لڑکیاں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی ہاسٹلز کی


لڑکیوں کو “جنسی بے راہروی” سے بچانے کا یہ جو جنون ہے اس میں یونیورسٹی انتظامیہ کہاں تک جائے گی۔ اگلے مرحلے میں گرلز ہاسٹلز میں تکیے بین ہوں گے اور پھر شاید لڑکیوں کے ہاتھ کاٹنے ہوں گے۔ پاؤں تو پہلے ہی ناکارہ کر دیے ہیں نقل و حرکت پر پابندیوں نے۔

ہاسٹل کے کمرے کی چابی بہت قیمتی تھی، آج سے دو دہائیاں قبل تقریباً پانچ ہزار پاکستانی روپے۔ لیکن اسی چابی سے حفاظت کا احساس اور آسانی دونوں ہی کمال کے تھے۔ کافی بڑا ہاسٹل تھا۔ اسی ایک چابی سے ہاسٹل کا میں گیٹ کھلتا، پھر آپ کے بلاک کا دروازہ، پھر آپ کے کاریڈور کا دروازہ اور پھر آپ کے کمرے کا دروازہ کھلتا تھا۔ کاریڈور کے اندر کوئی درجن بھر کمرے تھے لیکن آپ صرف اپنا ہی کمرہ کھول سکتے تھے۔ ہاسٹل میں مردوں اور عورتوں کی کوئی تخصیص یا تفریق نہیں تھی۔ آپ کا پڑوسی مرد ہے یا عورت، یہ نہ آپ کے بس میں تھا اور نہ ہی اس بات کی آپ کو کوئی فکر تھی۔

کاریڈور کے درجن بھر کمروں کے لیے ایک کچن ہوتا تھا جسے اس کاریڈور میں رہنے والے سبھی خواتین و حضرات استعمال کرتے تھے۔ آپ جب کچن میں جاتے تو کچن آپ کو صاف ستھرا ملتا تھا۔ لہذا یہ آپ کی ذمہ داری تھی کہ جب آپ کچن چھوڑیں تو اس کو صاف کر کے جائیں تاکہ اگلے آنے والے شخص کو پرابلم نہ ہو۔

کچن کھانا پکانے کے علاوہ اس کاریڈور میں رہنے والوں کے لیے ایک چوپال یا اکٹھے ہونے کی جگہ بھی تھا کیونکہ ایک دوسرے کے کمرے میں جانے کا رواج کم ہی تھا۔ کچن کے سانجھے ہونے کی وجہ سے ہی لوگ ایک دوسرے کو جانتے بھی تھے ورنہ آپس میں رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔

کچن کی وجہ سے جن لوگوں سے میرا رابطہ ہوا ان میں ایک جاپانی صاحب اور ان کی گرل فرینڈ تھی جو کبھی کبھی آتی تھی اور کھانا بہت اچھا بناتی تھی۔ ایک بہت لمبے قد کی روسی خاتون تھی اس کے ساتھ سوویت یونین ٹوٹنے کے عام لوگوں کی زندگیوں پر اچھے برے اثرات پر باتیں ہوتی تھیں۔ اس سے جمہوریت کے منفی اور مثبت پہلو سمجھنے میں آسانی ہوئی۔ ایک انڈونیشین لڑکی تھی، جو سب سے کم عمر تھی کیونکہ وہ اکیلی انڈر گریڈ تھی پورے کاریڈور میں۔ وہ بہت ہی اچھے سوپ بناتی تھی اور کچن میں موجود ہر شخص کو ٹیسٹ بھی کراتی تھی۔ دو لوگ تنزانیہ، افریقہ سے تھے، ایک مرد اور ایک خاتون، الگ الگ کمروں میں رہتے تھے اور ان کی ملاقات بھی یہیں کچن میں ہوتی تھی۔

غرضیکہ ہاسٹل کی ایک لائف تھی جس میں لوگ ایک دوسرے کی معاشرت، لباس، کھانے، ڈگریاں اور ایسی ہی بہت ساری دوسری باتوں کے متعلق تجسس سے باتیں سنتے تھے اور شوق سے اپنے معاشرے کی باتیں بتاتے تھے۔ ماحول میں امن، سکون، اعتبار، ایک دوسرے کے لیے عزت اور اس بین القوامی ماحول میں دوسرے معاشروں کے متعلق جاننے کا تجسس تھا۔ کسی کو یہ فکر نہ تھی کون کب آتا ہے کب جاتا ہے یا کس کے پاس کون آتا ہے۔ ہاسٹل انتظامیہ نام کی کوئی چیز کبھی دیکھی نہیں، سوائے ان فون نمبرز اور ایمیل ایڈریس کے جو ایک بورڈ پر لکھے تھے تاکہ ضرورت کے وقت ان سے رابطہ کیا جا سکے۔ آنے جانے کے اوقات مقرر نہیں تھے۔

مرد، عورتیں، ایشین، یورپین، افریقی، مسلم، کرسچن اور ملحد سبھی ایک ہی کاریڈور میں رہتے تھے۔ ان کی ذاتی زندگیوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ تھی۔ سبھی کو اپنی حدود کا علم اور دوسروں کی حدود کا احساس تھا۔ کسی بیرونی پابندی کی ضرورت بھی نہ تھی۔ یونیورسٹی اور ہاسٹل چلانے والوں کو بھی سب لوگوں کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے رویوں پر بھی اعتبار تھا۔ اس اعتبار اور عزت نفس کی قدر کی وجہ سے پورے ماحول میں کمال کی آسودگی تھی۔

یونیورسٹیوں کا یہی ماحول دنیا کے بہت سارے ملکوں میں ہے۔ کچھ پاکستان سے امیر ہیں اور کچھ پاکستان سے بھی زیادہ غریب ہیں۔ کہیں تعلیمی معیار پاکستان سے بہتر ہے تو کہیں شاید اس سے کم تر بھی ہو۔ لیکن اعتبار اور شخصی آزادی کی وجہ سے عام آدمی کو دھونس دھاندلی کا سامنا کم ہی کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے تعلیمی ادارے الگ کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ مرد مومن مرد حق کے دور میں تو پرائمری سکول بھی الگ کر دیے گئے تھے ابھی دوبارہ سے پنجاب حکومت انہیں ایک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کچھ یونیورسٹیاں بھی الگ ہیں کیونکہ کچھ والدین اپنی بیٹیوں کو ایسی یونیورسٹیوں میں بھیجنا نہیں چاہتے جہاں لڑکے بھی پڑہتے ہوں۔ لوگوں کی اپنی لڑکیوں پر یہ بے اعتباری مجھے تو سمجھ نہیں آتی۔ اور ان لڑکیوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی جن پر ان کے والدین ہی اعتبار نہیں کرتے۔ خیر زیادہ تر یونیورسٹیاں اکٹھی ہیں یعنی ان میں مخلوط تعلیم ہے۔ شکر ہے کہ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں پر اعتبار کرتے بھی ہیں۔

جو کچھ بھی ہو جائے پاکستان میں ہاسٹلز تو بہرحال لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ ہی ہیں۔ پھر لڑکیوں کے ہاسٹلز کے لیے بہت سارے قوانین ایسے ہوتے ہیں جو لڑکوں کے ہاسٹلز کے لیے نہیں ہوتے۔ لڑکیوں کی مجبوری ہے وہ ان سارے امتیازی قوانین کے ساتھ گزارا کرتی ہیں۔ اسی پر شکر بجا لاتی ہیں کہ انہیں یونیورسٹی آنے کا موقع تو دیا گیا ہے۔

ہر اگلے سال یہ پابندیاں بڑھتی رہیں لیکن پابندیوں کا فوکس اسی بات پر ہوتا تھا کہ لڑکیوں اور لڑکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ میل جول سے کیسے روکا جائے۔ اس جنون میں ابھی تک جمعیت سب سے آگے تھی۔ اور اس کا سب سے زیادہ اظہار پنجاب یونیورسٹی میں نظر آتا تھا کیونکہ وہاں جمعیت اقتدار میں رہتی ہے۔ لیکن اب اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ جمعیت کو پیچھے چھوڑ گئی ہے۔

لڑکوں اور لڑکیوں کے کیمپس الگ، کلاسیں الگ اور ہاسٹلز الگ تو پہلے سے تھے لیکن بات اب اس سے آگے چلی گئی ہے۔ اب انہوں نے لڑکیوں کے آپس کے میل جول پر بھی پابندیوں کا آغاز کیا ہے۔ پتا نہیں انہیں کیا شک گزرا جو یہ نوٹس جاری کیا ہے کہ ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیاں ایک کمبل میں نہیں بیٹھ سکتیں یا ایک بیڈ پر نہیں سو سکتیں۔ لڑکیوں کو “جنسی بے راہروی” سے بچانے کا یہ جو جنون ہے اس میں یونیورسٹی انتظامیہ کہاں تک جائے گی۔ اگلے مرحلے میں گرلز ہاسٹلز میں تکیے بین ہوں گے اور پھر شاید لڑکیوں کے ہاتھ کاٹنے ہوں گے۔ پاؤں تو پہلے ہی ناکارہ کر دیے ہیں نقل و حرکت پر پابندیوں نے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 129 posts and counting.See all posts by salim-malik