عورت، بنیاد پرست لبرلز اور لبرل ہیومنسٹ


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی اور اس کا بیٹا مارکیٹ میں اپنے گدھے کے ساتھ جا رہے تھے. ایک آدمی نے انہیں گدھے کے ساتھ پیدل چلتے دیکھ کر کہا : “تم بیوقوف ہو کیا گدھے پر سوار ہونے کی بجائے پیدل چل رہے ہو؟

 باپ نے بیٹے کو گدھے پر بٹھا دیا اور خود پیدل چلنے لگا. لیکن آگے کچھ لوگ یہ دیکھ کر بولے “کہ اس سست نوجوان کو دیکھو، خودگدھے پر سوار ہے جبکہ اس کا باپ پیدل چل رہا ہے” یہ سن کر بیٹا گدھے سے اتر کر چلنے لگا اور باپ گدھے پر سوار ہو گیا۔ آگے چل کر کچھ عورتوں سے سامنا ہوا جن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا “دیکھو کیسا آدمی ہے اکیلا گدھے پر سوار ہے بیٹے کو نہیں بٹھاتا” یہ سن کر باپ نے بیٹے کو بھی ساتھ بٹھا lیا۔ ابھی تھوڑا ہی چلے ہوN گے کہ چند آدمی بولے ان کودیکھو شرم نہیں آرہی کہ ان غریب گدھے پر دو لوگ سوار ہیں۔ انہیں اس کو بھی آرام دینا چاہیےء۔

 اب کی بار باپ اور بیٹے نے سوچنے کے بعد ایک لکڑی لی ، گدھے کے پاؤں باندھے،اُسے لکڑی سے باندھا اور لکڑی کو اُٹھایا اور کندھوں پر رکھ کر چل پڑھے وہ مارکیٹ پل کے اُوپر سے گُزر رہے تھے پاس کھڑے لوگ ہنسنے لگے اسی دوران لڑکے کے پیر ڈگمگا گئے۔ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی اور اسی جدوجہد میں گدھا پانی میں جا گرا ۔ اس کے پاؤں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہونے کی وجہ سے وہ ڈوب گیا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس قصے کے دہرانے کا مقصد کیا ہے تو پھر سنیے۔ کل سے سوشل میڈیا پر یونس خان اور مصباح الحق کی اپنے خاندان یعنی فیملی کے ساتھ تصویریں گردش کر رہی ہے۔ اور ان تصویروں پر تبصرے پڑھ کر یہی قصہ یاد آتا ہے۔ یہاں کردار لوگوں کی باتوں میں تو نہیں آرہے لیکن تبصرے ہوبہو اسی کہانی کے جیسے ہیں۔ تو آپ کو بتاتے چلیں کہ آج ہمارے معاشرے کے دو بنیادی حصے یعنی بنیاد پرست اور لبرل دونوں طبقے اپنی اپنی بساط کے مُطابق اس تصویر پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ( بلکل ایسے ہی جیسے اس با پ بیٹے کی کہانی میں تھا)۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں طبقوں کے خیالات منفی ہیں۔ جہاں بنیاد پرست یونس خان کی اہلیہ کے پردے کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے وہیں مصباح کی اہلیہ کو بے پردہ اور پتہ نہیں کیا کیا القابات سے نواز رہے ہیں۔ دوسری طرف لبرل طبقے کے لوگ مصباح کی اہلیہ کو سراہ رہے ہیں اور یونس خان کی اہلیہ کے پردے اور برقعے کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔

 لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بنیاد پرست طبقے کی طرف سے یونس خان کی واہ واہ ہو رہی ہے جبکہ مصباح کی پوسٹس اور کومنٹس میں ُدرگت بن رہی ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ بنیاد پرست بغیر داڑھی کے یونس خان کی تعریف اور داڑھی والے مصباح کی درگت کیوں بنا رہے ہیں۔ تو ایسا ہے کہ بنیاد پرستوں کا اعتراض یہ ہے کہ داڑھی کے ہوتے ہو ےاس کو ہمت کیسے ہوئی اپنی اہلیہ کو بے حجاب اپنے ساتھ کھڑا کرنے کی۔ دوسری طرف لبرلز کا خیال ہے کہ یونس خان کو کوئی حق نہیں کہ اپنی بیوی کو عبایہ پہنا کر اپنے ساتھ کھڑا کرے۔

ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مسئلہ ہے کہاں؟ پھر جب کسی نے یونس خان کی بیوی کو اصیل لکھا اور مصباح کی اہلیہ کو بُرا بھلا لکھا تب سمجھ میں آیا کہ اعتراض تو اصل میں عورت پر ہے۔ کسی کو اعتراض ہے کہ وہ صرف دوپٹے میں کیوں ہے تو کسی کو اس کے عبایا پر ہنسی سوجھ رہی ہے۔ عورت اور اس کی زندگی پر کنٹرول کو ہماری پاکستانی قوم نے اپنی زندگی اور آخرت کا مسئلا بنا لیا ہے جبکہ ایسا ہے نہیں۔ عورت بھی ایک نارمل انسان کی طرح اپنی سوچ اور عمل کی خود ذمہ دار اور حقدار ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا بھی ہے جس کو کوئی مسئلا نہیں نہ کسی کی بیوی کے عبایا سے نہ کسی کی بیوی کے دوپٹے سے؟ وہ عورت کو بحثیت انسان دیکھ کر نارمل کومنٹس یا پوسٹس کر رہے ہیں۔ تو جواب ہے جی ہاں ایسا بھی ایک حصہ جو بظاہر لبرلز کی شاخ ہے لیکن وہ لبرلز جو بنیاد پرستی کی بجائے بنیادی انسانی حقو ق پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ہے بیشک آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن ہیں۔ ایسے لوگ جن کو دونوں سے مسئلہ نہیں وہ اس کو دونوں خاندانوں کا ذاتی مسئلہ، خواتین کا ذاتی مسئلہ اور سب سے بڑھ کر معاشرتی تنوع سمجھ کر خوش ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ثنا اعجاز

ثنا اعجاز پشاور سے تعلق رکھنے والی انسانی اور صنفی حقوق پر کام کرنے والی آزاد صحافی ہے۔

sanna-ejaz has 3 posts and counting.See all posts by sanna-ejaz