مرشد ملے، مراد ملی، نقش پا ملا


امید کی محل سرا کھڑی کرنا اور پھر اس پر پورے بحیرہ عرب کا پانی پھیرنا کوئی یاسر پیرزادہ سے سیکھے۔ آج مورخہ سترہ مئی سنہ 2017 عیسوی بروز بدھ کی خوشگوار صبح نیم مندی آنکھوں سے اخبار اٹھایا۔ حسب معمول ادارتی صفحہ پلٹا اور یاسر کا کالم پڑھنا شروع کیا۔ ایسا اشتیاق افزا عنوان باندھا تھا کہ واللہ ننداسی آنکھوں میں چراغ جل اٹھے۔ ’موبائل فون والی سرکار‘…. اللہ بھلا کرے، گویا مرشد کی تلاش انجام کو پہنچی۔ ایک اور مرشد شناس بزرگ بھی انہیں صفحات پر رشحات قلم ارزاں فرماتے ہیں، لیکن آنکھوں کی سوئیاں چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ پہنچے ہوئے بزرگوں کی جملہ کرامات مثلاً شاہ پور صدر میں تبادلہ، مطلوبہ عہدے پر ترقی اور ریاست جبوتی کے سرکاری دورے کی درست پیش گوئیوں کی فہرست بیان کرنے کے بعد ایک گرہ سی باندھ دیتے ہیں کہ ان بزرگوں کی پہچان وہی خوش نصیب کر سکتے ہیں جنہیں حق نے نظر خاص عطا کی ہو۔ ایسے کافر کا کیا کرے کوئی۔ ارے بھائی خاص نظر کاخس خانہ و برفاب کہاں سے لائیں، یہاں تو سکول کے زمانے سے عام نظر بھی عینک کے دبیز شیشوں میں مستور چلی آ رہی ہے۔ خیر ’موبائل فون والی سرکار‘ سے تعارف کا شوق لئے کشاں کشاں پڑھتا چلا گیا۔ سب اجزا مکمل تھے۔ مدینتہ الاولیا ملتان کا ہوٹل تھا، رات کا وقت تھا، دروازے کی چٹخنی غیر متوقع طور پر بند تھی، پھر مدھم سی آواز سے طلسمات کا در کھلنے کا اشارہ ملا۔ منیر نیازی یاد آ گئے۔ میرے سوا بھی باغ میں کوئی ضرور تھا…. آغا حشر کا عشق دزدیدہ خیال کی طرح نہاں خانہ آرزو سے گزرا…. چوری کہیں کھلے نہ نسیم بہار کی…. اٹھارہویں صدی کے فرانسیسی مصور فرانسوا بوشے کا خیال بھی آیا۔ کم بخت برفاب بدنوں کی یاقوتی ڈھلانوں کے گرد ریشم کی سرسراہٹ باندھ دیتا تھا…. اور یہاں ملتان میں ڈراپ سین دیکھئے۔ نہ کوئی چاند سا چہرہ نہ کوئی زہرہ جبیں…. جس نیند کے ماتے دوست کو کمرے میں چھوڑ گئے تھے، وہی بستر پر بے ترتیب حالت درازی میں آدھا منہ کھولے خراٹے لے رہے تھے۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔ دوسروں کی خوش عقیدگی میں کھنڈت ڈالنے کا ایسا موقع یاسر آسانی سے نہیں چھوڑتے۔ بندہ خدا نے نیند میں چلنے کی شیطانی سائنس سے بات شروع کی اور ایک ایک کر کے وہم کے جملہ اصنام خاک چاٹ گئے۔ گجرات کا ڈبل شاہ بچ سکا اور نہ سرگودھا کا مادر زاد جنونی۔ تو یہ رہا یاسر پیرزادہ جیسے دوست کی ریاضت پر بھروسہ کرنے کا انجام۔ ابا جی مرحوم ایسے ہی موقع پر فرمایا کرتے تھے، یاران این زمانہ…. الخ۔ تو چلئے کچھ اپنی زنبیل میں الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اس درویش پر تقصیر نے بھی ایک عمر مرشدان کامل اور بزرگان باصفا کی تلاش میں گزاری ہے۔ ہر چند کہ دانا اس راز کو کھولا نہیں کرتے تاہم اب کچھ ایسی ہی مجبوری آن پڑی ہے۔ روشنی، خوشبو اور نیکی چھپائے سے نہیں چھپتیں۔
زمانہ قدیم سے حق کے سالک سفر کا آغاز کرتے ہوئے کچھ اصول باندھ لیتے ہیں ۔ اس میں ذوق طبعی کو بھی دخل ہوتا ہے اور ہر عہد اپنی حقیقتیں بھی دریا میں شامل کرتا رہتا ہے۔ اس سے دریا کا پانی میٹھا ہوتا ہے اور مٹی زرخیز ہوتی ہے۔ بیسویں صدی تاریخ انسانی میں ایک انوکھا باب سمجھی جائے گی۔ انیسویں صدی میں سائنس ، مشین ، دریافت ، تحقیق اور ایجاد نے ترقی کا ایک عمومی واہمہ باندھ لیا تھا۔ خیال یہ تھا کہ اب یہاں سے ہموار شاہراہ پر آگے بڑھتے جانا ہے لیکن ہوا یہ کہ نظری سائنس نے سادہ فارمولوں پر سوال اٹھا دیے۔ سیاست میں دو عالمی جنگیں ایسی خوفناک ہوئیں کہ انسان کے سلیم الطبع ہونے پر ایمان اٹھ گیا۔ اس دوران فسطائیت کا تاریک باب بھی گزرا ۔ اشتراکیت کا تجربہ کروڑوں انسانوں اور وسیع منطقوں پر گہرے نشان چھوڑ گیا۔ بیسویں صدی میں جمہوری بندوبست کا سفر تو آگے بڑھا لیکن جمہوریت کے ساتھ سرمایہ داری کا تجربہ کچھ ایسا انسان دوست ثابت نہیں ہوا۔ سو کے قریب ریاستوں نے نو آبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کی لیکن یہ ریاستی آزادی، شہری آزادی ، تحفظ اور رواداری کے خواب میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں تیسری عالمی جنگ تو نہیں ہوئی لیکن پراکسی جنگوں کے کھیل نے مسلسل طوفان اٹھائے رکھا۔ انسانی حقوق کے معیارات کا تعین اور اس کے لیے نظام نافذہ کا قیام ایک اہم کامیابی تھی ۔ ریاستوں نے اسے عالمی رستاخیز کا ایک آلہ بنا ڈالا۔ بیسویں صدی کا سبق یہ ہے کہ ریاست آزادی ، حقوق اور انصاف سے خائف ہوتی ہے۔ تعصب ، تفرقہ اور جنگ کو رد نہیں کیا جا سکا۔ اس پس منظر میں درویش نے راہ سلوک کے کچھ اصول باندھے۔ مثلاً یہ کہ پیدائش کا حادثہ استحقاق کا درجہ متعین نہیں کرتا۔ دنیا میں آنے والے ہر انسان کو غذا ، تعلیم ، علاج ، رہائش اور روزگار جیسی بنیادی ضرورتوں پر حق حاصل ہے۔معاشرے میں اجتماعی اہمیت کے تمام فیصلے عقل سلیم کی روشنی میں کرنا ہوں گے۔ تا کہ انسانی سہولت ، خوشی اور تحفظ کا دائرہ بڑھایا جا سکے۔ ایسے فیصلوں کی بنیاد تجرباتی شواہد کی روشنی میں ایسے مکالمے پر رکھنی چاہیے جس میں جملہ فریق اپنی رائے کے غلط ہونے کا امکان تسلیم کریں۔ فیصلہ سازی میں زیادہ سے زیادہ شرکت کا اصول اجتماعی فراست کو بروئے کار لانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اجتماعی استحقاق اور انفرادی صوابدید میں واضح حد بندی کی جانی چاہیے۔ معاشرے میں شمولیت ، تکثیریت ، انجذاب اور میل جول کے ذریعے مساوات، باہم ہمدردی اور احترام کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ انسانی زندگی میں تفریح کا عنصر ایک اضافی یا غیر ضروری معاملہ نہیں ۔ تفریح اس کرہ ارض پر ہماری موجودگی کا جشن ہے۔ انسانوں کو خوش ہونے اور زندگی سے لطف اٹھانے کا ایسا موقع ملنا چاہیے جس سے زندگی میں معنویت اور ارتفاع پیدا ہو۔
یہ مجرد اصول کاغذ کی چھوٹی چھوٹی کشتیاں تھیں۔ ان کشتیوں میں بیٹھ کر پر آشوب سمندروں کا سفر کیا تو ایک سے بڑھ کر ایک مرشد ملا۔ ایسے گیانی ، ایسے دیالو اور ایسے روشن قلب کہ زندگی بذات خود احسان مندی کے جذبے سے شرابور ہو گئی۔ تو سنئے کچھ مرشد تھے جنہوں نے جہالت کے خلاف لڑائی لڑی۔ علم کا دائرہ بڑھایا۔ ہجوم کی لاعلمی کے مقابلے میں اپنی شمع کو حلقہ کئے رہے۔ سقراط ، ابن رشد ، گلیلیو ، برونو ، کنفیوشس اور یہ فہرست جہاں تک چاہیں بڑھاتے چلے جائیں ۔وہ صاحبان باصفا جنہوں نے جبر کا مقابلہ کیا۔ امام عالی مقام ، گاندھی جی ، مارٹن لوتھر کنگ ، نیلسن منڈیلاایسی فہرست کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ وہ نیک دل مرشد جنہوں نے بیماریوں کا علاج دریافت کیا اور انسانیت کو دکھ سے نجات دلائی ۔ الیگزینڈر فلیمنگ تو صرف ایک نام ہے۔ طب کو قیاس اور قیافے سے تجرباتی تیقن کی حدود میں لانا ان بہادروں کا کام تھا جن کے باعث آج دنیا میں پیدا ہونے والے ہر انسان کی متوقع عمر کئی برس بڑھ ہو چکی ہے۔ علم کے وہ سچے عاشق جنہوں نے مشین کی مدد سے دنیا بدل ڈالی۔ لاکھوں ناموں کی اس فہرست میں صرف چھاپہ خانہ ایجاد کرنے والے گٹن برگ کی ایجاد کے نتائج پر غور کر لیں۔ ان مرشدان کامل میں وہ ناقہ سوار بھی شامل تھے جو گیت تخلیق کرتے تھے۔ خاموشی اور سُر میں ترتیب لاتے تھے۔ رنگ اور لکیر میں انگلیوں کا جادو بھرتے تھے۔ تصویر بناتے تھے۔ مجسمہ سازی کرتے تھے اور ہیئت کا امکان دریافت کرتے تھے۔ دور کیوں جاتے ہیں۔ ایک شخص مائیکل اینجلو تھا۔ ایک تصویریں بنانے والا پابلو پکاسو تھا۔ ہمارے ہاں ماں جیسی سمپورن گائیکہ روشن آرا بیگم تھیں۔مرشدوں کا ایک قبیلہ علم بانٹتا تھا۔ محمد حسین آزاد گھوڑے پر بیٹھ کر کالج آتے تھے تو طالب علموں کا ایک ہجوم ساتھ میں دوڑتے ہوئے علم کے موتی سمیٹتا تھا۔ صوفی تبسم جہاں بیٹھ جاتے تھے علم کا لنگر خانہ کھل جاتا تھا۔ پانچ سو صفحے کا ناول پڑھاتے ہوئے شائستہ سونو تین لفظوں کے ایک جملے میں روشنی پھیلا دیتی تھیں۔ دروازے کھل جاتے تھے اور ہم سب جانتے تھے کہ ان دروازوں کے پیچھے کوئی غیر مرئی قوت نہیں۔ انسانوں کی سعی ہے۔ انسان عظیم ہے اور انسان ہی مرشد ہوا کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔