صاحب کو مجمع پسند ہے


ماما قادر نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ ماما نے طوطے کو کچھ جملے رٹانے کی بہت کوشش کی مگر طوطا ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ تھک ہار کر ماما کے منہ سے نکلتا، استغفراللہ۔ ایک دن یوں ہوا جب ماما نے تھک کر استغفراللہ کہا تو طوطے نے اچک لیا اور کہا، استغفر اللہ۔ بس اب کیا تھا، طوطا جسے بھی دیکھتا تو شور مچانا شروع کر دیتا تھا استغفراللہ۔ استغفراللہ۔ یوں طوطے کا استغفار اب گھر والوں کے لئے گھنٹی کا کام دینے لگا۔ طوطے کے استغفار سے گھر والوں علم ہو جاتا تھا کہ گھر میں کوئی انسان یا جانور وارد ہوا ہے۔ طوطا چونکہ گھر کا پلا ہوا تھا تو گھرمیں بغیر پنجرے کے پھرتا رہتا تھا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ گھر میں ایک آوارہ بلا کود پڑا۔ بلے کو دیکھ کر طوطا استغفار بھول گیا۔ طوطے نے استغفار کی بجائے آوازیں لگانا شروع کر دیں ٹیں ٹیں ٹیں۔ گھر والے طوطے کے استغفار کے اتنے عادی ہو چکے کہ طوطے کی ٹیں ٹیں بالکل بھول چکے تھے۔ طوطے کی ٹیں ٹیں پر کوئی بھی باہر نہ نکلا۔ بس پھر کیا تھا، طوطا داعی اجل کے منہ لگ گیا۔

یادش بخیر! کراچی صدر میں ہمارے ایک دوست تھے۔ اجداد سے حکمت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ کئی شاگرد سیکھنے کو ساتھ تھے۔ ایک دن میں اور حکیم صاحب ریگل میں پرانی کتابوں کے تھڑے کھنگال رہے تھے۔ پاس ہی ایک مجمع لگا تھا۔ مجمع میں سے سانڈے کے تیل بیچنے والے کی آواز آ رہی تھی۔ حکیم صاحب اس آواز کو سن کر تھوڑے ٹھٹھک گئے۔ عرض کیا حکیم صاحب خیریت؟ مسکرا کر بولے میرے ایک نکمے شاگرد کی آواز ہے۔ کام سیکھ نہیں سکا۔ لگتا ہے سانڈے کے تیل کا دھندا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد مجمع سے مخاطب حضرت نے حکیم صاحب کا نام لیا۔ ہم دونوں چونک پڑے۔ کان لگا کر ذرا سی توجہ دی تو سانڈے والا فرما رہا تھا کہ فلاں حکیم صاحب کے ساتھ میں اتنا وقت گزار چکا ہوں۔ میں آپ کو سچ بتا رہا ہوں کہ حکیم صاحب کو بھی حکمت کا کوئی علم نہیں ہے۔ وہ اپنی ہر دوا میں سانڈے کا تیل ہی ملاتے ہیں۔ حکیم صاحب میری طرف دیکھ کر مسکرا دیے۔ کہنے لگا ذرا چل کر ہم بھی مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم مجمع میں داخل ہو کر خاموشی سانڈے کے تیل کے کرشمات سن رہے تھے۔ سانڈے والے نے پھر کہانی شروع کی۔

”میرے بھائیو۔ یہ سانڈے کا تیل ہے۔ یہ دیکھئے آپ کے سامنے نکالا جا رہا ہے۔ اس تیل میں ہزاروں خصوصیات ہیں۔ یہ جوڑوں کے درد کے لئے اکسیر ہے۔ آپ کو گھٹنوں میں درد ہے، کمر میں درد ہے، جوڑوں میں درد ہے سانڈے کے تیل کی ایک بوتل آزما کر دیکھ لیں۔ ارے ان بچوں کو مجمع سے دور بھگائیں۔ میںآپ کو ایک اہم بات بتانے والا ہوں۔ چلو بچو ہٹو یہاں سے۔ جی تو بھائیو۔ میں کہہ رہا تھا کہ اگر کسی کو مردانہ کمزوری ہے تو سانڈے کا تیل اکسیر ہے۔ میں آپ کو ابھی ایک تصویر دکھانے والا ہوں۔ یہ تصویر ایک انگریز حسینہ کی ہے۔ آپ مجمع سے بچوںکو دور کریں۔ اس حسینہ کا محبوب مردانہ کمزوری کا شکار تھا۔ اس کو کسی نے سانڈے کے تیل کی ایک شیشی دی۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ میں آپ کو اس حسینہ کی تصویر دکھا کر بتاتا ہوں۔ یہ تصویر بچوں کے دیکھنے کی نہیں ہے۔ اس سے پہلے میں آپ کو ایک اور بات بتا دوں۔ یہاں صدر میں فلاں حکیم صاحب بہت مشہور ہیں۔ میں نے چار سال ان کی شاگردی کی ہے۔ وہ حکیم صاحب اپنی ساری دوائیوں میںسانڈے کا تیل ملاتے تھے۔ میں ابھی آپ کو وہ تصویر۔ (یہاں ان کی نظر مجمع میں کھڑے حکیم صاحب پر پڑی)۔ وہ تصویر۔ سانڈا۔ بہت اچھا تیل ہے۔ سانڈا۔ سانڈا۔ استغفراللہ“۔

سبق! بچپن میں اسکول کے استاد جب کوئی کہانی لکھواتے تھے تو آخر میں ایک جملے میں کہانی سے حاصلکیے گئے سبق والا جملہ بھی لکھواتے تھے۔ سلطان کے سلمان فرماتے تھے کہ بے بی کو بیس پسند ہے۔ ماما قادر فرماتے ہیں کہ احباب کو مجمع پسند ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah