سندھی مزدوروں کا قتل اور بلوچ عسکری تحریک


جبر، محرومیوں، غربت اور استحصال کا شکار ہونے والے پہلے فریاد کرتے ہیں۔ ریاست پہلے ان کی دہائی سنتی نہیں ہے، ظلم کرتی ہے۔ پھر سوتیلی ماں بن جاتی ہے۔ یہ رویہ تسلسل ہوتا ہے کتنے ہی غلط فیصلوں کا سماج مزید بگاڑ کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ سب ہوتا ہے تو پھر کوئی تحریک اٹھتی ہے۔ تحریکیں بھی انسانوں کی طرح ہی ہوتی ہے۔ جنم لیتی ہیں، گھٹنوں کے بل چلتی ہے، قدموں پر کھڑی ہوتی ہیں اور انگڑائی لے کر جوان ہوجاتی ہیں۔ آسرا ہونے لگتا ہے کہ سب کچھ بدل جائے گا۔ تحریک کی یہ تعریف ایک بلوچ راہنما نے کی تھی۔ وہ اب سائیڈ پر ہو کے الگ بیٹھا ہے اور غیر متعلق بھی۔

کوئی بھی تحریک ہو، اپنی شروعات میں وہ اعلی اخلاقی اقدار پر استوار ہوئی ہوتی ہے، ابتدا میں انسان دوستی اورتبدیلی کے نعرے لے کر ہی تحریکیں اٹھتی ہیں، یہ تو جب طاقت ملتی ہے تو اپنا راستہ بھولنے لگتی ہیں۔ سوچے سمجھے قدم رکھنے کے بجائے دوڑ لگانا شروع کردیتی ہے۔ غم و غصہ اور نظر انداز ہونے کا شدید احساس جد و جہد کو انتقام میں بدل دیتا ہے۔ پھر طاقت کے اپنے رولے ہوتے ہیں۔ اس کے ملتے ہی سب سے پہلے قیادت گمراہ ہوتی ہے۔ غلط فیصلے کرتی ہے، قیادت کی گمراہی نہیں البتہ اس کے غلط فیصلوں کے لئے گھڑے ہوئے غلط جواز تحریکوں کی راہ کھوٹی کر دیتے ہیں۔ لیڈروں سے منزل کے نشان گم ہوتے ہیں وہ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ اقدار اور اعلی مقاصد کہیں دور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ راشد رحمن نے کہا تھا وہی راشد رحمن جنہیں ملتان میں شدت پسند سوچ نے گولی کا نشانہ بنایا۔

بلوچستان میں وہ سب کچھ ہوتا رہا ہے جو کسی بھی مرکز گریز قوت کو طاقت دینے کے لیے کافی ہے۔ زیادتیوں کی نظر انداز کرنے کی ایک تاریخ ہے۔ بلوچستان میں غربت ہے۔ وہاں پاکستان بھر میں موجود عام بنیادی سہولتوں کا بھی بہت سے علاقوں میں تصور تک نہیں ہے۔ بلوچستان کی گیس کو بے دریغ استعمال کیا گیا، مقامی آبادی کو کچھ نہ ملا۔ تعلیم ہو، ترقی ہو، بجلی، پانی، صحت ہو ہر حوالے سے بلوچستان نظرانداز کیا گیا۔ یہ کسی اور دنیا کا حصہ لگتا ہے جس کا ترقی یافتہ تو چھوڑیں، ترقی پذیر دنیا سے بھی کوئی تعلق دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ ان محرومیوں نے یہاں ردعمل پیدا کیا، پاکستان بننے کے بعد ہر دہائی میں یہاں ایک مسلح تحریک اٹھتی رہی۔

اسی اور نوے کی دہائیوں میں بلوچستان نسبتاً پر امن رہا۔ قوم پرست قوتیں پارلیمانی سیاست میں جمع ہوکر اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔ مشرف کا دور آمریت آیا تو بلوچستان میں مرکز گریز قوتوں نے زور پکڑنا شروع کیا۔ یہ آمرانہ مزاج تھا، جس نے جلتی پر تیل ڈالا۔ نواب اکبر بگٹی والا واقعہ ہوا۔ حقائق کیا تھے وہاں اصل میں کیا ہوا کبھی سامنے نہیں آیا۔ اس کےبعد بلوچستان میں بد امنی کی ایک بڑی لہر نے جنم لیا۔ مسنگ پرسن کا شور اٹھا مسخ شدہ لاشیں ملیں، بلوچستان میں قیام پاکستان سے بھی پہلے جا کر آباد ہونے والے سیٹلر نشانہ بنے۔

بلوچستان میں ایک بڑی مسلح جدوجہد شروع ہو گئی بس ایک فرق رہا۔ پہلی بار پاکستان بھر سے بلوچستان کے حق میں آپریشن کے خلاف توانا آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔ سیاسی حل ڈھونڈنے کی بات کی جاتی رہی۔ عدلیہ بحالی تحریک میں بلوچستان کی تمام سیاسی سماجی قوتوں نے حصہ لیا۔ اس تحریک میں بلوچستان کی بھرپور شراکت نے ہی وہاں کے مسائل کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ جس طرح کوئٹہ میں وکلا کی ایک پوری لاٹ کو بم دھماکے کا نشانہ بنا کرختم کر دیا گیا وہ ایک ایسی طاقت ختم کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی جو آئین قانون حق انصاف کی بات کرتی تھی پر امن جدوجہد پر یقین رکھتی تھی۔

بلوچستان دونوں طرح کی شدت پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہے۔ ایک جانب مذہب کے نام پر بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب بلوچ قومی سوال کے نام پر ایک مسلح تحریک جاری ہے۔ بلوچ قومی سوال پر ہتھیار اٹھانے والوں کے حق میں سوچنے والے سرکلز بھی موجود ہیں۔ تو بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دینے والی آوازیں بھی ہیں، کوششیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ بلوچ مسلح جدوجہد کی راہ پر چلنے والوں نے بات چیت سے پرہیز ہی کیا ہے۔ وہ مسلح جدوجہد پر ہی یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی مسلسل ناکامیوں فرسٹریشن سے تنگ آ کر عام لوگوں کو نشانہ بنانہ شروع کر دیا ہے۔

پچھلے دنوں گوادر میں دس سندھی مزدوروں کو دو مختلف واقعات میں قتل کیا گیا ہے۔ جو شخص ہزار پانچ سو کی دہاڑی کے لیے مسافر ہے اس کی غریبی کے علاوہ کیا قومیت اور کیا مذہب ہو گا۔ میر حاصل بزنجواور سردار اختر مینگل نے اس قتل و غارت کی مذمت کی۔ یہ دونوں لیڈر تو پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ بی ایل اے سے ٹوٹ کر اپنا الگ دھڑا چلانے والے میر مہران مری نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔ لیکن سوشل میڈیا پر بلوچ گروپوں میں بہت سے لوگ بے گناہوں کے اس قتل کے لیے بھی جواز گھڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

بلوچ عسکریت پسند اس سے پہلے پختونوں، سیٹلرز، نائیوں اور دھوبیوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے سکولوں کے استاد نہیں چھوڑے، یونیورسٹیوں کے پروفیسروں کو نہیں چھوڑا۔ پر امن جدوجہد کی بات کرنے والے اپنے بلوچ لیڈروں کے لیے اپنے علاقوں میں جانا عذاب کر دیا تھا۔ موجودہ وزیر اعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کے بھائی بھتیجے اور بیٹے قتل ہوئے۔ اب سندھی مزدورو نشانے پر ہے۔ سندھی مزدوروں کو مارنے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے سرائکی بیلٹ میں بلوچستان سے لاشیں جاتی ہیں۔

سندھ نے ہمیشہ بلوچ قومی سوال کی حمایت کی ہے۔ ایک سندھی دوست کا سوال پڑھا کہ ہم نے تو ماما قادر بلوچ کے پیدل مارچ کو سندھ بھر میں مان دیا تھا، ہمارے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ بات بہت سادہ سی ہے، جب عسکری تحریکیں پلٹ کر اپنے حامیوں کو نشانہ بنانے لگیں، اپنی ہی قوم کے بڑے چھوٹوں کو گولیاں مارنے لگیں۔ نہتے مزدوروں کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھ کر جان سے مارنے لگیں تو بس یہ اینڈ ہوتا ہے۔ ایسی تحریکیں جتنے بھی اعلی مقاصد لے کر ہی کیوں نہ اٹھی ہوں، اپنا جواز کھو دیتی ہیں۔ زیادہ خطرے کی بات تب ہوتی ہے جب حق کے لیے کسی تحریک کا ساتھ دینے والے غلطیوں پر تنقید کی بجائے ان کا دفاع کرنے لگ جائیں اور بہانے کرنے لگیں ۔ کسی تحریک کا اندرونی سوچ بچار کا نظام کام کرنا چھوڑ دے بے اثر ہو جائے تو پھر ایک دن ایسی تحریک مر جاتی ہیں، انسانوں کی طرح۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 252 posts and counting.See all posts by wisi