ہماری عظمت کو سلام ہے


وہ: اسلام قیامت تک قائم رہے گا۔ ہماری امت کی محافظ اللہ کی ذات ہے۔
ہم: تو پھر ہم بات بات پر اسلام کو خطرے میں کیوں محسوس کرتے ہیں۔ کیا ہمیں اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں ہے؟

وہ: ہماری ایجنسیاں دنیا کی نمبر ون ایجنسیاں ہیں۔
ہم: یہ خفیہ ایجنسیوں کی رینکنگ کون کرتا ہے؟ کیا دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں اپنے اپنے خفیہ ترین کارناموں کی سالانہ لسٹ دیتی ہیں جس کو دیکھ کر کوئی بین الاقوامی ایجنسی یہ رینکنگ کرتی ہے؟

وہ: پاکستان اس وقت جن مشکلات کا شکار ہے، اس کا سبب ہندوستان اور اسرائیل کی سازشیں ہیں۔
ہم: لیکن ہماری انٹیلی جنس تو دنیا کی نمبر ون ہے، پھر ایسی سازشیں کیوں ہمیں مشکلات میں ڈالتی ہیں؟ اس مشکل میں تو انڈیا اور اسرائیل کو ہونا چاہیے، لیکن وہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔

وہ: ہم دنیا کی عظیم ترین قوم ہیں۔ ہماری ہیبت سے ہندوستان اور اسرائیل لرزتے ہیں۔
ہم: تو پھر وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہوئے ڈرتے کیوں نہیں ہیں؟

وہ: ہمیں ترقی کرتا دیکھ کر انڈیا ہم سے پنگے لے رہا ہے تاکہ ہم جنگ میں مبتلا ہو کر ترقی نہ کر سکیں۔
ہم: لیکن ہم تو خود ہی جنگ شروع کر کے انڈیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اکثر اپنی افواج اور حکومت کو یہ مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ انڈیا پر چڑھ دوڑیں اور اسے سبق سکھا دیں۔ اور ویسے بھی یہ جنگ انڈیا نے کی تو ہمارے علاوہ اس کی ترقی کو بھی جنگ سے نقصان پہنچے گا۔

وہ: ہم انڈیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ ہم ایٹمی طاقت ہیں۔ ہمارے پاس اتنے ایٹم بم ہیں کہ ہم انڈیا کو پانچ مرتبہ تباہ کر سکتے ہیں۔
ہم: لیکن مون سون وغیرہ خلیج بنگال سے ہو کر آتے ہیں۔ اگر انڈیا اس دوران سوتا رہا اور اس نے ہم پر جوابی ایٹمی حملہ نہ بھی کیا، تو ہمارے اپنے ایٹم بموں کے بخارات ہمیں ہی مار دیں گے۔ اگلے پچاس سال تک سالانہ مون سون بارش کے ساتھ ساتھ ایٹمی تابکاری بھی آئے گی۔

وہ: ہم لال قلعے پر جھنڈا لہرائیں گے۔
ہم: لیکن لال قلعہ تو دہلی پر ایٹمی حملے میں تباہ ہو چکا ہو گا۔

وہ: بزدل انڈیا ہم سے لڑنے کی جرات نہیں کر سکتا ہے۔ ہمارا پہلا حملہ ہی دہلی فتح کر لے گا۔
ہم: تو پھر آپ دہلی پر ایٹم بم کیوں مارتے ہیں؟ کھنڈر فتح کر کے کیا کریں گے؟

وہ: ہالی ووڈ کی فلمیں ہمارے بچوں کو ہندو بنا رہی ہیں۔
ہم: ہماری فلم انڈسٹری کو خلاف اسلام سمجھ کر مارنے سے پہلے یہ بات سوچی جاتی تو بہتر ہوتا کہ یہ خلا کون پر کرے گا۔

وہ: بالی ووڈ پر سارے مسلمان چھائے ہوئے ہیں۔ شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہے۔ ساری ہندی فلم انڈسٹری مسلمانوں کے بل پر چل رہی ہے۔
ہم: لیکن آپ تو بتا رہے تھے کہ ان کے گھروں میں ہندو بیویاں ہیں اور ان کے گھروں میں مندر ہیں۔ فلموں میں بھی وہ بھگوان کے بھگت بنے نظر آتے ہیں۔ اگر وہ اتنے راسخ العقیدہ مسلمان ہیں تو پھر ان کے ساتھ ساتھ مودی پر بھی مہربانی کر کے اسے بھی مسلمانی کا سرٹیفیکیٹ دے دیں۔

وہ: تحریک پاکستان کے دنوں میں کانگریس کی حمایت کرنے والے سارے لیڈر مسلمان قوم کے غدار ہیں۔
ہم: لیکن ان میں تو امام الہند کہلانے والے ابوالکلام آزاد اور اکابرین دیوبند کی اکثریت شامل تھی۔ ان علما کا دین کا علم ہم لوگوں سے زیادہ ہی تھا کہ آج بھی دیوبندی علما کو ہم دین پر حجت سمجھتے ہیں اور ان کی دیانت پر اور امت سے محبت پر ہرگز بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

وہ: امریکہ ہمارے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔
ہم: تو پھر ہمارے یہ امریکی سازشوں کی نشاندہی کرنے والے علما اور راہنما اپنے بچوں کو امریکی یونیورسٹیوں میں امریکی نظریاتی تعلیم کیوں دلواتے ہیں؟

وہ: پاکستان اپنے سارے شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ ہمیں اپنی اقلیتوں کی پاکستان سے محبت پر فخر ہے۔
ہم: لیکن یہاں کی ساری اقلیتیں تو ملک چھوڑ چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت ان کی جتنی تعداد تھی، اب اس کا ایک بہت چھوٹا حصہ باقی بچا ہے۔

وہ: ہندو غدار ہیں۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بنوایا تھا۔ اور اب سندھ کا سندھو دیش بنوانا چاہتے ہیں۔
ہم: لیکن وہ ہندو تو برابر کے شہری ہیں۔ اور آپ نے فرمایا تھا کہ ان کی پاکستان سے محبت پر ہمیں فخر ہے۔

وہ: پاکستان ہمیشہ رہنے کے لیے بنا ہے۔ اس کی حفاظت اولیا کر رہے ہیں۔ آسمانی طاقتیں ہماری محافظ ہیں۔
ہم: وہ تو ٹھیک ہے، لیکن یہ اولیا کے مزارات پر اتنی سیکیورٹی کیوں ہوتی ہے؟

وہ: اولیا کے مزارات خطرے میں ہیں۔
ہم: لیکن اولیا تو پورے ملک کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کو ہماری حفاظت کی کیا ضرورت ہے؟

وہ: برما اور فلسطین میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور ہم اپنے حال میں مست سوئے پڑے ہیں۔ ہمیں امت کا درد ہی نہیں ہے۔
ہم: لیکن یہ دونوں ملک تو ہماری سرحدوں سے بہت دور ہیں۔ ہم ان کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ برما میں فوج بھیجنے سے پہلے ہندوستان اور بنگلہ دیش کو فتح کرنا پڑے گا۔ اور اسرائیل تک جانے کے راستے میں بہت سے برادر اسلامی ممالک سد راہ ہیں۔

وہ: ہم برما اور اسرائیل پر ایٹم بم مار دیں گے۔
ہم: لیکن یہ بم جب انڈیا کے اوپر سے گزرے گا تو وہ شوخی میں آ کر اپنا ایٹم بم ہم پر نہ مار دے۔ ادھر دوسری طرف عربوں نے اپنی متبرک فضاؤں میں ہمارا ایٹم بم برداشت بھی کر لیا تو یہ بم اسرائیل میں مقیم فلسطینیوں کو بھی بھاپ بنا دے گا۔

وہ: ہم زندہ قوم ہیں۔
ہم: لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ ہم سوئے پڑے ہیں اور امت کا ہمیں درد ہی نہیں ہے۔

وہ: ہم اسلام کا قلعہ ہیں۔
ہم: لیکن مسلمان ممالک اپنے ان قلعہ داروں سے اپنے ائیرپورٹوں اور شہروں میں ایسا سلوک کیوں کرتے ہیں؟

وہ: مغرب اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہے۔ اور یہ وہاں ہم جنسوں کی شادی کے قانون کے بعد تو وہ کسی وقت بھی عذاب الہی کا شکار ہو جائیں گے۔
ہم: سانحہ قصور کیا اس سے بڑا ظلم نہیں ہے؟ کم از کم وہ اپنے بچوں کو تو محفوظ رکھتے ہیں۔ اور دہشت گردی میں ساٹھ ستر ہزار پاکستانی مارے گئے ہیں، آرمی پبلک سکول کے چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت۔ کیا یہ چھوٹا عذاب ہے؟

وہ: آپ کی کٹ حجتی سے صاف ظاہر ہے کہ آپ یہود و ہنود کے ایجنٹ ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
ہم: لیکن آپ نے فرمایا تھا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور اس کی حفاظت آسمانی طاقتیں کر رہی ہیں۔ پھر پریشانی کاہے کی ہے؟ آسمانی طاقتوں کے آگے بھلا کس کا بس چلا ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 690 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar