تورا بورا پر امریکی بمباری اور سکریپ کا کام


امریکی تورا بورا پر اندھا دھند بمباری کر رہے تھے۔ وہ القاعدہ قیادت کو مارنے کے لئے پندرہ ہزار پونڈ وزنی بم برسا رہے تھے۔ جلال آباد ننگر ہار صوبہ کا صدر مقام ہے پاکستانی سرحد طورخم سے بھی نزدیک ترین یہی بڑا شہر ہے۔ تورا بورا جلال آباد سے پچپن کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

میں طور صحافی اس بمباری کو کور کر رہا تھا۔ ہم لوگوں کو نہ تو تورا بورا کی پہاڑیوں کے راستے معلوم تھے۔ نہ ہمیں وہاں کوئی لے کر جانے والا تھا۔ صحافیوں کے لیے امریکی کوئی بریفنگ بھی نہیں دے رہے تھے۔ میں بس کچھ دوستوں کے ساتھ تورا بورا کے اس پہاڑی سلسلے پر چڑھتا اترتا رہتا تھا۔

دسمبر کی دس تاریخ تھی سال دو ہزار ایک تھا۔ میں ایک پہاڑی سے اتر رہا تھا تو مجھے کچھ لوگ جاتے دکھائی دیے۔ انہوں نے اپنے کندھوں پر بموں کا ملبہ اٹھا رکھا تھا۔ ابھی ابھی بمباری ہوئی تھی اور یہ لوگ بموں کے ٹکڑے اٹھا کر جا رہے تھے۔

تورا بورا کے پہاڑ طالبان اور جہادی تنظیموں کی چالیس سال کی سرگرمیوں کے کئی سراغ چھپائے ہوئے ہیں۔ وہاں کیا کچھ تھا ہو سکتا ہے اس کی ایک جھلک یہ پانچ تصویریں بھی ہیں۔

امریکی بموں کو جہاز پر لوڈ کرنے سے پہلے لازمی ان پر کچھ لکھا کرتے تھے۔ ان تصویروں میں بموں پر جو عبارت لکھی ہوئی دکھائی دیتی ہے وہ کچھ یوں ہے۔ ’’ یہ تھوڑا سا درد دے گا ‘‘۔ ’’ یہ صرف ایک مذاق ہے ‘‘۔

یہ بم اٹھا کر لے جانے والےاس دن بہت خوش تھے۔ امریکیوں نے اپنی روٹین سے زیادہ بمباری کی تھی۔ ان لوگوں کو ان کی توقع سے زیادہ سکریپ ملا تھا۔ اج ریکارڈ کھنگالتے یہ تصویریں سامنے آئی ہیں۔ سترہ سال گذر چکے ہیں آج تصویریں دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ واقعی افغان عوام سے مذاق ہو رہا تھا۔

دل درد سے بوجھل ہے، درد بڑھ جاتا ہے جب یہ یاد آتا ہے کہ سکریپ لے جانے والے افغان مجھ سے کہہ کر گئے تھے کہ امریکی بڑے بڑے بم برسا کر ان پہاڑوں کو مٹی کریں تا کہ ہم اپنے گھر بنائیں۔

جنگ یا بم بھی کبھی گھر بناتے ہیں کیا۔

فوٹو گیلری

This slideshow requires JavaScript.


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مجید بابر

مجید بابر ایک فوٹو جرنلسٹ ہیں جو چیک ریپلک کے شہر پراگ میں واقع پشتو زبان کے بین الاقوامی ریڈیو مشال کے لئے اس وقت کام کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی اور یورپی میڈیا اداروں کے لئے افغانستان اور پاکستان میں کام کرتے رہے ہیں۔

majeed-babar has 2 posts and counting.See all posts by majeed-babar