پاکستان کا سفر بذریعہ پوسٹرز


پاکستان ماشااللہ ستہرویں برس میں داخل ہوا چاہتا ہے۔ دو روز پہلے اخبار ڈان میں ندیم فاروق پراچہ نے ستر برس کی تاریخ کو مختلف ادوار میں شایع ہونے والے اخباری اشتہارات ،کتابچوں اور پوسٹرز کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی۔اس اشتہاری فیچر کو پڑھ کے وہ دوست بھی پاکستان کا سیاسی ، سماجی و نظریاتی سفر سمجھ سکتے ہیں جنھیں کتاب پڑھنے سے الجھن ہوتی ہے۔

مثلاً مضمون میں سال انیس سو تریپن کے لیے اٹھائیس گزیٹڈ سرکاری چھٹیوں کے کیلنڈر کا جو عکس دیا گیا ہے اس  کے مطابق چونسٹھ برس پہلے کے پاکستان میں شبِ برات ، حجتہ الوداع ، عید الفطر ، یومِ حج ، عید الضحی ، یکم محرم ، عاشورہ ، آخری چہار شنبہ اور عید میلاد النبی کے ساتھ ساتھ کرسمس ، ایسٹر، بیساکھی ، دیوالی ، ہولی اور دسہرا کا دن بھی مذہبی تعطیلات میں شمار تھا۔پچیس دسمبر سے یکم جنوری تک آٹھ دن سرکاری کام بند رہتا تھا۔ان آٹھ دنوں میں کرسمس ، یومِ قائدِ اعظم اور نئے سال کی چھٹی بھی نمٹ جاتی تھی۔دیگر قومی چھٹیوں میں یومِ اقبال ( اکیس اپریل ) ، یومِ پاکستان ( چودہ اگست ) اور یومِ وفاتِ قائدِ اعظم ( گیارہ ستمبر ) شامل تھا۔تئیس مارچ چھٹیوں کے سرکاری کیلنڈر میں شامل نہیں تھا۔البتہ موسمِ بہار کی مناسبت سے بسنت کی سرکاری چھٹی ہوتی تھی۔

مضمون میں بزمِ اقبال کی شایع کردہ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی کتاب ’’ اقبال اور ملا ’’ کے ٹائٹل کا عکس بھی دیا گیا ہے۔وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ انیس سو تریپن کے مذہبی فسادات کے بعد لاہور میں جب مارشل لا لگا تو اقبال کے تصورِ اسلام اور ملا کے تصورِ اسلام کے موازنے پر مبنی اس کتاب کو مارشل لا انتظامیہ کی جانب سے شہر میں تقسیم کیا گیا۔

انیس سو اٹھاون میں پہلا ملک گیر مارشل لا لگا۔انیس سو ساٹھ کے انگریزی اخبارات میں شایع ہونے والے ایک اشتہار سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی ایک بیلی ڈانسر پاکستان آئی ہے اور پاکستانی متوسط اور بالائی طبقے کے لیے حشر سامانیاں بکھیر رہی ہے۔کراچی کے آنجہانی ریو سینما کے اسٹیج پر اس کی پرفارمنس کے بارے میں ایک باتصویر اشتہار کا شایع ہونا معمول کا معاملہ لگتا ہے۔

انیس سو باسٹھ میں محکمہ سیاحت نے ایک پوسٹر شایع کیا۔اس پوسٹر میں موہن جو دڑو کی ڈانسنگ گرل اور فاقہ زدہ بدھا کے گندھارا مجسمے کا عکس بھی پاکستان کی ہزاروں برس پر پھیلی تہذیبی تاریخ کا استعارہ ہے۔

انیس سو چونسٹھ میں انگریزی اخبارات میں شایع ہونے والا جانی واکر اسکاچ وہسکی کا اشتہار بھی ہے۔اس کی ٹیگ لائن ہے ’’ دی فیشن ایبل ڈرنک ایوری وہئیر‘‘۔

انیس سو چھیاسٹھ کے ایک اشتہار میں پی آئی اے کی دو فضائی میزبان مشہور فرنچ ڈیزائنر پیغ کاغدیں کی بنائی دلکش یونیفارم میں پیرس کی شاہراہ شانزے لیزے پر کھڑی ہیں۔

انیس سو اکہتر میں کراچی میں ’’ پاپ فیسٹیول اکہتر منعقد ہوا’’۔تصویر میں تین دیسی گٹارسٹس پرفارم کر رہی ہیں۔انیس سو تہتر میں شایع ہونے والی ایک مقامی سیاحتی گائیڈ میں کراچی کے نائٹ لائف مراکز کا تعارف کچھ یوں ہے۔

اوایسس تاج ہوٹل ، ترکی کی مہمان رقاصہ اینجلیک اور نادیہ کے علاوہ پاکستان کے لوک رقص اور جدید ڈانس پرفارمنسز۔ہوٹل امپیریل مولوی تمیز الدین خان روڈ کے ڈانس فلور پر بیلے ڈانسر سہیلا اور غیر ملکی رقاصوں کو فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھئے۔ہوٹل ایکسیلسئر پینٹ ہاؤس نائٹ کلب میں مس چنٹلی اور بیروت سے آئی ہوئی بیلے رقاصہ گمال اور دیگر رقاصائیں۔پیلس ہوٹل کے لاگورمے میں کلاسیکی ڈانسر نشی اور غیر ملکی رقاصوں کی لاجواب پرفارمنس(علاوہ جمعہ)۔شاہراہِ لیاقت پر کے ایم سی مارکیٹ کے نزدیک روما شبانہ کلب میں کلاسیکل اور لوک پرفارمنس ( علاوہ جمعہ )۔

دسمبر انیس سو چھہتر میں خیبر پختون خوا کے ضلع دیر کی ایک دوکان کی تصویر بھی مضمون کا حصہ ہے۔ دوکان کے بورڈ پر لکھا ہے ’’ انٹرنیشنل آرمز اینڈ حشیش اسٹور ’’ اور اردو میں لکھا ہے ’’ چرس اسٹور ‘‘۔

انیس سو اکیاسی کا ایک پوسٹر جو افغانستان میں سوویت یونین سے لڑنے کے خواہش مند رضاکاروں کی ریکروٹمنٹ کی حوصلہ افزائی کے خیال سے امریکا میں ڈیزائن ہوا اور چھاپ کر پاکستان بھیجا گیا۔ پوسٹر میں ایک سیاہ ریش نوجوان مجاہد کے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے بلند ہاتھ میں کلاشنکوف ہے۔ اوپر لکھا ہے اللہ اکبر۔پس منظر میں افغانستان کا نقشہ سیاہ رنگ میں ہے اور مجاہد کے پیروں تلے سرخ روسی ریچھ چاروں شانے چت پڑا ہے۔

انیس سو بیاسی کا انڈین ایر لائنز کا ایک اشتہار بھی ہے۔جس میں پاکستان سے بھارت ہفتے میں سات پروازوں کی نوید ہے۔چھبیس اکتوبر انیس سو بیاسی کو کراچی ایئر پورٹ کے ٹرمینل ون اور ٹو پر اترنے والی پروازوں کا سول ایوی ایشن کا اشتہاری شیڈول بھی اس مضمون کا حصہ ہے۔پروازوں کے شیڈول سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک دن میں پی آئی اے کے علاوہ تیس دیگر ایئر لائنز کی پروازیں کراچی ایر پورٹ پر لینڈ کرتی تھیں۔ان میں ایئرو فلوٹ ، ایئر فرانس ، سی اے اے سی ، گلف ایئر ، انٹر فلگ ، ایران ایئر، جاپان ایئر لائنز ، کویت ایئرویز ، لفت ہنسا ، پین ایم ، فلپائن ایئر لائنز ، کے ایل ایم ، رائل نیپال ، سعودیہ ، سنگاپور ایئر لائنز ، سوئس ایئر ، تھائی ایئرویز اور رومانین ایئر ٹرانسپورٹ کی پروازیں ٹرمینل ون پر اترتی تھیں۔جب کہ ٹرمینل ٹو سے پی آئی اے کے علاوہ ایئر لنکا ، بنگلہ دیش بیمان ، برٹش ایئرویز ، ایجپٹ ایئر ، امارات ، انڈین ایئر لائنز ، عراق ایئرویز ، لیبین ایئرویز ، رائل جورڈینین ، سیرئین عرب ایئر لائنز ، ٹرکش اور الیمنیہ کی پروازیں ہوتی تھیں۔

مضمون میں ستائیس جنوری انیس سو نواسی کو شایع ہونے والی اے پی پی کی ایک خبر کا تراشا بھی ہے۔ خبر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی نے ایک مقامی وکیل کی جانب سے پی ٹی وی کے پروگرام ’’ میوزک ایٹی نائن ’’ کے خلاف دائر درخواست کو داخلِ دفتر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ معاملہ اسلام آباد کی عدالت کے دائرہِ اختیار میں آتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایک مقامی وکیل بابر اعوان ایڈوکیٹ نے چیرمین پی ٹی وی اسلم اظہر ، میوزک ایٹی نائن کے پروڈیوسر شعیب منصور اور لندن میں مقیم گلوکارہ نازیہ حسن اور گلوکار زہیب حسن کے خلاف درخواست میں کہا کہ مذکورہ پروگرام میں غیر اخلاقی گفتگو اور فحش انداز اختیار کرنے کے سبب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور عوام الناس میں اشتعال پھیل رہا ہے۔لہذا مذکورہ پروگرام کو بند کر کے ذمے داروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔

مضمون میں دو ہزار ایک میں شایع ہونے والے ایک پوسٹر کا عکس بھی شامل ہے جسے پشاور میں کوئی بھی خرید سکتا تھا۔اس پوسٹر میں مجاہدِ اسلام اسامہ بن لادن کی دو تصاویر ہیں۔بڑی تصویر میں وہ کاندھے پر شال ڈالے کلاشنکوف کے سہارے کھڑے ہیں اور دوسری تصویر میں وہ گھوڑے پر سوار ہیں۔پس منظر میں طیارے پہاڑوں پر بمباری کر رہے ہیں۔

مضمون کے آخر میں دو ہزار پندرہ میں جاری ہونے والے ایک اسٹیکر کا بھی عکس ہے جو غالباً کاروں اور موٹر سائیکلوں پر چسپاں کرنے کے لیے مسلح افواج کی جانب سے تیار کیا گیا۔اس پر انگریزی میں لکھا ہے ’’آئی سپورٹ ضربِ عضب‘‘۔پاکستان آرمی لیڈنگ فرام دی فرنٹ۔ پاکستان زندہ باد‘‘۔

(بشکریہ ایکسپریس نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔