طیبہ کیس: ملزم جج اور ان کی بیوی پر فرد جرم عائد


اسلام آباد ہائی کورٹ نے دس سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کے مقدمے میں اسلام آباد کے سابق ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور اُن کی بیوی پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق تشدد کا شکار ہونے والی بچی طیبہ کے والدین کی طرف سے صلح نامہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے اس مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں صلح نامہ ایک دباؤ کے تحت کیا گیا تھا جسے کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ ملزم راجہ خرم علی اور ان کی بیوی ماہین ظفر کو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ضمانت دی ہوئی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ملزمان کی موجودگی میں ان پر فرد جرم عائد کی جس سے انھوں نے انکار کیا۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی ہے جس میں گواہان کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔ اس مقدمے میں 19 گواہان ہیں جن میں11 سرکاری جبکہ 8 غیر سرکاری افراد ہیں۔ ان گواہان میں طیبہ کے والدین کے علاوہ راجہ خرم علی کے ہمسائے، جبکہ سرکاری گواہان میں اسسٹنٹ کمشنر اور ڈاکٹروں کے علاوہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والا پولیس افسر بھی شامل ہے۔ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم نے راجہ خرم علی کی اہلیہ پر طیبہ پر تشدد کی زیادہ ذمہ داری عائد کی ہے جبکہ سابق ایڈشنل سیشن جج پر تشدد کے واقعے پر خاموشی اور طیبہ کو فوری پر طبی امداد کے لیے ہسپتال نہ لے جانے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمہ ماہین ظفر کی طرف سے عدالت میں حاضری سے استثنٰی کی درخواست منظور کرلی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےکمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کاسی کو حکم دیا تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس مقدمے کی سماعت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں کروائی جائے، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس مقدمے کے ملزم اور ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی کے خلاف مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کروانے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان کے چیف جسٹس نے تشدد کا شکار ہونے والی طیبہ کو سویٹ ہوم بھیجنے کا حکم دیا ہے اور اس کو ابھی تک والدین کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کاسی نے ملزم راجہ خرم علی کو ایڈشنل سیشن جج کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج ہونے پر وکلا کے ایک دھڑے نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 470 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp