سندھی- بلوچ تضاد کس کے مفاد میں ہے؟


ماضی قریب میں یہ چوتھا واقعہ ہے کہ بلوچستان میں سندھی مزدوروں کا بے گناہ قتل ہوا ہے۔ اس سے قبل اس قسم کے واقعات دیگر صوبوں سے وابستہ بے گناہ شہریوں کے ساتھ بھی ہوتے آئے ہیں۔ سندھ میں ہر بار اس قسم کی دہشت گرد کارروائیوں پر احتجاج ہوا ہے لیکن حالیہ واقعے کے خلاف سندھ میں ہر سطح پر شدید احتجاج ہوا ہے۔ گو کہ نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو اور سردار اختر مینگل نے اس حوالے سے سوشل میڈ یا پر واضح بیان دیا ہے اور نواب خیر بخش مری کے فرزند مہران مری نے بھی ٹوئٹر پر اس واقعے کی مذمت کی ہے٬ یہ ایک خوش آئند امر ہے٬ لیکن ذمہ دار بلوچ قیادت کو اس معاملے میں اس سے بڑھ کر فعال اور واضح کردار ادا کرنا چاہیے ۔ بلوچ سیاسی قیادت صرف سوشل میڈ یا پر بیان دے کر اس معاملے سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ جب کہ عطاء اللہ مینگل صاحب جیسے معتبر اور سینئر رہنما پہلے کی طرح اس بار بھی خاموش ہیں۔ یہ حقیقت جانتے ہوئے بھی کہ بلوچ سماج کو ایک غیرمعمولی صورتحال کا سامنا ہے اور وہاں پر حالات معمول پر نہیں ہیں۔ بلا شک بلوچستان ریاستی عتاب کا شکار رہا ہے اور 1947ء سے لیکر اب تک ریاست نے نہ صرف پانچ بار بلوچستان میں آپریشن کیا ہے اور ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو اس آپریشن میں مارا گیا ہے اور بلوچوں پر زمین تنگ کی گئی ہے بلکہ پرویز مشرف کے دور سے شروع آپریشن میں لاتعداد بلوچ نوجوان مارے گئے ہیں٬ جس نے بلوچوں کی مزاحمت کو مزید انتہاپسندی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ردعمل کے طور پر بلوچوں کے مختلف عسکری گروپوں کی اس طرح کی انتہاپسندانہ پُرتشدد کارروائیوں نے دوسروں کا تو جانی نقصان کیا ہی ہے لیکن درحقیقت انہوں نے اپنا بھی سیاسی نقصان کیا ہے اور آج ملک میں بلوچوں کی تحریک تنہائی کا شکار ہے۔ جب کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ ملک کے تمام روشن خیال افراد اور تنظیموں نے بلوچستان میں آپریشن کی مخالفت کی ہے اور مسئلہ کے حل کے لیے سیاسی راستہ تلاش کرنے پرزور دیا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ آواز پرویز مشرف کے دور سے پنجاب سے بھی زوردار انداز سے بلند ہوئی٬ جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچوں کا اس ملک میں اگر ہمیشہ جس قوم نے سب سے بڑھ کر ساتھ دیا ہے تو وہ سندھی ہیں۔ بلوچوں کے خلاف جب جب بھی ملک میں فوجی آپریشن ہوا ہے تو سندھیوں نے پُرامن جمہوری انداز سے اس کی مذمت کرتے ہوئے بلوچوں کی حمایت کو ہمیشہ اپنا سیاسی اور قومی اور انسانی فرض جانا ہے۔ نہ صرف کامریڈ حیدر بخش جتوئی٬ سائیں جی ایم سید اور رسول بخش پلیجو صاحب نے ہر مشکل گھڑی میں بلوچوں کی حمایت کی ہے بلکہ بھٹو صاحب کے دور میں ہونے والے آپریشن میں تو میر علی بخش ٹالپر صاحب نے عملی طور پر بلوچوں کی ہر قسم کی مدد کی اور میر محمد علی ٹالپر ابھی حیات ہیں٬ جنہوں نے پہاڑوں پر جاکر ان کا ساتھ دیا تھا۔ جب کہ اس کے برعکس میں بلوچ دوستوں نے سندھیوں کا کبھی مطلوبہ ساتھ نہیں دیا۔ یہ درست ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو بلوچوں کے خلاف آپریشن میں اسٹبلشمنٹ کے سیاسی آلہ کار بنے ٬لیکن جب ایک عالمی سازش کے تحت ضیاء شاہی نے شہید بھٹو کو قتل کے ایک جعلی کیس میں پھانسی دے دی٬ تب بلوچ قیادت کو چاہیے تھا کہ وہ اخلاقی طور پر اور سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ایک مرتبہ عطاء اللہ مینگل نے حیدرآباد میں نواب یوسف ٹالپر کی رہائش گا ہ پر ہمیں خود کہا تھا کہ بھٹو کی پھانسی بلوچوں کے لیے خوشخبری تھی۔ یہ بات بھی اب کوئی راز نہیں کہ ایم کیو ایم کے دہشت گرد بھگوڑوں کو عطا اللہ مینگل اور نواب اکبر بگٹی نے اپنے ہاں پناہ دی اور یہ لحاظ بھی نہیں کیا کہ ان کو پناہ دینا نہ صرف اخلاقی اور سیاسی طور پر درست نہیں بلکہ اس سے ان سب کی دل آزاری ہوگی جن کے خون سے ان کے ہاتھ رنگے ہوئے تھے۔ بلوچوں نے ایم کیو ایم سے تب جاکر پہلو تہی کی جب انہوں نے نواب اکبر بگٹی کی شہادت پر پرویز مشرف کا ساتھ دیا لیکن مشکل گھڑی میں سندھیوں نے بلوچوں کے ساتھ کبھی اس طرح کا چھل فریب  نہیں کیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب نواب اکبر بگٹی نے ڈ یرہ بگٹی سے نکل کر پہاڑوں کا رخ کیا تھا تو پلیجو صاحب نے میرے گھر پر بگٹی صاحب کے ترجمان رؤف ساسولی کی معرفت ان سے فون پر رابطہ کرکے نہ صرف مکمل حمایت کی یقین دھانی کروائی تھی بلکہ خیر سگالی کے طور پر خود وہاں جانے کی بھی پیش کش کی تھی۔ جب کہ نواب صاحب نے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ حالات سنگین ہیں٬ آپ نہ آئیں ٬ صرف اخلاقی حمایت کریں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچ مجموعی طور پر نسلی اعتبار سے سماٹ سندھیوں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ بلوچستان کے بلوچ تو اپنی جگہ لیکن سندھ میں بسنی والی بلوچ برادریوں کے عام افراد بھی سندھی سماٹ کو اپنے برابر نہیں سمجھتے۔ ان کے اندر یہ بے جا احساسِ برتری پسماندہ قبائلی سماج کی وجہ سے ہے٬ جب کہ سندھیوں نے ہمیشہ بلوچوں کو اپنا بھائی٬ جسم و جان سمجھا ہے اور ہر مشکل وقت میں کھل کر ان کا سیاسی طور پر ساتھ دیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ہم اداس کیوں ہیں؟

مذکورہ بالا تمام تلخ حقائق کے باوجود اصل اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بلوچ اور سندھی مظلوم قومیں رہی ہیں اور یہ رشتہ ہر عارضی اور ذیلی تضاد سے بالاتر اور زیادہ اہم ہے۔ مظلوم طبقات اور مظلوم قوموں کا آپس میں رشتہ معروضی اور تاریخی طور پر زیادہ طاقتوراور پائیدار ہوتا ہے اور جب جب یہ کمزور ہوگا تب یہ یقین جان لیں کہ اس کا فائدہ ان کی مخالف غاصب قوتوں کو ہوگا اور ایسا ہی خطرہ اس وقت سندھیوں اور بلوچوں کے تاریخی تعلقات کو لاحق ہے۔ ایک طرف بے لگام اور سنجیدہ رہنمائی سے محروم عسکری گروہ ہیں جو کہ مسلسل نہ صرف بے گناہوں کا قتل کر رہے ہیں بلکہ فخر کے ساتھ اس کی سرعام ذمہ داری بھی قبول کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ کی حالت میں ہیں٬ تو کیا جنگ کی کوئی بھی اخلاقیات نہیں ہوتی؟ جنگ میں اپنے اور پرائے کی تمیز نہیں کی جاتی؟ جنگ میں عارضی اور طویل مدت والے مفادات کو ذہن میں نہیں رکھا جاتا؟ اور سب سے بڑی بات کہ جنگ میں مظلوم اور ظالم کا فرق نہیں کیا جاتا؟ کیا کل کو سندھی سندھ میں غیرمقامی آبادکاروں کی صف میں بلوچوں کو بھی شامل کر لیں؟ تمام بلوچ رہنماؤں کا دوسرا گھر کراچی میں ہے٬ تو کیا پھر سندھی بھی ان سے آنکھیں پھیر لیں؟ مگر مجموعی طور پر سندھی ایسا ہرگز نہیں کریں گے٬ کیوں کہ ان کا سیاسی ضمیر روشن خیال٬ پُرامن٬ انسان دوست اور بالغ نظر سیاسی نقطہ نظر سے سرشار رہا ہے٬ جنہوں نے ہمیشہ نسل پرستی اور تعصب کو ہمیشہ لعنت سمجھا ہے۔ دوسری جانب سندھ میں بھی نابالغ سیاسی ذہن اس دردناک واقعے کی آڑ میں سندھ میں بلوچ مخالف سوچ کو پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ جو کہ نہ صرف اُصولی طور پر غلط رویہ ہے بلکہ سندھیوں اور بلوچوں کے مشترکہ مفادات کے لیے بھی نقصان کار ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کے بے لگام بلوچ عسکری گروہ مجموعی طور پر بلوچ قوم کے نمائندہ نہیں۔ انہوں نے اسی قسم کی انتہاپسندی کے تحت اپنی ہی صفوں میں سے مبینہ طور پر حبیب جالب اور ڈ اکٹر مولا بخش دشتی جیسے دانشور رہنماؤ‏ ں کو قتل کیا ہے۔ ہمارے دوست سینیٹر ثناء اللہ بلوچ کو جتنا خطرہ راولپنڈ ی سے تھا اس سے زیادہ ان عسکری گروہوں سے بھی تھا۔ آج بھی ڈ اکٹر مالک بلوچ اور میر حاصل بزنجو جیسے اکثریتی بلوچ رہنما جو کہ پُرامن طور پر قومی حقوق حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں وہ اپنے گاؤ ں اور شہروں میں نہیں جا سکتے٬ جس کا ثبوت 2013ء کے انتخابات تھے۔ کوئی بھی بلوچ رہنما اپنی انتخابی مہم نہیں چلا سکا۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جو گوریلا جنگ ذمہ دار سیاسی سوچ اور تنظیم کے ضابطے میں نہیں ہوگی اور جس کے کوئی بنیادی انسانی اور نظریاتی اُصول نہیں ہونگے٬ وہ باالآخر اندھیری بند گلی میں جا کر پھنسے گی۔ لہٰذا بلوچ عسکری گروہوں کی ایسی کارروایوں سے ان کی قومی تحریک کو بھی شدید نقصان ہوا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور مثال بھی مناسب ہوگی۔ جس طرح ہم ایم کیو ایم اور اردو بولنے والے عوام میں فرق کرتے ہیں٬ سندھ کے ابن الوقت جاگیردار اور سندھی عوام میں فرق کرتے ہیں٬ ہم پنجاب کے حکمران طبقے کےریاست پربالادست ہونےمیں پنجاب کے مظلوم طبقات کو شمار نہیں کرتے۔ ہم طالبان کی مذہبی انتہاپسندی کو پشتون رویے سے کبھی بھی عبارت نہیں کرتے۔ اس طرح ہمیں انتہاپسند بلوچ گروہوں اور بلوچ عوام میں فرق کرنا ہوگا۔ ہم نظریاتی طورپراس اُصول میں اعتبارکرتے ہیں کہ انسانی رشتے تمام رشتوں سے زیادہ اہم ہوتے ہیں اور قومی حقوق کی جدوجہد کو انسانی اقدار سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کے تمام مظلوم طبقات اور اقوام کے باہمی رشتے بنیادی حقیقت ہیں اور ان کے تضاد عارضی اور قابلِ حل ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر عبد السلام اور پانی سے چلنے والی کار ....

ہمیں بلوچ سیاسی قیادت کو سمجھانا ہوگا کہ ان کا سیاسی نقطہ نظراور حکمت عملیاں ان کا استحقاق ہے٬ لیکن دنیا کی کوئی سیاسی تحریک اگر بنیادی انسانی تصورات اور انسانی اقدار سے متصادم ہوگی تو وہ نہ تو کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ ہی ایسے رویے اور سوچ کے انداز جائز ہو سکتے ہیں۔ اس ملک میں مظلوم طبقات اور قومیتوں کی جدوجہد بظاہر مختلف ہی کیوں نہ ہو لیکن ان کے اندر مشترکہ مفادات اور احداف کی وحدت بھی موجود ہے اور ہمیشہ رہنی چاہیے۔ انتہاپسندی اور دہشتگردی کسی بھی شکل میں ہو٬ اس سے پائدار نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ ملک کے تمام باشعور افراد بلوچ سرزمین٬ ان کے ساحل اور وسائل پر بلوچ قوم کے بنیادی حق کو تسلیم کرتے ہیں٬ لیکن انہیں بھی دیگر قومیتوں کے مظلوم افراد کے انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور اسکالر ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ [email protected] [email protected]

jami-chandio has 4 posts and counting.See all posts by jami-chandio