رمضان میں کھانے پینے پر سزا کا بل اور بختاور بھٹو کا زوردار مکہ


 سات، آٹھ سال پہلے اسلام آباد کا واقعہ ہے، رمضان کا مہینہ تھا میرے ایک بیمار دوست کو شدید پیاس لگی۔ ہم اپنے ہم مذھب بھائوں سے چھپ کر پینے کے لئے پانی تلاش کرتے ہوئے جی سیون میں واٹر فلٹر پلانٹ کی ایک ٹنکی پر پہمچے۔ میرے دوست نے دائیں بائیں دیکھا اور چُلو سے دو گھونٹ پانی پی لیا ۔

مگر پکڑا گیا۔ اچانک کچھ قابل احترام لوگ کہیں سے نکل آئے اور اس کو پکڑ کر پتہ نہیں کیا کرنے والے تھے کہ، میں نے ہجوم سے عرض کیا کہ، بھائیوں، یہ میرا دوست شگر کا مریض ہے، انسولین پہ چل رہا ہے ۔ اس لئے روزہ نہیں رکھا۔ پانی پینا اس کی عیاشی نہیں، ضرورت ہے۔ ثبوت کے طور پر ہم نے میرے دوست کے پاس موجود انسولین بھی دکھائی جو اس کے پاس موجود رہتی تھی۔

ہم اس ہجوم کے آج تک شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہم پہ احسان کیا اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ لے کر چھوڑدیا۔

یہ تو کچھ سال پہلے کا واقعہ ہے جب صورتحال نسبتا بہتر تھی۔

حال ہی میں پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے رمضان سے قبل ایک ترمیمی بلِ پاس کیا ہے جس کےتحت ماہ رمضان میں سرِ عام کھانے پینے کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سزا بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

 یہ ترمیم اس آرڈیننس میں تبدیلی لانے کی سفارش ہے جو سنہ 1981 میں جنرل ضیا الحق نے جاری کیا تھا۔ اس قانون کے تحت عوامی مقامات پر کوئی بھی شخص جس پر اسلام میں روزہ فرض ہے سرِ عام کوئی بھی چیز کھا یا پی نہیں سکتا۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین ماہ قید اور 500 روپے جرمانہ ہوگا۔ اسی قانون کے تحت ہوٹلوں پر بھی پابندی لگائی گئی تھی کہ وہ روزے کے اوقات میں لوگوں کو کھانا نہ دیں۔

 یہ معاملہ برسوں سے لشٹم پشٹم چل رہا تھا پھر اچانک احترام رمضان بل میں ترمیم کی ضرورت پیش آ گئی، نہ احترام رمضان شکنی کا کوئی واقعہ ہوا ہے نہ کہیں سے اس ترمیم کا مطالبہ ہوا ہے۔ نامعلوم تالاب میں کس طرف سے کنکر آیا ہے۔

 یہ ترمیمی بل سینیٹ میں 16 جنوری 2017 کو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویرخان نے پیش کیا ۔جس کو سینیٹ چیئرمین نے غور کرنے کے لئے مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔

متعارف کرائے گئے بل میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ، سنہ 1981 میں جاری قانون میں ترمیم کر کے ہوٹلوں کے مالکان پراحترام رمضان شکنی پر جرمانہ 500 روپے سے بڑھا کر 5000 روپے کر دیا جائے۔

عوامی مقامات پر کوئی بھی شخص جس پر اسلام میں روزہ فرض ہے سرِ عام کوئی بھی چیز کھا یا پی نہیں سکتا۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو تین ماہ قید اور 500 روپے جرمانہ ہوگا۔ ٹی وی چینل اور سینما ہائوسز پر قانون شکنی پر پانچ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ جرمانہ ہوگا۔

مذھبی امور کے مملکتی وزیر پیر امین الحسنات شاہ نے قائمہ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران رمضان کے مہینے میں سینما گھر مکمل طور پر بند رکھنے کی شق قانون کا حصہ بنانے کی تجویز رکھی جس پر دیگر ممبران نے رمضان میں تین گھنٹے دن کے وقت اور تین گھنٹے افطار کے بعد سینما بند کرنے سفارش کو بل کا حصہ بنا یا۔ سینیٹر چودھری تنویرخان نے کمیٹی میں روزہ شکنی کرنے والے کے لئے سخت سزا تجویز کرنے پر زور دیا۔

اس پورے معاملے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ملک میں رمضان کا مہینہ انتہائی احترام سے منایا جاتا ہے۔ روزے، تراویح، اعتکاف، سحری، افطار، عبادتیں، طرح طرح کی افطاری کے پکوان، ضرورت مندوں کو افطاری کرانا، عید کی تیاری سب صحیع چل رہا ہے۔ لوگ رمضان المبارک کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے اس ایسا ماحول نہ بنایا جائے کہ احترام کی بجائے خوف کی فضا قائم ہو۔

اسپتالوں، مسافروں اور پرائمری سکول کے بچوں غیر مسلم شہریوں، بیماروں کا کیا ہوگا ؟ اس قانون میں ان کو مستثنیٰ قرار دینے کی بات ابھی تک سنائی نہیں دے رہی۔

اس سارے معاملے پر محترمہ بینظر بھٹو کی بیٹی بختاور بھٹو نے احترامِ رمضان آرڈینیس میں کی جانے والی ترمیم کے پاس ہونے کے بعد ٹویٹر پر اپنے پیغام میں اس ترمیم کی کھل کر مخالفت کی ہے اور کہا کہ ’اس مضحکہ خیز قانون کے تحت لوگ ہیٹ سٹروک اور جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے مریں گے۔ یہ اسلام نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر ایک کا روزہ نہیں ہو گا۔ سکولوں میں بچے، ضعیف اور بیمار۔ کیا ہمیں انھیں پانی پینے پر گرفتار کر لینا چاہیے۔

بختاور بھٹو آج کل باکسنگ سیکھ رہی ہیں۔ اس قانون پر انہوں نے جو کھل کر اظہار کیا ہے اُس کوان کا شاندار باکسنگ پنچ کہا جائے تو کم نہیں ہوگا۔ مگر بختاور بھٹو کو کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سینیٹ میں اکثریت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے اس لئے سینیٹ سے ایسا بل پاس ہونے کی ذمہ داری براہ راست پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔