عام آدمی کے خواب


خاص آدمی بھی خواب دیکھتے ہو ں گے، یقیناً دیکھتے ہوں گے اور خاص خواب دیکھتے ہوں گے لیکن عام آدمی کے خواب بھی عام ہو تے ہیں، اتنے عام کہ اُنھیں بے مُول بھی کوئی نہیں خریدتا ۔ ن۔م۔راشد نے جن خوابوں کو بازارِ عام میں بیچنے کی کوشش کی ہے وہ بھی عام آدمی کے خواب نہیں تھے بلکہ گم گشتہ تہذیب اور مِٹتی ہو ئی اقدار کے خواب تھے ۔ پہلے اُن خوابوں کا احوال جان لیں پھر عام آدمی کے خوابوں کا سوچتے ہیں ۔ ن۔م۔راشد کی نظم ہے ” اندھا کباڑی “ اس میں وہ کہتے ہیں :

شہر کے گوشوں میں بکھرے ہو ئے

پا شکستہ، سر بریدہ خواب

جن سے شہر والے بے خبر

گھومتا ہوں شہر میں روز وشب

کہ ان کو جمع کر لوں

دل کی بھٹی میں تپاﺅں

جس سے چھٹ جائے پرانا میل

اُن کے دست و پا پھر سے اُبھر آئیں

چمک اُٹھیں لب ورخسار و گردن

جیسے نو آراستہ دُو لہوں کے دل کی حسرتیں

پھر سے ان خوابوں کو سمتِ رہ ملے

ن۔م راشد کے خوابوں کا کو ئی خریدار نہیں ۔ چوک میں کھڑا ہر شخص اُن خوابوں کے اصلی اور نقلی ہونے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ اندھا کباڑی اپنے خواب مفت دینے کی صدا لگا دیتا ہے اور خریداروں کی طرف سے جو ردِ عمل سامنے آتا ہے، وہ راشد کے الفاظ میں کچھ ایسا ہوتا ہے :

” مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب۔۔۔۔“

” مفت “سن کر اور ڈر جا تے ہیں لوگ

اور چپکے سے سرک جا تے ہیں لوگ۔۔۔۔

”دیکھنا“ یہ ”مفت“ کہتا ہے

کوئی دھوکا نہ ہو؟

ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو؟

گھر پہنچ کر ٹوٹ جا ئیں

یا پگھل جائیں یہ خواب ؟

بھک سے اُڑ جائیں کہیں

یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب۔۔۔

جی نہیں کس کام کے

ایسے کباڑی کے یہ خواب

ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب!“

خیر اندھے کباڑی کے ان خوابوں کا کوئی خریدار تو کجا مفت لینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ ےہ حال عام آدمی کے خوابوں کا بھی ہوتا ہے۔عام آدمی عام زندگی کے خواب دیکھتا ہے۔ اس میں کوئی بڑا فلسفہ،کوئی بڑا آدرش، کوئی بڑی خواہش نہیں ہوتی، بس عام زندگی کے چھوٹے چھوٹے خواب ہوتے ہیں ویسے بھی چھوٹا آدمی بڑے بڑے خواب کیسے دیکھ سکتا ہے۔

عام آدمی ایک چھوٹے سے گھر کا خواب دیکھتا ہے،جس میں ایک چھوٹا سا صحن ہو،صحن میں ایک چھوٹا سا درخت ہو، درخت کے سائے میں اس کے بیوی بچے آرام کر رہے ہوں کیونکہ وہ خواب میں بھی بجلی کا تصور نہیں کر سکتا۔ اور اگر با لفر ض محال کر بھی لے تو اس کی جیب میں بجلی کا بِل ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے لہٰذا وہ خوابوں میں بھی محتاط رہتا ہے۔ پھر وہ خواب دیکھتا ہے عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پورا ہونے،وہ دیکھتا ہے کہ ہر جمعرات کو اس کا ٹھیکیداراسے مزدوری دے رہا ہے،وہ ہفتے بھر کا معاوضہ وصول کر رہا ہے تو بہت سی ضروریات اس کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ہفتے بھر کا راشن، بوڑھے ماں باپ کی دوائیں،بیوی بچوں کی چھوٹی مو ٹی فرمائشیں جو وہ ہمیشہ آئندہ پر ڈالتا رہتا ہے۔بچوں کے لئے ٹافیاں کیونکہ کھلونے خریدنے کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتا، پھر وہ دیکھتا ہے کہ چار ہزار میں تو ہفتے بھر کا راشن بھی نہیں آتا اور جب وہ اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہے کہ بڑی بڑی مارکیٹوں،پلازوں اور شاپنگ مال میں بڑے بڑے دولت مند،اپنی بڑی بڑی گاڑیوں میں آرہے ہیں اور سامان سے لدے پھندے واپس جارہے ہیں تو وہ اس طبقاتی تقسیم پر خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے، ایک شدید قسم کا احساس کمتری اور نفرت اس کے رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے۔

ایک عام سرکاری ملازم کرائے کے مکانوں میں ساری زندگی گزار دیتا ہے۔اور ساری عمر اپنے ذاتی گھر کے خواب دیکھتا ہے،چھوٹی چھوٹی ضروریاتِ زندگی پوری کرتے کرتے بوڑھا ہو جاتا ہے اور جب ریٹائر منٹ لیتا ہے تو اپنی پس انداز کی گئی تمام جمع پونجی ایک مکان کی تعمیر پر خرچ کر دیتا ہے اس دن کے لئے کہ جب اس مکان کے بڑے گیٹ سے اس کی میت ایک بڑی چارپائی پر برآمد ہوتی ہے اور قصہ تمام شد۔

ایک عام کسان سخت گرمی اور سردی میں زمین میں ہل چلاتا ہے،بیج ڈالتا ہے،پانی دیتا ہے،فصل کاٹتا ہے اور پھر اس تیار شدہ فصل کو گھر لانے کے خواب دیکھتا ہے، بیٹی کی شادی، بیٹے کی فیسیں اور دیگر چھوٹی موٹی ضرورتیں پوری کرنے کے خوابوں میں محو رہتا ہے لیکن اس سے پہلے کہ فصل پک کر گھر پہنچے،وہ قرض خواہوں،جھوٹے سچے عدالتی مقدموں، پٹواریوں اور کمیشن خور ایجنٹوں کی نذر ہو جاتی ہے اور وہ بے چارہ بس خواب ہی دیکھتا رہ جاتا ہے۔

ایک عام آدمی کیا خواب دیکھتا ہے، کیا اس کے خواب اور کیا خوابوں کی اوقات؟ دوسری طرف خاص آدمی خواب نہیں دیکھتے خوابوں کی تعبیریں خریدتے ہیں،الیکشن الیکشن کھیلتے ہیں، کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں اور اربوں وصول کر تے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اگر خدمتِ خلق کا اتنا ہی شوق ہے تو الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کر نے کے بجائے وہ پیشہ غریب عوام کی ضرورتوں کو پورا کر نے پر خرچ کر دیں ۔ لیکن عوامی خدمت کے غم میں مبتلا یہ سیاسی رہنما، جلسے، جلوسوں، اشتہار بازی اور دیگر فضولیات میں بے دریغ خرچ کر تے ہیں اور آخر جائز نا جائز ذرائع سے منتخب ہو کر قو م کی رگوں سے لہو کی ایک ایک بوند کشید کر تے ہیں اور ہمیشہ معزو معتبر ٹھہرتے ہیں۔

عام آدمی کے خواب ہمیشہ تشنہ تکمیل رہتے ہیں لیکن کیا کرے عام آدمی، کیا وہ تعبیروں کے خوف سے خواب دیکھنا چھوڑ دے اور پھر یہ کہ خوابوں پر کس کا اختیار ہے، کیا وہ بے چارہ اپنی مر ضی سے خواب دیکھتا ہے؟

عام آدمی کو ہر بار سہانے خواب دکھائے جا تے ہیں لیکن ہر بار اس کی تعبیر الٹ ہو جاتی ہے کیا جھوٹے خواب دکھانے والوں کی کوئی باز پُرس نہیں ہو سکتی؟ کیا خوابوں کا استحصال کر نے والوں کا کوئی محاسبہ نہیں ہو سکتا ؟ کیا حریمِ خواب میں نقب لگانے والوں پر کوئی تعزیر نافذ نہیں ہو سکتی؟ ہائے عام آدمی اور عام آدمی کے خواب!

تنگ ہو نے لگی زمیں ہم پر

خواب دیکھے تھے آسمانوں کے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر اصغر علی بلوچ

ڈاکٹر اصغر علی بلوچ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد میں شعبہ اُردو کے چیئرمین ہیں۔

asghar-ali-baloch has 4 posts and counting.See all posts by asghar-ali-baloch