پرویز ہود بھائی، اقبال احمد میموریل ٹاک – “اکیڈیمیا اور مزاحمت”


تیرہ مئی بروز ہفتہ اقبال احمد میموریل ٹاک بعنوان “اکیڈیمیا اور مزاحمت” اکادمی ادبیات اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تادم تحریر اس واقعے کی ان گنت شرحیں سامنے آ چکی ہیں اور شاید یہ سلسلہ ابھی جاری رہے۔ اگر یہ سب نہ ہوا ہوتا تو شاید اس تحریر کا نفسِ مضمون بھی جدا ہوتا اور اسلوب بھی تاہم اب وقائع نگاری کی بجائے خودنوشت کے لہجے میں چند گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔ یہ اس محفل کے انعقاد کے خیال سے لے کر اس لمحے کی داستاں ہے جب ہم واپس نکلتے ہوئے اکادمی کی سیڑھیوں سے اتر رہے تھے۔ اس کہانی میں بعد ازاں جو موڑ آئے، ان کے ذکر کا فریضہ بہت سے احباب بخوبی انجام دے رہے ہیں۔

اقبال احمد سے میرا اولین تعارف اس زمانے میں ہوا جب میں ایف سی کالج میں پڑھا کرتا تھا۔ مشعل بکس کی جانب سے ہوئے چند تراجم میں ان کا نام اور اس سے منسوب ادارے سے تعارف ہوا۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک ان کی چند تحریریں نظر سے گزریں اور وہ میرے لیے شناسا ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا  یہاں تک کہ حالیہ سالِ نو کی تقریب میں پروفیسر ہود بھائی صاحب کے وہاں ایک نجی دعوت میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ وہیں ان سے کچھ دیر اقبال احمد کے حوالے سے بات چیت بھی جاری رہی۔ پھر چند ماہ بعد کہ جب میں لاہور اپنے ہاسٹل گیا تو جاسم کے ہمراہ اقبال احمد کی ایک امریکی یونیورسٹی میں تیسری دنیا اور انقلاب کے موضوع پر کی گئی تقریر کی ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا۔ تقریر کے مندرجات سے سوا بھی میں ان کی شخصیت اور قدرت کلام کے سحر میں گرفتار ہوگیا۔ ان دنوں پنجاب یونی ورسٹی میں حالات نہایت کشیدہ تھے اور ہم دونوں سکونِ ذہن کی نیت سے اپنے آپ کو مسلسل ایک مخصوص کیفیت میں رکھے ہوئے تھے۔ ان لمحات میں اقبال احمد کا تاثر قلب پر پوری طرح نقش ہو گیا۔ لاہور سے واپسی ہوئی مگر اقبال احمد سے جانکاری کا عمل جاری رہا ۔ میں نے صنوبر کو ان کے بارے میں بتایا تو اس کے محسوسات بھی مشترک پائے۔ اپریل کے آخری دن تھے کہ یونہی اک دن بیٹھے بیٹھے جب میں انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں کچھ تلاش کر رہا تھا مجھے یاد آیا کہ گیارہ مئی کو ان کا یوم وفات آرہا ہے۔ میں آثار پسند شخص واقع ہوا ہوں سو پہلا خیال یہی آیا کہ اس دن ان کے مزار پر حاضری دی جائے اور چند لمحے وہاں گزارے جائیں۔ اس باب میں وضاحت اس لئے دی کہ میرے خیال کو قبر پرستی نہ سمجھا جائے۔ مجھے اتنا تو معلوم تھا کہ وہ اسلام آباد ہی میں مدفون ہیں مگر مرقد کہاں ہے یہ علم نہ تھا اور کسی قدر کوشش کے باوجود بھی نہ ہوسکا۔ اسی دوران اچانک ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ ان کا مزار تو ملنے سے رہا کیوں نہ ان کی یاد میں چند زندہ افراد کو جمع کیا جائے اور اک سانس لیتی یادگار تراشی جائے۔ اس فیصلے کے محرکات میں اقبال احمد سے منسوب وہ یادگاری لیکچرز ہو سکتے ہیں جو مستقل بنیاد پر امریکہ کے اس ادارے میں منعقد ہوتے ہیں جہاں اقبال احمد پڑھاتے رہے تھے۔ ان کی ویڈیوز ہم نے مل کر دیکھی تھیں جس میں نوم چومسکی ، طارق علی اور اروندتی رائے سمیت عالمی شہرت کے حامل کئی دانشور مدعو کیے گئے تھے۔ ہم نے سوچا ہم ایسا اہتمام تو نہیں کر سکتے تاہم بساط بھر کوشش میں کوئی حرج نہیں۔ طے یہ ہوا کہ پروفیسر ہود بھائی سے خطاب کا وقت لیا جائے اور چونکہ پنجاب یونیورسٹی کے حالات سمیت مشال خان کا سانحہ ابھی ذہن میں تازہ تھا لہذا فیصلہ ہوا کہ عنوان اکیڈیمیا اور مزاحمت رکھا جائے۔ ہماری نیت تھی کہ جہاں جدید تعلیم پر صحت مند نقد کی ضرورت پوری کی جائے وہیں اقبال احمد کی شخصیت کی مناسبت سے اکیڈیمیا کے اس کردار پر بات کی جائے جو معاشرے کے عمومی شعور کی سلامتی اور حقوق سے آگاہی کا امین ہوتا ہے۔

اگلے ہی دن پروفیسر صاحب سے رابطہ کر کے رائے طلب کی گئی تو وہ ازحد خوش ہوئے اور نہ صرف اپنی مکمل مدد کا یقین دلایا بلکہ بے پناہ شفقت کا اظہار بھی کیا۔ اپنے اوقات کار کی مناسبت سے انہوں نے مشورہ دیا کہ جمعہ تا اتوار کسی بھی دن وہ ہمیں وقت دے سکتے ہیں۔ ہم نے گیارہ مئی کے فوراً بعد کا ہفتہ منتخب کیا اور انہیں امکانی تاریخ سے آگاہ کر کے خطاب کے لیے ہال ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی۔ کئی امکانات زیرغور آئے۔ انہی دنوں محترم اشفاق سلیم مرزا صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پدرانہ شفقت سے یہ بوجھ اپنے سر لے لیا اور ہمیں حوصلہ دیا کہ ہال مہیا کرنا ان کی ذمہ داری ہے ہم باقی تیاریاں مکمل کریں۔ ہم نے ہودبھائی صاحب سے رابطہ کر کے نشست کی تاریخ تیرہ مئی طے کردی۔ اب ہمارے پاس انتظام کے لیے کافی مہلت تھی۔

بھائی عثمان قاضی کی وطن واپسی کے بعد ان کے دولت کدے پر حاضری ہوئی تو ان سے بھی اس بارے میں مشورہ طلب کیا گیا۔ انہوں نے کامل انہماک سے بات سنتے ہوئے ہمیں مشورہ دیا کہ ڈاکٹر اے ایچ نئیر اور کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹر ریاض احمد کو بھی مدعو کیا جائے اور خطاب کی بجائے پروگرام کو پینل ڈسکشن کی صورت دی جائے۔ اسی خیال کی توسیع میں یہ رائے بھی سامنے آئی کہ محض خشک گفتگو ہی کیوں بلکہ اظہار کے کلچرل ذرائع بھی برتے جائیں۔ چنانچہ طے ہوا کہ صنوبر مزاحمت کے موضوع پر کلام گائیں گی اور عثمان بھائی تحت الفظ میں قرآت کریں گے جس پر زینب آپا کلاسیکل رقص پیش کریں گی۔ اس توسیع سے جہاں ایک پل کے لیے گوناگوں فراونی کا احساس ہوا وہیں پروگرام کے حوالے سے ہمارا جوش بڑھ گیا۔ ہود بھائی صاحب کو اس تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص تپاک کے ساتھ اسے فورا قبول کر لیا۔ ڈاکٹر نئیر صاحب کا ای میل تو موجود تھا لیکن ڈاکٹر ریاض سے رابطے کا کوئی ذریعہ فی الوقت میسر نہ تھا۔ چند دوستوں کے ذریعے ان کا فون نمبر حاصل کیا گیا۔ ہم متذبذب تھے کہ ڈاکٹر ریاض صاحب کو اسلام آباد بلانے کے اخراجات کیونکر پورے کیے جائیں گے۔ تاہم ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھائی عثمان قاضی کی پیش گوئی کے عین مطابق ناصرف نہایت محبت سے بات کی بلکہ اپنے خرچ پر آنے کی ہامی بھرلی۔ اگلے دن یہی جواب ڈاکٹر نئیر صاحب کی طرف سے بھی موصول ہوا۔ اب ہمارے پروگرام کا منصوبہ مکمل ہوچکا تھا اور بس ہال کی دستیابی کے آخری مراحل باقی تھے۔ چونکہ ہمیں ہال بلا معاوضہ ہی درکار تھا جو اس وقت تک کے امکانات کے مطابق اکادمی ادبیات یا مقتدرہ قومی زبان ہی ہو سکتا تھا ۔ لیکن اب مصیبت یہ پڑی کہ ڈاکٹر ریاض احمد صاحب کا نام سن کر بعض کرم فرما ٹھٹک گئے۔ معلوم ہوا کہ ان کی شرکت کی وجہ سے کسی سرکاری ہال کی دستیابی نہایت دشوار ہے۔ یہ سن کر ہم دونوں مخمصے میں پڑ گئے۔ ڈاکٹر ریاض اور ڈاکٹر نئیر سے رابطہ کاری کا کام چونکہ صنوبر کے ذمے تھا لہذا وہ زیادہ پریشان ہو گئی۔ ہم نے لوک ورثہ میں ہال لینے کی کوشش کی جو ڈائریکٹر صاحبہ کے شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ اب ہمارے پاس کوئی راہ نہ بچی تھی چنانچہ مشورہ ہوا کہ ہود بھائی صاحب سے درخواست کی جائے کہ وہ خلدونیہ میں کوئی ہال خود ہی لے کر دیں۔ انہوں نے ہماری ناروا فرمائش کو بھی قبول کرلیا لیکن دوسرے دن خود اطلاع دی کہ خلدونیہ میں ایسا کوئی ہال موجود ہی نہیں۔ اب ہمارے پاس دو ہی راستے تھے۔ یا کسی طرح رقم کا بندوبست کر کے نجی طور پر ہال حاصل کیا جائے یا ڈاکٹر ریاض احمد کو مجبوری بتا کر معذرت کی جائے۔ چونکہ رقم کا بندوبست قریباً محال تھا لہذا نہایت پژمردگی سے ڈاکٹر ریاض سے رابطہ کیا گیا اور صورت حال گوش گزار کی گئی۔ وہ ازحد حلیم نکلے اور فرمایا کہ آپ کو دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابھی پروگرام کر لیں۔ مجھے کسی اور دن کے لیے بچا رکھیے۔ مجھے اس لمحے شدید خفت محسوس ہوئی۔

اگلے روزہم دونوں اشفاق مرزا صاحب کے ساتھ اکادمی ادبیات کی ایک نشست میں گئے۔ وہاں چیئرمین ڈاکٹر بگھیو صاحب سے خوشگوار ملاقات رہی۔ ہال کی بات طے ہو گئی۔ مرزا اشفاق کا خیال تھا کہ چونکہ تیس سے چالیس لوگ ہی آئیں گے تو رائٹرز کیفے کے ساتھ کا چھوٹا ہال لیا جائے۔ اس پر ہم دونوں نے سخت اختلاف کیا۔ ہم نے اکادمی کے ایک عہدیدار کے ہمراہ جا کر نا صرف ہال کا خود جائزہ لیا بلکہ دفتری شرط کے مطابق کیلنڈر پر تیرہ مئی کےخانے میں اپنے پروگرام کا نام بھی لکھوا دیا۔ اس سے اگلے ہی روز ہم نے طریقہ کار کے مطابق اسلام آباد کلچرل فورم کے لیٹر ہیڈ پر ایک درخواست چئیرمین صاحب کو پیش کی جسے فوراً قبول کر لیا گیا۔

اس دوران شکور رافع صاحب سے رابطہ کیا گیا اور رابعہ سمیت ان کے بچوں کا ایک ایکٹ پلان کیا گیا جو صنوبر کے گانے پر پرفارم ہونا تھا۔ ایک شام قاضی بھائی کی طرف بسر کی گئی اور احتیاط سے ایک نظم منتخب کی گئی۔ عثمان بھائی کی قرآت کی سرشاری ایک مستقل باب ہے۔ اسٹیج کے پس منظر کے لیے اقبال احمد کی ایک پرکشش تصویر کے ساتھ نشست کی تفصیل کا بیان پردے پر چھپوایا گیا۔ اس دوران میں سوچتا رہتا کہ کل سے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ابتدا کے چند رسمی جملے دہرانے کی مشق کیا کروں گا۔ فدوی ابتدا کرنے میں ہمیشہ سے کاہل پایا گیا ہے تاہم تحریک ہو چکنے کے بعد اپنی معمول کی بے خودی میں چلا آتا ہے۔ تاہم پروگرام سے پہلے کے دو دن نہایت مصروف رہے۔ اسی دن ہم نے نوم چومسکی کو ای میل کی اور اپنے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان سے استدعا کی کہ وہ اس حوالے سے اپنا پیغام ارسال فرمائیں جسے تقریب میں پڑھ کر سنایا جا سکے۔ صنوبر کو یہ خیال کافی تاخیر سے آیا تھا جس کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے میں ہمیں لمحہ بھر نہ لگا۔

اسی بے خوابی میں تیرہ مئی کی صبح ہو گئی اور گیارہ بجے کے قریب پروگرام کی کیفیت طاری ہونا شروع ہوئی۔ متوقع سامعین کی محبت میں کاغذ پر اقبال احمد کا مختصر شخصی خاکہ اور موضوع کا تعارف نیز اس سے متعلقہ چند امور لکھ لیے اور خود اپنی حفاظت کے لیے ایک اور صفحے پر ابتدا کے رسمی جملے لکھ لیے۔ تین بجے اشفاق صاحب کے ہمراہ روانہ ہوا۔ صنوبر وہاں پہنچ چکی تھی۔ ہفتے کا دن تھا اور اکادمی میں چھٹی تھی۔ سوائے ایک دو ملازمین کے کوئی بندہ موجود نہ تھا۔ ہم نے جا کر ہال کی کرسیاں سیدھی کرنا شروع کیں۔ کرسیوں پر چڑھ کر مسلسل کئی کوششوں کے بعد بیک ڈروپ لگایا۔ مہمانوں کی کرسیاں ترتیب دیں اور مائیک آن کیا۔ صنوبر نے مزید آزمائش کے لیے ایک بار گانا گا لیا لیکن مجھے ہمت نہ ہوئی کہ تقریب کے افتتاح کی مشق کر لیتا۔ جی ہلکا کرنے کے لیے میں باہر آکر سگریٹ پینے لگا۔ تب تک چار بج چکے تھے اور اکا دکا لوگ آنا شروع ہو گئے۔ میں باری باری ان سے ملتا رہا اور ہال کی جانب رہنمائی کرتا رہا ۔ تب تک ہم خوفزدہ سے بھی تھے کہ نامعلوم کتنے لوگ آئیں۔عثمان بھائی اور زینب آپا بھی پہنچ گئے اور شکور صاحب اور بچے بھی آ گئے اور سب نے دستیاب وسائل کے مطابق آخری مشق بھی کرلی۔

 بہرحال آمد کا سلسلہ بڑھتا گیا اور اسی دوران ہود بھائی اور ڈاکٹر نئیر بھی پہنچ گئے۔ میں نے صنوبر کو فون کیا کہ جلدی سے نیچے آ جاؤ۔ مرکزی دروازے پر ان کا استقبال اور آمد کا شکریہ ادا کیا ۔ پرویز صاحب کی اہلیہ ہمراہ تھیں۔ ان معززین کی معیت میں ہم ہال کے اندر پہنچے تو بیشتر لوگ متوجہ ہو گئے اور محفل شروع ہونے کے آثار معلوم ہونے لگے۔ چند مہمانوں کے لئے مختصر انتظار کا فیصلہ ہوا۔ پندرہ منٹ بعد ہود بھائی نے مجلس کے آغاز کی ہدایت کی۔ اب میں نظریں بچاتا ہوا مائیک کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ ذرا سی جھجک محسوس ہوئی جو بہرحال مہمانوں کے اسٹیج پر آکر بیٹھنے کے بعد ختم ہو گئی۔ جب میں مائیک اشفاق صاحب کے حوالے کر کے نئیر صاحب کے ساتھ کی کرسی پر بیٹھا تو میں نے سامعین پر نظر ڈالی۔ اب زیادہ لوگ آ رہے تھے اور جہاں جگہ ملتی بیٹھے جا رہے تھے۔ عثمان بھائی اور زینب آپا نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے مسلسل دوڑ دھوپ کر رہے تھے۔ اب مجھے اقبال احمد کا سوانحی خاکہ پڑھنا تھا۔ سامعین کا انہماک دیدنی تھا جس کی وجہ سے میرا اعتماد بحال رہا۔ اس کے بعد موضوع کا تعارف کراتے ہوئے میں ہود بھائی صاحب کے “ہم سب” پر چھپنے والے ایک حالیہ انٹرویو سے اقتباس پیش کر کے اپنے لکھے سوالات پیش کرنا شروع کیے تو صورتحال مزید موافق ہو گئی۔

ڈاکٹر نئیر تشریف لائے تو انہوں نے سوالات کی فہرست پرنٹ شکل میں مہیا نہ کرنے کا شکوہ کیا۔ میں نے عرض کی کہ جناب سوالات کی یہ فہرست تیار کرتے وقت فدوی نے آپ کے اور ہودبھائی کے مختلف کالمز سے کافی استفادہ کیا ہے لہذا آپ پر ان کی بندش لاگو نہیں ہوتی آپ اپنے شائع شدہ خیالات کو تاریخی تسلسل میں ایک گفتگو کے انداز میں چلاتے رہے یہی ہمارا مقصد تھا۔ اب ہود بھائی کو دعوت دی گئی اور ان کے خطاب کے دوران حاضرین کا انہماک کامل تر ہو گیا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس دوران میں اٹھ کر صنوبر سے انتظام کا بھی پوچھتا رہا اور زینب آپا کو اطلاع دی کہ اب آپ نے آنا ہے۔

ہود بھائی کے خطاب کے انجام پر محفل غم میں ڈوب چکی تھی۔ میں نے بس اتنا کہا کہ پروفیسر ہودبھائی کے خطاب میں سب کچھ کہا جا چکا۔ اب عثمان بھائی مائیک سنبھالیں گے۔ عثمان بھائی نے نظم کا تعارف کرایا اور پھر قرآت شروع کی۔ زینب آپا نے پرفارم کیا۔ محفل دوبارہ سے ہم تن گوش تھی۔ جیسے ہی نظم ختم ہوئی بچوں کو تیار کیا گیا اور صنوبر مائک پر آئی۔ اب اس کے گانے کی باری تھی۔

صنوبر نے کیا خوب گایا۔مہمانوں سمیت تمام لوگ محو تھے اور تالیاں کی تکرار کا لحن سے تال میل کچھ اس طرح پیدا ہوا کہ محسوس ہوتا تھا جیسے سب لوگ اس نغمے اور نظم میں شامل ہیں۔ کلامِ فیض سے انتخاب بھی بہت برمحل تھا۔

گانا ختم ہوا تو سوال جواب کا سیشن شروع ہوا۔ ہم نے اس کے لیے تقریباً پون گھنٹہ مختص کیا تھا تاکہ حاضرین اور مہمان حضرات میں براہ راست انداز سے بات چیت ہو سکے۔ کئی لوگ سوال پوچھنے کو بے قرار تھے۔ سوال جواب کا وقفہ ختم کرنے میں بڑی دقت ہوئی حالانکہ وہاں اب حبس ہو رہا تھا اور نیچے چائے بھی لگ چکی تھی۔ لوگوں کی ایک ٹولی اس کے بعد بھی کچھ بیس منٹ تک ہود بھائی صاحب کو گھیر کر کھڑی رہی اور پروفیسر اتنے منہمک تھے کہ خود ہی ہلنے کا نام نہ لے رہے تھے۔ پروفیسر صاحب کی اہلیہ نے بتایا کہ پرویز کو اس طرح لطف آتا ہے وہ اپنی مرضی سے ہی آئیں گے۔ نیچے پہنچے تو آندھی کے ساتھ پھوار شروع ہو چکی تھی۔ یہاں بہت سے فیس بک سے جاننے والے اور چند دیگر معزز شناسا ؤں سے پرلطف مصافحے ہوئے۔ ہود بھائی اور نئیر صاحب لوگوں سے اختلاط میں اس قدر مصروف تھے کہ خود ہمیں ان کے ساتھ تصویر لینے میں وقت لگ گیا۔ تقریب ختم ہو چکی تھی۔ سب بہت خوشی خوشی واپس آئے۔

اگلے دن یونہی ان باکس کھولا تو نوم چومسکی کا جواب آچکا تھا۔ انہوں نے معذرت کی کہ وہ بیرون ملک تھے اور جب وہ میل پڑھ رہے ہیں تو دعوت نامے کے مطابق پروگرام ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے اپنی دلی مسرت اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ہم نے جواب میں انہیں کامیاب انعقاد کی خبر اور چند تصاویر ارسال کی۔ وہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ تاہم اس دوران میں پاکستان میں وقت کی رفتار بدل چکی تھی اور پرویز ہود بھائی حسب دستور ناقدین کے تیر وسناں کی زد میں تھے۔ یہاں سے ایک اور کہانی شروع ہوتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔