یہ کتاب کیوں پڑھنا ضروری ہے


زوال آیا تو اتنا ہمہ گیر تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ سوشل سائنسز کے ارتقا سے بھی ہم محروم رہ گئے۔ کتنی دلچسپ مگر افسوس ناک حقیقت ہے کہ مقدمہ ابن خلدون کے سوا ہمارے دامن میں کچھ بھی نہیں جبکہ فلسفہ تاریخ، پولیٹیکل سائنس، اکنامکس اور نفسیات مغرب میں الگ علوم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یوں کے ان میں ہر روز نئے نظریات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جس طرح انسانی زندگی انٹرنیٹ اور کلوننگ جیسی نئی ایجادات سے تبدیلی کا شکار ہو رہی ہے اسی تناسب سے سوشل سائنسز میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

بدقسمتی صرف یہاں تک نہیں، اس سے بہت آگے تک ہے۔ علوم دوسروں کے پاس چلے گئے مگر بحث و تمحیص میں ہم کسی سے پیچھے نہیں۔ اردگرد پر غور کریں تو اس نتیجے تک پہنچیں گے کہ یہاں ہر دوسرا شخص مذہب کے علاوہ اکنامکس پر بھی اتھارٹی ہے، علم سیاسیات پر بھی اور نفسیات پر بھی۔ المیے کا تاریک ترین پہلو یہ ہے کہ یہ ساری بحث علم کے بغیر ہو رہی ہے۔ غور کیجئے، جن اصطلاحات کو ہم دن میں کئی بار ”دانشورانہ ” گفتگو کے دوران استعمال کرتے ہیں، کیا ان کے حقیقی معانی سے واقف ہیں؟ کیا ہمیں ایک لفظ کے لغوی معنی اور اصطلاحی معنی میں فرق معلوم ہے؟ ہم تو آج تک ”ربا ” اور ”سود ” کا فرق نہیں جان سکے۔ سود اور نفع کا فرق بھی نہیں معلوم کر سکے۔ اس کے باوجود بزعم خود ہم ”اسلامی معاشیات ” کے سب سے بڑے مربی اور علم بردار ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستانی سکالر محمد اکرم خان کی جس تحقیقی تصنیف ”What is wrong with Islamic Economics“ نے دنیا بھر کے تحقیقی مراکز میں ارتعاش پیدا کر رکھا ہے، ہم اس سے آگاہ ہی نہیں۔ محمد اکرم خان نے قرض (Loan) اور سرمایہ کاری (Investment) اور Financing کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔

اس پس منظر میں ذیشان ہاشم کی یہ کتاب ہمارے لئے اتنی ہی اہم ثابت ہو گی جتنا کہ ایک بچے کے لئے نورانی قاعدہ، جس کے بغیر وہ علم کے میدان میں آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ ہم، دن رات لاحاصل بحث کرنے والوں کو پہلے تو ذیشان ہاشم بنیادی اصطلاحات کے حقیقی معنی سے روشناس کراتا ہے۔ فرد، سوسائٹی، ریاست، انفرادیت پسندی (Individualism)، ویلیو سسٹم، فری مارکیٹ، پیداوار، مطلق العنانیت (Authoritarianism) اور بے شمار دوسری اصطلاحات کے اصل مفہوم کو وہ مثالیں دے کر واضح کرتا ہے۔ ہم سوشلزم، کیپیٹلزم، فری مارکیٹ، مکسڈ اکانومی کے الفاظ بے محابا استعمال کرتے ہیں مگر کم ہی ان کے اصطلاحی مفہوم سے آشنا ہوتے ہیں۔ ذیشان ہاشم کی کتاب پڑھ کر یہ سارے بنیادی الفاظ (Tools) درست معنی میں ذہن نشین ہوتے جاتے ہیں۔

جدید انسان کی زندگی آسان بالکل نہیں۔ ستر سالہ سوویت یونین کے تجربے نے اور ماؤ کے چین نے انسان کی آنکھ کھول دی ہے۔ انسان کی فطرت میں مسابقت ہے، یعنی مقابلے میں شریک ہو کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔ زندگی معیشت کے گرد گھومتی ہے۔ تعجب ہے کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ غربت انسان کو کفر کے قریب لے جاتی ہے مگر ہمارے مذہبی رہنماؤں نے غربت کی شان میں وہ قصائد پڑھے کہ کار دنیا سے نفرت کو ثواب کا درجہ دے دیا گیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زندگی معیشت کے گرد گھومتی ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ معیشت آزاد ہو، مادر پدر آزاد ہو یا ریاست کی زنجیروں میں بندھی ہوئی ہو؟ ذیشان ہاشم نے اسی بنیادی سوال کا جواب دیا ہے۔ اس نے تاریخ کے ناقابل تردید حقائق سے ثابت کیا ہے کہ معیشت مادر پدر آزاد ہونی چاہیے نہ زنجیروں سے بندھی ہوئی۔ دو افراد دوڑنا چاہتے ہیں تو ایک کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تم اس رفتار سے زیادہ نہیں دوڑو گے۔ دوسری طرف انہیں کھائی میں گرنے کی آزادی دی جا سکتی ہے نہ ہی دوڑ کے دوران دوسروں کو روندنے کی۔ بس یہی وہ اصول ہے جس کے تحت فرد کی معاشی جدوجہد اور ریاستی کنٹرول کے درمیان توازن قائم رکھا جائے گا۔ Free will اور Incentives کی اہمیت کو سوویت تجربے نے کم کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ ذیشان ہاشم بتاتا ہے کہ گوربا چوف برطانیہ کی خوشحالی دیکھ کر حیران ہوا تو مارگریٹ تھیچر سے پوچھا کہ آپ کیسے جان لیتی ہیں کہ تمام شہریوں کو بہتر غذا میسر ہے؟ تھیچر نے جواب دیا : ”I don’t know، Prices say it all ” یہ ایک فقرہ کئی کتابوں پر بھاری ہے۔ اسی طرح وینزویلا کی مثال دے کر ذیشان نے جس طرح مضمرات کی طرف اشارہ کیا ہے، گویا کوزے میں دریا کو بند کر دیا ہے۔

ذیشان ہاشم کی یہ تخلیقی کاوش سنجیدہ حلقوں کے لئے ایک قیمتی اثاثے سے کم نہیں۔ اب دیگر اہل دانش پر لازم ہے کہ اس کام کو آگے بڑھائیں۔

محمد اظہار الحق

اسلام آباد

دسمبر 2016۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔