فقیہِ شہر کی عورتانہ مردانگی


farnood01افسوس کہ امرتا پریتم نہیں ہیں۔ ہوتیں تو طویل بیان پر مفتی نعیم صاحب سے صرف اتنا کہہ دیتیں کہ یہ ہرزہ سرائی اس لیئے بھی ممکن ہوئی کہ تم نے ابھی عورت کے ساتھ سونا سیکھا ہے، جب عورت کے ساتھ جاگنا بھی سیکھ لوگے تو فکری پسماندگیوں پہ یوں اترانا بھی چھوڑ دو گے۔ مارکس ہوتے تو سگار کا ایک طنز آور کش لے کر کرسی پہ دراز ہوجاتے۔ اول مسکراتے پھر یک لخت سنجیدہ ہوکر کہتے کہ میاں! تمہارا یہ معاشرہ کتنا اسلامی ہے، اس کا اندازہ تو عورت کی حالت زار کو دیکھ کر لگایا ہی جا سکتا ہے۔ ساحر لدھیانوی بھی تو نہیں رہے جو خداوندانِ تقدیس مشرق کو ناک کے نیچے کا اور آنکھ کے پیچھے کا منظر دکھلاتے۔ کچھ کسر رہ جاتی تو حضرت عبید اللہ سندھی اپنا عصا تھامے جامعہ بنوریہ سائٹ پہنچتے۔ ہاتھ ملائے بغیر گرج لرز کر کہتے کہ بخدا۔! تم نے وہ زہریلی بات کہہ دی ہے کہ اگر دریائے سندھ میں ملا دی جائے تو ایک صدی تک ہم کڑوا پانی پئیں۔ شکر بھیجیئے کہ حضرتِ آزاد کے عہد میں نہیں جی رہے۔ آپ کی گلی سے گزرنا تو قطعا گوارا نہ فرماتے۔ شورش کاشمیری کے ذریعے پیغام بھیجنے پہ غور کرتے۔ پھر خیال آتا کہ شورش کہیں گریبان ہی ادھیڑ کر نہ لے آئے، سو پروفیسر اجمل خان کے ہاتھ کہلوا بھیجتے کہ حضور! عورت پہ آپ کی الہامی انگشت نمائی نے خود مردانگی کا تقدس پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ کوئی نہ سہی، اس لمحے کم از کم اقبال ہی ہوتے۔ حقے پہ منہ رکھ کر فکر میں ڈوب جاتے۔ کش ادھورا چھوڑ کر رنجیدگی سے کہتے

وائے …. ’حرم رسوا ہوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے‘

عورت قضا کے منصب پہ نہیں بیٹھ سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ اس کا فہم کامل نہیں ہے۔ عورت کی گواہی پوری کرنے کیلئے ایک عورت مزید درکار ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ اپنی عقل میں ناقص ہے، سو گواہی بھی ناقص ہے۔ عورت کسی کو مرضی سے اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ فیصلے کی طاقت سے خدا نے اسے دانستہ محروم کر رکھا ہے۔ عورت جدائی کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ اپنی اصل میں وہ مردوں کی باجگزار ہے۔ عورت پہ ہاتھ اٹھایئے، تو وہ شکایت نہیں کرسکتی۔ کیوں؟ کیونکہ مرد کو ہاتھ اٹھانے کا اذن آسمان سے ہوا ہے۔ عورت ریسپشن پہ نہیں بیٹھ سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ فحاشی کا چلتا پھرتا سامان ہے۔ عورت گھر سے نہیں نکل سکتی۔ کیوں۔؟ کیونکہ وہ ایک انمول موتی ہے، اسے سات پردوں میں چھپا رکھنے کا حکم ہے۔ عورت کاروبارِ حیات میں پورے طمطراق کے ساتھ شامل نہیں ہوسکتی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ حیا کا مجسم پیکر ہے۔ کمال ہے۔ ایک طرف عقل پہ سوال ہے دوسری طرف پاو¿ں میں حیا کی زنجیریں۔ ایک طرف گواہی ناقابل اعتبار ہے دوسری طرف گلے میں انمول موتی۔ یعنی دہلیز کے پار اگر اس کا ازروئے شروع بھی کسی کردار کا امکان موجود ہے تو وہاں بھی اس کے نصیب میں ایک حرفِ الزام اور ایک حرفِ دشنام۔ گھر میں قید کر لی گئی تو تاویل میں اس کی حمد وثنا۔ عورت واقعی حیا کا پیکر ہے؟ تقدس کی چادر ہے؟ انمول ہیرا ہے؟ مردوں کی عزت ہے؟ خاندان کی غیرت ہے؟ سچ؟ تو پھر بتلایئے کہ آسمان کی طنابیں تب کیوں نہیں ٹوٹتیں جب ایک خاتوں کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر پڑھایا جاتا ہے؟ عرش کا پایہ تب کیوں نہیں کانپتا کہ جب خود خدواندانِ مذہب اپنی بیٹیوں کا پورے شعور کے ساتھ وراثت میں حق مارتے ہیں۔ سمندروں میں تب کوئی طغیانی کیوں نہیں آتی کہ جب ایک قاتل کی معصوم بیٹی سزا کے طور پہ مقتول کے ورثا کو تھمادی جاتی ہے۔ عذاب کے فرشتے تب قطار اندر قطار کیوں نہیں اترتے جب ایک بچی کا رشتہ پانچ سال کی عمر میں کروادیا جاتا ہے۔ اور تب کوئی افتاد کیوں نہیں ٹوٹ پڑتا کہ جب بچی کی پیدائش پہ نورانی چہرے یک قلم بے نور ہوجاتے ہیں۔ یعنی سالن میں مرچیں پڑجائیں تو آپ گلا دبوچ لیں، آپ زندگی میں زہر بھر دیں تو وہ اف تک نہ کرے۔ کسی کے ہاتھ پاوں باندھ کر اس کو کڑک لہجے میں تڑی لگانا ہی مردانگی ٹھہری؟ مردانگی اور پھر چھ کلموں والی مردانگی یہ ہے کہ ہاتھ پاو¿ں کھلے چھوڑ کر برابر کی سطح پہ بات کرلی جائے۔ وقت نے ابھی عورت کے بندھے ہاتھ کی صرف دوسری گھٹان ہی کھولی ہے کہ شیخ آتشِ زیرپا ہوگئے۔ مناسب تھا کہ کوئلوں پہ لوٹنے کی یہ مشق حرم کے پردے گرا کر کر لی جاتی۔ اب سر عام سینہ پیٹ رہے ہیں تو مردانگی پہ سوال اٹھ رہے ہیں۔ خوف کا یہ عالم اللہ اللہ۔ احتجاج نہیں ہے، ہذیان کا خوبصورت اشتہار ہے۔
غور سے دیکھیئے ایک ہیجانی کیفیت ہے۔ نئی بات سن کر پرانی بات دوہرایئے تو یہی ہوتا ہے۔ فقیہِ شہر تہذیب کے غم میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں،اسی دوران وہ وزیراعلی پنجاب کی دیوار پھلانگ کر بتارہے ہیں کہ ہم کس تہذیب کے رکھوالے ہیں۔ واعظِ شہر فکرمند ہیں کہ یہود ونصاری پاکستان میں فحاشی پھیلانے پہ ہیں، مگر بچیوں کے مدرسوں میں ہونے والی ”شرعی زیادتیوں“ پہ کھجور کھا کر جشن منارہے ہیں۔ پاسبانِ حرم پورے ترنگ میں بتا رہے ہیں کہ عورت کو چھوٹ دینے پر خدا کیسی پکڑ کرتا ہے، مگر اگلی ہی سانس میں وہ شرمین عبید چنائے کو ایک فاحشہ عورت کہہ کر پکارتے ہوئے بھول گئے کہ کسی عورت کو فاحشہ کہنے کیلئے خود جناب کی تعلیمات کے مطابق کیا کچھ لوازمات درکار ہوتے ہیں؟ وہ تو یہ بھی بھول گئے کہ کسی عورت پہ بدکاری کا الزام دھرنے کی سزا کیا ہے؟ یہاں پہ کوئی خدائی پکڑ دھکڑ کیوں نہیں؟ یوں تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جہاں خدا کو یرغمال بنالیا گیا ہو وہاں انصاف کی ایک آنکھ پھوڑ دی جاتی ہے، سوال مگر کچھ اور تھا، اور تھا بھی پورے عزت و احترام کے ساتھ۔ قبلہ گاہی! کسی کو بے دھڑک فاحشہ کہہ دینے کا یہ ہنر یہود ونصاری کے کسی دانشکدے میں سیکھا، یا پھر رات کے کسی پہر مصلے پہ الہام ہوا ہے۔؟ ہائے رے تہذیب…. وائے رے تہذیب….


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “فقیہِ شہر کی عورتانہ مردانگی

  • 26-02-2016 at 1:00 pm
    Permalink

    محترمہ شرمین عبید چنائے، اس ملّا نما مفتی کے خلاف مقدمہ ضرور درج کروائیے، انہوں نے سرعام براہ راست آپ کی اہانت کی ہے۔ اس نبکار کو گھسیٹیے، عدالت میں ہی سہی۔

  • 26-02-2016 at 3:49 pm
    Permalink

    فرنود صاحب لگتا ہے ایک پوسٹ مفتی نعیم صاحب کے حق میں لکھ کر اب تک اسکی سیاہی اپنے اوپر سے اتار رہے ہیں

  • 26-02-2016 at 3:52 pm
    Permalink

    Lamentable! someone ask such Ulema if they could quote any example where our beloved prophet called any woman with such bad names? Could we be able to rescue our religion from the clutches of these male chauvinists masquerading as Muftees.

  • 26-02-2016 at 5:29 pm
    Permalink

    The Punjab Protection of Women against Violence Act 2015
    پنجاب اسمبلی سے عورتوں پر تشدد اور ان کے تحفظ کے حوالے سے ایک بل منظور کیا جس کی مخالفت خود سیاستدان بھی کر رہے ہیں ۔اس بل کے حوالے سے چند باتیں ملحوظ رکھنا ضروری ہیں :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1۔یہ پہلا بل نہیں جسے منظور کیا گیا ہو اس طرح کئی بل ماضی میں منظور کیے گئے ہیں تا ہم عورت اسی طرح سے مظلوم ہے۔اس کے حقوق پامال کیے جارہے ہیں اور پاکستان میں نشر ہونے والے دو درجن سے زائد وہ کرائم شوز ہیں جن سے معلوم ہوتا کہ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کی سرپرستی میں ہی عورتوں کی خرید و فروخت ،جسم فروشی ،جبری زنا ،اغواء کاری وغیرہ کا کام جاری و ساری ہے ۔ بل میں گھر کی چار دیواری سے باہر شاہراہوں ،کمپنیوں ،ہسپتالوں ،عدالتوں وغیرہ میں ہونے والے مظالم کو نظر انداز کی گیا ہے ۔لہذا ایسے ہزار بل بھی منظور کر لئے جائیں تو عورت کو تحفظ نہیں ملے گا کیونکہ ان کے حقو ق کی پامالی میں خود قانونی ادارے ملوث ہیں ۔
    2۔اس بل کے ذریعے سے لوگوں کی نجی اور پرسنل زندگی میں مداخلت کی جائے گی جو کسی طور پر مناسب نہیں ہے۔میاں بیوی یا کسی بھی اعتبار سے گھریلو جھگڑے لوگ اپنے ہی گھروں میں حل کر لیتے ہیں اس طرح سے ان کی پرائیویٹ لائف میں براہ راست مداخلت کی جائے گی جو کسی طور پر بھی درست نہیں ہے ۔
    3۔میاں بیوی کا تعلق محبت اعتماد بھروسہ اور عزت پر مبنی ہے اگر اس طرح سے لوگوں کے گھریلو معاملات میں دخل اندازی کی جائے گی اور جذباتی ،نفسیاتی تشدد اوربد زبانی گالی گلوچ اور باہمی جھگڑوں پر قانونی ادارے مداخلت کریں گے تو نتیجتا اکثر جو گھر لڑائی کے بعد پھر مل جاتے ہیں صلح کر لیتے ہیں اس کی تمام راہیں مسدود ہو جائیں گی اور مرد ایسی عورت کو طلاق دینے میں ہی عافیت سمجھے گا ۔بجائے اس کے کہ ایک بریسلیٹ پہن کر رکھے ۔
    4۔اس بل کے ذریعے سے مالی مفادات سمیٹنا مقصود ہے کیونکہ جس انداز سے نئے ادارے قائم ہوں گے اور افراد کو بھرتی کیا جائے گا باہر سے چندے وصول کیے جائین گے اس کے سوا اس کا عملی کوئی فائدہ نہ ہو گا ۔عورت اسی طرح مظلوم رہے گی ۔
    5۔حکومت اور آفسیرز کو استثناء حاصل ہے یعنی اگر وہ اس معاملہ میں کسی بھی قسم کی زیادتی کریں گے تو ان کے خلاف مقدمہ بھی درج نہیں ہو گا ۔جو یقینی طور پر قوم کے ساتھ ایک مذاق ہے ۔
    قرآن مجید نے سورۃ النساء کی آیت 34 کی روشنی میں مرد کو عورت کو مخصوص حالات میں مخصوص شرائط کے ساتھ مارنے کی اجازت دی ہے جیسےاگر عورت سرکش ہو جائے تو اس کو گالیاں نہیں دی جائیں گی ۔چہرے پر نہیں مارا جائے گا ۔اس طرح نہیں مارا جائے گا کہ اس کے جسم پر نشانات پڑ جائیں ۔البتہ ہلکی مار ماری جا سکتی ہے جیسے مسواک سے مارنا ۔اسی آیت میں حکم ہے کہ اس کو نصیحت کرے اور تب بھی نہ مانے تو بستر الگ کر لے اور پھر اس کے بعد مارنے کی مشروط اجازت ہے ۔لہذا یہ بل قرآن مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے ۔
    کیا ہونا چاہیئے ؟
    1۔قرآن مجید نے میاں بیوی کے اختلافات کا حل بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔اللہ نے فرمایا : صلح میں خیر ہے ۔میاں بیوی کے تعلقات میں جب خارج سے کوئی اور مداخلت کرے تو معاملہ بننے کے بجائے بگڑ جا تا ہے ۔قرآن کا حکم یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق و فرائض پورے کریں ۔اگر عورت سرکشی کرے اور کسی بھی طرح سے اطاعت نہ کرے اور معاملہ سنگین حالت اختیار کر لے تو ایک فیصلہ کرنے والا لڑکی کی طرف اے اور ایک فیصلہ کرنے والا مرد کی طرف سے مقرر کیا جائے اور اس معاملہ کو گھر میں ہی حل کر لیا جائے اگر تب بھی بات نہ بن پائے تو طلاق یا خلع کی صورت میں تعلق ختم ہو جائے جسے قرآن نے کہا کہ اچھے طریقے سے روکے رکھو یا بہتر طریقے سے چھوڑ دو ۔ حکومت اس کا نفاذ کرے ۔
    2۔ایسے بل پاس کرنے کے بجائے عورتوں اور مردوں کی تربیت ان کے حقوق و فرائض کے حوالے سے تربیت کا اہمتام کیاجائے ۔تا کہ ایک صحت مند خاندان وجود میں آئے ۔
    3۔اگر کسی بھی عورت پرگھر کے اندر یا گھر کے باہر کسی بھی اعتبار سے تشدد ہو تو قانون کا نفاذ کرتے ہوئے عدل کا نافذ کریں ۔ایسا قانون جس پر عمل نہ ہو بیکار ہے ۔کیا پاکستان میں کسی عورت کا ریپ کرنے والوں کو سزا ملی ہے ؟
    حال ہی میں پنجاب میں اس کی کئی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں ۔

    • 03-03-2016 at 4:04 pm
      Permalink

      Dear commentater you should be blogging yourself… Very appropriate response. thank you.

  • 26-02-2016 at 8:34 pm
    Permalink

    لا جواب ! بہت خوب !

  • 26-02-2016 at 11:15 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور بر محل تحریر

  • 27-02-2016 at 11:25 am
    Permalink

    بکواس تحریر۔۔ اللہ پاک ہدایت دے آپکو۔۔

  • 27-02-2016 at 5:38 pm
    Permalink

    “جہاں خدا کو یرغمال بنالیا گیا ہو وہاں انصاف کی ایک آنکھ پھوڑ دی جاتی ہے”

  • 27-02-2016 at 8:01 pm
    Permalink

    اب مجھے احساس ہوا کہ وہ چند علما جو مولویوں کے TV پر آنے کے خلاف ہیں وہ کتنا صحیح بولتے ہیں… مفتی نعیم صاحب جیسے مولوی جتنا نقصان اپنی ہی برادری کو پہنچاتے ہیں وہ کسی اور کو نہیں.

  • 29-02-2016 at 3:23 am
    Permalink

    عورت قضا کے منصب پہ نہیں بیٹھ سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ اس کا فہم کامل نہیں ہے۔ عورت کی گواہی پوری کرنے کیلئے ایک عورت مزید درکار ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ اپنی عقل میں ناقص ہے، سو گواہی بھی ناقص ہے۔ عورت کسی کو مرضی سے اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ فیصلے کی طاقت سے خدا نے اسے دانستہ محروم کر رکھا ہے۔ عورت جدائی کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ اپنی اصل میں وہ مردوں کی باجگزار ہے۔ عورت پہ ہاتھ اٹھایئے، تو وہ شکایت نہیں کرسکتی۔ کیوں؟ کیونکہ مرد کو ہاتھ اٹھانے کا اذن آسمان سے ہوا ہے۔ عورت ریسپشن پہ نہیں بیٹھ سکتی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ فحاشی کا چلتا پھرتا سامان ہے۔ عورت گھر سے نہیں نکل سکتی۔ کیوں۔؟

    اور تو اور فرنود عالم صاحب یہ بھی تو لکھیے کہ اتنا بڑا ظلم اتنی بڑی صنفی تقسیم کہ عورت کو نبی نہیں بنایا گیا …… ؟

    باقی تمام باتیں تو آپ مولوی کے کھاتے میں ڈال دینگے اور اس سے بری ہوجائینگے لیکن جب آپ سے ایک ملحد یہ سوال کرے گا کہ آپ کا تو مذھب ہی صنفی تقسیم کا قائل ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار مردوں کو نبی ، چار مردوں کو خلیفہ اور بارہ مردوں کو امام بناتا ہے تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا …

    • 26-03-2016 at 3:19 pm
      Permalink

      ملحدین تو اشتمال نسواں کے قائل ہیں اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ مشترکہ بیوی کا تصور انہی ملحدین نے ہی پیش کیا ہے
      آپ کی معلومات کم ہیں عورت فیصلہ کر سکتی ہے ہمارے ہاں اس کی کئی مثالیں ہیں ایک بڑی مثال ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہے
      کئی معاملات میں صرف عورت کی کی گواہی قبول ہے مرد کی گواہی قبول ہی نہیں ۔۔۔باقی سوالات جو آپ نے اٹھائیں وہ بھی اسی نوعیت کے ہیں صرف معلومات کی کمی ہے اور کچھ نہیں
      اسلام عورت کو سرمایہ دار طبقے اور اشتراکیت کا غلام بنا کا مزدور نہیں بناتا ۔۔۔۔ملحدین عورت کو ریسیپشن پر صرف جنسی ہوس کے لئے بٹھانا چاہتے ہیں
      صنفی تقسیم کا اگر کوئی قائل نہیں تو فطرت کا منکر ہے اسے اپنا دماغی علاج بھی کروانا چاہیئے ۔
      یاد رکھیں یہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام عورت کے ہی پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان تمام انبیاء نے اسی عورت کا احترام کیا اور اس کے قدموں تلے جنت قرار دی ۔امام الانبیاء ﷺ اپنی صاحبزادی کے لئے ادب سے کھرے ہو جاتے تھے ۔یہ ہے عورت کا مقام جو اسلام نے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کو ملحدین نے میڈیا میں اپنا سامان بیچنے کا ذریعہ بنا دیا ہے کبھی فلیش صاف کر رہی ہے کبھی ناچ ناچ کر دودھ بیچ رہی ہے اور کبھی ننگی ہو کر کپڑے فروخت کر رہی ہے ۔
      ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ رومیوں ،یونانیوں مغربی فلسفیوں نے اس عورت کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے ؟

  • 02-03-2016 at 1:43 am
    Permalink

    مجھے دکھ ہے جناب مفتی صاحب نے جو کہا وہ بہت سخت ہے کاش وہ ایسا نہ کہتے بہر حال اس کے ریکشن میں جو فرنود صاحب نے طنز اور طعنے دیے وہ بھی نا مناسب ہیں۔ (مجھے تو بہرحال ایسا ہی لگتا ہے)

  • 02-05-2016 at 9:24 am
    Permalink

    ’’قبلہ گاہی! کسی کو بے دھڑک فاحشہ کہہ دینے کا یہ ہنر یہود ونصاری کے کسی دانشکدے میں سیکھا، یا پھر رات کے کسی پہر مصلے پہ الہام ہوا ہے؟‘‘ حیرت ہے، یہ سوال آپ نے مفتی صاحب کے بنیادی تصور کے بارے میں نہیں کیا ۔۔ عورت کے ناقص العقل ہونے کے بارے میں ۔۔ کہ یہ تصور یہودونصاریٰ کے کسی دانشکدے سے آیا، یا براہ راست الہام ہوا، یا پھر اسلامی تعلیمات کے مستند اور متفق علیہ مجموعے میں انمول موتی کی طرح جگمگا رہا ہے؟ مفتی صاحب پر اتنا گرجنے برسنے کی کیا ضرورت ہے بھائی، وہ کیا یہ بات اپنی طرف سے گھڑ کر کہہ رہے ہیں؟

Comments are closed.