کیا یہ دہشتگردوں کا اپنے سہولت کاروں پر حملہ ہے؟


میں دہشتگردوں کو ہمیشہ درندہ کہتا ہوں کیونکہ کسی بھی درندئے کے پاس رحم کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اتفاق سے میں تھوڑی دیر قبل طالبان دہشتگردوں کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا سلیم صافی کے ساتھ انٹرویو دیکھ رہا تھا، سابق درندئے کے چہرے پر کسی بھی قسم کی گھبراٹ یا شرمندگی کے آثار نظر نہیں آئے۔ احسان اللہ احسان کے اس انٹرویو پر مضمون بعد میں تحریر کرونگا۔ اس وقت تو ذکر دہشتگردوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے سینیٹ کےڈپٹی چئیرمین اورجمعیت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفورحیدری اور انکےقافلے کے ساتھیوں پر 12مئی 2017 کو مستونگ (صوبہ بلوچستان) میں ہونے والے دھماکے میں 30 افراد کے ہلاک ہونے اور 37 افراد کے زخمی ہونے کا کرنا ہے جو اس دہشتگرد واقعہ کا شکار ہوئے، اس واقعے کی جتنی بھی مذمت جائے وہ کم ہے۔ دھماکے میں مولانا عبدالغفور حیدری کی گاڑی بھی تباہ ہوئی ہے تاہم حکام نے تاحال اس کی نوعیت کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے(مولانا عبدالغفورحیدری کو گاڑیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مصنف)۔ اس حملے کی ذمہ داری دہشتگرد تنظیم ’داعش‘ نے قبول کی ہے جو سعودی عرب میں ہونے والی اکثر دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری بھی لیتی رہی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ یوم تاسیس پر’’تین روزہ عالمی اجتماع’’ کے موقعہ پر مولانا عبدالغفورحیدری نے6 اپریل2017 کوپشاورپریس کلب میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران طالبان دہشتگردوں کو اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوت دی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ”ہم طالبان کو جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں اور ہماری جماعت میں شامل ہوکر وہ پرامن سیاسی جدوجہد کی مدد سے اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں”۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی طالبان کو اس دعوت پراپنے تاثرات دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا تھا کہ ’’میرا خیال ہے کہ جہادی و فرقہ وارانہ تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے والے مسئلے کو مشرق وسطیٰ کی صورتِ حا ل کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔ تاریخی طور پر ایسے گروپوں کی سرپرستی سعودی عرب نے کی اور آج بھی ان تنظیموں کے اس قدامت پسند ملک کے ساتھ بہت گہرے روابط ہیں، جس کی ایک مثال جے یو آئی ایف کے جلسے میں اس ملک کے با اثر لوگوں کی موجودگی ہے۔ اس دہشتگردی کی وجہ جاننے کے لیے تھوڑا سا ماضی قریب میں جھانک لیتے ہیں۔ نومبر 2013 میں دہشتگرد طالبان کے اور نواز شریف حکومت کے نام نہاد مذاکرات ہونے والے تھے کہ ایک امریکن ڈرون حملے میں ہزاروں انسانوں کا قاتل اور دہشت گرد طالبان کا سربراہ حکیم اللہ محسود مارا گیا، اس کے مارے جانے پر پورئے پاکستان کے عوام خوش تھے لیکن جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس کے مرنے پر یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا کہ ’’اگر امریکہ کتے کو بھی مارے گا تو شہید کہوں گا‘‘۔ افسوس مولانا نے ایک سیکنڈ بھی نہیں سوچا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے اس وقت تک دہشتگردی کا شکار ہونے والے اُن پچاس ہزار پاکستانیوں کے گھر والوں کو رلادیا جو طالبان کی دہشتگردی کا شکار ہوئےتھے۔ یہ وہ بدنما ماضی تھا جس کی وجہ سے طالبان دہشتگرد اپنی دہشتگردی بڑھاتے چلے گئے، 2013 کے انتخابات کے وقت وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں اس قدر حاوی ہوچکے تھے کہ جو سیاسی جماعتیں ان کو ناپسند تھیں ان کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی۔

وزیراعظم نوا ز شریف کی حکومت کی شروعات 6 جون 2013 سے ہوگئی تھی اورنومبر 2013 تک مولانا فضل الرحمان جو اقتدار سے بہت دیر تک دور رہنے کے عادی نہیں وہ اور ان کے ساتھی سرکاری حصے سے محروم تھے، وہ کب کا زرداری کیمپ چھوڑکر نواز شریف کے کیمپ میں آچکے تھے، نواز شریف نے اس وقت تک ان کو حصہ بھی نہیں دیا تھا جبکہ مولانا کے اس وقت کے دورہ افغانستان پر دہشتگرد طالبان بھی ان سے ناراض تھے۔ مولانا دونوں کو ہی خوش رکھنا چاہتے تھے، اس لئے وہ اس قسم کے بیانات دے رہے تھے۔ اس بیان سےایک طرف وہ خود سے روٹھے ہوئے طالبان کو منارہے تھے تو دوسری طرف نواز شریف کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ طالبان سے ان کا مسئلہ وہی حل کراسکتے ہیں۔ مولانا کو اکرم درانی کی وزارت اور خود اپنے لیے کشمیر کمیٹی کی چیرمین شپ جلد از جلد حاصل کرنا تھیں۔ اپنی مفاد پرست سیاست کو اپنے مفاد میں موڑنے کا فن شاید پاکستان میں مولانا فضل الرحمان سے زیادہ کسی کو نہیں آتا۔ مولانا نے اگراپنے مفاد دہشتگردوں کے ذریعے حاصل کیے ہیں تو بینظیر بھٹوسے آج نواز شریف کی حکومت تک مولانا کا مقصد صرف اور صرف اپنے، اپنے بھائیوں، اولاد اور اپنی پارٹی کے ممبر ان کے مفاد حاصل کرنا ہے۔ مولانا دو کشتیوں کے سوار ہیں، وہ دہشتگردوں سے بھی محبت کرتے ہیں اور حکومت میں رہ کر اپنے مفادات بھی حاصل کرتےہیں۔ پندرہ جون 2014کو پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو دو سال بعد دسمبر2016 میں دہشتگردی میں کافی حد تک کمی نظر آئی، دہشتگردی جب اپنے عروج پر تھی تو ایک تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف اور س) طالبان کے سیاسی دھڑے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام  (ف اور س) اور جماعت اسلامی تو دہشتگردوں کےلیے ہمیشہ سے سہولت کاروں کے طور پر خدمت انجام دیے رہے ہیں تو پھر خاصکر جمعیت کےقائدین پر حملے کیوں ہو رہے ہیں؟ بہت سارے سیاسی تجزیات ہورہے ہیں اور ہوں گے لیکن میرا خیال ہے کہ مولانا عبدالغفورحیدری پر اس وقت ہونے دالا دہشتگرد حملہ ان کی نوشہرہ کی 6 اپریل کی وہ پریس کانفرنس ہے جس میں انہوں نے سعودی عرب کو خوش کرنے کے لیے طالبان دہشتگردوں کو اپنی جماعت میں شرکت کی دعوت دی تھی جو دہشتگرد تنظیم داعش کو پسند نہیں آئی۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ داعش نے اپنے ہی سہولت کاروں پر درندگی کا مظاہرہ کرڈالا۔ مولانا عبدالغفورحیدری وہ پہلے نہیں ہیں جن پر دہشتگردوں نے حملہ کیا ہو اس سے پہلے 2014 میں مولانا فضل الرحمان اور بعد میں ان کے ساتھیوں پر بھی حملہ ہوا ہے جس میں کچھ بچ گئے اور کچھ جاں بحق ہوگئے، ابتک 70 ہزار پاکستانی دہشتگردوں کے چھوٹے بڑئے حملوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ اب مولانا فضل الرحمان نے اتوار کو خودکش حملے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو پہلے سوگ منائیں گے اور پھر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ ایک مجرمانہ عمل ہے ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ مولانا صاحب یہ پہلا دہشتگردی کا واقعہ نہیں ہے جس پر آپ احتجاج کرینگے، کیا پشاور آرمی اسکول کے بچوں پر آپنے احتجاج کیا یا اس سے پہلے یا بعد میں ہونے والے دہشتگردی کے اور کسی واقعہ پر آپنے یا آپکی جماعت نے کبھی کوئی احتجاج کیا، نہیں، تو پھر 12 مئی کا واقعہ تو دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا ہے اس پر احتجاج کیسا، لگتا ہے اس احتجاج میں بھی آپکا کوئی نہ کوئی مفاد ہوگا۔ میں ایک مرتبہ پھر 12 مئی کے واقعہ کی مذمت کرتا ہوں اور لواحقین سے دلی تعزیت کے ساتھ ساتھ زخمی ہونے والوں کےلیے دعا گو ہوں کہ وہ جلد از جلد صحت یاب ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔