افغانستان میں ہم جنس پرستوں کی خفیہ زندگی


افغانستان میں ہم جنسیت ایک ایسا موضوع ہے جو کہ ممنوع ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اس موضوع پر بات کبھی کبھار ہوتی ہے اور زیادہ تر لوگ ہم جنس پرستی کو غیر اخلاقی اور غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں افغانستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی کے بارے میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ ملک میں گے، لزبین اور ٹرانس جیندڈر افراد کی اصل تعداد کیا ہے۔

بی بی سی نے چار ایسے ہی افغانوں سے بات کی جن کے جنسی رجحانات عام لوگوں سے مختلف ہیں۔ ان سب نے ہمیں بتایا کہ وہ کس طرح ایک خفیہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن یہ چاروں اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے جنسی رجحانات پرسمجھوتہ نہیں کریں گے۔

(حفاظتی اقدامات کے پیش نظر چاروں افراد کے اصل نام خفیہ رکھے جا رہے ہیں۔)

زینب کی عمر 19 سال ہے۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں، لیکن ان کے والدین اور بہن بھائیوں کو بالکل علم نہیں کہ زینب کیا محسوس کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ میں کوئی پندرہ، سولہ سال کی تھی جب مجھے احساس ہوا کہ میں مردوں کو پسند نہیں کرتی۔’ ‘ان دنوں میں ایک بیوٹی پالر میں کام کرتی تھی۔ وہاں میرے ارد گرد بہت سے لڑکیاں ہوا کرتی تھیں۔ تب ہی مجھے لگا کہ مجھے لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ اچھی لگتی ہیں اور میں لڑکیوں میں زیادہ کشش محسوس کرتی ہوں۔’

زینب کے بقول انھیں اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور اپنی پہلی ساتھی یا پارٹنر کو یہ بتانے میں سال لگ گئے کہ وہ اسے ایک عرصے سے پسند کرتی ہیں۔ جب زینب نے اپنی برسوں پرانی سہیلی کو بتایا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہیں، تو ان کی دوست کا ردعمل ایسا تھا جیسے اسے بہت دھچکا لگا ہو۔ ‘میں نے اپنی سہیلی کو بتایا کہ میں اس کے بارے میں وہی جذبات رکھتی ہوں جو عموماً ایک لڑکا کسی لڑکی کے لیے رکھتا ہے۔’ اس اظہار محبت کے کچھ عرصہ بعد تک زینب کی سہیلی ان سے دور ہو رہی اور دونوں میں فاصلہ پیدا ہو گیا، لیکن بعد میں دونوں دوستوں نےایک جوڑے کی شکل اختیار کر لی۔ زینب کے بقول اگرچہ وہ دونوں ہفتے میں ایک یا دو بار ہی مل پاتی تھیں، لیکن ان کا یہ نیا رشتہ باقی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ زینب کہتی ہیں کہ ‘ہمارے ہاں لیزبین خواتین کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے، لیکن وہ اس پر کُھل کر بات نہیں کر سکتیں۔’

‘افغانستان میں ہم جنس پرست خاتون ہونے کو غیر اسلامی سمجھا جاتا ہے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ آپ لیزبین ہیں تو اس کے نتیجے میں آپ کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ بات میرے لیے بہت اہم ہے کہ میرے گھر والوں کو کبھی معلوم نہ ہو کہ میں لیزبین ہوں۔’ جہاں تک اپنے ارد گرد کے لوگوں کی جانب سے ناقبولیت اور انتقامی کارروائی کے خوف کا تعلق ہے، تو اس کا اظہار ان تمام افراد نے کیا جن سے بی بی سی نے اس رپورٹ کے سلسلے میں بات کی۔

اس کے علاوہ ان افراد نے یہ بتایا کہ انھیں شادی کے لیے گھر والوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ خاندان والے چاہتے ہیں کہ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ جنسِ مخالف کے فرد سے شادی کریں اور افغان معاشرے کی روایات کے مطابق زندگی گزاریں۔

داؤد جب 18 سال کے تھے تو انھیں احساس ہوا کہ وہ ایک ہم جنس پرست مرد (گے) ہیں، تاہم اس کے باوجود انھوں نے ایک خاتون کے ساتھ منگنی کر لی۔ ان کے بقول ‘یہ منگنی میری رضامندی کے بغیر کی گئی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ یہ منگنی توڑ دوں کیونکہ مجھے مخالف جنس میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی تھی۔’ داؤد کی منگی توڑ دی گئی اور اب وہ ایک مرد کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم دونوں کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ جب ہم ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی دوسری ہی دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔’ لیکن زینب کی طرح داؤد بھی ایک دوھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

‘افغانستان میں ہم جنس پرستی کو ایک بہت بُری اور منفی بات سمجھا جاتا ہے۔ اگر لوگوں کو ہم دونوں کے بارے میں معلوم ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں پھانسی پر لٹکا دیں۔’

جہاں تک تعزیراتِ افغانستان کا تعلق ہے تو اس کی شق نمبر 427 میں جس جنسی جرم کا ذکر ملتا ہے وہ ‘پیڈیسری’ ہے، یعنی بڑی عمر کے مرد اور ایک لڑکے کے درمیان جنسی تعلق۔ اس جرم کی سزا ‘طویل قید’ ہو سکتی ہے۔ اگر افغانستان کی قانونی دستاویزات کو دیکھا جائے تو واضح نہیں ہوتا کہ ملک کا قانون ہم جنسیت کو کس نظر سے دیکھتا ہے، لیکن افغانستان کے قانونی حلقوں اور یہاں کی ہم جنس پرست برادری کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم جنس پرستی کو یہاں جرم سمجھا جاتا ہے

تاہم افغان اور اسلامی قوانین کے ماہر اور برطانیہ کی ہل یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر نیاز شاہ کہتے ہیں کہ افغانستان کا پینل کوڈ دراصل اسلامی قوانین کے اس اصول کی عکاسی ہیں جس کے تحت اسلامی معاشرے میں ہم جنس پرستی پر پابندی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر نیاز شاہ کہتے ہیں کہ ‘اسلامی قانون صرف ایک قسم کے جنسی فعل کی اجازت دیتا ہے، اور وہ ایک بالغ مرد اور بالغ خاتون کے درمیان اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ ایک دوسرے سے شادی کر لیں۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ کا کہنا تھا کہ ‘اگر دو نوجوان لڑکے یہ اعلان کر دیں کہ وہ ہم جنس پرست ہیں اور وہ ایک ‘گے’ جوڑے کی شکل میں اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو اس پر لوگ بہت برہم ہوں جائیں گے، اور کچھ لوگ چاہیں گے کہ ان لڑکوں کو مار دیا جائے۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں ماضی میں اور اِن دنوں بھی بہت سے لوگ مختلف قسم کے ہم جنس رشتوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور کئی مرد دوسرے مردوں سے جنسی تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہ مرد خود کو ‘گے’ نہیں سمجھتے کیونکہ یہ لوگ خواتین سے شادیاں بھی کر لیتے ہیں۔’

ڈاکٹر شاہ کے بقول افغان معاشرے میں ایک مرد کا دوسرے مرد سے پیار، ایک اجنبی تصور ہے۔ ‘میں افغانستان میں کسی مرد کے دوسرے مرد کے ساتھ اس قسم کے تعلق کو نہیں جانتا جس میں وہ دونوں کھلے عام ایک دوسرے کے ساتھ رشتے میں ہوں اور ان کا کسی خاتون سے کسی قسم کا جنسی تعلق نہ ہو۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افغانستان کے ایک معروف عالمِ دین شمس الرحمان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر علما کے درمیان اس معاملے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اگر ہم جنسیت کا فعل ثابت ہو جائے تو اس کی سزا موت ہی ہونی چاہیے۔ ‘ان دونوں کو ایک پرانی دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے وہ دیوار ان کے اوپر گرا دینی چاہیے اور یوں انھیں ایک دردناک موت مارنا چاہیے۔’

افغانستان میں ایک شخص جس کی خواہش ہے کہ اس کے ملک میں ‘ایل جی بی ٹی’ برادری کے لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک ہونا چاہیے، وہ نعمت سادات ہیں۔ وہ اس سلسلے میں افغانستان میں ایک مہم بھی چلا رہے ہیں۔ نعمت سادات نے تین سال پہلے کھلے عام تسلیم کر لیا تھا کہ وہ ‘گے’ ہیں۔ ‘جب میں نے یہ اعلان کیا تو میرے خاندان کے زیادہ تر لوگوں اور میرے دوستوں نے مجھ سے تعلق توڑ لیا۔ ان میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو افغانسان سے زیادہ مغربی ممالک میں زندگی گزار چکے تھے۔

آج کل واشنگٹن میں رہائش پزیر نعمت سادات کے بقول ‘ حتٰی کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اشرافیہ، ہارورڈ اور برکلے جیسی یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے لوگوں کو بھی مجھے قبول کرنے میں مشکل ہوئی۔’ سادات کی پیدائش افغانستان کی ہے لیکن وہ اس کے بعد کئی سال بیرون ملک رہے اور پھر سنہ 2012 میں تعلیم کے شعبے میں ملازمت کی غرض سے افغانستان واپس آ گئے۔

سادات نے بتایا کہ جب انھوں نے کھلے عام تسلیم کر لیا کہ وہ ‘گے’ ہیں تو افغان حکام نے ان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا اور انھیں کابل کی امیریکن یونیورسٹی کی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ افغانستان میں تھے تو انھیں کابل کی ہم جنس پرست کمیونٹی کے افراد سے ان کی زندگیوں کے بارے میں بات کرنے کا موقع ملا۔ ‘دنیا کے باقی شہروں کی طرح کابل میں بھی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں اس کمیونٹی کے لوگ آپس میں ملتے ہیں، جیسے جسمانی ورزش کے جِمز، پارک یا شاپنگ مالز وغیرہ۔’ ‘لیکن ان مقامات کی ملاقاتیں زیادہ تر وہاں تک محدود رہتی ہیں، آپ ایک دوسرے سے ایک آدھ بار ہی مل پاتے ہیں۔’

سادات کہتے ہیں کہ چونکہ زیادہ تر لوگ اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہتے ہیں، اس لیے وہ کسی کو اپنے ساتھ گھر نہیں لےجا سکتے۔ اس لیے انھیں کوئی دوسری جگہ کرائے پر لینا پڑتی ہے، جیسے کسی سٹور کا پیچھا والا کمرہ۔ ‘میں نے دیکھا کہ کابل میں ہم جنس پرست لوگوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دیرپا دوستی یا رشتہ قائم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایل جی بی ٹی افراد کی زندگی شرعی قوانین میں جکڑی ہوئی ہے۔ کسی ایسے شخص سے شادی جس سے وہ سچی مبحت کرتے ہوں، یہ تو بڑے دور کی بات ہے۔ افغانستان کے ہم جنس پرست افراد تو اپنے لیے جینے کا حق بھی نہیں مانگ سکتے۔’

نعمت سادات کو امید ہے کہ آخر کار ایک دن قدامت پسند مسلمان معاشروں میں بھی ہم جنس پرست افراد اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن نعمت سادات جس مغرب میں رہائش پزیر ہیں، وہاں بھی ان افراد کے حقوق کا تعین حال ہی میں ہوا ہے اور اب بھی یہ حقوق دباؤ کا شکار ہیں۔

مثلاً جرمنی میں سنہ 1994 تک مردوں کے درمیان جنسی تعلق غیر قانونی تھا اور حالیہ عرصے میں ہی ریاست ایسے افراد کو ہرجانہ دلوانے کا انتظام کر رہی ہے جنھیں ماضی میں ان کی جنسی شناخت کی وجہ سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اور یہ صرف اسلام ہی نہیں جو ہم جنس پرستی کو ایک غیر اخلاقی فعل تصور کرتا ہے۔ اگرچہ اس سال کے اوائل میں کیتھولک عقیدے کے روحانی پیشوا، پوپ فرانسس نے کہا تھا کہ جو سلوک ماضی میں ہم جنس پرست افراد کے ساتھ روا رکھا گیا ہے، اس پر کلیسا کو معافی مانگنی چاہیے، تاہم بہت سے قدامت پسند عیسائیوں کے خیالات بھی اسی قسم کے ہیں جو اسلام میں ہیں۔ تاہم افغانستان میں اس قسم کی تبدیلیوں میں ابھی بہت عرصہ لگے گا۔

24 سالہ شمیلہ ٹرانس جینڈر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پیدا تو لڑکا ہوئی تھیں، لیکن ان کو ہمیشہ ‘لڑکیوں والے کام’ اچھے لگتے تھے۔ چھوٹی عمر سے ہی انھیں گڑیا سے کھیلنا اور لڑکیوں میں اٹھنا بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔ لیکن وہ جب سے بالغ ہوئی ہیں، انھیں اپنی جنسی ترجیحات کو خفیہ رکھنا پڑتا ہے۔ ‘میں خود کو ایک قیدی کی طرح اس کمرے میں بند کر لیتی ہوں۔ میں آئینے کے سامنے اپنا بناؤ سنگھار کرتی رہتی ہوں، موسیقی سنتی ہوں، ٹی وی دیکھتی ہوں اور ڈانس کرتی رہتی ہوں۔’

ان کا ساتھی بھی اسی بات پر اصرار کرتا ہے کہ شمیلہ کو اپنی شناخت کو ایک راز ہی رکھنا چاہیے۔ شمیلہ کے بقول ‘ میرا پارٹنر بہت سخت ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں لوگوں کے سامنے ہمیشہ لڑکوں والے کپڑے پہنا کروں۔ ‘میرا سب سے بڑا المیہ یا حسرت یہ ہے کہ میں لڑکی کیوں نہیں پیدا ہوئی۔ میں چاہتی ہوں کہ میں بچے پیدا کروں، میرا بھی ایک شوہر ہو اور میں ایک اچھی زندگی گزاروں۔’

صرف شمیلہ ہی نہیں، بلکہ اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرنے والے تمام افراد نے بتایا کہ انھیں بھی اسی قسم کے احساسات ہوئے اور وہ بھی خود شناسی اور خود کو اندر سے ٹٹولنے کے مراحل سے گزرے۔ سب خو کو امید اور مایوسی کے درمیان پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن یہ تمام لوگ اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی اصل شناخت اور جنسی ترجیحات پر قائم رہیں گے۔

نعمت سادات پُرامید ہیں کہ حالت بہتر ہو جائیں گے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی صرف اسی وقت آ سکتی ہے جب ہم جنس پرست افراد کے حقوق کو اقلیتوں کے حقوق کے بڑے تناظر میں دیکھا جائے۔ ‘جب تک ہم متحد نہیں ہو جاتے، اس وقت تک کسی خوش وخرم ایل جی بی ٹی کمیونٹی کی امید کرنا غلط ہوگا، اور نہ ہی خواتین یا دیگر اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری۔

(آریا احمد زئی)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 1288 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp