کیا مغرب مسلمانوں سے جنگ لڑ رہا ہے؟


آج پاکستان اور بہت سے دوسرے مسلمان ملکوں میں کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام اور مغرب میں جنگ جاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا نے بہت سے یورپی ممالک کی مدد سے مسلم ممالک کو ہدف بنایا اور ان پر حملے کیے ہیں۔ افغانستان اور عراق اس کی نمایاں مثال ہیں جبکہ اس حوالے سے پاکستان اور یمن میں ڈرون حملوں کی بات بھی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ ایک مذہبی جنگ ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں کہ مذہبی جنگیں صدیوں تک چلتی ہیں۔تاہم اس بات کو قبول کرنے سے پہلے ہمیں ٹھنڈے دل سے تمام حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔

یہ بات درست ہے کہ امریکا نے بہت سے ملکوں پر حملے کیے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسے حملوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ ان ملکوں میں ویت نام سرفہرست ہے۔ اس جنگ میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ویت نام کے علاوہ لاؤس، کمبوڈیا، کوریا اور دیگر ممالک بھی امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔اگر جنوبی امریکا کی جانب دیکھا جائے تو وہاں گوئٹے مالا، ایل سلواڈور، پانامہ اور گرینیڈا پر امریکی حملے ہوئے ہیں۔ مگر یہ مذہبی جنگیں نہیں تھیں بلکہ ان کا مقصد ان ملکوں سے سستے وسائل حاصل کرنا تھا۔ امریکا دنیا بھر میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا اور سوویت یونین (کمیونزم) کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔ اسی مقصد کی تکمیل کی خاطر امریکا نے دنیا کی سب سے بڑی فوج بنائی اور آج بھی اس کی یہ حیثیت برقرار ہے۔

اگر یہ مسلمانوں اور مغرب میں مذہبی جنگ ہے تو پھر ہمیں بعض مشکل سوالات کے جواب دینا پڑیں گے۔ پہلی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی اس قدر بڑی تعداد امریکا یا مغربی یورپ میں رہنا کیوں پسند کرتی ہے؟ یہ لوگ کیوں ان ممالک کی شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ ان ممالک کے سفارت خانوں کے باہر دیکھیں تو ویزوں کے حصول کے لیے لوگ طویل قطاروں میں کھڑے دکھائی دیں گے۔ ان میں طرح طرح کے لوگ نظر آتے ہیں جن میں راسخ العقیدہ مسلمان بھی ہوتے ہیں۔دوسری جانب امریکا اور یورپ نے اپنے دروازے ان لوگوں پر بند نہیں کیے۔ اگرچہ وہ ایسا کر سکتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ یہ ملک ایسا نہیں کرتے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان ممالک کو ہماری ضرورت ہے کہ انہیں سستی مزدوری درکار ہے۔ شاید کسی زمانے میں ایسا ہوتا ہو گا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اب مغرب میں بھی بے روزگاری پھیل چکی ہے۔ چنانچہ اگر وہ چاہیں تو ہم پر اپنے دروازے بند کر سکتے ہیں۔اس سے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مغرب میں پیدا ہونے والے مسلمان والدین کے بچوں کو ان ملکوں کی شہریت فوری مل جاتی ہے۔ اگر ہم سعودی عرب، بحرین، کویت اور تیل سے مالامال دیگر مسلمان ملکوں پر نظر ڈالیں تو وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ ملک خود کو اسلام کے علمبردار کہتے ہیں اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا ذمہ اٹھانے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی پاکستانی، بنگلہ دیشی، بھارتی یا فلپائنی مزدور یا انجینئر ان ملکوں میں سالہا سال کام کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اسے ان ملکوں کی شہریت نہیں مل سکتی۔ اگر کسی تارک وطن کے بچے سعودی عرب یا ایسے دوسرے اسلامی ممالک میں پیدا ہوں تو وہ کبھی اس ملک کے شہری نہیں بن سکتے۔

یہاں ایک اور مشکل سوال سامنے آتا ہے۔ اگر مسلمانوں اور مغربی ممالک میں مذہبی جنگ جاری ہے تو پھر ان ملکوں میں مسلمانوں کو اس قدر زیادہ مذہبی آزادی کیوں ملتی ہے؟ شاید آپ اس بات سے اختلاف کریں کیونکہ فرانس میں برقعے پر پابندی ہے۔ سوئزرلینڈ میں آپ مسجد کے مینار نہیں بنا سکتے۔ امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے قریب بنائی جانے والی مسجد کی تعمیر روک دی گئی ہے۔لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو امریکا میں مساجد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 30 یا 40 سال قبل امریکا میں مساجد کی تعداد دو سو سے ڈھائی سو تک تھی، مگر اب یہاں ڈھائی یا تین ہزار کے لگ بھگ مساجد موجود ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بسا اوقات مغرب میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسروں کے مقابلے میں مسلمانوں کو بہتر ملازمتیں نہیں ملتیں۔ بعض اوقات مسلمان جرائم کا ہدف بھی بنتے ہیں۔ لیکن مغربی ممالک میں مسلمان ان تمام تعصبات کے خلاف آواز بھی بلند کر سکتے ہیں۔ انہیں پولیس کو شکایات درج کرانے اور عدالت میں مقدمہ لڑنے کی آزادی حاصل ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمان یہ مقدمات جیت جاتے ہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بیشتر اوقات مسلمان ایسے مقدمات میں مسلمانوں کا موقف درست قرار پاتا ہے۔

دوسری جانب اگر آپ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور آپ کا مالک آپ سے کوئی زیادتی کرے، نوکری سے برطرف کر دے یا جھوٹا الزام لگا دے یا یہ کہہ دے کہ آپ ہیروئین کی سمگلنگ میں ملوث ہیں تو آپ کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔ حالانکہ بہت سے پاکستانیوں کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہو چکا ہے مگر کوئی اس کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتا۔چنانچہ ہمارے سامنے یہ حقیقت ہے کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی کے بجائے اچھا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ کوئی مذہبی یا تہذیبی جنگ نہیں ہو سکتی۔ تہذیبی جنگ کی اصطلاح مسلمانوں کی ایجاد نہیں بلکہ یہ سیموئل پی ہنٹنگٹن نے وضع کی تھی جو ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ ہنٹنگٹن کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے بعد دنیا میں اختلافات اور لڑائیاں ملکوں کے بجائے تہذیبوں کے درمیان ہوں گی۔ انہوں نے تمام دنیا کو سات مختلف تہذیبوں میں تقسیم کیا۔ ان میں عیسائی، مسلمان، چینی، جاپانی، ہندو، لاطینی امریکی اور سلاوک آرتھوڈوکس شامل ہیں۔ہنٹنگٹن نے تمام تہذیبوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر پہچانا۔ یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا کسی تہذیب کو مذہبی بنیادوں پر پہچانا جا سکتا ہے؟ اگر یہ بات درست ہے تو گوئٹے مالا میں رہنے والے کیتھولک کو ویسا ہی ہونا چاہیے جیسے اٹلی، جرمنی یا سوئزرلینڈ میں رہنے والا کیتھولک ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح پنجاب میں رہنے والے ہندو اور کیرالا کے ہندو میں کیا مماثلت ہو سکتی ہے؟ پٹھان مسلمان اور بنگالی مسلمان ایک تہذیب کے ارکان نہیں ہو سکتے۔ ان کی زبانیں اور سوچ ایک دوسرے سے الگ ہیں۔لہٰذا کسی تہذیب کو مذہب کی بنیاد پر پہچاننا بہت بڑی غلطی ہو گی۔

ہنٹنگٹن نے مزید یہ کہا کہ ملکوں میں تصادم تو ہو گا اور تہذیب کے اندر بھی تصادم دیکھنے کو ملیں گے مگر یہ ٹکراو ¿ کبھی شدید یا خونریز نہیں ہو سکتے۔ زیادہ خطرناک اور خونریز تصادم تہذیبوں کے مابین ہوں گے۔اگر ہم آج کی دنیا پر نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بات کس قدر غلط ہے۔ آج سب سے زیادہ خونریز تصادم ہمیں مذہب کے اندر دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ایران عراق جنگ کو دیکھا جائے تو اس میں 10 لاکھ مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔ شہروں پر میزائل داغے گئے اور زہریلی گیس کا استعمال ہوا۔ یہی نہیں بلکہ بچوں کو بھی میدان جنگ میں جھونک دیا گیا۔شام کی حالت بھی ہمارے سامنے ہے۔ آج وہاں تباہی و بربادی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ وہاں مسلمان باہم برسرپیکار ہیں۔ پاکستان میں سرکاری طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس سے زائد برس میں ہمارے ہاں 50 ہزار مسلمان دہشت گردی کی نذر ہوئے۔ یہ بھی ایک مذہبی جنگ ہے کیونکہ اس میں ایک جانب انتہاپسند اپنی سوچ پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ مساجد، درگاہوں اور بازاروں سمیت ہر جگہ خودکش حملے کرتے ہیں۔شاید یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ تمام مشکل اور پیچیدہ مسائل کی سادہ ترین توجیہات تلاش کرتا ہے۔ سب سے آسان بات یہ ہے کہ ہماری تمام تر مشکلات کی ذمہ دار کوئی بیرونی طاقت ہے۔ اسی لیے آج بہت سے لوگ بہت جلد یہ بات قبول کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں کہ مغرب اور مسلمانوں کے مابین مذہبی جنگ جاری ہے۔ تاہم حقیقت پر غور کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان مسلمان ہی پہنچا رہے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک حقیقت ہے۔

(ترجمہ: فرحان احمد خان)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔