پاکستان بھی رینسم ویئر وائرس حملے کی زد میں


آج 15 مئی 2017 تک دنیا بھر کے 150 ممالک میں مختلف افراد اور اداروں کے 2 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کمپیوٹرز اس حملے کا شکار ہوچکے ہیں۔ پاکستان بھی WanaCryptor 2.0 یا WannaCry کہلانے والے اس رینسم ویئر کے حملوں کی زد پر آچکا ہے لیکن خوش قسمتی سے پاکستان میں ان حملوں کی شدت دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہفتے اور اتوار کے روز عام تعطیل ہوتی ہے اس لیے ان 2 دنوں میں اس کا جتنا پھیلاؤ بھی دیکھا گیا وہ اس کے اصل خطرے کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ لیکن پیر کے روز کاروباری، تجارتی اور دفتری مصروفیات شروع ہونے پر یہ زیادہ تیزی سے پھیلنے لگا اور اب تک 150 سے زیادہ ملکوں میں پھیل چکا ہے۔

واضح رہے کہ WanaCryptor 2.0 یا WannaCry رینسم ویئر کو آپریٹنگ سسٹم ونڈوز ایکس پی میں سیکیورٹی کے حوالے سے موجود ایک خرابی سے فائدہ اٹھا کر کمپیوٹر کو متاثر کرنے کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم بنانے والی کمپنی مائیکروسافٹ کارپوریشن نے اس خرابی کو دور کرنے کے لیے اس سال مارچ میں ایک عدد سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کردی تھی لیکن مائیکروسافٹ کی جانب سے ایکس پی کے لیے اپریل 2014 سے سپورٹ ختم ہوجانے کے بعد بیشتر صارفین اس طرف متوجہ نہیں تھے۔ ان حملوں کے بعد مائیکروسافٹ نے یہی اپ ڈیٹ ایک بار پھر جاری کردی ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اس رینسم ویئر کے حملے کی شدت کم ہوجائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔