پرویز ہود بھائی صرف اپنی فیلڈ تک محدود کیوں نہیں رہتے ہیں؟


پرویز ہود بھائی کے بیانات اور تقاریر دیکھ کر ہر ذی شعور شخص کے ذہن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر پرویز ہود بھائی صرف اپنی فیلڈ میں کام کیوں نہیں کرتے ہیں؟ وہ ایسے معاملات میں رائے کیوں دیتے ہیں جس کی تعلیم انہوں نے نہیں پائی ہے۔ پرویز ہود بھائی کے پروفائل پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعلیم فزکس کی ہے۔ وہ بھی تخلیاتی قسم کی فزکس یعنی تھیوریٹیکل فزکس کی جو کہ کسی قسم کی مشینری بنا کر پاکستان کو ایک جدید ترقی یافتہ ملک بنانے میں کام نہیں آتی ہے۔ یہ تو کسی ایٹم نیوٹران الیکٹران وغیرہ کے چال چلن سے متعلق مفروضوں اور اندازوں پر مبنی علم ہے جو ہمارے پیارے وطن کے لئے بیکار ہے جہاں چال چلن صرف رشتے طے کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔

بعض ناسمجھ افراد یہ کہتے ہیں کہ ہود بھائی کا اپنی فیلڈ میں بہت کام ہے۔ وہ اس وقت بھی قائداعظم یونیورسٹی میں فزکس پڑھا رہے ہیں۔ ان کے بے شمار سائنسی پیپر شائع ہو چکے ہیں۔ وہ ایم آئی ٹی، یونیورسٹی آف میری لینڈ، پرنسٹن، کارنیگی میلن اور سٹینفورڈ جیسی یونیورسٹیوں سے بطور استاد اور ریسرچر وابستہ رہے ہیں۔ بین الاقوامی سائنسی برادری میں وہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اور وہ سائنسی برادری سے ہٹ کر بطور مفکر بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

لیکن ان افراد کو یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان میں ان کی ویسی عزت نہیں کی جاتی ہے جیسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے تو اس کی وجہ واضح ہے۔ پروفیسر ہود بھائی نے کون سا پاکستانی ایٹم بم بنانے کا کریڈٹ لیا ہے؟ انہوں نے تو محض پاکستانی نیوکلئیر فزکس کے اہم ترین سائنسدانوں ڈاکٹر اشفاق احمد اور ڈاکٹر ریاض الدین کے ساتھ مل کر نیشنل سینٹر آف فزکس بنایا ہے اور سینکڑوں پاکستانی طلبہ کو جدید فزکس کی تعلیم دی ہے۔

جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دھات سازی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ ہالینڈ میں ہی ملازمت کے دوران انہوں نے وہاں سے ایٹمی راز چرا کر پاکستان لانے کا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ وہ بہت بڑے مفکر بھی ہیں کیونکہ وہ روزنامہ جنگ جیسے بڑے اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔ دوسری طرف ہود بھائی ہیں۔ اگر ڈاکٹر ہود بھائی بھی ایم آئی ٹی وغیرہ سے ایٹمی راز چرا کر لاتے تو پھر ہم ان کا لوہا مانتے۔ وہ تو وہاں امریکہ میں بیٹھے بس نیوکلئیر فزکس پڑھاتے رہے ہیں اور پاکستان واپس آ کر بھی یہی کرتے رہے ہیں اور ایٹم کے متعلق طوطا مینا کی فرضی کہانیاں لکھتے رہے ہیں۔

ہمیں اس بات پر بہت زیادہ اعتراض نہیں ہے کہ انہوں نے ایٹمی راز کیوں نہیں چرائے۔ ہمارا بنیادی اعتراض تو یہ ہے کہ وہ یونیورسٹی میں فزکس کی درس و تدریس تک محدود کیوں نہیں رہتے ہیں؟ وہ سوشل ایکٹی وسٹ کیوں ہیں؟ وہ معاشرتی مسائل پر بات کیوں کرتے ہیں؟ سائنس اور اسلام پر انہوں نے کتاب کیوں لکھ دی ہے جبکہ وہ مفتی بھی نہیں ہیں اور انہوں نے درس نظامی نہیں کیا ہے؟ وہ ٹی وی پر کیوں آتے ہیں جبکہ ان کے پاس صحافت کی ڈگری نہیں ہے؟ اگر پروفیسر ہود بھائی کسی قابل ہوتے تو وہ سی ایس ایس نہ کر لیتے؟ پھر وہ ٹی وی پر ہر موضوع پر بات کرتے اچھے بھی لگتے اور قوم کی مقبول جان قرار پاتے اور ہم ہرگز بھی ان پر معترض نہ ہوتے۔

سی ایس ایس کے علاوہ دنیا بھر میں صرف ایک ایسی اعلی پائے کی سند ہے جسے پا کر آدمی کے آگے سارے ارضی و سماوی علوم پانی ہو جاتے ہیں۔ وہ مریخ کے سفر سے لے کر ایٹم بم کی تیاری اور علم طب تک پر حتمی رائے دے سکتا ہے۔ اس سند کو پانے کے لئے درس نظامی کا پورا کورس کرنا پڑتا ہے۔ آٹھ برس کی مغز ریزی کے بعد کہیں جا کر شہادت العالمیہ کی سند ملتی ہے۔ یہ کورس کرنے کے بعد حامل سند ہذا ہر معاملے میں رائے دینے کا اہل ہو جاتا ہے۔ جبکہ پرویز ہود بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی رسوائے زمانہ امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھنے پڑھانے کے بعد وہ عالم مانے جائیں گے۔

اب پروفیسر ہود بھائی کوئی علامہ اقبال یا قائداعظم تو ہیں نہیں کہ جس چیز کی تعلیم حاصل کی ہے، اس فیلڈ میں سارا وقت دینے کی بجائے دوسرے کام کرتے پھریں۔ علامہ اقبال کو دیکھِیں۔ حالانکہ علامہ صاحب نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی نہیں کی تھی اور ان کی ڈاکٹریٹ فلسفے میں تھی اور ساتھ وکالت کی سند بھی رکھتے تھے، مگر وہ وکالت کی بجائے شاعری اور سیاست کیا کرتے تھے۔ قائداعظم کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ پڑھی انہوں نے وکالت تھی مگر شہرتِ دوام انہوں نے سیاست کی وجہ سے پائی۔ یہ دونوں اصحاب بھی اپنی اصل فیلڈ کی بجائے دوسرے کام کرنے کی وجہ سے قوم کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکے جو کہ اس دور کے علما چاہتے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک نے شاعری کر کر کے مسلمانوں میں جوش بھر دیا اور دوسرے نے ان کے لئے ایک الگ وطن بنا دیا۔ اب آپ ہندوستان میں کسی سے بھی پوچھ لیں، وہ یہی کہے گا کہ سیاست کرنا ان دو اصحاب کا منصب نہیں تھا، ان دونوں کو وکالت ہی کرنی چاہیے تھی۔

گزشتہ 13 مئی کو پروفیسر ہود بھائی نے مشال خان کے قتل کا ایک ماہ مکمل ہونے پر ایک تقریر کرتے ہوئے یہ الفاظ کہہ دیے کہ ’وہ جو اس بچارے نوجوان کو ننگا کر کے لاٹھیوں سے مار کے، پتھروں سے مار کے، ختم کر دیا ہے، لعنت ہو ایسی قوم پہ جو اپنے بچوں کو اس طرح سے مارتی ہے‘۔ اب اس بات پر ان کی پکڑ کی جا رہی ہے کہ ہود بھائی نے قوم کے ظلم کرنے پر اس پر لعنت کیوں بھیجی ہے۔ اس سے زیادہ ظلم تو یہ ہے کہ اب بھی لبرل طبقہ پروفیسر ہود بھائی کی حمایت کر رہا ہے۔ ہمیں حیرت نہیں ہو گی اگر پروفیسر ہود بھائی کا دفاع کرتے ہوئے ان میں سے کچھ یہ دعوی بھی کر دیں کہ پروفیسر ہود بھائی کے الفاظ کا محرک قرآن مجید کی سورہ ہود ہی کی یہ آیت مبارکہ تھی ’اور فرما دیا گیا کہ ظالم لوگوں (قوم) پر لعنت نازل ہو‘۔ یعنی ان کا دعوی ہو گا کہ قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں جو یہ ’للقوم الظلمین‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں یہ مشال خان کے قتل  کے ظالمانہ واقعے پر ہماری قوم پر بھی فٹ بیٹھتے ہیں۔ ہم ان افراد کے اس دعوے سے متفق نہیں ہیں۔ ہماری قوم ظالم نہیں ہے بلکہ نہایت رحم دل ہے۔

پرویز ہود بھائی کے اپنا میدان چھوڑ کر معاشرتی علوم پر بحث کرنے سے قوم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے، اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ ہماری دشمن مغربی دنیا ان کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔

سنہ 2011 میں پرویز ہود بھائی کو بدنام زمانہ جریدے فارن پالیسی نے 100 با اثر ترین عالمی مفکرین کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔ دنیا کے سب سے زیادہ معتبر اخبار نیویارک ٹائمز میں ان کے مضامین شائع کر دیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مشاورتی بورڈ برائے تخفیف اسلحہ میں ان کو شامل کیا جاتا ہے۔ یہ نوازشات ویسی ہی ہیں جیسی ملالہ پر کی گئی ہیں۔

اب خواہ گورے جتنا مرضی کہیں کہ یہ سب ان دونوں کی خدمات کا اعتراف ہے، مگر ہمیں یہ خدمات کیوں دکھائی نہیں دیتی ہیں؟ کیا ہم کور چشم ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہم تو دنیا کی دانش مند ترین قوم ہیں۔ ہمیں ٹی وی پر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نہیں چاہیے۔ ہمیں تو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسے مقبول نابغے پسند ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 664 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar