جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں


پاکستان میں ڈان لیکس کے معاملے پر سیاسی اور فوجی قیادت میں کشیدگی اس وقت تو بظاہر ختم ہو گئی جب آئی ایس پی آر نے اپنی متنازع ٹویٹ واپس لے لی مگر آٹھ مہینے جاری رہنے والے ریاستی اداروں کے تناؤ نے پاکستانی صحافت پر کس قدر منفی اثرات چھوڑے ہیں؟

اس سلسلے میں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہؤئے کہا ‘ڈان کے رپورٹر اور ایڈیٹر دونوں نے اس مسئلے پر بہت اصولی موقف اپنایا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس خبر کا ثبوت موجود ہے اس لیے ریاستی ادارے جس بھی فورم پر لے کر جائیں گے وہ خبر کو سچ ثابت کریں گے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘لیکن اگر وہ خبر سے منسلک اپنے ذرائع کو خفیہ نہ رکھتے تو پھر صحافی کو اندر کی خبر کون دیتا؟ صحافت کا معیار اس حد تک گر جاتا کہ ٹی وی چینل اور اخبار صرف پریس ریلیز پر ہی چلتے۔’ اسی لیے پی ایف یو جے جیسے بعض ادارے ڈان پر ریاستی دباؤ کے خلاف یکجا ہوئے۔

صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظمیں یہ یاددہانی کئی مرتبہ کرا چکی ہیں کہ پاکستان میں صحافی ریاستی اور غیرریاستی دونوں قسم کے دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان میں بعض واقعات میں ایسے صحافیوں کی پراسرار ہلاکت ہوئی جنھوں نے اپنی ذمہ داری دیانتداری سے پوری کرتے ہوئے ریاستی بیانیے کو غلط ثابت کیا۔ ان میں شامل ہیں شمالی وزیر ستان کے ہلاک ہونے والے صحافی حیات اللہ جنھوں نے پاکستانی ریاست کے موقف کے برعکس یہ خبر دی کہ ملک میں ہونے والے ڈرون حملے پاکستان نہیں بلکہ امریکہ کر رہا ہے جو سچی ثابت ہوئی۔ دو ہزار گیارہ میں فوجی تنصیبات پر حملوں کی تحقیقات کرنے والے صحافی سلیم شہزاد کی تشدد زرہ لاش منڈی بہاؤ الدین سے برآمد ہوئی۔

تین برس پہلے صحافی حامد میر پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس کے بعد سے یہ تاثر عام ہے کہ ان حملوں کے بعد بیشتر پاکستانی الیکٹرونک میڈیا اور بعض اخبارات سیلف سینسرشپ کی راہ پر چل نکلا ہے۔

تاہم اس سلسلے میں وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘میں اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ میں میڈیا دیکھتی ہوں ۔ سیاست میں آنے سے پہلے مجھے اپنی طالب علمی کا دور بھی یاد ہے تو میرے خیال میں صحافیوں کی آزادی بڑھی ہے۔’

تو پھر ٹی وی چینلز بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بات کیوں نہیں کرتے ؟ اگر فوج پر تنقید کی جائے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان تنہائی کا شکار ہو رہا ہے تو اتنا واویلا کیوں؟

اس کا جواب دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا ‘جس طرح سے ابھی ریاستی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور ریاست اس کی سربراہی کر رہی ہے تو میرے خیال میں جیسے جیسے جمہوریت پاکستان میں مضبوط ہوتی جائے گی ویسے ہی تمام ادارے اپنی ذمہ داری اور اصل مقام سمجھیں گے۔ وہ وقت آئے گا۔’

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی زاہد حسین نے کہا ‘پاکستانی صحافت کو درپیش بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر مقامی ٹی وی چینلز ’پروکسیز‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کوئی فوج کےموقف کو زیادہ وزن دیتا ہے تو کوئی کسی سیاسی حکومت کے، تو جب صحافی کسی ریاستی ادارے کی زبان بولنے لگے تو یہ آزادی صحافت کے لیے زیادہ خطرناک لمحہ ہے۔’

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈان لیکس کے معاملے نے نہ صرف مقامی میڈیا کی جانب داری سے ایک مرتبہ پھر پردہ اٹھایا بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ خبر رکوانے کے لیے دیگر ادارے سیاسی حکومت پر اتنا دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو اس معاملے کی تحقیقات ختم ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دینا پڑا جس کے اثرات آزادی صحافت کے لیے بھی برے ثابت ہو سکتے ہیں۔

)ارم عباسی(


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 375 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp