ایک جرم جس نے پورے انڈیا کو اپنی گرفت میں لے لیا


کواس مانِکشا نناوتی اور ان کی اہلیہ سلویا 1949 میں اپنی شادی کے بعد

27 اپریل 1959 کی گرم دوپہر کو بمبئی (اب ممبئی) کے امیر علاقے میں انڈین نیوی کا ایک سینئیر افسر اپنی انگریز بیوی کے عاشق کے کمرے میں داخل ہوا اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

کمانڈر کواس مانِکشا نناوتی نے پریم اہوجا نامی تاجر کو گولی مارنے کے بعد پولیس سٹیشن جا کر اعتراف جرم کر لیا۔

لیکن اس پورے واقعہ نے بمبئی کی عوام کے ذہنوں پر ایسا قبضہ کر لیا کہ اگلے کچھ عرصے تک شہر میں صرف اسی جرم کے حوالے سے باتیں ہوتی رہیں۔

جب کمانڈر کواس مانِکشا نناوتی پورے رعب اور دبدبے سے اپنے نیوی کے یونیفارم میں ملبوس عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے لیے آتے تھے تو خواتین لپ سٹک لگے کرنسی نوٹ ان پر نچھاور کرتی تھیں۔

عدالت میں مانِکشا نناوتی کے جذباتی حامی ان کے خلاف گواہی دینے والوں پر چیخ و پکار کرتے اور ان پر ‘بیٹھ جاؤ’ اور ‘خاموش ہو جاؤ’ کے نعرے لگاتے۔ مقدمے کی سماعت کی وجہ سے لوگوں میں اتنا جوش و خروش تھا کہ سڑکیں عوام سے بھر جاتی تھیں اور کئی مواقع پر پولیس کو بلانا پڑ جاتا تھا۔

اخباروں میں بھی اس مقدمے نے شہ سرخیوں میں جگہ بنائی

عدالت میں استغاثہ نے پریم اہوجا کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت ان پر گولی چلائی گئی وہ غسل کر کے باہر آئے تھے اور ان کے جسم پر تولیہ بندھا ہوا تھا۔ دوسری جانب وکیل صفائی کی جانب سے کہا گیا کہ دونوں مردوں میں ہاتھا پائی ہوئی اور اس دوران پستول سے گولی چلنا حادثاتی تھا۔

اس دلیل کے جواب میں استغاثہ نے سوال اٹھایا کہ اگر ہاتھا پائی ہوئی تھی تو جس وقت پریم اہوجا کی لاش ملی تو اس وقت بھی تولیہ کیسے بندھا ہوا تھا۔

عدالت کے باہر ٹھیلے پر سامان بیچنے والوں نے کھلونے والی پستول اور تولیے بیچنے کا کاروبار شروع کر دیا تھا۔ وہ سامان بیچتے ہوئے آوازیں لگاتے ‘نناواتی کی پستول، اہوجا کا تولیہ، مر بھی جائیں گے تو یہ نہیں گرے گا!’

اس مقدمے کی مقبولیت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ انڈیا کے امیر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی ایسی کہانی تھی جس میں عشق، عزت اور جرم سب ہی عوامل شامل تھے۔ اور سب سے اہم بات تھی کہ اس مقدمے کا فیصلہ نیوی افسر کے حق میں دیا گیا۔ اور یہ آخری موقع تھا کہ کسی انڈین عدالت میں مقدمے کا فیصلہ جیوری نے کیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  قصہ ہیر رانجھا۔۔ بعد از نکاح

مانِکشا نناوتی کے وکلا نے عدالت میں دلائل کے دوران اپنے موکل کو ایک ہیرو اور مظلوم کی حیثیت سے پیش کیا اور دوسری جانب پریم اہوجا کو ظالم کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔

بمبئی میں پارسی برادری کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا

انھوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ مانِکشا نناوتی نیوی میں ایک معتبر اور سینیئر افسر ہیں جو کہ اپنے ملک کی خدمت کرنے کی خاطر مہینوں سمندر میں رہتے ہیں جس کے باعث ان کی انگریز بیوی گھر پر ‘اکیلی اور غیر محفوظ’ ہوتی تھیں۔

پریم اہوجا کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ ایک امیر تاجر تھے جس کے نہ اخلاق اچھا تھا اور نہ ہی وہ ملک سے وفادار تھا۔ انھوں نے اپنی دلیل میں کہا کہ ایک نیوی افسر کی بیوی کے ساتھ معاشقہ کرنا نہ صرف غیر اخلاقی تھا بلکہ وہ غداری کے زمرے میں بھی آتا تھا۔

مانِکشا نناوتی کے وکلا کے لیے ایک اور فائدہ یہ تھا کہ ان کے موکل پارسی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ بمبئی میں پارسیوں کا بہت اثر و رسوخ تھا۔ وہ شہر کے امیر کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے بہت سے شہریوں کو نوکریاں دلائی تھیں اور شہر کے یتیم خانوں اور دوسری سماجی خدمات بھی سر انجام دیتے تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر بمبئی میں پارسیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

دوسری جانب مانِکشا نناوتی کے مخالف اور رقیب، پریم اہوجا کا تعلق سندھی برادری سے تھا جو کہ تقسیم ہند کے بعد سے بمبئی میں رہائش پذیر تھے اور میڈیا کی نظر میں اس برادری کی ساری توجہ کسی بھی طرح پیسے بنانے پر تھی۔

مانِکشا نناوتی کی وکلا نے دلائل میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ پریم اہوجا کے گھر سے شراب کی بوتلیں بھی ملیں تھیں حالانکہ اس دور میں بمبئی میں شراب نوشی پر پابندی عائد تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے پریم اہوجا کے کردار پر بھی انگلی اٹھائی اور ثبوت میں کہا کہ ان کے گھر سے مختلف خواتین کو لکھے گئے خطوط بھی برآمد ہوئے ہیں۔

ان تمام حقائق اور دلائل کی روشنی میں یہ مقدمہ کردار، اخلاقیات اور پھر اس میں حب الوطنی بھی شامل ہوگئی۔

اس مقدمے کے بارے میں بالی ووڈ میں کئی فلمیں بھی بنیں، کتابیں لکھی گئیں اور حتٰی کے ایک پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی اس پر لکھا گیا۔

اسی بارے میں: ۔  ریت پر گرفت، عہدِ نو اور قائداعظم یونیورسٹی کا نوحہ

جب مقدمے کا فیصلہ آیا تو نو ممبران پر مبنی جیوری نے بغیر کسی وضاحت کے مانِکشا نناوتی کو بے قصور قرار دیا جبکہ عدالت کے جج نے اس فیصلہ کو ‘متحرف’ قرار دیا اور کہا کہ جمع کرائے گئے تمام شواہد کی روشنی میں مانِکشا نناوتی کو مجرم قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

اس مقدمے کی روشنی میں سپریم کورٹ نے آئینی قوانین اور گورنر کی طاقت پر نظرثانی کی جن کی مدد سے اس وقت بمبئی کے گورنر نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کر دیا تھا لیکن اس کے بعد سپریم کورٹ نے دوبارہ وہی فیصلہ سنایا۔

اخباروں میں اداریے لکھے گئے جن میں اس فیصلے کی شدید مذمت کی گئی تھی اور یہ بھی رپورٹ کیا گیا کہ ملک کی پارلیمان میں بھی اس مقدمے کے بارے میں گفتگو ہوئی جس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کس طرح عدالتی کارروائی کو رد کر کے ایسے شخص کے حق میں فیصلہ دیا گیا جس کے ’بااثر دوست‘ ہوں۔

لیکن سب سے اہم تبدیلی جو اس مقدمے کے فیصلے کے بعد آئی وہ تھا جیوری کا خاتمہ۔ چار مہینے کی تنقید کے بعد حکومت نے مقدماعت کا فیصلہ جیوری کے ذریعے کرنے کا قانون ختم کر دیا۔

مانِکشا نناوتی 1960 میں جیل بھیج دیا گیا جہاں تین سال قید گزارنے کے بعد انھیں خراب طبیعت کی وجہ سے لوناوالا کے پہاڑی علاقے میں واقع ایک مکان میں زندگی بسر کرنے کی اجازت ملی۔

اسی مکان میں انھیں مارچ 1964 میں اپنی معافی کی خبر ملی۔ ریاست کے اس وقت کی نئے گورنر وجے لکشمی پنڈت نے ’کیس کے حالات و واقعات‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی معافی کی درخواست منظور کر لی تھی۔

چار سال کے بعد مانِکشا نناوتی اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئے جہاں 2003 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی بیوی سلویا ابھی حیات ہیں۔

اس واقعے کے بعد ہر عشرے میں کہیں نہ کہیں عشق یا لالچ کی وجہ سے جرائم ہوئے لیکن جتنا چرچا اس مقدمے کا ہوا شاید ہی کسی اور کا ہو۔

(باچی کارکریا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 878 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp