چینی لڑکی سوہنی تے سچی، گوروں کے کتے جھوٹے


پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف سازشیں تو ہوتی ہی رہتی تھیں لیکن اب تو حد ہی ہو گئی ہے۔ پی آئی اے کا جہاز چین جا رہا ہے۔ اس جہاز کا پائیلٹ ایک پاکستانی ہے۔ پائیلٹ کی ذمہ داری ہے جہاز اور اس کے مسافروں کو صحیح سلامت ان کی منزل تک پہنچانا۔ پائیلٹ کو اپنی ذمہ داری کا خوب احساس ہے۔ دوسری جانب پائیلٹ آج تھوڑا تھکا تھکا سا ہے اور بوریت بھی محسوس کر رہا ہے۔ پائیلٹ اگر جہاز اڑانے سے انکار کرتا ہے تو پی آئی اے کی بدنامی اور معاشی خسارے کے ساتھ ساتھ مسافروں کو پریشانی لاحق ہو سکتی ہے۔ لہذا پائیلٹ نے فرض شناسی کا زبردست ثبوت دیا اور باوجود تھکن کے جہاز اڑانے سے انکار نہیں کیا اور اس طرح اس نے کمپنی اور مسافروں کو پریشانی سے بچا لیا۔

صرف یہی نہیں، پائیلٹ نے فلائیٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی بوریت کو بھگانے کا بندوبست بھی کیا۔ تاکہ وہ کہیں سستی کا شکار ہو کر فلائیٹ کو غیر محفوظ نہ بنا دے۔ لہذا، پائلٹ جونہی جہاز میں داخل ہوا تو اس نے تمام مسافروں کو ایک نظر دیکھا اور جہاز میں سوار ایک چینی خاتون کا انتخاب کیا اور اسے کاک پٹ میں آنے کی دعوت دی۔ وہ خاتون نوجوان ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت خوش اخلاق بھی تھیں اس لیے وہ پائلٹ کو کمپنی دینے کے لیے کاک پٹ میں پہنچ گئی اور پھر اس نے اگلے چند گھنٹے کاک پٹ میں ہی پائلٹ کے ساتھ صرف اس لیے گزارے تاکہ فلائیٹ محفوظ طریقے سے اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔

فلائیٹ کے دوران اس خاتون نے اپنا فرض خوب نبھایا۔ ہمیں یقین ہے کہ پائلٹ صاحب ایک لمحے کے لیے بھی بور نہیں ہوئے ہوں گے۔ پائلٹ کے سست ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ناں ایسی کمپنی میں۔ پائلٹ اپنا فرض نبھانے اور چینی خاتون اس سلسلے میں پائلٹ کی مدد کرنے میں اتنے محو تھے کہ جہاز کی لینڈنگ کے دوران میں بھی دونوں اکٹھے ہی رہے۔ جہاز خیریت سے زمین پر اتر گیا تب کہیں جا کر دونوں کی تسلی ہوئی اور چینی خاتون واپس اپنی سیٹ پر لوٹی۔ ہمیں اس خوبصورت چینی خاتون کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے بغیر معاوضے کے پی آئی اے کی خدمت کی۔ میرا خیال ہے کہ پی آئی اے کو اعلان کرنا چاہیے کہ اگلی دفعہ جب وہ خاتون پی آئی اے سے سفر کریں تو انہیں ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔ اور ان کے لیے سیٹ بھی ریزرو کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو کاک پٹ ہی میں سفر کر لیں گی۔ بات تو صرف اتنی سی تھی لیکن آپ کو پتا ہے کہ پاکستانی لوگ بات کا بتنگڑ بناتے ہیں اور دوسروں کی ذاتی زندگیوں میں دخل اندازی کرتے ہیں۔

کسی پاکستانی مرد نے اس خاتون کو کاک پٹ میں جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ بس کیا تھا وہ تو شک میں مبتلا ہو گیا اور اگلے چند گھنٹے اپنا کیمرہ تیار کر کے بیٹھ گیا کہ جونہی وہ خاتون کاک پٹ سے باہر نکلے گی تو وہ اس کا انٹرویو کرے گا۔ وہ صاحب شاید کوئی “جوسی” سی گفتگو کی توقع کر رہے تھے مگر چینی خاتون کم گو نکلیں اور انہوں نے اس راز سے پردہ اٹھانے سے صاف کر دیا کہ انہوں نے اس جہاز کو محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچانے میں پائلٹ کی کس طرح مدد کی۔ پاکستانی بھائی کا سارا تجسس دھرے کا دھرا رہ گیا تو اس غصے میں اس نے پائلٹ کی شکایت کر دی اور الزام لگا دیا کہ اس نے دوران فلائیٹ چینی خاتون کو کاک پٹ میں بلا کر غیر اخلاقی حرکت کی ہے۔ پی آئی اے کی اعلی انتظامیہ نے پہلے تو کوئی توجہ نہیں دی لیکن ویڈیو میں اتنی خوبصورت خاتون کو تھکا تھکا سا کاک پٹ سے باہر آتا دیکھ کر انہوں نے انکوائری کا اعلان کر دیا اور اس کے لیے ظاہر ہے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ اب کمیٹی اس چینی خاتون سے وہ سوالات پوچھے گی جو وہ ویڈیو بنانے والا بھائی نہیں پوچھ سکا۔ اب ہم دعا کرتے ہیں کہ چینی خاتون سارے سوالوں کے جواب دے اور پھر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ بھی کریں گے۔ یہ شاید پاکستان میں سب سے زیادہ پڑہی جانے والی رپورٹ بن جائے۔

اتنی سی بات تھی اور ہمارے دشمن پی آئی اے کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن سازشیوں کو لگا کہ ہمیں بدنام کرنے کی ان کی یہ کوشش کچھ خاص کامیاب نہیں ہوئی۔ تو اب انہوں نے لندن میں انگریزوں کے کتوں کو بھی سازش میں ساتھ شامل کر لیا ہے۔

لیکن ہم پورے اعتماد اور بلند آواز کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ انگریز اور ان کے کتے دونوں ہی جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ پی آئی اے کی فلائیٹ میں کوئی ہیروئن نہیں تھی۔ ہماری فلم انڈسٹری کی تمام ہیروئنیں ان دنوں اندرون ملک فلم سازی میں بری طرح مصروف ہیں۔

اصل میں یہ گورے ہمارے جہاز کی خوبصورتی اور ہماری ائیر لائین کی کامیابی سے جلتے ہیں اس لیے انہوں نے یہ سارا ڈرامہ کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جہاز جب لندن پہنچا تو شاید تھوڑا جھوم رہا تھا۔ گوروں کو لگا کہ یہ جہاز نہیں “جہاج” ہے۔ حالانکہ جہاز تو صرف اچھے موسم کی وجہ سے تھوڑا جھوما تھا اس لیے نہیں کہ اس کے رگ و پے میں ہیروئن کا پاؤڈر سرایت کر چکا تھا۔ جہاز میں اگر ہیروئن ہوتی تو خود گوروں کو ہی مل جاتی، کتوں کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ نجس کتوں کو سازش میں شامل کرنے سے یہ صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ گورے اور ان کے کتے جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہم ان کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 129 posts and counting.See all posts by salim-malik