استاد جھنڈے خاں: ایک بے مثل نغمہ کار


 ہم فنون لطیفہ سے رغبت کادعویٰ کرنے کے باوجود فن کاروں کے قدر شناس نہیں ہیں۔ فن کاروں کی عزت و تکریم کی روایت کمزور ہو جانے سے تخلیق و اختراع کے سرچشمے بھی سوکھتے چلے گئے بالخصوص موسیقی جیسے فن کے ساتھ فن کاربھی پستی میں گرتے چلے گئے۔ فن موسیقی کے زوال کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اہل علم نے موسیقی اور موسیقاروں کی طرف خاص توجہ نہیں دی۔ اسی تناظر میں برصغیر کے نامور موسیقار استاد جھنڈے خاں کو یاد کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔

انگریزی عہد میں عوام کے ذوق موسیقی کی تسکین کے لئے تھیٹر میں زیادہ سے زیادہ موسیقی شامل کی جانے لگی۔ پارسی تھیٹرِیکل کمپنیوں میں جو گانے پیش کئے گئے ان کی بنیاد ہماری کلاسیکی موسیقی یعنی راگ راگنیوں پر ہی ہوتی تھی اس سے ہماری موسیقی میں نئے انداز کے گانے کااضافہ ہوا۔ تھیٹر کی موسیقی میں راگ راگنیوں اور تالوں کے ساتھ نئے نئے اور کامیاب تجربے کےے جانے لگے۔

ممتاز دانشور موسیقار شاہد احمد دہلوی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ”تھیٹرِیکل کمپنیوں میں تلاش کرکے اچھے ایکٹروں کے ساتھ ساتھ اچھے موسیقار اور موسیقی ساز رکھے گئے۔ ان سے ڈرامے کے مختلف مواقع دے کہ دھنیں بنوائی گئیں۔ منشیوں یا شاعروں سے ان دھنوں پر بول کہلوائے گئے۔ کبھی دھن پہلے بنائی گئی اور کبھی بول پہلے کہلوائے گئے اور دونوں کا امتزاج اس طرح کیا گیا کہ تاثر دو آتشہ ہو جائے۔ بیتاب اور احسن ہی کے زمانے میں آغا حشر نے اپنی جنبش قلم سے جادو کرنے شروع کر دئےے تھے۔ آغا حشر نظم ونثر دونوں پر پوری قدرت رکھتے تھے۔ اُنہوں نے جہاں دوسرے موسیقاروں سے اپنے ڈراموں کے گانوں کی دھنیں اپنی نگرانی میں بنوائیں وہاں ایک بے مثل نغمہ کار و نغمہ ساز اُستاد جھنڈے خاں کو بھی اُنہوں نے ہی تلاش کیا۔ اُستاد جھنڈے خاں تھیٹرکی موسیقی میں غیر فانی یاد گاریں چھوڑ گئے۔ اس عظیم فن کار کا انتقال 10 اکتوبر1951ء کو ہوا۔“

عظیم موسیقار استاد جھنڈے خاں کا اصل نام میاں غلام مصطفی تھا۔ ان کا تعلق جموں کے ایک گاﺅں کوٹلی اوکھلاں سے تھا۔ اُنہوں نے برال قوم کے ایک نو مسلم زمیندار میاں عبدالصمد کے گھر 1866ء میں جنم لیا۔ بارہ سال کی عمر تک روایت کے مطابق گھر پر ہی مذہبی تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ صوم و صلوٰة کے پابند اور ولیوں، درویشوں سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ منکسر المزاج ، سیدھے سادھے انسان اور فقر کی دولت سے مالا مال تھے ۔ اپنے اسی مزاج کی بدولت درگاہوں اور مزاروں سے لگاﺅ تھا اوروہاں انہیں قوالیاں سننے کا خوب موقع ملا ۔ یہی شوق ذوق میں بدل گیا او ر وہ موسیقی سیکھنے کے شوق میں ہندوستان میں گھومنے لگے۔ جموں سے لاہور پہنچے وہاں ایک پارسی تھیٹرِیکل کمپنی آئی ہوئی تھی اس کا تماشہ دیکھ کر تھیٹر سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ سید میر قدرت علی حیدر آبادی اس کمپنی کے موسیقی نواز تھے۔ ان سے ربط پیدا کرکے جھنڈے خاں ان کے شاگرد ہو گئے اور ہارمونیم بجانا سیکھ کر انفرڈ کمپنی میں باجہ ماسٹر ہو گئے۔ خوب مہارت حاصل کی اور پھر بمبئی کو اپنا ٹھکانہ بنایا جہاں اُنہوں نے موسیقی کے بھنڈی بازار گھرانے کے موسیقاروں چھجو خاں، استاد نظیر خاں مراد آبادی اور خادم حسین خاں سے اکتساب کیا۔ موسیقی کے علم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ مختلف تھیٹرِ یکل کمپنیوں کے ساتھ وابستہ رہے اور اس فن کو کچھ اس طرح سمجھا کہ خود اس میں نئی نئی باتیں پیدا کرنے لگے۔ انکی اختراع ، بندشیں اور دھنیں عوام میں بڑی مقبول ہوئیں۔ اُنہوں نے اپنے گانوں کے لئے معروف راگ راگنیاں منتخب کیں۔ اس وقت کی روایت کے مطابق اندر سبھا یا دوسرے ڈراموں کی طرح پیچیدہ اور مشکل راگ پسند نہیں کئے۔ اور تالوں میں بھی عام فہم تالیں چن لیں۔ تھیٹر کی موسیقی میں استاد جھنڈے خاں غیر معمولی قابلیت سے خوب نام کمایا۔ بد قسمتی سے تھیٹر کی موسیقی اسٹیج کے ساتھ ہی ختم ہو گئی اور اسکی صدا بندی نہ ہو سکی۔ اور پھر بولتی فلموں کا دور شروع ہوا تو فلموں نے ہمارے اسٹیج کو زندہ نہیں رہنے دیا اور فن کا بیش بہا حصہ ناقدری کی نذر ہو کر رہ گیا۔

استاد جھنڈے خاں نے اسٹیج اور تھیٹر کے ختم ہونے کے بعد فلموں کی موسیقی کی طرف توجہ دی اور 1931ء میں دیوی دیویانی، 1932ء میں رادھا رانی،  1934 میں ویر ببرووھان، 1936ء میں پربھوکا پیار، 1943ءمیں شہنشاہ اکبر جیسی تیس سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ اپنی زندگی اہم موڑ پر 1941ء میں استاد جھنڈے خاں نے بے مثل فنی کرشمہ بھی کر دکھایا اور ہدایتکار کیدار شرما کی فلم”چترلیکھا“ جو باکھ وتی چرم ورما کے اسی نام سے لکھے ناول پر مبنی تھی۔ اس فلم کی تمام دھنیں ایک ہی راگ بھیرویں میں ترتیب دیں۔ بھیرویں جسے بذاتِ خود ایک ٹھاٹھ تسلیم کیا جاتا ہے۔بھیرویں راگنی کے نام سے موسوم ہے بھیرویں سمپورن یعنی سات سروں کی راگنی ہے۔ اس راگنی میں تمام تر سُر کومل یعنی اُترے ہوئے لگتے ہیں۔ فلم میں سُر ایک ہی تھے لیکن استاد نے اسکے زیر و بم میں ایسا تنوع رکھا کہ محسوس ہی نہ ہوتا تھا کہ سننے والا ایک ہی راگ سن رہا ہے۔استاد جھنڈے خاں نے اپنے فنی کمالات سے فلمی موسیقی کو بامِ عروج پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کرکے خوب عزت و شہرت کمائی۔ برصغیر کی فلمی موسیقی میں انکے فنی اجتہادات رہبری کی حیثیت رکھتے ہیں۔Duke Ellingtonکی یہ بات استاد جھنڈے خاں کی فنی مہارتوں کو دیکھ کر خوب یاد آتی ہے کہ :

The wise musicians are those who play what they can master.

قیام پاکستان کے بعد استاد جھنڈے خاں ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہوئے۔ وہیں آخری سال گذارے اور گوجرانوالہ میں ہی 11 اکتوبر 1952ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ شاہد دہلوی نے ان کی تاریخ وفات10اکتوبر1951ءلکھی ہے جو کہ درست نہیں۔ ”قند“ کے ڈرامہ نمبر1961میں ایوب اولیا نے استاد جھنڈے خاں پر اپنے مضمون میں تاریخِ وفات 11اکتوبر1952ءرقم کی ہے جوکہ درست ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیخ عبدالرشید کی دیگر تحریریں
شیخ عبدالرشید کی دیگر تحریریں