سیہون شریف میں  16 فروری دہشت گردی کے بعد لعل شہباز قلندر کا پہلا عرس


پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے 765 ویں عرس کی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ اس مزار پر رواں برس 16 فروری کو ہونے والے دھماکے کے بعد عرس کی پہلی تقریبات ہیں۔ عرس میں شرکت کے لیے زائرین کی آمد کا سلسلہ کئی دن پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔ زائرین میں مرد، عورت، بوڑھے، بچے سبھی شامل ہیں جنھوں نے دھمال ڈالتے ہوئے مزار کا رخ کیا۔

عرس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے مزار میں داخلے کے لیے لوگوں کی طویل قطاریں دکھائی دیں۔ اس عرس میں شرکت کے لیے پاکستان کے طول و عرض سے لوگوں نے سیہون کا رخ کیا ہے اور انھیں ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی گئیں۔

مزار میں داخلے سے قبل زائرین کو کڑی چیکنگ سے گزرنا پڑا۔ سکیورٹی انتظامات کے لیے واک تھرو گیٹس بھی لگائے گئے ہیں۔

لعل شہباز کے عرس پر سیہون میں تین بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں اس مزار کے دہشت گردی کا نشانہ بننے کے باوجود زائرین کی بہت بڑی تعداد عرس میں شرکت کے لیے سیہون پہنچی ہے۔

لعل شہباز کے مزار پر ہر شام ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈالی جاتی ہے جو مولانا رومی کے درویشوں کی یاد دلاتی ہے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39925226http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39925226

اس دھمال میں مرد و زن بلا تخصیص حصہ لیتے ہیں۔

(تصاویر: فرقان الٰہی، بی بی سی اردو، سیہون)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 478 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp