میاں صاحب ساڈی واری آن دیو۔


wisi 2 babaنوازشریف نے مظفر آباد کالج کو دو بسیں فراہم کرنے کے مطالبے کو چھوٹی بات کہہ کر حاضرین سے کوئ بڑا مطالبہ پیش کرنے کو کہا۔ حاضرین کو چاہئے تھا انہیں کشمیر آزاد کرانے کا کہنے سے شرما رہے تھے تو مظفر آباد سرینگر تک موٹروے مانگ لیتے۔

یہ تو بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں ہمارے پنڈ کی سنیں۔ہمارے پنڈ ایک بار ایم حمزہ  صاحب تشریف لائے ان کا تعلق بھی نوازشریف کی پارٹی سے ہی ہے۔ پاکستان کے نیک نام ترین ممبر اسمبلی مانے جاتے ہیں۔ تھانہ کچہری کی سیاست نہیں کرتے کوئ بھولا بھٹکا اپنا کوئ کام کروانے پہنچ جائے تو اسے تسلی دیتے ہیں کہ اگر تو جائز کام ہے تو خود ہی ہو جائے گا اگر ناجائز ہے تو میں نے نہیں کرنا۔

اب شکر ہے پارٹی نے رٹائر کر کے سینیٹ میں بھیج رکھا ہے لوگوں کی ان سے اور انکی اپنے ووٹروں سے جان چھوٹ گئ ہے کافی حد تک۔ ایک بار یہ ہمارے پنڈ آئے تو پنڈ والوں کو ہدائت وغیرہ دی کہ انکا کام نالیاں بنوانا گلیاں ٹھیک کرانا نہیں ہے، وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے بھیجے گئے ہیں کوئ کام بہت ہی ضروری ہے تو وہ اجتماعی ہونا چاہئے اور بڑا کام ہونا چاہئے۔

کالے ناگ کا ڈسا بچ جائے تو بچ جائے ہمارے پنڈ والوں کی جگتوں کا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ ایک بزرگ نے کھڑے ہو کر ایم این اے صاحب سے کہا کہ اگر تم نے کوئ کام نہیں کرنا تو یہاں سے پھر ووٹ کی بجائے امب ہی ملینگے۔ دوسرا بندہ اٹھا کہ وڈا کم اب آپ کرانے پر تل ہی گئے ہیں تو یہاں پھر پنڈ میں ائیر پورٹ بنا دیں۔ ایک سڑیل ترین بزرگ اٹھے اور بولے کہ حمزہ صاحب بجلی تو ادھر آئ نہیں نہ لگتا ہے کہ آپ کے ہوتے آئے گی تو بڑے نیک بندے ہیں آپ ہاتھ چک کر یہاں آسمانی بجلی گرانے کی دعا کریں۔

اس سے آگے آپ لوگ کیا سننا چاہتے ہیں چھوڑیں یہ ہمارے پنڈ والوں کا اور حمزہ صاحب کا آپسی معاملہ ہے۔

پشاور باڑہ مارکیٹ میں پہلی بار مندی ہوئی  تو وہاں کے تاجر منہ اٹھا کر اسلام اباد پہنچنے لگ گئے۔ مشن بس اتنا ہوتا تھا کہ یہاں نفع کمانے کا کوئ طریقہ دیکھیں نہیں تو کوئی پلاٹ پرمٹ وغیرہ مار کر پیسے ڈبل کئے جائیں۔ بطور ایک نکا مشیر اپنے کئ درجن دوستوں کی وجہ سے بار بار اسلام اباد آنا پڑا۔  ہم جب بھی کسی بلاوے پر اسلام اباد آتے تو اسلام ابادی ایجنٹوں کی رنگ برنگی باتیں سنا کرتے ، انہی باتوں میں پیسوں کو کئ گنا بڑھتے سنتے پھر آپس میں صلاح مشورہ کرتے کہ نوٹوں کی اتنی بوریاں لے جانے کے لئے ٹرک تو کرانا ہی پڑے گا۔

ایک بار ہمیں ایک بہت ہی پہنچی ہوئ ہستی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹے موٹے کام تو وہ کرتے نہیں ہیں تو انہیں کوئ بڑا کام بتایا جائے جو کم از کم صدر صاحب کے لیول کا ہو ۔ صدر فاروق لغاری تھے اسمبلی توڑنے کےاختیارات ہوا کرتے تھے تب صدر کے پاس۔

ہمارا خیال یہ تھا کہ ہمارے ملک صاحب صدر صاحب کے ساتھ تعلقات کا دعوی کرنے والے وچولے کو دیکھ کر نہال ہو جائیں گے کہ فاٹا پر حکم صدر صاحب کا ہی چلتا۔ کسی قبائلی ملک کا گورنر صدر سے تعلق تو چھوڑیں پولیٹیکل ایجنٹ سے ہی سلام دعا ہو تو وہ ببر شیر ہوتا ہے۔

ملک حضرات کی انسانوں کو پہچاننے کی حس الگ ہی ہے بندوں کی کمال پرکھ ہوتی ان ان ملک صاحبان کی ۔ ملک صاحب نے وچولے کے دعوے سنے تو  ایک پیار بھری نظر وچولے پر ڈالی اس کے ساتھ آئے دو چار دوستوں کو محبت سے دیکھا ہوٹل میں موجود لوگوں کا ایک جائزہ لیا کہ کتنے ہیں اس کے بعد ایک نعرہ نما لمبی سی پوچھل والی گالی باآواز بلند برامد ہوئ ان کے منہ سے ساتھ ہی انہوں نے وچولے کو پکڑ لیا کہ لغاری تہ اووایا چہ اسمبلی مات کی۔ لغاری کو بولو کہ اسمبلی توڑ دے ۔ اتنا تو پیارا صدر صاحب کا بس پھر منتیں تھیں وچولے کی اور ملک صاحب معاف کرنے کو تیار نہ تھے۔

تو میاں صاحب عرض اتنی ہے کہ دو بسیں دے ہی دیں مظفر آباد کالج والوں کو موٹر وے وغیرہ بنائیں اکنامک کاریڈور کو تیزی سے مکمل کریں بجلی لائیں اور اگر ہم سے کوئ بڑا مطالبہ ہی پوچھنا ہے تو پھر وہ یہی ہے کہ میاں صاحب جان دیو ساڈی واری آن دیو۔


Comments

FB Login Required - comments