نے عمداً راجہ غالب، ثاقب زیروی ، پروفیسر قاضی اسلم اور جسٹس سلام بھٹی یا طاہر عارف کے نام شامل نہیں کئے۔ اور جب اس طرح کی متوازن شخصیات کا قحط پڑ جائے تو پھر لشٹم پشٹم بس کام چلانا پڑتا ہے مگر ایسے ڈنگ ٹپاﺅ دانشوروں اور ارباب امتیاز و تفاخر سے کسی نئے اور دیر پا طرز فکر کی بنیاد نہیں پڑا کرتی۔

اس بے توقیری اور کم نظری کے سیلاب میں اس نئے ‘ہم سب’ کی بنیاد پڑی تو ہر طرح کا موقف سامنے آنا شروع ہوا۔

راقم کو دو سال تک ’اردو کالم نگاری کا ادواری مطالعہ‘کے عنوان پر ڈاکٹریٹ کے مقالے میں تحقیقی معاونت کا موقع ملا اور مخزن اور نیرنگ خیال سے لے کر 2010 تک کے اخبارات و رسائل دیکھے لیکن اہل قلم کی ایسی ننگی اور کم سواد جانبداری دیکھنے کو نہیں ملی جیسی گذشتہ تین دہائیوں سے تھی اور ‘ہم سب’ نے لمبے عرصے بعد احمدیوں کو احمدی لکھنے کو رواج دیا اور احمدیوں پر احسان دھرے بغیر ایسا کیا ہے۔

امر واقعہ بھی یہی ہے کہ ترک شر اپنی ذات میں کوئی نیکی نہیں بلکہ یہ تو منفی سے صفر پر واپس آنے کا نام ہے۔ نیکی ایصال خیر ہے جو کوشش اور ہمت سے صفر سے مثبت مدارج کا سفر ہے جو حالیہ منظر نامے میں ناپید تھا اور اس نئی ٹیم اور ادارے نے اس پہ کمر باندھی ہے تو اب اس کا ساتھ دینا فرض ہے۔ جناب عامر خاکوانی صاحب نے پھر ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ قادیانی کی چھیڑ لگا کر اپنے مرتبے سے کم رویے کا اظہار کیا ہے۔ آپ سب سے صرف یہ گذارش کرنی ہے کہ آپ مرزائی ،قادیانی، کادیانی، یا دیگر پست تخاطب اختیار کر لیں اس سے احمدیوں کو کم اور آپ کے اپنے وقار اور آپ کی آنے والی نسلوں کی تہذیب پر بہت برا اثر پڑے گا۔ میں علی وجہ البصیرت جماعت اسلامی اور بانئی جماعت اسلامی مولانا ابوالاعلی مودودی کے عقائد سے اتفاق نہیں کرتا لیکن اپنی تحریر و تقریر میں مودودی صاحب کا صیغہ واحد میں ذکر اور ان کے پیروکاروں کو جماعتئے لکھنا تہذیب کے منافی سمجھتا ہوں اور کسی خوف سے نہیں رکھ رکھاو کے معیارات کی وجہ سے۔

دوسرا یہ امر کہ پہلے بھی ایک جگہ لکھا تھا کہ آئینی ترمیم کو ایک طرف رکھیں اور سیاسی اور سماجی مظالم اور تذلیل و نا انصافی کے سالانہ گوشواروں کو بھی۔

آج سے ہی یہ سمجھ لیں کہ ربوہ میں اور دیگر مقامات پر پاکستان میں احمدی رہتے ہیں، پاکستان کے شہری ہیں، اپنے گھر سے کھاتے اور اپنی صلاحیتوں سے (جہاں موقع ملے) آپ کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور….

آج تک ایک بھی اینٹی سٹیٹ اور سماج دشمن جرم ان کے کھاتے میں نہیں …. تو اسی خدا سے ڈر کر جس کے حوالے دیتے ہیں اور اسی رسول کریم ﷺکے اسوہ کے مطابق جس کی طرف منسوب ہوتے ہیں، احمدیوں کے تخاطب اور تذکرے کے حقوق خوشدلی سے ادا کریں۔

باقی جہاں تک ڈاکٹر نرگس کی سماجی ترجیحات ہیں تو وہ آخرت اور خدا اور مذہب کے مطابق نہیں ہیں تو نرگس کا کب دعوی ہے کہ وہ آپ کے مذہب یا کتاب کی پیروکار ہے تو پھر آپ کو اس کی سماجی ترجیحات پہ کیا مسئلہ ہے۔ آپ البتہ یہ بتائیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام تو پنجگانہ عبادت، شعائر اسلام کے پابند، ملکی ثقافت کے امین، قرآن کریم کی حمائل ہمہ وقت ساتھ رکھنے والے اور صحائح ستہ پر تدبر کرنے والے، اسلامی ممالک کی معاشی اور سائنسی ترقی کے لئے کوشاں کویت سائنس فاونڈیشن کے بانی اور روح رواں اور درود و سلام کو ورد رکھنے کے عادی تھے۔ ہماری بزعم خود صالح سوسائٹی نے ان کو کیوں اپنے ہاں نہیں پنپنے دیا۔ ان کو نوبل پرائز تو فزکس پہ ملا تھا، مرزا صاحب کی صداقت ثابت کرنے پہ تو نہیں ملا تھا۔

عالی جاہ۔ اپنے خوف سے باہر نکلیں اور ’ڈاکٹر سلام پہ پھر کبھی گفتگو‘ہو گی کی بجائے اپنے رویوں پر نظر کریں۔ یہ آسیب ہم جنس پرستی کی انفرادی گریز پائی سے آگے بڑھ کر اجتماعی سطح پہ اپنی جنس نہیں بلکہ اپنی نوع کے اتلاف’ انہدام اور قعر مذلت تک انحطاط پہ تلا بیٹھا ہے۔ قابل اجمیری کے اٹھائے ہوئے اس سوال پہ اختتام کرتا ہوں :

ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن
تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے؟


Comments

FB Login Required - comments

40 thoughts on “ڈاکٹر عبدالسلام اور محترم عامر خاکوانی ….

  • 26-02-2016 at 5:56 am
    Permalink

    !!! Excellent article with natural reasons and food for thought for right wing

  • 26-02-2016 at 11:57 am
    Permalink

    محترم بھٹی صاحب نے معاشرے میں عدم برداشت اور اس کے نتیجے میں اہل علم کی عدم پزیرائی کا مقدمہ بالکل درست قائم کیا ہے. خادم کسی بھی قسم کی دل آزاری سے دامن بچاتے ہوۓ ایک عرض گزارنے کی اجازت چاہتا ہے. بہت سے الفاظ فی نفسہ نہ تو تحقیر آمیز ہوتے ہیں، نہ ہی دل آزار. ان کا سیاق وسباق انہیں یہ صفات بخشتا ہے. اس سیاق و سباق کے خد و خال بسا اوقات ان کے نشانہ / مخاطب بننے والوں کا رد عمل بھی طے کرتا ہے. دوست کو علم ہوگا کہ برطانیہ کی قدامت پسند جماعت کا لقب “ٹوری” ابتدا میں ایک مبنی بر تحقیر لفظ تھا اور اس کے معنی بول چال میں “اٹھائی گیرا” کے قریب تھے. آج مذکورہ پارٹی کے اراکین بلا تکلف خود کو اس لقب سے یاد کرتے ہیں. لفظ “قادیانی” میں بھی فی نفسہ کوئی برائی نہیں. سنا ہے کہ یہ اس قصبے کے قدیم نام “اسلام پور قاضیاں” کی تصغیر سے بنا ہے. بانی سلسلہ اسے فخر سے اپنے نام کا حصہ بناے رہے. مجھے اپنے بچپن کا واقعہ دھندلا سا یاد آتا ہے. ہمارے شہر کی احمدی جماعت کے امیر ایک نورانی چہرے والے بزرگ تھے جو ہومیو پیتھی کے مشہور معالج بھی تھے. میرے ماموں کی ان سے یاد اللہ تھی. ایک روز نجانے کس سلسلے میں بات ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے “قادیانی” اور “لاہوری” جماعتوں کے قضیے پر بات کرتے ہوۓ دونوں فریقین کے لئے یہی الفاظ استعمال کیے. اب سننے میں آیا ہے کہ ان میں سے ایک فریق کے حلقہ بگوش دوسرے کو ازراہ تحقیر “پیغامی” کہتے ہیں جو غالبا فریق ثانی کے پرچے “پیغام صلح” کی مناسبت سے ہے. میرا خیال ہے کہ ان القابات پر چڑنے کے بجاے انہیں نظر انداز کرنا بہتر ہوگا. آخر ہمارے ہاں بہت سے لوگ ازراہ عقیدت اپنے نام کے ساتھ “مکی” “مدنی” وغیرہ لکھتے ہیں چاہے زندگی میں چیچوکی ملیاں سے آگے نہ گئے ہوں اور نسبی تعلق بھی خالص مقامی ذاتوں سے ہو. “قادیان” سے نسبت تو احمدی دوستوں کو عزیز ہونی چاہئے کہ ان کے بانی سلسلہ کا مرز بوم ہے

  • 26-02-2016 at 3:16 pm
    Permalink

    قاضی صاحب آپ کی بات وسیع تناظر میں تو درست ہے لیکن بعض الفاظ کے معانی انکے مقامات کی نسبت سے ہی پہچانے جاتے ہیں،اور آپ کے علم میں یہ بات بھی ہوگی کہ عام طور پر احمدیوں کو وطن دشمن اور غدار کہا اور لکھا جاتا ہے،اسی وجہ سے ہم احمدی کہلانے کو زیادہ اولی جانتے ہیں اور ہمیں لفظ احمدی ہی محبوب ہے نہ کہ قادیانی۔ملک ہمارا پاکستان ہے اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے نہ کہ قادیانی ہونے پر،قادیان پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔تو جب کوئی ایک لفظ کا لاحقہ اپنے ساتھ پسند نہیں کرتا تو کیوں اسے اس کے ساتھ جوڑا جائے؟حضرت مرزا صاحب قادیان کے تھے تو خود کو قادیانی کہتے اور لکھتے تھے۔ہم پاکستانی ہیں اسلئے پاکستانی ہی کہلائیں گے،ہاں ہماری مذہبی پہچان اسلام احمدیت ہے اور خود کو احمدی کہتے اور لکھتے بھی ہیں۔
    یہ لوگ جب احمدیوں کو قادیانی لکھتے اور کہتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے جو واضح طور پر ہدایت دیتا ہے کہ
    ولا تنابزوا باالالقاب
    ایک دوسرے کو ناپسندیدہ القاب سے یاد مت کیا کرو،سو اس واضح تعلیم کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کا ایسا رویہ،،،،،اس پیار کو میں کیا نام دوں؟

  • 26-02-2016 at 6:15 pm
    Permalink

    جناب من، میں آگاہ ہوں کہ ان القاب کے پیچھے ایک مخصوص مقصد ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے، مخاطب کو اذیت پہنچانا.. اگر مخاطب اظہار اذیت نہ کرے، اعراض کا رویہ اختیار کرے، تو القاب پکارنے والے کو لطف آنا بند ہو جاے گا. جہاں تک غدار وغیرہ کے لیبل چسپاں کرنے کا تعلق ہے، تو اس میدان میں تو عشاق وطن کا ایک جم غفیر ہے. ہم نے تو اب اس الزام کے جواب میں مسکرانے کا رویہ اپنا لیا ہے. آپ کے لئے شاید صورت حال ذرا زیادہ تکلیف دہ ہو چونکہ آپ کے بڑوں نے قیام پاکستان میں بھرپور حصہ لیا. سو جب آپ تیر انداز کی جانب دیکھتے ہیں تو اپنے ہی “دوستوں” سے ملاقات ہو جاتی ہے. ہمچو ما و دیگر “غداروں” کا معاملہ شاید اس لئے مختلف ہے کہ ان کے لباس پر سامراج دشمنی میں بہنے والے خون کے داغ تو خوب نمایاں ہیں، فرقہ ورانہ سیاست کے کاغذی پھولوں سے ان کا دامن خالی رہا ، سو ان کے لئے یہ سب متوقع تھا.

  • 26-02-2016 at 8:32 pm
    Permalink

    اصل میں ہمارے ہاں مرزا غلام آحمد قادیانی ہی معروف ہیں، کوئی ان کو مرزا غلام آحمد احمدی نہیں کہتا۔ اسی مناسبت ہی سے ان کو ماننے والوں کو قادیانی کہا جاتا ہے۔ مولانا احمد رضا خان چونکہ بریلی کے تھے، ان کے مناسبت سے ان کے مکتب فکرکے لوگوں کو بریلوی کہا جانے لگا، جبکہ بریلوی خود کو جماعت اہلسنت ہی لکھتےہیں۔ جے یوپی کے تمام دھڑے خود کا جماعت اہلسنت ہی لکھتے ہیں، تمام دوسرے لوگ انہیں بریلوی ہی کہتے ہیں۔ جبکہ دیوبندی خود کو اہلسنت والجماعت کہلانا پسند کرتے ہیں، مگر انہیں ہر کوئی دیوبندی ہی کہتا ہے۔ اسی طرح اہل تشیع خود کو فخریہ مومن کہتے ہیں، مگر کوئی غیر شیعہ انہیں مومن نہیں کہتا۔ ہمارے غیر مقلد حضرات کو وہابی نام انہوں نے خود نہیں دیا، ان پر تنقید کرنے والوں نے محمد بن عبدالوہاب نجدی کی نسبت سے دیا، جسے وہ قطعی پسند نہیں کرتے ، مگر اس کے باوجود ان کا عام نام وہابی ہی ہے، حتیٰ کہ اب تو امریکہ میں چھپنے والی بہت سی کتابوں میں وہابی اسلام کی اصطلاح ہی بن گئی ۔ اس میں برا منانے والی کون سی بات ہے۔ قادیانی کوئی گالی ہے نہ ہی لفظ احمدی میں کچھ فخر وتوصیف کا پہلو ہے۔ ہمارے ہاں عام سطح پر قادیانی لفظ معروف ہے، اس لئے عوامی سطح پر ابلاغ کرتے ہوئے قادیانی کہہ دیا جاتا ہے، ویسے بھی جتنا لٹریچر اس حوالے سے لکھا گیا، سب میں قادیانیت کی اصطلاح ہی برتی گی ہے یا مرزا صاھب کی مناسبت سے مرزائی کہا جاتا رہا ہے۔ میں سمجھ نہیں پایا کہ اس میں چھیڑ کہاں سے بن گئی؟ احمدی لفظ کیسے درست ہوگیا اور قادیانی کیسے غلط ہوگیا جبکہ اس حوالے سے نصف صدی سے زیادہ بحث مباحثے، مناظرے چلتے رہے، دونوں اطراف سے مباہلے یا مباہلوں کا چیلنج تک ہوا، بے شمار کتابیں، رسالے، تحریریں لکھی گئیں، ان سب میں قادیانی اصطلاح ہی برتی جاتی رہی ، کبھی قادیانیوں یا احمدیوں میں سے کسی سے اعتراض نہیں کیا۔ اب اس اعتراض کی وجہ کم از کم میں نہیں سمجھ پا رہا ۔ بات سمجھ آ جائے تو آئندہ زیادہ احتیاط کرنا آسان ہوجائے گا۔
    دوسرا یہ کہ میں نے کب کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام غدار ہیں یا قادیانی غدار ہیں۔ میں نے زندگی میں آج تک کبھی یہ لفظ استعمال نہیں کیا نہ ہی انشااللہ کروں گا۔ اس کمیونٹی پر ملک وقوم کے حوالے سے غداری کا الزام لگانا درست
    نہیں۔ یہ بات البتہ واضح ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ پاکستان کا آئین انہیں غیر مسلم ہی کہتا ہے۔ جو بات جتنی ہے، اتنی ہی کہنی چاہیے۔

    • 27-02-2016 at 6:21 pm
      Permalink

      بہت عمدہ اور جامع جواب

  • 26-02-2016 at 8:43 pm
    Permalink

    یہ مگر ایک حقیقت ہے، چاہے اسے تلخ حقیقت سمجھ لیں، مگر جس ملک میں آپ ہم سب رہتے ہیں، اسی ملک کے آئین کے مطابق قادیانی یا احمدی حضرات غیر مسلم ہیں، نہ صرف غیر مسلم ہیں بلکہ قانون انہیں خود کو مسلمان کہنے سے، اس کا شائبہ دینے، تاثر دینے سے بھی روکتا ہے۔ ملکی قانون کے مطابق یہ جرم ہے، جس کی باقاعدہ سزا بھی مقرر ہے۔
    رہی بات ڈاکٹر عبدالسلام کی ،تو وہ بھی مسلمان نہیں تھے، جو شخص اللہ کے آخری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتا، وہ مسلمان نہیں، اس پر اجماع امت ہے، تمام فرقوں، مسالک کے علما کا اتفاق ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستانی پارلیمنٹ ایک طویل بحث کے بعد اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہے۔ ایک لبرل انسان اس وقت ملک کا وزیراعظم تھا، ایک لبرل ، سیکولر پارٹی ملک پر حکمران تھی، اس نے دوسری تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا۔ اس لئے ڈاکٹر عبدالسلام خواہ نوبیل انعام لیتے وقت تلاوت قرآن کرتے رہے، یا بعد میں انہوں نے تلاوت کر کے اپنی کیسٹ ریلیز کر دی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔ قرآن کی تلاوت کرنے والا ہر شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ توحید کے بعد دوسرا مرکزی نقطہ رسالت ہے، سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول ماننا مسلمان ہونے کے لئے لازمی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس نکتہ پر بحث بھی غیر ضروری ہے، یہ تو طے شدہ بات ہے۔
    ہاں ڈاکٹر عبدالسلام مسلمان تھے یا نہیں ، اس سےقطع نظر وہ ایک پاکستانی تھے، ایک بڑے سائنس دان تھے، اپنے علم ، محنت، کمٹمنٹ اور عرق ریزی سے انہوں نے سائنسی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ دنیائے سائنس کے سب سے بڑے اعزاز نوبیل انعام کو حاصل کیا۔ اس اعتبار سے وہ پاکستانیوں کے لئے بہت زیادہ محترم، مکرم اور معزز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ جیسے نادان دوستوں کی وجہ سے ہی ڈاکٹر عبدالسلام کے کردار ، ان کے قد کاٹھ کو نقصان پہنچا۔ اگر احمدی حضرات ڈاکٹر عبدالسلام سے تھوڑی دوری اختیار کر لیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور انہیں احمدی ہوتے ہوئے مسلمان ثابت کرنے کی لاحاصل جنگ شروع نہ کریں تو قوم یقینی طور پر ڈاکٹر صاحب کے سائنسی کردار کو تسلیم کرے گی۔ جو قوم ایک پارسی ڈاکٹر نرگس موال والا پر معترض نہیں، اس پر خوشی منا رہی ہے، اسے ڈاکٹر عبدالسلام کو ہیرو ماننے میں کیا حرج ہوسکتا ہے؟ شرط یہ ہے کہ ان کے مذہب کا معاملہ الگ رکھا جائے، یہ ان کا نجی معاملہ ہے، نجی ہی رہنا چاہیے، شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار کے مصداق احمدی حضرات ڈاکٹر عبدالسلام سے بڑھ کر انہیں احمدی بنانے اور اس بنیاد پراہل مذہب کے خلاف ایک مقدمہ قائم کرنےکی کوشش میں یہ معاملہ بگاڑ تے ہیں۔

    • 27-02-2016 at 6:48 pm
      Permalink

      حضور یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ جس طرح پاکستانی قانون احمدیوں کو مسلمان کہلوانے سے روکتا ہے اسی طرح وہ مسلمانوں کو بھی روکتا ہے کہ وہ بشمول احمدی ، عیسائی ، یہودی ، ہندو ، پارسی یا کسی بھی مذہب، فرقے یا مسلک کی توہین نہیں کر سکتے ۔ جو سزا ایک احمدی پر مسلمان کہلوانے پر لاگو ہوتی ہے وہی سزا ہر اس مسلمان کے لئے بھی ھے جو دوسرے مزاھب کی توہین کرتا ہے

  • 26-02-2016 at 8:56 pm
    Permalink

    ایک چھوٹی سی تصیح، یہ کمنٹ بنیادی طور پر نرگ موال وال پر میرے کالم پرمحترم راشد احمد صاحب کے کمنٹ کا جواب دیتے ہوئے کیا گیا، اسے متعلق سمجھ کر یہاں بھی پوسٹ کر دیا ، اس لئےآخری پیرے میں جہاں ’’آپ جیسے نادان دوست‘‘ کے الفاظ آئے ، انہیں بھٹی صاحب پر منطبق نہ کیا جائے، یہ ان کے لئے نہیں ہیں۔ یہ راشد احمد صاحب کے جواب میں ہیں، جن کے ساتھ میری اپنی فیس بک وال پر بھی بہت بار کمنٹس میں بات چیت چلتی رہتی ہے۔ یہ اسی بے تکلفانہ انداز میں لکھا گیا جملہ ہے۔ بھٹی صاحب سے معذرت خواہ ہوں کہ ادھر بھی پوسٹ ہوگیا۔

  • 26-02-2016 at 9:08 pm
    Permalink

    نرگس موال والا

  • 26-02-2016 at 10:46 pm
    Permalink

    عامر خاکوانی صاحب نے واضح کردیا ہے کہ احمدیوں کو احمدی کہنا ان کے لئے بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’اس کمیونٹی پر ملک وقوم کے حوالے سے غداری کا الزام لگانا درست نہیں۔‘ کیا خا کوانی صااحب اس بات کی وضاحت کریں گے کہ اس کمیونٹی پر غداری کا الزام کون لگاتا ہے؟ اس بارے میں ریاست‘ معاشرہ اور میڈیا کا رویہ کیسا ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیئے؟ کیا خاکوانی صاحب نے کبھی ان لوگوں سے تعرض کیا جو ہروقت احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلاتے رہتے ہیں؟

    خاکوانی صاحب نے یہ بھی فرمانا ضروری سمجھا کہ ’یہ بات البتہ واضح ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ پاکستان کا آئین انہیں غیر مسلم ہی کہتا ہے۔‘ کیا وہ اس لئے غیرمسلم ہیں کہ پاکستان کا آئین انہیں غیر مسلم کہتا ہے؟ کیا وہ اس وقت مسلمان تھے جب تک آئین نے انہیں غیر مسلم قرار نہیں دیا تھا؟ کیا پارلیمنٹ کو اس طرح کے امور میں مداخلت کرنی چاہیئے؟ کیا خاکوانی صاحب کی نظر میں لاہوری فرقہ بھی غیر مسلم ہے؟ پاکستانی ریاست کا اس بارے میں کیا رویہ ہے؟ ان لوگوں کے بارے میں خاکوانی صاحب کی کیا رائے ہے جو شیعوں کو غیر مسلم قراردیتے ہیں؟

    خواجہ ناظم الدین جیسے مذہبی آدمی نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے کیوں انکار کردیا تھا؟ سرظفراللہ خان آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرکیسے بن گئے تھے؟ کیا یہ درست ہے کہ جناح صاحب نے انہیں اپنا فرزند قراردیا تھا؟ کیا آج کے مسلمان اس وقت کے مسلمانوں سے زیادہ متعصب ہیں؟

    • 27-02-2016 at 1:31 am
      Permalink

      معاملہ ڈاکٹر عبدالسلام اور احمدی کمیونٹی کا
      دوباتیں واضح ہیں۔ پہلی بات یہ کہ میرے نزدیک کسی کے غیر مسلم ہونے سے اس کی ذاتی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے کئی دوست مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں، مسیحی ،ہندو وغیرہ۔ ہمارے شہر احمدپورشرقیہ میں ہندوں کی ایک پوری بستی ہے، جسے مڑیچے کہتے ہیں، یہ غالباً راجھستانی ہندﺅں کی کوئی شاخ ہے۔ ہمارے دوست اورکلاس فیلوز میں مڑیچے دوست تھے، ایک کلاس فیلو کی میتھ میں مہارت کی بڑی دھوم تھی اور اس کی اکیڈمی شہر کی مشہور ترین اکیڈمی تھی۔ان کے ساتھ کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا،بلکہ روایتی طور پرقربانی کے گوشت کا بڑا حصہ اسی بستی کے غریب خاندان آ کر لے جاتے تھے بلکہ ہیں، کبھی کسی مقامی مولوی نے نہیں کہا کہ انہیں قربانی کا گوشت یاکھال نہ دیا جائے۔ یاد رہے کہ بابری مسجد والے واقعہ کے بعد جہاں ملک کے دیگر علاقوں میں خاصا ردعمل ہوا اور وہ سب بلاجواز اور غلط بلکہ صریحاً غلط تھا، مگر ہمارے شہر میںایک بھی ایسا ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا، کسی نے مقامی ہندﺅںکی طرف نظراٹھا کر نہ دیکھا اور ان کے مندر بالکل محفوظ رہے۔
      ہم سب نے انہیں بالکل پرسکون اور محفوظ رکھا،ویسے کوئی ایسا شدت پسندانہ ردعمل شہر میں ہوا بھی نہیں تھا۔کراچی میں میرے دو تین دوست مسیحی تھے، ایک دوست بہائی بھی تھا۔ کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ ہمارے ایک ہمسایے احمدی تھے، شریف آدمی تھے، انکے ساتھ اچھے ہمسائیگی رہی، چیزوںکاتبادلہ، کھانے پینے کی چیزیںبھیجنا وغیرہ، ان کے بچے ہمارے گھر والدہ سے پڑھنے بھی آتے تھے۔بعد میں وہ فیملی ربوہ شفٹ ہوگئی تھی۔
      اس لئے کسی کو احمدی کہنا میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں، یہ میرے نزدیک حقارت کا لفظ بھی نہیں ہے، ایک امرواقعہ کااظہار ہے بس۔
      ہاں میرے نزدیک احمدی غیر مسلم ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں، جو شخص رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتا، وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔اس پر اجماع امت ہے، تمام مسالک کے علما دین اس پر متفق ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے اس پر طویل بحث کے بعد یہ ترمیم قبول کی۔

      • 27-02-2016 at 1:34 am
        Permalink

        ایک صاحب نے لاہوری جماعت کے بارے پوچھا۔ جی اس آئینی ترمیم کے مطابق لاہوری گروپ بھی غیر مسلم ہے۔
        میرے نزدیک اب کسی کو کافر نہیںکہا جا سکتا، غیر مسلم قرار دیاجاسکتا ہے، مگریہ کام کسی فرد یا گروہ کے بجائے ریاست کے کرنے کا ہے۔ کسی مسلک کے حوالے سے اگر کوئی تنازع پیدا ہوا ہو، معاملہ خراب ہو رہا ہو تو اسے افراد یاگروہوں کے حوالے کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے پاس جانا چاہیے، آئین میں ترمیم پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔ میں ذاتی طور پر اقبال کاہم خیال ہوں جو پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دیتے ہیں، پارلیمنٹ علما کی مشاورت سے اجتہادی فیصلے کر سکتی ہے۔ احمدیوں کے غیر مسلم قرار دینے کا معاملہ درست طریقے سے پارلیمنٹ میں گیا، احمدی جماعت کے قائدین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا، انہیں غالباً یہ غلط فہمی تھی کہ وہ اپنے (باطل)دلائل کی مدد سے اراکین پارلیمنٹ کو مسحور کر دیں گے اور ان کاشائد یہ خیال ہو کہ بھٹو جیسا شخص مولوی کا مطالبہ نہیں مان سکتا۔ قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں، احمدی جماعت خود اپنے ہی فیصلے کا شکار ہوگئی، اپنی طرف سے انہوں نے پورا زور لگایا ،مگر مولانا نورانی، مفتی محمود اور ان جیسے دیگر علما کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے کمال مہارت سے احمدیوںکے استدلال کی کمزوریاں واضح کر دیں اور یہ ثابت کر دیا کہ یہ غیر مسلم ہیں اور ایک حیلہ کے طور پر اسلام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔یوں پارلیمنٹ نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ یوں یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے سیٹل ہوگیا۔
        احمدی اگر اس فیصلے کو تسلیم کر لیتے ، آئین کے مطابق اپنا رویہ درست کرلیتے تو میرا خیال ہے ان کے حوالے سے عوامی نفرت اور بیزاری پیدا نہ ہوتی۔ احمدی کمیونٹی کے غیر دانشمندانہ طرز عمل نے ان کے لئے مسائل پیدا کر دئیے۔ جب آئین انہیں غیر مسلم قرار دے چکا ہے، تمام مسلمان فرقے انہیں غیر مسلم قرار دے چکے ہیں، تب بھی ان کا خود کو مسلمان کہنے پر اصرار دراصل ایک نئے فتنے کو جگانے کے برابر ہے۔ کوئی اور غیر مسلم کمیونٹی ایسا نہیں کرتی۔ مسیحی بھائی ایسا ہرگز نہیں کرتے، وہ اپنی انفرادیت اور اپنی شناخت پر بلکہ اصرار کرتے ہیں۔ ہندو برادری،سکھ ، پارسی یا دوسری کوئی بھی غیر مسلم کمیونٹی ایسا نہں کرتی۔ احمدی کمیونٹی نے اس فیصلے کے ردعمل میںجینے کافیصلہ کیا اور وہ درحقیقت اسی ردعمل کی نفسیات میں جی رہے ہیں، امکان بھی نظر نہیں آ رہا کہ وہ اس سے کبھی باہر نکل پائیں گے۔
        یہ درست ہے کہ احمدیوں کے حوالے سے سوشل سطح پر ناپسندیدگی موجود ہے، اس میں کمی آنی چاہیے۔ اسلام کا اصل طریقہ دعوت وتبلیغ کا ہے۔ احمدیت یا قادیانیت سے ناپسندیدگی ایک اور فیکٹر ہے، نظریاتی طور پر آ پ اس اپروچ، استدلال کو ناپسند اور مسترد کر سکتے ہیں،(ان سطور کے راقم کا عقیدہ اور سوچ اس حوالے سے واضح ہے)، تاہم احمدی برادری کے ساتھ تعلقات رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔حسن سلوک کا ایسا مظاہر ہ یقیناًکرنا چاہیے۔ اس حوالے سے شائع ہونے والے اینٹی قادیانی لٹریچر سے میں متفق نہیں۔ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب کا معترف ہوں،جس میں انہوں نے کمال علمی شائستگی کے ساتھ احمدی استدلال کا ابطال کیا ،مگر کہیں پر کوئی سخت لفظ استعمال نہیں کیا، وہ ہر جگہ مرزا صاحب لکھتے رہے ۔تاہم اس حوالے سے احمدی برادری پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ احمدی ہونا ان کانجی معاملہ ہے، اگر وہ اسے نجی رکھیں تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ جب وہ ہرجگہ مناظرے کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں اور تاریخ کے پہیے کو آئین میں قادیانی ترمیم سے پیچھے لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، تب مسائل اورکشمکش پیدا ہوتی ہے اور اس کانقصان احمدیوں ہی کو ہوتا ہے۔ انہیں اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔ مین سٹریم میں شامل ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آئین کو تسلیم کرتے ہوئے ، ایک غیر مسلم پاکستانی کمیونٹی کے طور پر وہ دوسری کمیونیٹز کے ساتھ انٹرایکشن کریں، وہ دیکھیں گے کہ ہر کوئی کھلے بانہوں سے ان کا خیر مقدم کرے گا۔ موجودة طرزعمل البتہ وہی نتائج پیدا کرے گا، جو اس وقت پہلے سے نظر آ رہے ہیں۔

    • 27-02-2016 at 1:38 am
      Permalink

      ایک صاحب نے لاہوری جماعت کے بارے پوچھا۔ جی اس آئینی ترمیم کے مطابق لاہوری گروپ بھی غیر مسلم ہے۔
      میرے نزدیک اب کسی کو کافر نہیںکہا جا سکتا، غیر مسلم قرار دیاجاسکتا ہے، مگریہ کام کسی فرد یا گروہ کے بجائے ریاست کے کرنے کا ہے۔ کسی مسلک کے حوالے سے اگر کوئی تنازع پیدا ہوا ہو، معاملہ خراب ہو رہا ہو تو اسے افراد یاگروہوں کے حوالے کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے پاس جانا چاہیے، آئین میں ترمیم پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔ میں ذاتی طور پر اقبال کاہم خیال ہوں جو پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دیتے ہیں، پارلیمنٹ علما کی مشاورت سے اجتہادی فیصلے کر سکتی ہے۔ احمدیوں کے غیر مسلم قرار دینے کا معاملہ درست طریقے سے پارلیمنٹ میں گیا، احمدی جماعت کے قائدین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا، انہیں غالباً یہ غلط فہمی تھی کہ وہ اپنے (باطل)دلائل کی مدد سے اراکین پارلیمنٹ کو مسحور کر دیں گے اور ان کاشائد یہ خیال ہو کہ بھٹو جیسا شخص مولوی کا مطالبہ نہیں مان سکتا۔ قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں، احمدی جماعت خود اپنے ہی فیصلے کا شکار ہوگئی، اپنی طرف سے انہوں نے پورا زور لگایا ،مگر مولانا نورانی، مفتی محمود اور ان جیسے دیگر علما کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے کمال مہارت سے احمدیوںکے استدلال کی کمزوریاں واضح کر دیں اور یہ ثابت کر دیا کہ یہ غیر مسلم ہیں اور ایک حیلہ کے طور پر اسلام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔یوں پارلیمنٹ نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ یوں یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے سیٹل ہوگیا۔
      احمدی اگر اس فیصلے کو تسلیم کر لیتے ، آئین کے مطابق اپنا رویہ درست کرلیتے تو میرا خیال ہے ان کے حوالے سے عوامی نفرت اور بیزاری پیدا نہ ہوتی۔ احمدی کمیونٹی کے غیر دانشمندانہ طرز عمل نے ان کے لئے مسائل پیدا کر دئیے۔ جب آئین انہیں غیر مسلم قرار دے چکا ہے، تمام مسلمان فرقے انہیں غیر مسلم قرار دے چکے ہیں، تب بھی ان کا خود کو مسلمان کہنے پر اصرار دراصل ایک نئے فتنے کو جگانے کے برابر ہے۔ کوئی اور غیر مسلم کمیونٹی ایسا نہیں کرتی۔ مسیحی بھائی ایسا ہرگز نہیں کرتے، وہ اپنی انفرادیت اور اپنی شناخت پر بلکہ اصرار کرتے ہیں۔ ہندو برادری،سکھ ، پارسی یا دوسری کوئی بھی غیر مسلم کمیونٹی ایسا نہں کرتی۔ احمدی کمیونٹی نے اس فیصلے کے ردعمل میںجینے کافیصلہ کیا اور وہ درحقیقت اسی ردعمل کی نفسیات میں جی رہے ہیں، امکان بھی نظر نہیں آ رہا کہ وہ اس سے کبھی باہر نکل پائیں گے۔
      یہ درست ہے کہ احمدیوں کے حوالے سے سوشل سطح پر ناپسندیدگی موجود ہے، اس میں کمی آنی چاہیے۔ اسلام کا اصل طریقہ دعوت وتبلیغ کا ہے۔ احمدیت یا قادیانیت سے ناپسندیدگی ایک اور فیکٹر ہے، نظریاتی طور پر آ پ اس اپروچ، استدلال کو ناپسند اور مسترد کر سکتے ہیں،(ان سطور کے راقم کا عقیدہ اور سوچ اس حوالے سے واضح ہے)، تاہم احمدی برادری کے ساتھ تعلقات رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔حسن سلوک کا ایسا مظاہر ہ یقیناًکرنا چاہیے۔ اس حوالے سے شائع ہونے والے اینٹی قادیانی لٹریچر سے میں متفق نہیں۔ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب کا معترف ہوں،جس میں انہوں نے کمال علمی شائستگی کے ساتھ احمدی استدلال کا ابطال کیا ،مگر کہیں پر کوئی سخت لفظ استعمال نہیں کیا، وہ ہر جگہ مرزا صاحب لکھتے رہے ۔تاہم اس حوالے سے احمدی برادری پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ احمدی ہونا ان کانجی معاملہ ہے، اگر وہ اسے نجی رکھیں تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ جب وہ ہرجگہ مناظرے کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں اور تاریخ کے پہیے کو آئین میں قادیانی ترمیم سے پیچھے لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، تب مسائل اورکشمکش پیدا ہوتی ہے اور اس کانقصان احمدیوں ہی کو ہوتا ہے۔ انہیں اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔ مین سٹریم میں شامل ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آئین کو تسلیم کرتے ہوئے ، ایک غیر مسلم پاکستانی کمیونٹی کے طور پر وہ دوسری کمیونیٹز کے ساتھ انٹرایکشن کریں، وہ دیکھیں گے کہ ہر کوئی کھلے بانہوں سے ان کا خیر مقدم کرے گا۔ موجودة طرزعمل البتہ وہی نتائج پیدا کرے گا، جو اس وقت پہلے سے نظر آ رہے ہیں۔

  • 26-02-2016 at 11:50 pm
    Permalink

    جہاں تک احمدیوں کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے کا تعلق ہے،ہم اس بحث میں نہیں پڑتے،کہ اسکو قانون کی نظر سے دیکھا جائے یا ذاتی ایمان کا فیصلہ فرد واحد کے اختیار میں دیا جائے۔ احمدیوں کو کیا کہا جائے،بڑا آسان معاملہ ہے،آپ وہ کیوں نہیں کہتے جو وہ اپنے آپ کو کہلوانا چاہتے ہیں،لیکن پھر بھی یہ اتنا اہم نہیں ۔ مجھے جو بات کھٹکی وہ یہ تھی کہ محترم جناب عامر خاکوانی صاحب کے فیس بک پیج پر انکے کالم کے حوالے سے خاکسار نے ایک سوال کیا،جس کے جواب میں محترم نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان سے تو تھے،مگر پاکستانی نہ تھے۔ میں ذیل میں تمام گفتگو کاپی پیسٹ کررہا ہوں۔مجھے خاکوانی صاحب کے اس بیانئے سے شدید اختلاف ہے۔ اس اختلاف کی وجہ صرف یہی ہے کہ ایسی سوچ کی وجہ سے پاکستان میں میرٹ کا قتل عام ہوتا ہے اور شہریوں کے درمیان امیتازات کا اضافہ ہوتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیس بک پر ہونے والی گفتگو
    Ata Rashad
    آپ کی تمام باتیں درست ہیں،صرف ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے سائنسدان اب تک کے ڈاکٹر عبدالسلام تھے،ان کو یہاں پذیرائی کیوں نہ ملی؟
    Like · Reply · 3 · February 24 at 11:12am
    M Aamir Hashim Khakwani
    M Aamir Hashim Khakwani
    ویری سمپل۔ کیونکہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے سائنس دان تھے، مگر سب سے بڑے پاکستانی سائنس دان نہیں تھے۔ وہ باہر مقیم ہوگئے ، وہاں پر ہی رہے تو ظاہر ہے ان کا یہاں سے رشتہ بڑی حد تک کٹ گیا۔ جب نوبیل انعام ملا تو برسوں سے اٹلی ہی میں مقیم تھے۔
    Like · Reply · 2 · February 24 at 11:52am
    M Aamir Hashim Khakwani
    M Aamir Hashim Khakwani
    مزید یہ کہ جو جواب آپ سننا چاہتے ہیں، وہ بھی لکھ دیتا ہوں کہ احمدی ہونے کے ناتے انہیں ایک خاص قسم کی عوامی ناپسندیدگی اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ قادیانیوں کے لئے پاکستان کے ایک بڑے طبقے کے اندر ناپسندیدگی کی لہر موجود ہے، خاص کر ان قادیانیوں کے لئے جو قادیانیت کے موید بھی ہیں۔
    Like · Reply · 2 · February 24 at 11:53am
    Muhammad Farooq Ashraf Gill
    Muhammad Farooq Ashraf Gill asli jawab sirf aur sirf dosra hi ha unfortunately
    Unlike · Reply · 1 · February 24 at 4:48pm
    Ata Rashad
    Ata Rashad
    وہ پاکستان کے تھے،مگر پاکستانی سائنسدان نہ تھے،کیا بیرون ملک مقیم ہوجانے سے پاکستانیت ختم ہوجاتی ہے۔آج لاکھوں پاکستانی دنیا کے کونے کونے میں رہائش پذیر ہیں،کیا وہ پاکستانی نہیں رہے؟ معذرت سے عرض ہے کہ آپ کا یہ جواب حقائق کے برخلاف ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام ایک محب وطن پاکستانی تھے،اسی نفرت آمیز رویے کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنا پڑا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عوام احمدیوں کے مذہبی عقائد کو غلط نہ سمجھیں،ہر ایک کو حق ہے کہ وہ جو مذہبی عقائد اپنانا چاہے اپنائے،مگر مذہب کی بنیاد پر میرٹ کا قتل عام نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک شخص پاکستانی ہے اسکا تعلق کسی بھی فرقے سے ،کسی بھی مذہب سے ہے اسکو یکساں مواقع ملنے چاہیں،یہی قاید اعظم بھی یہی چاہتے تھے اور یہی اسلام کی حقیقی روح بھی ہے۔ آپ نے اپنے مضمون میں تعلیمی انحطاط کی جو وجوہات بیان کی ہیں ،وہ سب ٹھیک ہیں اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے قابل لوگوں کو نفرت اور تعصب کی سولی پر چڑھادیتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام اس کی مثال ہیں۔ جب تک ہم اپنے معاشرے میں خود انصاف نہیں کرسکیں گے تو دوسروں سے کیسے توقع کریں گے کہ وہ ہمارے ساتھ انصاف کریں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • 27-02-2016 at 12:00 am
    Permalink

    خاکوانی صاحب اللہ آپ کا بھلا کرے کہ اپنے کمنٹس میں آپ نے احمدی کا لفظ استعمال تو کیا،اس ضمن میں میری دلیل اب بھی وہی ہے جسے قرآن نے بطور حکم نافز کیا ہے کہ
    ولا تنابزو باالالقاب
    ناپسندیدہ القاب سے کسی کو مت پکارو،اب ایک بات جو مجھے اپنے لئے نہیں پسند آپ وہ میرے متعلق کیوں استعمال فرمائیں گے؟َاس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں،اگر آپ کے سینے میں میرے لئے بغض نہیں تو احمدی کہنے میں کیا حرج ہے؟
    جہاں تک ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے دین ایمان کی بات ہے تووہ اسکا کھل کر اقرار کرچکے کہ انکی ریسرچ کی بنیاد قرآن مجید ہے۔ہرقرآن پرھنے والا مسلمان نہیں ہوتا لیکن قرآن کا بغورمطالعہ کرکے اسکی سچائیاں دنیا کے سامنے پیش کرنا اور ہر وقت محبت اور عقیدت سے اسکی تلاوت کرنے والا بہرحال میرے نزدیک مسلمان ہے۔آپ کے نزدیک جو مسلمان ہے ان کے کارہائے نمایاں دنیا کے سامنے ہیں۔باردو جن کی پہچان ہے اور انسانیت کا قتل جنکا طرہ امتیاز،اسلئے آپ کی بعض باتوں پر حیرت مطلقاً نہیں ہوتی۔
    اور جہاں تک ڈاکٹر صاحب کی عزت افزائی کی بات ہے تو محترم میرے جیسے ’’نادان دوست‘‘ تواب پیدا ہوئے ہیں آپ جیسے عقلمند ’’دشمن‘‘ تو اسوقت سے موجود ہیں مگر حیرت ہے پھر بھی جب بھی ڈاکٹر صاحب کی بات ہوتی ہے آپ جیسے لکھاریوں کی تان بھی اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ موصوف احمدی تھے،اسلئے انہیں پاکستان نے قبول نہ کیااس کمنٹ میں تو آپ انہیں ایک پاکستانی،محنتی اور عظیم سائنس دان مان رہے ہیں لیکن آپ اپنے کالم میں ان کے مطلق لکھ چکے ہیں کہ عملاً وہ پاکستان سے لاتعلق ہوچکے تھے،اب اس دوہرے معیار پر آپ کو کیا کہا جائے؟ملالہ تو احمدی نہیں تھی لیکن اس کا جو حشر اس قوم نے کیا اس سے ساری کہانی الم نشرح ہوجاتی ہے کسی تجزئے کی ضرورت اقی نہیں رہتی۔فکری بانجھ پن کے شکار لوگوں سے کسی کی ترقی بہرحال دیکھی نہیں جاتی۔

  • 27-02-2016 at 12:12 am
    Permalink

    جہاں تک اسمبلی کی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی بات ہے تو یہ بھی ایک لطیفہ ہی ہے۔میں راشداحمد جب یہ کلمہ پڑھتا ہوں کہ
    لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ(ﷺ)
    تو اسمبلی کون ہوتی ہے جو مجھے کافر قراردے دے مجھے غیرمسلم قراردے دے۔دنیا کی کسی اسمبلی کو یہ اعزاز حاصؒ نہیں کہ وہ کسی کے دین وایمان کا فیصلہ کرے۔ہر کسی کو حق حاصل ہے جو وہ چاہے عقیدہ رکھے جس کی طرف چاہے خود کو مسوب کرے اور جومرضی کلمہ پڑھے۔اسمبلی میں بیتھنے والے کرپٹ سیاستدانوں کو یہ حق کس نے دیا ہے وہ میرے ایمان کے متعلق فیصلہ کریں،ان کا تو اپنا ایمان
    ؎ ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے
    جس اسمبلی کے سربراہ کا آپ نے ذکر کیا وہ وہی ہے جو پینے کا کھلے عام اظہار کرتا تھا،اب جس کا پنا ایمان پیروی کذب وریا ہو وہ کسی کے ایمان کا فیصلہ کرے تو ہنسی ہی آئے گی،اسکو اس قطعیت کے ساتھ پیش کرنا آپ جیسے کسی صاحب علم کے شایان شان نہیں۔اس اسمبلی کے باقی ممبران کے متعلق بھی تھوڑی سی کبھی تحقیق کرلیں تو لگ پتہ جائے گا کہ ان لوگوں کا ’’جزبئہ ایمانی‘‘ کیا تھا۔ان ’’فرزندان توحید‘‘ کے متعلق بعد میں آنے والی حکومت نے وائٹ پیپر چھاپاتھا وہ پڑھ لیں امید ہے افاقہ ہوگا۔
    شرابی مسلمان ہے اور مسلمانوں کا ہیرو ہے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا اس سے محبت کرنے والا،اسے اپنی زندگی میں رہنما ماننے والا اور غیرمسلموں کے درمیان کھرے ہوکر اس سے اپنی تحقیق ثابت کرنے والا کافر ٹھہرا۔مضاربت کے نام پر لوگوں کے کروڑوں ہڑپ کرجانے والے اور ہر دونمبری میں دنیا کے کاٹنے والے مسلمان اور ساری دنیا میں اسلام کا علم بلند کرنے والے اور قرآن مجید کا ستر زبانوں میں ترجمہ کرنے والے غیر مسلم۔سبحان اللہ!!!
    یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

    • 27-02-2016 at 6:52 pm
      Permalink

      بات کلمے کی نہیں ۔ بات ھے محمد ﷺ کو اللہ کا آخری نبی ماننے کے ۔ اور یہ ماننے کی کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ تو جناب اگر کوئی ختم نبوت کا انکار کرتا ہے تو مجھے اس کو کافر اور غیر مسلم قرار دینے کے لئے اسمبلی کی منظوری کی ضرورت ھی نہیں ۔

      • 28-02-2016 at 8:47 pm
        Permalink

        اعجاز اعوان ، میں آپ کی دینی غیرت ، جرات اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی داد دیتا ہوں۔ رب تعالیٰ آپ کا یہ جذبہ قبول فرمائے اور روز آخرت سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت نصیب ہو۔ آمین۔ جزاک اللہ ۔ جیتے رہیے۔

  • 27-02-2016 at 12:19 am
    Permalink

    تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ شائع شدہ موجود ہے کہ ’’علماء‘‘ مسلمان کی تعریف پر متفق ہی نہیں ہوسکے تھے۔
    آنحضرتﷺ کی تعریف کے مطابق میں مسلمان یوں اسلئے مجھے کسی اسمبلی کی تعریف یا غیر مسلم قرار دینے کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں ہے۔اس فیصلہ کے بعد اسمبلی اور ملک کا جو حال ہوا اور جو ہورہا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ریاست جب داڑھی رکھ لے اور شہریوں کی ایمان کی شلواریں ٹخنوں سے اونچی کرانے لگ جائے توپھر یہی کچھ ہوتا ہے جو ہورہا ہے۔
    بہرحال آپ کو حق ہے کہ جو چاہیں سمجھیں اور عقیدہ رکھیں،لیکن مجھے بھی میری مرضی کا عقیدہ رکھنے دیں
    جب آپ حضرت عیسیؑ کو دو ہزار سال سے زندہ آسمان پر بٹھا کر مسلمان رہ سکتے ہیں تو میں غیر تشریعی نبی کے مبعوث ہونے کا عقیدہ کیوں نہیں رکھ سکتا؟
    غیرت کی جا ہے عیسی زندہ ہو آسماں پر
    مدفون ہو زمیں میں شاہ جہاں ہمارا

  • 27-02-2016 at 12:24 am
    Permalink

    عامر ہاشم خاکوانی صاحب
    نرگس ماول والا پر آپ کی تحریر نظر سے گزری اور پھر اس پر طاہر احمد بھٹی صاحب کی جوابی تحریر پڑھ کر بندہ ناچیز صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہے۔
    پاکستان میں اسلام کے اکثریتی برانڈ کے مسلم حامل اقلیتی برانڈ کے حامل مسلم پر بات شروع ہی یہیں سے کرتے ہیں کہ فلاں قادیانی ، فلاں رافضی ، فلاں بدعتی نے فلاں تحقیق کی یا فلاں اچھا یا برا کام سرانجام دیا۔ بطور انسان اس نے برا کیا یا اچھا کیا سے بات شروع ہی نہیں کرتے۔ میرے خیال میں مذہب ہر ایک کا ذاتی مسلہ ہوتا ہے اور اگر انسان کسی بھی مذہب کا پیروکار نہ بھی ہو تو بھی وہ بحثیت انسان معتبر ہوتا ہے۔ میری آپ جناب سرکار سے صرف اتنی گزارش ہے کہ آپ جیسے دانشور حضرات اپنے انداز تخاطب پر تھوڑا نظر ثانی کرلیں تو ہم سب کے لئے بہتر ہوگا۔
    عامر صاحب میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا فوجی آمر پاکسان کے آئین کو یکسر رد کرکے اقتدار میں نہیں آتے رہے؟؟
    اس لحاظ سے تو پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے آئین کی کوئی حثیت ہی نہیں لیکن آپ عام شہریوں کو اپنے ہی کومنٹ میں دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے لئے آئین پاکستان کا سبق یاد کروا رہے ہیں جیسے یہاں ہر کام آئین کے مطابق سرانجام دیا جارہا ہے۔

  • 27-02-2016 at 1:37 am
    Permalink

    میری راشد احمد صاحب سے اسی فورم پہ درخوست ہے کہ وہ تفصیلات میں نہ جائیں کیونکہ اس طرح گفتگو احمدی غیر احمدی نوعیت کی ہو جائے گی۔ زیر نظر معاملہ تو سانس لینے اور باوقار تخاطب اور تذکرے کا ہے اس کی راہ ہموار ہو جائے اور بھلے وہ احمدیوں کو غیر مسلم چھوڑ کے کوکا کولا کا ٹن سمجھتے رہیں مگر معاشرے کا معقول اور فعال طبقہ ہونے کے ناطے ان کے انسانی معاشرتی حقوق ضرور ادا کریں حکومتی نہیں تو انفرادی سطح پر ہی سہی۔
    اس فورم ‘ہم سب’ کی غیر جانبداری کی بنیادیں سارے مل کر مضبوط کر لیں کیونکہ خدا لگتی بات ہے کہ یہ فورم ابھی تک اکیلا ہے اس کی پنیری لگائیں اور دھیان رکھیں کہ تو یہ پودا کچلا نہ جائے۔ جب تناور ہو جائے تو بھلے سارے آکر اس پہ پینگیں ڈال لیں۔
    سب تبصروں کا شکریہ اور
    خاکوانی صاحب ہم بھی آپ کی بے تکلفی کا مورد ہونے کو تیار ہیں آپ نے ایسے ہی وضاحت فرمائی تاہم عزت افزائئ پہ شکر گزار ہوں۔

  • 27-02-2016 at 3:07 am
    Permalink

    میں عاصم بھٹی صاحب سے سو فیصد متفق ہوں۔ ہم سب کا یہ پلیٹ فارم اس بوسیدہ ماحول میں کسی خوشگوار جھونکے سے کم نہیں۔بنیادی طور پر پر اس ملک کے پسے ہوئے،مظلوم اور امتیازات کا شکار طبقے کو وجاہت مسعود صاحب کا شکرگزار ہونا چاہیےکہ انہوں نے ایسا آزاد پلیٹ فارم مہیا کیا۔ ہمیں لکھتے وقت یہ خیال رکھنا ہوگا کہ جذبات کی رو میں نہ بہک جائیں اور موضوعات کو اتنا نہ پھیلائیں کہ ہم سب کیلیئے کسی رکاوٹ کا باعث بنے۔ اس لیے ٹھوس مذہبی مباحث کو اس پیج سے دور ہی رکھا جائے تو بہتر ہے(جو ادارہ کی پالیسی ہے جس کا احترام سب پر فرض ہے)۔ بنیادی شہری اور انسانی حقوق کی بات ضرور کی جانی چاہیے۔

  • 27-02-2016 at 5:45 am
    Permalink

    محترم عطا راشد صاحب۔
    آپ کی مراد یقینی طور پر طاہر بھٹی ہو گی اور سہوا” عاصم لکھ دیا ہو گا۔
    اتفاق رائے کا شکریہ اور نام کی تصحیح خاکسار نے آپ کی طرف سے خود ہی کر دی۔

  • 27-02-2016 at 10:54 am
    Permalink

    خاکوانی صاحب نے فرمایا ہے کہ احمدیوں کے غیر مسلم ہونےپر ’اجماع امت ہے، تمام فرقوں، مسالک کے علما کا اتفاق ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستانی پارلیمنٹ ایک طویل بحث کے بعد اپنا فیصلہ صادر کر چکی ہے۔ ایک لبرل انسان اس وقت ملک کا وزیراعظم تھا‘ ایک لبرل‘ سیکولر پارٹی ملک پر حکمران تھی‘ اس نے دوسری تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا۔‘ سبحان اللہ‘ کیا منطق ہے! اقلیتوں کی زندگی اجیرن کرنے والا اس طرح کا لبرل ازم اور سیکولرازم صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں تو سیکولرازم کو ایک گالی سمجھا جاتا ہے پھر ایک سیکولر پارٹی اقتدار میں کیسے آگئی؟ کیا اس پارٹی نے کبھی اپنے آپ کوسیکولر قرار دیا؟

    اپنے مؤقف کی سچائی ثابت کرنے کے لئے خاکوانی صاحب نے بار بار کہا ہے کہ تمام فرقے احمدیوں کے غیر مسلم ہونے پر متفق ہیں۔ کیا فرقوں کا وجود بذات خود اسلام کے خلاف نہیں؟ کیا قرآن فرقہ بندی کو بت پرستی قرار دے کر اس کی مذمت نہیں کرتا؟

    خاکوانی صاحب نے میری پوسٹ کے جواب میں شاید اپنے برتری کے اظہار کے لئے میرا نام لئے بغیر لکھا کہ ’ایک صاحب نے لاہوری جماعت کے بارے پوچھا۔ جی اس آئینی ترمیم کے مطابق لاہوری گروپ بھی غیر مسلم ہے۔‘ خاکوانی صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی کہ لاہوری جماعت کو آئین کس بنیاد پر غیرمسلم قرار دیتا ہے؟ یہ لوگ تو مرزا غلام احمد صاحب کوکسی معنی میں بھی نبی نہیں مانتے اور مولانا مودودی نے بھی انہیں غیر مسلم قرار نہیں دیا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ جناح صاحب کے ہاتھوں قائم ہونے والی یہ ریاست مولانا مودودی سے زیادہ عدم برداشت کا مظاہرہ کررہی ہے؟

    خاکوانی صا حب نے پاکستانی قوم سے ڈاکٹر سلام کی عظمت تسلیم کروانے کے شرط رکھی ہے کہ ’ان کے مذہب کا معاملہ الگ رکھا جائے، یہ ان کا نجی معاملہ ہے، نجی ہی رہنا چاہیے۔، جناب عالی‘ یہ معاملہ صرف ڈاکٹر سلام تک محدود کیوں رکھا جائے؟ غیراحمدیوں کے لئے مذہب کیوں نجی معاملہ نہیں ہونا چاہیئے؟

    کیا میں خاکوانی صاحب سے یہ توقع رکھوں کہ وہ میرے اٹھائے گئےباقی نکات کا جواب بھی مرحمت فرماائیں گے؟ مثلاً ان لوگوں کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے جو شیعوں کو غیر مسلم قراردیتے ہیں؟ خواجہ ناظم الدین جیسے مذہبی آدمی نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے کیوں انکار کردیا تھا؟ سرظفراللہ خان آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرکیسے بن گئے تھے؟ جناح صاحب نےظفراللہ خان کو اپنا فرزند کیوں قراردیا تھا؟ کیا آج کے مسلمان اس وقت کے مسلمانوں سے زیادہ متعصب ہیں؟

    انہوں نے لکھا ہے کہ ’میں مولانا نورانی، مفتی محمود اور ان جیسے دیگر علما کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے کمال مہارت سے احمدیوں کے استدلال کی کمزوریاں واضح کر دیں اور یہ ثابت کر دیا کہ یہ غیر مسلم ہیں۔‘ اگر مولانا نورانی‘ مفتی محمود اور ان جیسے دیگر علما کو موقع دیا جاتا تووہ کمال مہارت سے شیعوں کے استدلال کی کمزوریاں بھی واضح کر دیتے۔ کیا بریلوی‘ دیوبندی اور اہل حدیث شیعوں کو کافر قرار نہیں دیتے؟ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے دیوبندیوں‘ اہل حدیثوں اور سر سید کے بارے میں کس طرح کی زبان استعمال کی تھی؟ کیا وہ ان سب کو مسلمان سمجھتے تھے یا کافر؟ کیا دیوبندی اور اہل حدیث بریلویوں کو مشرک اور بدعتی نہیں کہتے؟ بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔ اس لئے مذہب کو نجی معاملہ ہی رہنے دیں توریاست اور معاشرہ دونوں کے لئے بہتر ہوگا۔ ورنہ حالات بد سے بد تر ہوتےچلے جائیں گے۔

  • 27-02-2016 at 12:06 pm
    Permalink

    Khakwani Sb!Plz. watch this video especially listen former federal law minister

  • 27-02-2016 at 3:01 pm
    Permalink

    Janab bhatti ji aap nay. Boht acha likha. Batt muktasr hy, aamir khakwani jesy likari ka kam hi nafrat ko phelana hy yeh zehni toor pr zia k doorr mn reh ra hy mn as ki janabdari dekh kar as ko 3 saal sy padd na chorrr dia hy. Ab ni nasal ass qisam kay k column nigraoo ko janti tak ni . aysay daniahwroo k pass sirf nafrat hy dalil ni, khuda ka shukar hy aap jesayy log aik acha rasta dikha ry hain

    • 28-02-2016 at 8:45 pm
      Permalink

      بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ آپ جیسے قاریوں کو میری جانب سے سات میل دور سے سلام ۔ دور رہیں، جیتے رہیں، خوش رہیں۔

  • 27-02-2016 at 3:53 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’یہ درست ہے کہ احمدیوں کے حوالے سے سوشل سطح پر ناپسندیدگی موجود ہے، اس میں کمی آنی چاہیے۔‘ کیا یہ نا پسندیدگی ہے یا شدید نفرت اور حقارت؟ کیا وجہ ہے کہ خاکوانی صاحب اس کا خاتمہ نہیں بلکہ اس میں صرف کمی چاہتے ہیں۔ یہ ناپسندیگی یا نفرت کس نے پیدا کی اور کون لوگ ہیں جو اس کا حصہ نہیں بنے ہیں؟

    اسلام کا اصل طریقہ دعوت وتبلیغ کا ہے۔ ہمارے علماء اس طریقے کیوں ہٹ گئے ہیں؟ کیا ان کو راہ راست پر لانے کی کوئی کوشش کی گئی؟ وہ کون لوگ ہیں جو کھلے عام احمدیوں کے کارخانوں میں تیار کی جانے والی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم چلاتے ہیں؟

    انہوں نے مزید فرمایا ہے کہ ’اس حوالے سے احمدی برادری پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ احمدی ہونا ان کانجی معاملہ ہے، اگر وہ اسے نجی رکھیں تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ جب وہ ہرجگہ مناظرے کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں۔ـ‘ اس استدلال کو انگریزی میںblaming the victim کہا جاتا ہے۔ وہ کتنے احمدیوں کو جانتے ہیں جنہوں نے بلا وجہ مناظرے کا ماحول پیدا کیا؟ میرے تو کسی احمدی دوست نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ کیا ان حالات میں جب کہ ان کا جینا دوبھر کیا جا چکا ہے کوئی احمدی ایسا کرسکتا ہے؟ کیا اگر کوئی غیر احمدی کسی احمدی سے اس کے عقائد کے حوالے سے کوئی سوال کرے تو کیا احمدی کو اپنا نقطۂ نظر بتانے سے انکار کردینا چاہیئے؟ کتنے احمدی اس جرم کی سزا بھگت چکے ہیں؟

    مذہب کو نجی معاملہ رکھنے کا مشورہ معقول ہے لیکن اسے صرف احمدیوں تک محدود کیوں رکھا جائے؟ ایاز امیر نے اس موضوع پر ایک فکرانگیز کالم لکھا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے جن کے دماغ تعصب سے ماؤف نہیں ہوگئے ان کے لئے اس کالم میں کام کی کافی چیزیں موجود ہیں۔

    http://www.thenews.com.pk/print/88542-the-case-for-a-kemalist-intervention

  • 28-02-2016 at 11:36 am
    Permalink

    اعجازاعوان صاحب‘ آپ نے اس موضوع پر جو تبصر ے کئے ہیں ان سے اختلاف کرنے کی جسارت کررہاہوں امید ہے کہ آپ برا نہیں مانیں گے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کو کافر قرار دینے کے لئے آپ کو کسی اسمبلی کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ یہ بات آپ کے ذہن میں کس نے ڈالی؟ کسی مولوی نے یا غیر مولوی نے؟ کیا وہ صاحب کسی اور فرقے کو بھی کافر سمجھتے ہیں کہ نہیں؟ آپ نے خاکوانی صاحب کےجواب کی بھی تحسین کی۔ چونکہ خاکوانی صاحب نے اب تک مجھے اپنے جواب سے نہیں نواز ہے اس لئے آپ سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ خواجہ ناظم الدین جیسے مذہبی وزیر اعظم نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے کیوں انکار کردیا تھا؟ سرظفراللہ خان آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرکیسے بن گئے تھے؟ کیا یہ درست ہے کہ جناح صاحب نے انہیں اپنا فرزند قراردیا تھا؟ کیا آج کے مسلمان اس وقت کے مسلمانوں سے زیادہ متعصب ہیں؟

    آپ نے فرمایا ہے کہ پاکستانی قانون جس طرح ’احمدیوں کو مسلمان کہلوانے سے روکتا ہے اسی طرح وہ مسلمانوں کو بھی روکتا ہے کہ وہ بشمول احمدی ، عیسائی ، یہودی ، ہندو ، پارسی یا کسی بھی مذہب، فرقے یا مسلک کی توہین نہیں کر سکتے ۔ جو سزا ایک احمدی پر مسلمان کہلوانے پر لاگو ہوتی ہے وہی سزا ہر اس مسلمان کے لئے بھی ھے جو دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہےـ‘

    براہ مہربانی ہماری رہنمائی کرتے ہوئے یہ بتادیں کہ آج تک کتنے احمدی اس قانون کی زد میں آچکے ہیں اور کتنے غیراحمدیوں پراس کا اطلاق کیا گیا؟ اس سلسلے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ اور سالانہ رپورٹوں سے آپ کو کافی معلومات مل سکتی ہیں۔ یہ لنک بھی شاید آپ کے لئے مفید ہو۔
    https://en.wikipedia.org/wiki/Persecution_of_Ahmadis

    جہاں تک دوسرے مذاہب کی توہین کا تعلق ہے کیا اس طرح کا ایک واقعہ بھی پاکستان میں نہیں ہوا؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ہم اس طرح کے واقعات کا نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھتے؟ کیا آپ کے علم میں ہے کہ جماعت الدعوہ کے مولانا امیر حمزہ نے ہندوازم کے خلاف ایک کتا ب لکھی ہے جس میں اس مذہب کو انسانیت کا قاتل قراردیا گیا۔ جب ہمارے مسیحی شہری ٹی وی پر سنتے ہوں گے کہ ’سارے نبی تیرے در کے سوالی‘ تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ کیا احمدیوں اور احمدیت کی توہین کبھی وطن عزیز میں نہیں ہوئی؟ کیا آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام سنا ہے؟ وہ دن رات جوکچھ کرتے ہیں کیا وہ hate speech کےزمرے میں نہیں آتا؟

    کیا آپ کے علم میں ہے کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر نےاحمدیوں‘ شیعوں‘ بریلیوں اور دیوبندیوں کے خلاف کتابیں لکھی تھیں؟ کیا ان کے خلاف پاکستان کا قانون کبھی حرکت میں آیا؟ کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ ہمیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو خوب نظر آتا ہے اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں۔ ایک شعر عرض کرکے اجازت چاہوں گا۔

    اتنی نہ بڑھا پاکیٗ داماں کی حکایت
    دامن کو ذ را دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

  • 28-02-2016 at 8:43 pm
    Permalink

    جی محترم شکیل چودھری صاحب، کل رات ایک طویل نوٹ لکھا، پھر کچھ تکنیکی مجبوریوں کی بنا پر اسے پوسٹ نہ کر سکا، ان پیج کو کنورٹ نہ کر پایا۔ خیر۔ مختصراً اپنی معروضات بیان کئے دیتا ہوں۔ احمدیوں کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر تفصیل سے بیان کر دیا، دہرانا محض تکرار ہوگا۔ لاہوری جماعت کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ آئین کی اس ترمیم میں اس گروپ کو بھی شامل کیا گیا، جی وہ بھی غیر مسلم ہیں۔
    چودھری صاحب نے کہا کہ کون سے ایسے احمدی ہیں جو مناظرے کی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کو جواب پانے کے لئے اسی پوسٹ ہی پر نظر ڈال دی جائے۔ راشد احمد صاحب عقیدے کے لحاظ سے احمدی ہیں، پہلے میری وال پر بھی بارہا ہوچکا ہے کہ جب کہیں معمولی سا مارجن نظر آیا ، انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر احمدی خلیفوں کی ویڈیوز کی بھرمار کر دی۔ اس پوسٹ پر بھی ایسا ہی کیا گیا۔ مناظرانہ ماحول اور کیا ہوتا ہے۔ پوسٹ کیا تھی، اسے کس طرح ڈریگ کر کے احمدی کے مسلمان ہونے، نہ ہونے کی بحث میں کھینچ لایا گیا، حتیٰ کہ مصنف کو خود کہنا پڑا کہ موضوع تک محدود رہیں۔ میرا خیال ہے کہ میرا نکتہ خود راشد صاحب نے درست ثابت کر دیا۔
    سر ظفرا للہ خان کو اگر قائداعظم نے اپنا فرزند قرار دیاتھا؟ میرے تو علم میں ایسا نہیں ہے، بہرحال اخلاق میں کہیں کہہ بھی دیا تو اس سے کیا ثابت ہوا؟ ظفرا للہ خان احمدی تھے، مگر تھے تو مسلم لیگ کے، ان کی قابلیت، اہلیت میں کوئی کلام نہیں تھا۔ قدرت اللہ شہاب ٹھیٹھ مسلمان تھے، شہاب نامہ میں دیکھئیے کیسے احترام سے تذکرہ کیا انہوں نے ۔ کسی احمدی کو بھائی، بیٹا کہنے میں کوئی حرج نہیں، جس طرح کسی مسیحی کو کہا جا سکتا ہے، انہیں بھی کہہ سکتےہیں۔ راشد احمد صاحب کو میں بھائی کہے دیتا ہوں، اس میں کیا قباحت ہے؟

    خواجہ ناظم الدین کے مقدر میں یہ سعادت نہیں لکھی تھی، وہ محروم رہے، بھٹو صاحب کو اللہ نے یہ اجر، یہ اعزاز دینا تھا انہیں ملا۔ خواجہ ناظم الدین کا موقف غلط تھا، وہ غلطی پر تھے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ اہل تشیع کو غیر مسلم کہنا بالکل غلط بات ہے۔ جس عالم نے شیعوں پر تکفیر کی ، اس نے غلطی کی۔ ہم اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ اکابر امت کا یہی موقف رہا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اس مسئلے پر کمال خوبصورتی سے کلام کیا ہے۔ اہل تشیع کے حوالے سے ایک محدود اقلیت ہی شدت یا تکفیر کی بات کرتی ہے، عظیم اکثریت کا یہ موقف نہیں۔ میری ذاتی رائے بھی یہی ہے۔ مذہب کو نجی معاملہ رہنے دینے کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ ایک کمیونٹی غلط تاثر دے کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی رہے تو بھائی یہ آپ کا عقیدہ ہوسکتا ہے، ہمارا ہرگز نہیں ۔ شکیل چودھری صاحب آپ خود ہی روز آخرت سرکارمدینہ صل اللہ علیہ وسلم کا سامنا کر لیجئے، ہم تو اس اعزاز کے ساتھ وہاں جانا چاہتے ہیں کہ محبت بھی حضور کے لئے ہے اور فکری ناپسندیدگی بھی اسی رشتے کی مناسبت سےہے۔

  • 29-02-2016 at 10:38 am
    Permalink

    چونکہ عامر خاکوانی صاحب نے شکیل صاحب کی باتوں کا جامع جواب دے دیا ہے اس لئے مزید جواب دینا وقت کا زیاں ہو سکتا ہے ۔ البتہ یہ ضرور لکھنا چاہتا ہوں کہ میرے نبی ﷺ کو خاتم النبی نہ ماننے والا مسلمان نہیں ہے ۔ اب رہ گئی بات اس سے تعلق رکھنے کی ۔ تو جناب اس معاملے ہم رواداری کے قائل ہیں ۔ ہمارا ایک کولیگ قادیانی ہے ۔ ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ، کھاتا پیتا ہے ۔ اسی طرح کچھ عیسائی بھی ہمارے دوست ہیں ۔ ایک ہی برتن میں ہم کھاتے پیتے ہیں ۔ مجھے ان سے نفرت یا کراہت محسوس نہیں ہوتی ۔ البتہ مجھے یقین ھے کہ شکیل صاحب اور کچھ دوسرے دوست بھی عیسائیوں یا قادیانیوں کے ساتھ اتنی بے تکلفی سے پیش نہیں آتے ہوں گے ۔ اگر ہندو یا کسی دوسرے مزہب بارے کچھ لکھا جاتا ھے جو توھین مزھب کے زمرے میں آتا ہے تو اس کے ازالے کے لئے مجھ سے شکوہ یا شکایت کرنے کا کوئی فائدہ اس لئے نہیں ہے کہ میں نہ تو جج ہوں نہ پولیس مین ہوں ۔ نہ میں اس سلسلے میں کچھ مزید اقدامات کرنے کے قابل ہوں سوائے اس کے کہ زبان سے اس رویئے کی مزمت کر سکوں ۔ اور وہ میں کرتا رہتا ہوں ۔ بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو یا ہندووں یا عیسائیوں کو اپنے مزھب کی توہین کے ازالے کے لئے عدالت سے رجوع کرنا چاھئے

  • 29-02-2016 at 1:26 pm
    Permalink

    اعجاز اعوان صاحب۔
    میں ایک اطلاع آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔
    چوہدری شوکت صاحب سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد جب اے سی ہارون آباد تھے تو احمدی کی قبر اکھاڑنے کے جلوس کے عمائدین سے انہوں نے کہا کہ کیوں کافر کہتے ہو جبکہ یہ کلمہ گو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترجمہ صحیح نہیں کرتے کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ میں محمد آخری رسول نہیں کہتے۔ تو اے سی صاحب نے کہا کہ آخری کا لفظ تو عربی متن اجازت نہیں دیتا۔ یہ واقعہ انہوں نے خود مجھے سنایا تھا اور میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا نام اعجاز ہے آپ کو جازی کہنا تہذیب کے خلاف ہے آپ قادیانی ترک کر کے احمدی تخاطب استعمال کریں کیونکہ احمدی خود کو یہی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ باقی آخری نبی نہ ماننے والا زہر سب نے کھایا ہوا ہے کیونکہ آنے والے کا جو بھی منتظر ہے وہ بالفعل ختم نبوت کے آخری والے معنوں کا منکر ہے اور منتظر تمام فرقے ہیں۔ اس لئے اس بحث کو چھوڑ کر ناپسندیدہ تخاطب اور باہمی رواداری کا ٹارگٹ حاصل کر لیں اور کلمہ گوئی اسلام لانے کے لئے کافی سمجھیں کیونکہ بانئی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے تھے۔
    اور میری سب سے گذارش ہے کہ اس کو تہذیبی ذمہ داری اور انسانی حق تک رکھیں۔ احمدیوں کے کفر اور اسلام کے تعینکا نہ تو یہ فورم ہے اور نہ ابھی وہ فضاء ہے۔ سب کا شکریہ۔

  • 29-02-2016 at 10:28 pm
    Permalink

    طاہر بھٹی صاحب ، معذرت کے ساتھ احمدیوں کے کفر، اسلام کا ایشو میں نے نہیں بنایا، دیگر دوستوں نے ایسا کیا۔ باقی آپ نے ایک کام دلچسپ کیا کہ احمدی نقطہ نظر کو اپنے کمنٹ میں شامل کر کے کمال مہارت کے ساتھ بات ختم کرنے کی درخواست کی۔ بھائی جی ایسا نہیں ہوتا۔ احمدی ہوں یا کوئی اور ، مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے، مجھے یا کسی اور کو اس معاملے میں پڑنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں، تاہم غلط تاثر دینا مناسب نہیں ۔ آپ نے جو بات کہی ہے کہ آنے والے کا جو بھی منتظر ہے وہ بالفعل ختم نبوت کے آخری والے معنوں کا منکر ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ یہی تو احمدی عقیدہ ہے۔ لگتا ہے کہ انجناب خود بھی یہی فکر رکھتے ہیں، میں نے دانستہ عقیدہ یا مذہب کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ صرف کلمہ گوئی اسلام کے لئے اس وقت کافی نہیں، جب کوئی حیلہ گو اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہ تسلیم کریں اور نبوت کے اندر نبوت کی مضحکہ خیز اصطلاح اخذ کریں۔ یاد رہے کہ میں نے نرم ترین لفظ مضحکہ خیز استعمال کیا، ورنہ تو احمقانہ زیادہ مناسب لفظ لگ رہا تھا۔ بہرحال میں یہ بحث ختم کر رہا ہوں، مگر ایک فائدہ اس کا یہ ہوا کہ کئی چیزیں کلئیر ہوگئیں۔

  • 01-03-2016 at 11:10 pm
    Permalink

    عامرخاکوانی صاحب‘مہذب جواب کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں لیکن کچھ چیزوں کی وضاحت آپ نے اب تک نہیں کی۔ مثلاً آپ نے فرمایا ہے کہ’ لاہوری جماعت کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ آئین کی اس ترمیم میں اس گروپ کو بھی شامل کیا گیا، جی وہ بھی غیر مسلم ہیں۔‘ جی ہاں‘ یہ مجھے خوب معلوم ہے لیکن یہ میرے کسی سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں نے لکھا تھا۔ ’خاکوانی صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی کہ لاہوری جماعت کو آئین کس بنیاد پر غیرمسلم قرار دیتا ہے؟ یہ لوگ تو مرزا غلام احمد صاحب کوکسی معنی میں بھی نبی نہیں مانتے اور مولانا مودودی نے بھی انہیں غیر مسلم قرار نہیں دیا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ جناح صاحب کے ہاتھوں قائم ہونے والی یہ ریاست مولانا مودودی سے زیادہ عدم برداشت کا مظاہرہ کررہی ہے؟‘

    مناظرانہ ماحول پیدا کرنے کا الزام بھی خوب ہے۔ ہم غیر احمدی اور ہماری یہ ریاست انہیں جیسے چاہیں ان کی زندگی اجیرن بنادیں تو وہ ٹھیک ہے۔ لیکن اگروہ اپنے مؤقف کی وضاحت کے لئے چند وڈیوز اپ لوڈ کردیں تو انہیں فوراً مناظرانہ ماحول پیدا کرنے کا مجرم ٹھہرادیا جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم نے ڈاکٹرذاکر نائیک اور ان کے استاد احمد دیدات پر کبھی یہ الزام نہیں لگایا؟
    آپ نے فرمایا ہے کہ کسیاحمدی کو بھائی یا بیٹا کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیا آپ کے ممدوحین مولانا شاہ احمد نورانی اور مفتی محمود کے معتقدین کا نقطہ ٔنظر بھی یہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ جب ایک احمدی سٹیشن ماسٹر کو چیچہ وطنی بھیجاجاتا ہے تو پوراشہر ہڑتال کردیتا ہے۔ اس سےہمیں اپنے معاشرہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ کیا ہمارے لوگ احمدیوں کو واقعی بھائی اور بیٹا سمجھتے ہیں؟ آپ نے سر ظفراللہ خان کی قابلیت کا تو اعتراف کیا ہے لیکن اس با ت کا جواب نہیں دیا کہ سرظفراللہ خان آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرکیسے بن گئے تھے؟ یہ بھی فرمادیں کہ مسلم لیگ نے قیام پاکستان کے لئے احمدیوں کی مد د کیوں طلب کی تھی؟ براہ مہربانی ایک اوربات کی وضاحت کردیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ گورداس پور میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ کیایہ اکثریت احمدیوں کو مسلمان شمار کرکے حاصل کی گئی تھی؟ مسلم لیگ نےقوت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوں نہیں کہہ دیا تھا کہ احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کیا جائے؟

    آپ کے بقول ’خواجہ ناظم الدین کے مقدر میں یہ سعادت نہیں لکھی تھی، وہ محروم رہے، بھٹو صاحب کو اللہ نے یہ اجر، یہ اعزاز دینا تھا انہیں ملا۔ خواجہ ناظم الدین کا موقف غلط تھا، وہ غلطی پر تھے۔‘ کیاخواجہ ناظم الدین‘ جو پاکستان کے بانیان میں سے تھے‘ کا ایمان کمزورتھا؟مجلس تحفظ ختم نبوت کے بقول انہوں نےشمع رسالت کے دس ہزارپروانوں کا خون کیا۔
    کیا ان کے تمام رفقاءکا ایمان بھی کمزور تھا؟ کیا وجہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی صدائے احتجاج کیوں بلند نہ کی؟ کیا پاکستان کے قیام کے بعدجناح صاحب نے یہ سعادت حاصل کرنے کی کوشش کی؟ کیا اگر وہ یہ’ سعادت‘ حاصل کر لیتے تو کیا ملک ظفراللہ جیسے قابل آدمی کی خدمات سے فائدہ اٹھاسکتا؟ کیا یہ ان کے اس وعدے کی خلاف ورزی نہ ہوتی جو انہوں نے پوری دنیا سے کیا تھا؟ ان کا وعدہ یہ تھا کہ بلاتفریق مذہب و مسلک تمام شہریوں کے حقوق برابر ہوں گے۔ اس فیصلہ سے ملک اور عوام کو کیا فائدہ ہوا؟ اس سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا یا کمی؟ احمدیوں کی زندگیوں اور حب الوطنی پر اس سے کیا اثرات مرتب ہوئے؟

    آپ کاخیا ل ہےا س فیصلہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا سدباب ہوگیا ہے۔ کیا پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کا ایمان اتنا کمزور ہے کہ انہیں ریاست کی مدد کے بغیر گمراہی سے نہیں بچایا جاسکتا؟ کیا بانیان پاکستان نے معصوم پاکستانیوں کو اس گمراہی سے بچانے کی کوشش نہ کرکے ایک جرم کا ارتکاب کیا؟ کیاہندوستان‘ امریکہ ‘برطانیہ اور دیگر غیرمسلم ملکوں میں میں رہنے والے مسلمان احمدیوں کے ہاتھوں گمراہ ہوچکے ہیں؟ پاکستان کے سادہ مسلمانوں کو باقی فرقوں کی گمراہیوں سے بچانے کے لئے قانو ن سازی کیوں نہیں کی گئی؟

    آپ چاہتے ہیں احمدی اپنے مذہب کو نجی معاملہ بنائیں لیکن غیر احمدی ہرگز ایسا نہ کریں۔یہ دوہرا معیار کیوں؟ کیا جناح صاحب نے اپنی مشہورترین تقریرمیں مذہب کوذاتی معاملہ قراردیتے ہوئے نہیں کہا تھا کہ اس کا ریاست کے امورکے امورسے کوئی تعلق نہیں ہونا چایئے؟مندرجہ ذیل لنک شاید آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہو۔
    http://pakteahouse.net/2013/08/13/jinnah-unequivocally-wanted-pakistan-to-be-a-secular-state/

    آپ نے کہا ہے کہ’ اہل تشیع کو غیر مسلم کہنا بالکل غلط بات ہے۔ جس عالم نے شیعوں کی تکفیر کی ، اس نے غلطی کی۔ ہم اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ اکابر امت کا یہی موقف رہا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اس مسئلے پر کمال خوبصورتی سے کلام کیا ہے۔ اہل تشیع کے حوالے سے ایک محدود اقلیت ہی شدت یا تکفیر کی بات کرتی ہے، عظیم اکثریت کا یہ موقف نہیں۔‘معافی چاہتا ہوں لیکن آپ کا یہ موقف کافی کمزور ہے۔
    وسعت اللہ خان کے مطابق ’شاہ ولی اللہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی و حکومتی زوال پر خاصے مضطرب تھے ۔انہوں نے اہلِ سنت کے چاروں مکاتیب میں فکری و فقہی ہم آہنگی کی پرزور وکالت کی تاہم فقہِ جعفریہ اس ہم آہنگی سے خارج رکھا گیا۔ انہوں نے مختلف مذہبی موضوعات و مسائل پر اکیاون تصنیفات رقم کیں۔ ایک کتاب قرت العینین میں اہلِ تشیع کو کمزور عقیدے کا فرقہ ثابت کیا گیا۔ انہوں نے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کی جو دعوت دی اس کا مدعا و مقصد نہ صرف بڑھتی ہوئی مرہٹہ طاقت کا زور توڑنا بلکہ دہلی سے رافضی اثرات ختم کرنا بھی تھا۔چنانچہ جب ابدالی حملہ آور ہوا تو اس نے دہلی میں اہلِ تشیع کو بطورِ خاص نشانہ بنایا۔ کیا ابن تیمیہ ‘ محمد بن عبدالوہاب‘ فتاویٰ عالمگیری ‘ مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دارالعلوم دیوبند نے شیعوں کی تکفیر نہیں کی؟ کیا کسی مسلمان کی تکفیر محض ایک غلطی ہے یا اس سے بہت سنگین چیز؟ کسی کی غلط تکفیر کرنے والے ک بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

    اگر آپ کے پاس وقت ہوتو مندرجہ ذیل لنکس پر ایک نظر دوڑا لیجئے گا۔

    https://en.wikipedia.org/wiki/Sunni_fatwas_on_Shias
    https://shiacult.wordpress.com/2011/08/26/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%8C%DA%BA/
    http://www.islamimehfil.com/topic/6225-fatawa-against-shia/
    https://lubpak.com/archives/324549

Comments are closed.