انتخابی موسم میں نئے کاروباری امکانات


ایک زمانہ تھا کہ انتخابی موسم میں تمبو، قناتیں، دریاں، کرسیاں، لاؤڈ اسپیکرز، گاڑیاں، کراکری، کھانا، ڈیکوریشن، وڈیو میکنگ، لائٹنگ والوں اور بینر لکھنے والے پینٹرز کی چاندی ہوجاتی تھی۔ اب بھی انھی کی چاندی ہو رہی ہے۔ مگر جیسے جیسے وقت بدل رہا ہے کچھ نئے انتخابی کاروبار بھی شروع کرنے کی ضرورت بڑھتی چلی جارہی ہے۔ آئیے کچھ نئے اور منافع بخش کاروباری آئیڈیاز پر غور کیا جائے۔ مگر اس کے لیے آپ کو مستقبل کے الیکشن پلازہ تک میرے ہمراہ جانے کی زحمت کرنا ہوگی۔

مثلاً یہ ہیں الیاس نعرہ ساز جو نئے نعرے بناتے ہیں اور گھسے پٹے نعروں کی ڈینٹگ پینٹنگ بھی کرتے ہیں۔ الیاس بھائی نے اس مقصد کے لیے دو ایسے تک بند حضرات کو ملازم رکھا ہے جنہیں مختلف اشتہاری کمپنیوں میں کاپی رائٹنگ کا تجربہ ہے مگر ان دنوں بے روزگار ہیں۔ الیاس بھائی کا کہنا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں جو نعرے لگائے جارہے ہیں، ان میں سے اکثر ان کے دادا کے زمانے سے چل رہے ہیں اور ان میں سے اکثر نعروں کی بتیسی تک ڈھیلی ہوچکی ہے۔ چنانچہ ہم ہر پارٹی کے انتخابی منشور کی روشنی میں جدید تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسے پرکشش نعرے سپلائی کرتے ہیں جو نا صرف زود ہضم ہوں بلکہ دس سال کے بچے سے اسی برس کے بوڑھے تک سب کی توجہ کھینچ سکیں۔

الیاس بھائی کے بقول اس وقت ہمارے پاس تین ملک گیر جماعتوں کا ٹھیکہ ہے۔ ہم انھیں ہر ہفتے تازہ نعرے سپلائی کرتے ہیں تاکہ انھیں لگانے اور سننے والوں کو کسی باسی پن کا احساس نا ہو۔ الیاس بھائی نے بتایا کہ ایک سطری سادہ نعرے کا ہم پانچ ہزار روپے معاوضہ لیتے ہیں جب کہ مصرعے کی شکل میں ڈیلکس نعرے بھی بناتے ہیں جن کی قیمت آٹھ ہزار سے شروع ہو کر بارہ ہزار تک جاتی ہے۔ اور اگر کوئی پارٹی ہم سے ایک ساتھ دس نعروں کا پیکیج خریدے تو اسے پچیس فیصد رعایت دی جاتی ہے۔

الیاس نعرہ ساز کے بازو میں ہی اسلم تقریر فروش نے بھی کھوکھا لگا رکھا ہے۔ اسلم صاحب خود تو واجبی تعلیم یافتہ ہیں لیکن فنِ خطابت کی باریکیوں پر ان کی گہری نظر ہے۔ اسلم صاحب نے کچھ کنگلے ادیبوں کا پینل بنا رکھا ہے جن سے وہ پانچ سو روپے فی صفحہ کے حساب سے تقریریں خریدتے ہیں اور آگے جیسا گاہک ویسے پیسے کی بنیاد پر ہر موقع کے لیے چھوٹے بڑے تقریری مسودے سپلائی کرتے ہیں۔

جو امیدوار تقریر رٹنے میں دشواری محسوس کرتے ہوں یا اسٹیج پر ہکلاتے ہیں ان کی مدد کا بھی اسلم بھائی کے ہاں پورا انتظام ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے کالج کے چار تیز طرار سے لمڈے بھرتی کیے ہیں جو کسی بھی امیدوار کے جلسے کو اپنی شعلہ بیانی سے گرما سکتے ہیں۔ کچھ انتخابی امیدوار جو تقریر لکھنا جانتے ہیں مگر بول نہیں سکتے وہ بھی ان لڑکوں کو کرائے پر لے جاتے ہیں۔ لیکن اکثر امیدوار تقریر بمع مقرر کی پیکیج ڈیل کرتے ہیں۔ ان دنوں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک لڑکا جس پارٹی کے حق میں تقریر کرکے واپس آیا تو اسلم بھائی نے اسے الٹے قدموں دوسری پارٹی کے جلسے کی جانب بھیج دیا جس کے خلاف وہ ابھی ابھی زہر اگل کر آیا تھا۔ اسلم بھائی نے بتایا کہ ان کے کاروبار کی بنیاد مکمل ایمانداری پر ہے۔ ایک لڑکے کو کل ہی نوکری سے چلتا کیا گیا کیونکہ وہ صرف مسودے پر پارٹی کا نام بدل وہی رٹی رٹائی تقریر دوسرے کے جلسے میں کر آتا تھا جو ایک گھنٹہ پہلے مخالفین کی ریلی میں کرچکا ہوتا تھا۔

اسلم بھائی کی دکان کے عین سامنے ایک نوجوان ایک میز پر صرف کمپیوٹر لیے بیٹھا ماؤس کے ساتھ کچھ کررہا تھا۔ میں نے پوچھا تم نے کوئی بورڈ وورڈ نہیں لگا رکھا کیا صرف کمپوزنگ کرتے ہو۔ اس نے اپنا ماؤس روکے بغیر مجھے اوپر سے نیچے تک ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو ابے چل۔ ۔ ۔ پھر وہ خود ہی سمجھ گیا کہ مجھے ٹیکنالوجی کی الف ب پ تک نہیں معلوم۔ اس نے خالی اسٹول پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا یہ دیکھو یہ کیا ہے۔ میں نے کمپیوٹر پر کھلی تصویر دیکھتے ہوئے کہا، یہ تو کوئی کارنر میٹنگ لگ رہی ہے۔ کہنے لگا اب دیکھو میں فوٹو شاپ میں جاکر اس کارنر میٹنگ کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ اس نے اس میٹنگ کو فوٹو شاپ سافٹ ویئر میں منتقل کیا۔ ۔ ۔ پھرمیں نے دیکھا کہ اس نے چند سو لوگوں کی جلسی کو ہزاروں کے مجمعے میں بدل ڈالا۔ اس کے بعد نوجوان نے داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا، میں یہ کام کرتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پل بھر کی فرصت نہیں۔ اب دیکھو گیارہ مئی کے بعد روزگار کا کیا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ورنہ کچھ اور کریں گے۔ ۔ ۔

اسی الیکشن پلازہ میں مسعود پولٹیکل بینڈ کا بھی دفتر ہے۔ جب میں مسعود صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ کسی سے فون پر بات کررہے تھے لیکن سر پر پٹی بندھنے اور سوجھے ہوئے ہونٹوں کے سبب انھیں بولنے میں دشواری محسوس ہورہی تھی۔ کہنے لگے کیسے آنا ہوا میاں۔ ہمارے ہاں باوردی بینڈ دستیاب ہیں۔ آپ زرداری یونیفارم میں بھی بینڈ کا آرڈر دے سکتے ہیں۔ رحمان ملک اسٹائل کی شوخ ٹائیاں باندھ کر بھی اپنے لڑکے بھجوا سکتا ہوں اور سر پر دھاری دار پٹکہ، کاندھے پر رومال اور اونچی شلوار قمیض میں بھی ہمارے فن کار دستیاب ہیں۔ بولو آرڈر بک کروں۔ میں نے جھینپتے ہوئے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے نہیں آیا بلکہ اس مارکیٹ میں یوں ہی گھوم رہا ہوں۔ ۔ ۔ مگر مسعود صاحب یہ آپ کے سر پر پٹی کیوں بندھی ہے اور ہونٹ کیوں سوجھے سوجھے سے ہیں کہیں خدانخواستہ کسی نے۔ ۔ ۔

مسعود صاحب نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ کچھ خاص نہیں۔ ایسے ہوتا رہتا ہے۔ اس کاروبار میں رسک تو ہے نا۔ کل یہ ہوا کہ نواز شریف کے جلسے میں ہمارے پولٹیکل بینڈ نے ایک سیاسی قصیدہ گایا اور بڑی بڑی واہ واہ سمیٹی۔ اس دوران تحریکِ انصاف والوں نے فون کردیا کہ جیسے ہی تمہارا پولٹیکل بینڈ نواز شریف کے جلسے سے فارغ ہوجائے سیدھا ہمارے جلسے میں بھجوا دینا۔ ان بے وقوفوں نے یہ کیا کہ وہی نغمہ عمران خان کے جلسے میں بھی گا دیا جس میں نواز شریف کی تعریف کی گئی تھی۔ اس کے بعد عمران خان کے لمڈے یہاں آئے اور میرا بینڈ بجا ڈالا۔ ۔ ۔

پير 29 اپريل 2013


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔