آئیے عورت پر تشدد کریں


zafar kakarکہتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اس شدت سے دہراتی ہے، اس کا اندازہ نہیں تھا۔ برطانوی مورخ جارج گورڈن کالٹن نے ’ سینٹ فرانسس سے دانتے تک‘ میں یورپی نشاة ثانیہ سے پہلے عورت کے متعلق مذہبی پیشواوں کے رویے پر بات کرتے ہوئے ایک مذہبی پیشوا کا قول نقل کیا ہے۔ ’ اے مردو، میں تم سے کہتا ہوں کہ ااس وقت اپنی بیویوں کو ہرگز نہ مارو جب وہ حاملہ ہوں کیونکہ ان کے اندر بہت بڑی مصیبت موجود ہوتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا انہیں کبھی نہ مارو لیکن مناسب موقع منتخب کرو‘۔ سچ یہ ہے کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ ہمارا جھگڑا یہ ہے کہ ہمیں عورت کو مارے پیٹنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔

فرمایا مفتی محمد نعیم صاحب نے بیچ اس مسئلے کے!

کہ آج کا دن انتہائی افسوس ناک دن ہے۔پاکستان کے اندر موجودہ حکمرانوں کی وجہ سے، خصوصاََ نواز شریف اور شہباز شریف کی وجہ سے ہمارا ملک دن بہ دن پستی میں مبتلا ہو رہا ہے۔ ان کا صدر اور یہ شراب اور سود کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔جو قانون پنجاب اسمبلی نے پاس نے کیا ہے، یہ ہمارے کلچر، ریاست اور اسلامی نظام کو تباہ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس سے پولیس کی رشوت مزید بڑھ جائے گی۔ ہماری عورتیں گھروں سے نکل کر بدکاری کا شکار ہو جائیں گی۔ نظام خراب ہو جائے گا۔یہ دراصل مغرب کا ایجنڈا ہے جو پاکستان کو لبرل بنانا چاہتے ہیں اور نواز شریف اس کا وعدہ کر چکے ہیں۔ حکمران یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ وہ یہ قانون یہاں چلا سکیں گے۔ ہم علما اور مذہبی لوگ اس کو کسی صورت چلنے نہیں دیں گے۔ میرا سوال ہے کہ جن لوگوں نے یہ قانون پاس کیا ہے، کیا وہ مسلمان نہیں ہیں؟ ساتھ میں مفتی صاحب نے شرمین عبید اور شہاز شریف کے حوالے سے غیر اخلاقی گفتگو فرمائی۔

مفتی صاحب کی فصاحت و بلاغت کے تو کیا کہنے۔ ایک عوامی پیغام (پبلک اسپیچ) میں لوگوں پر کیچڑ اچھالنے، غیر اخلاقی گفتگو فرمانے کے بھی کیا کہنے۔ ان سے کون پوچھے گا کہ مولانا جس کلچر کے آپ دعویدار ہیں، کیا وہ یہی ہے جوآپ کی زبان مبارک سے آشکار ہے؟سوال ان لوگوں سے ہے جو کہتے ہیں کہ اس ملک میں دائیں بازو (یا اسلامسٹوں) کی آواز موجود نہیں ہے، بتایا جائے کہ سوائے اسلامسٹوں کے اس ملک میں اور کس کی ہمت ہے جو اس طرح ببانگ دہل ایک قانون کی دھجیاں اڑا دیں؟ یہ ہے دراصل وہ بیانیہ کہ اسلام کی آڑ لے کر ایک طبقہ اس ملک میں کچھ بھی کر اور کہہ سکتا ہے۔اس بیانئے کے ایک سرے پر ممتاز قادری صاحب ہیں۔ اس کے دوسرے سرے پر مولانا عبدالعزیز صاحب ہیں۔ اس کے تیسرے سرے پر ملا فضل اللہ براجمان ہیں اور اس چوتھے سرے پر وہ پیر براجمان ہے جو کہتا ہے اس ملک کی چابی نبیﷺ نے اس کے ہاتھ میں دے دی تھی۔ مفتی صاحب کا مدعا اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ یہ قانون قرآن و سنت کے خلاف بنایا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی نے خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لئے جو قانون منظور کیا ہے اس کے چیدہ نکات درجہ ذیل ہیں۔

متاثرہ خواتین کو تحفظ کے لئے شیلٹر ہوم بنائے جائیں گے۔۔ گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی، نفسیاتی، بدکلامی اور سائبر کرائمز شامل ہوں گے۔خواتین کی شکایات کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی بنائی جائے گی۔ خواتین تشدد کی شکایت ٹال فری نمبر قائم کیا جائے گا۔صالحت کے لیے سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ شیلٹرز ہوم میں متاثرہ خواتین اور اس کے بچوں کو بورڈنگ اور لاجنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ پروٹیکشن آفیسر شکایت ملنے کے بعد جس سے شکایت ہے، اسے مطلع کرنے کا پابند ہو گا۔ جی پی ایس ٹریکر سسٹم کی تنصیب عدالت کے حکم سے مشروط کر دیا گیا۔پروٹیکشن آفیسر سے مزاحمت کرنے پر سزا چھ ماہ تک سزا اور پانچ لاکھ روپے تک کیا جا سکے گا۔ غلط شکایت یا غلط اطلاع کرنے پر تین ماہ سزا اور پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ عورتوں پر تشدد کرنے والوں کو عدالتی حکم پر کوڑے لگائے جائیں گے۔ جی پی ایس ٹریکر سسٹم والے کڑے کو بازو سے اتارنے یا اس سے زبردستی کرنے والوں کو ایک سال قید اور پچاس ہزار سے دو لاکھ روپے تک سزائیں ہوں گی۔ عورتوں پر تشدد کی اطلاع کے لیے یونیورسل ٹال فری نمبر جاری کیا جائے گا۔ قانون کے تحت تحفظ سنٹر اور دارالامان قائم کیے جائیں گے۔ تشدد کا شکار خاتون کو گھر سے بے دخل نہیں کیا جا سکے گا۔ عورت پر تشدد کرنے والے کو اسلحہ خریدنے اور اسلحہ لائسنس حاصل کرنے سے روکا جا سکے گا۔ عورت پر تشدد کرنے والے کی تحویل میں اسلحہ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی جا سکے گی۔ تشدد کا شکار خاتون کو عدالتی حکم پر مرد تمام اخراجات فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ اگر مرد نان نفقہ ادا کرنے سے انکار کرے تو عدالت اس کی تنخواہ میں سے کٹوتی کر کے ادا کر سکے گی۔ عورت پر تشدد کرنے والے مرد کو دو دن کے لیے گھر سے نکالا جا سکے گا۔ جس خاتون پر تشدد کی درخواست موصول ہو اس کی تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔

حضرات علما کرام اور مفتی صاحب کے دامے درمے سخنے بہی خواہوں سے درخواست ہے کہ بتایا جائے کہ اس قانون کی کونسی شق ہے جو قرآن و سنت کے خلاف ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ حضرات مفتی صاحب کو غلط بیانی کرنے، اسلام کا نام غلط استعمال کرنے، لوگوں کی ذاتی زندگیوں پر کیچڑ اچھالنے کے جرم میں زیادہ نہ سہی تو کم ازکم مفتی صاحب کی مذمت علی الاعلان کر سکتے ہیں؟ وفاق المدارس پاکستان اگر فکری اختلاف کی بنیاد پر پنجاب کے مدرسہ کو الحاق ختم کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے تو کم ازکم مفتی صاحب کو بھی یہ دھمکی دینی چاہیے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب ریاست کے بیانیے کے عنوان پر اگر جاوید غامدی کا جواب لکھ سکتے ہیں، وہ فحاشی کے موضوع پر اگر اپنا درد انصار عباسی صاحب کو فون کر کے بیان کر سکتے ہیں تو کیا توقع کر لینی چاہیے کہ وہ مفتی صاحب کے بیانیے پر بھی ایک جواب لکھیں گے؟ چلیں زیادہ نہ سہی کم ازکم داعش اور ٹی ٹی پی جیسا کوئی ڈھیلا ڈھالا مبہم بیان ہی جاری کر دیا جائے کہ ایسے خیالات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

چشم رسا میں یہ منظر قید ہے، جب جرمنی کے ایک خاتون ڈاکٹر روتھ فاﺅ نے تینتیس سال اس ملک کے کوڑھ زدہ مریضوں کی اپنے ہاتھوں سے خدمت کی جن کو ان کے اپنے عزیز و اقارب نے کوڑھی احاطوں میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔ ایک منظر دوسرا بھی قید ہے جب آواز اٹھانے کے جرم فیض کو پابند سلاسل کیا گیا تو ایلس فیض سائیکل پر بیٹھ کر اخبار کے دفتر جاتیں اور اس ملک کے عوام کی زبانوں پر لگے تالے کھولنے کی کوشش کرتیں۔ مفتی صاحب کے بقول جب شرمین عبید فاحشہ ہے تو نہ جانے ڈاکٹر روتھ فاﺅ اور ایلس فیض کیا ہونگی۔کوئی جائے اور ڈاکتر روتھ فاﺅ کے پاس۔ کوئی جائے ایلس فیض کی قبر پراور کہہ دے کہ ہم آپ سے شرمندہ ہیں کیونکہ دیس کے کچھ باسیوں کو آپ پر تشدد کرنے کا حق درکار ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

2 thoughts on “آئیے عورت پر تشدد کریں

  • 26-02-2016 at 9:53 pm
    Permalink

    بہت خوب صورت طریقے سے عورت کا دفاع کیا ہے آپ نے

    • 27-02-2016 at 10:20 am
      Permalink

      Wonderful job!

Comments are closed.