موہنجوداڑو کا ساز اور سرمست صوفی


سن سینتالیس کے چند برس بعد ریڈیو پر ایک پروگرام کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی، گائیک بیٹھے فن کا مظاہرہ کرنے کو تیار تھے۔ یہ ساتھ جوڑی دھری ہے، خود ستار تھاما ہوا ہے، ہارمونیم والا الگ منتظر ہے، کچھ دیر لگی اور تمام فنکار سر میں آ گئے۔ اب گلوکار صاحب گانا شروع کرتے ہیں، پورے موڈ میں ہیں کہ اچانک ایک دو لوگ ڈائریکٹر صاحب کے ساتھ سٹوڈیو میں داخل ہوتے ہیں اور گانا روک دیا جاتا ہے۔ استاد مکمل جھلا گئے۔ ڈائریکٹر پوچھتے ہیں، ”خاں صاحب کیا گا رہے تھے؟‘‘خاں صاحب تنتناہٹ میں بولے، ”ہاتھی کا سر گا رہے تھے، فلاں راگ تھا، کیوں کیا مسئلہ ہے؟‘‘وہ بولے،”بول کیا تھے دوبارہ گائیے‘‘ خاں صاحب اسی غصے میں سنا دیتے ہیں،”کرسن کنہیا موری بہیاں نہ مرور (کرشن کنہیا میری بانہیں مت مروڑو)۔‘‘ جواب آیا، ”آپ کو پہلے بھی سمجھایا تھا کہ اب ہم اپنے ملک میں رہتے ہیں، ہمیں راگوں کی بندشیں، خیال، بول وغیرہ سب اپنے حساب سے باندھنے چاہئیں، اپنی روایات کی حد میں رہتے ہوئے اب ہمیں موسیقی نئے سرے سے ترتیب دینی ہے۔‘‘خاں صاحب ساز واز چھوڑ کر کھڑے ہو گئے، اسی طنطنے سے کہنے لگے، ”آپ ہی بتائیے اب اس کی جگہ کیا یہ گائیں، اشرف بھیا موری بہیاں نہ مرور؟ ایسے کیسے چلے گا صاحب؟‘‘تو ایک زمانے میں ہر گوئیے کے ساتھ یہ بھی ہوا کرتا تھا۔ 

موسیقی ہماری گویا کہ سوتیلی اولاد بن چکی ہے۔ سوتیلی بھی نامناسب ہے، یوں سمجھیے جیسے کسی کے ہاں بچہ ہو اور معلوم ہو جائے کہ وہ خواجہ سراؤں میں سے ہے تو اس کے ساتھ جو سلوک ہو گا بس وہی تمام کوششیں ہمارے ہاں کی جاتی ہیں۔ بڑے غلام علی خاں تقسیم کے بعد کچھ عرصہ یہاں رہے اور بالآخر واپس چلے گئے کہ روٹی ملے نہ ملے فنکار لوگ عزت مانگتے ہیں، وہ ادھر تھوڑی کم تھی۔ مراثی بارڈر پار ہوا تو پدما بھوشن کا تمغہ پا لیا۔ لیکن خیر ڈوم ڈھاریوں کے دیس میں عزت پائی تو کیا پایا۔
آنکھوں دیکھے کی بات ہو تو نصرت فتح علی خان کو جاننے کا دعوی کون نہیں کرتا، لیکن وہی نصرت جب ایک قوال تھا تو بہت کم لوگ اسے جانتے تھے۔ نصرت وہ جانا گیا جو پیٹر گیبرئیل کے ساتھ دم مست قلندر گاتا ہے، بینڈٹ کوئین، دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ وغیرہ کا میوزک دیتا ہے۔ باہر کی یونیورسٹیوں میں جا کر میوزک پڑھاتا ہے۔ تو جب بدیسی شہرت کا تڑکا لگتا ہے پھر دیس میں بھی عظیم گلوکار جانا اور مانا جاتا ہے۔ 
راحت فتح علی کی مثال سامنے ہے۔ قوالیوں میں تان کھینچنے والا بچہ استاد کی وفات کے بعد جب گانے لگا تو اسے ایک مخصوص حلقے میں جانا گیا۔ گاتے گاتے جیسے ہی باہر گیا اور ”لگن لاگی تجھ سے من کی لگن‘‘گا لیا تو اپنوں نے بھی سر آنکھوں پہ ترنت جگہ دی۔ پچیس سے بھی زیادہ میوزک ایلبم راحت کے پاکستان میں ریلیز ہوئے تھے، کسی ایک کا نام یاد ہو تو بتائیے؟ تو ان حالات میں جہاں بڑے بڑے خاں صاحب لوگ ایک چانس کے بعد امر ہوں یا انتظار کرتے ہوئے مر جائیں، ایک ستار بجانے والے کی موت کیا اہمیت رکھتی ہے؟ پھر بھی جاننے میں کوئی حرج نہیں کہ ایک انتہائی اچھا موسیقار، خوبصورت انسان اور اپنے فن کا ماہر ستار بجانے والا پچھلے دنوں خالق حقیقی سے جا ملا۔ 
ستار موہنجو داڑو کے زمانے سے ہمارا ساتھی رہا ہے۔ معلوم تاریخ تک وچتر وینا کہلاتا تھا۔ اس وقت اس کی شکل تھوڑی بدلی ہوتی تھی، ایک کی بجائے دو تونبے ہوتے تھے۔ امیر خسرو نے اس میں اختراع کی اور سمارٹ سا ایک ساز بنا کر ستار کا نام اسے دیا۔ ستار کے ساتھ کی بہت سی چیزیں جیسے رباب، سرود، جل ترنگ، پکھاوج، مجیرے، کھڑتال وغیرہ تھک ہار کے پیچھے رہ گئے لیکن ستار تھا کہ استاد رئیس خان کی انگلیاں تھامے ایک ایک قدم بڑھتا چلا آ رہا تھا اور جہاں تک پاکستان میں پہنچ سکا، اس میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ وہ ہاتھ جس کی انگلیاں اپنی رنگت کثرت ریاض سے تبدیل کر چکی تھیں۔ چھ چھ گھنٹے پریکٹس کرنا اور سولہ اٹھارہ گھنٹے تک لگاتار بجا سکنا انہی کی ہمت تھی۔ خود کہتے تھے کہ اس دوران برفیلا پانی ساتھ رکھا تھا تاکہ انگلیوں سے خون بہنا شروع نہ ہو جائے۔ کسی کے جانے سے خلا وغیرہ پیدا ہو جانا رسمی باتیں ہیں، خدا بہتر جانتا ہے کل کوئی اور شاید ان سے بہتر بجا لے مگر فی الحال ستار کے بڑھتے قدموں کی چاپ سست ہو چکی ہے۔ 
اندور کے میوات گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد رئیس خان 1939 میں پیدا ہوئے، آباؤ اجداد سبھی مشہور فنکار گزرے تھے۔ انہی کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے استاد رئیس خان نے سیکھنا شروع کیا اور جلد ہی وہ وقت آ گیا جب دنیا بھر میں انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ وہ تقسیم کے بعد بھارت ہی میں رہے۔ انڈین پارلیمینٹ، اقوام متحدہ کے پروگراموں اور واشنگٹن میں کئی مرتبہ سفارت کاروں کے سامنے ستار نوازی کی، ڈھیروں داد سمیٹی۔ 
ستار بجانے کے ساتھ ساتھ جوانی میں ایک ماہر تیراک، بیڈمنٹن پلئیر، لائسنس یافتہ پائلٹ اور ریسنگ گاڑیوں کے شوقین بھی ہوتے تھے۔ قیمتی رسٹ واچز کے قدردان تو دم واپسیں تک رہے۔ گانے کا شوق بھی کافی زیادہ تھا لیکن ستار کو فوقیت دیتے۔ مزاج میں ہمارے یہاں کے بڑے فنکاروں جیسا خاص تیکھا پن موجود تھا۔ ولایت خان صاحب ان کے ماموں تھے۔ ان کی شاگردی یا ان کے خاص انگ (گائیکی انگ) میں ستار بجانے کے سوال پر تقریباً ہر انٹرویو میں سختی سے تردید کرتے تھے اور کہا کرتے کہ وہ خود میرے والد استاد محمد خان کے سٹائل میں ستار بجاتے تھے۔ اب اگر میں ویسا ہی بجاؤں تو میں ان کا شاگرد ہوا یا اپنے والد کی روایت کو آگے بڑھانے والا؟ 
بیگم یمن خان استاد ولایت خان کی بیٹی اور ان کی ماموں زاد بہن ہیں۔ گائیکی انگ کے معاملے پر یہ تنازعہ اتنا شدید ہوا کہ دو ہزار بارہ میں ایک مرتبہ جب وہ بھارت میں پرفارم کر رہے تھے اور اس انگ کو انہوں نے اپنی اختراع کہا تو بیگم یمن نے وہیں احتجاج کیا اور بھارتی میڈیا نے اس بات کو بہت زیادہ اچھالا۔ ان پر دیش دروہی ہونے کا الزام لگایا گیا اور کوشش کی گئی کہ وہ ادھر پرفارم نہ کر سکیں۔ اسی کی دہائی میں بھارت چھوڑتے وقت کچھ تند و تیز بیانات انہوں نے دئیے تھے جنہیں بعد میں بہت زیادہ ہائی لائٹ کیا گیا۔ ان معاملات کی وضاحت وہ پہلے بھی کئی بار کر چکے تھے لیکن اچھی خاصی بدمزگی پیدا کی گئی۔ عین ویسا ہی ماحول بنا جیسے عدنان سمیع کے یہاں سے جانے پر بنا تھا۔ 

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند، یہ ایک کلاسیکل بندش تھی۔ اسد محمد خاں صاحب نے اس پر مکمل گیت بنایا اور بلقیس خانم سے گوا کر اسے امر کر دیا۔ ہوا یوں کہ صابری برادران نے رئیس خان صاحب کو ایک پروگرام کے لیے انڈیا سے کراچی بلوایا تو وہاں بلقیس خانم بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ بس وہیں ایسے اسیر ہوئے کہ معاملات دونوں کی پسندیدگی سے آگے نکلے اور تان ادھر ٹوٹی جسے شادی کہتے ہیں۔ یہ ان کی چوتھی لیکن واحد کامیاب شادی تھی۔ شادی کے بعد شروع کے سات برس وہ لوگ ہندوستان رہے، بعد میں خاں صاحب پاکستان آ گئے اور مستقل یہاں کی شہریت حاصل کر لی۔

انڈیا اور پاکستان میں بہت سے گانوں کی موسیقی دی، بڑے بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ لتا، رفیع اور آشا بھوسلے کے گانوں میں ستار بجایا۔ استاد بسم اللہ خاں شہنائی والے کے ساتھ بہت سے کانسرٹس کیے، دونوں کی جگل بندی بہت مشہور ہوتی تھی۔ پاکستان میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور کئی دیگر ایوارڈ ملے۔ ابھی کچھ عرصے پہلے ایک بیوریجز کمپنی کے میوزک پروگرام میں ان کی پرفارمنس بہت سراہی گئی۔ میں صوفی ہوں سرمستہ، یہ گانا عابدہ پروین نے گایا اور خاں صاحب کا ستار ساتھ میں گاتا تھا۔ 
تمام عمر فن کی دنیا پر راج کرنے کے بعد ستار کا ہاتھ اپنے بیٹے فرحان کو تھما گئے۔ تو وہ جو ستار کے بڑھتے قدموں کی سست چاپ ہے، اسے بہت سی امیدیں اب فرحان صاحب سے ہیں۔

بشکریہ: روز نامہ دنیا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 257 posts and counting.See all posts by husnain