بختاور بھٹو احترام رمضان آرڈیننس  میں ترمیم کی مخالفت میں ڈٹ گئیں


پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے اسلامی مہینے رمضان سے قبل ایک ترمیمی بلِ پاس کیا ہے جس ک تحت ماہ رمضان میں سرِ عام کھانے پینے کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پاکستان کی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ بینظر بھٹو کی بیٹی بختاور بھٹو نے احترامِ رمضان آرڈینیس میں کی جانے والی ترمیم کے پاس ہونے کے بعد ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’اس مضحکہ خیز قانون کے تحت لوگ ہیٹ سٹروک، جسم میں پانی کی وجہ سے مریں گے۔۔ ہر کوئی یہ نہیں کر سکتا۔ یہ اسلام نہیں ہے۔‘

لیکن اس ٹوئٹ کے بعد بختاور بھٹو کو چند وضاحتی ٹوئٹس بھی کرنا پڑیں جن میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر ایک کا روزہ نہیں ہو گا۔ سکولوں میں بچے، ضعیف اور بیمار۔ کیا ہمیں انھیں پانی پینے پر گرفتار کر لینا چاہیے۔‘

بختاور بھٹو کی ان ٹوئٹس پر تنقید بھی دیکھنے کو ملی ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ’بختاور نے احترامِ رمضان ایکٹ کو نامنظور کر دیا۔ تاہم بختاور بھٹو اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا کہ رمضان کے دوران پانی پینے پر تین ماہ قید کی حمایت کرنے والوں کو سکول کی لڑکی ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کرنے والے دہشت گردوں کے ٹی وی پر مسکرانے پر اعتراض نہیں۔

اس ٹویٹ میں انھوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب اشارہ کیا تھا جن کے انٹرویو اب میڈیا پر پیش کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں احترامِ رمضان آرڈیننس سنہ 1981 میں اس وقت کے حکمراں جنرل ضیا الحق کی حکومت میں بنا تھا۔ اس قانون کے تحت عوامی مقامات پر کوئی بھی شخص جس پر اسلام میں روزہ فرض ہے سرِ عام کوئی بھی چیز کھا یا پی نہیں سکتا۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین ماہ قید اور 500 روپے جرمانہ ہوگا۔ اسی طرح ہوٹلوں کے مالکان پر بھی پابندی لگائی گئی کہ وہ روزے کے اوقات میں لوگوں کو خوراک فراہم نہ کریں۔

اگرچہ اس آرڈینیس میں ہسپتالوں، مسافروں اور پرائمری سکول کے بچوں کو مستثنیٰ قراردیا گیا تھا۔ حیران کن طور پر غیر مسلم شہریوں کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دینے کی دلیل سنائی نہیں دے رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دیکھا گیا ہے کہ شہروں میں رویے تبدیل ہوئے ہیں اور اکثر اوقات یہ دیکھا جاتا ہے عوامی مقامات پر اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو زدو کوب کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس سندھ مین ایک عمررسیدہ ہندو شہری پر اوقات روزہ میں کھانا کھانے کی پاداش میں تشدد کی خبر کر بہت تشہیر ملی تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 474 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp