خدیجہ حملہ کیس: زبان خنجر چپ ہی رہے گی


کہتے ہیں کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے۔ انصاف ہوتا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ ایک اور مشہور قول ہے کہ انصاف میں تاخیر، انصاف کی تدفین ہے۔ کل سے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان طالبہ کی کچھ تصاویر گردش کر رہی ہیں۔ ایل ایل بی کا امتحان دے رہی ہے۔ بیس بائیس سال عمر ہو گی۔ ساری جوانی اس کے سامنے پڑی ہے۔ ساری عمر اس نے ابھی گزارنی ہے۔ جو زندگی کا لطف لینے کا وقت تھا، وہ ایک خوفناک ترین واقعے کی نذر ہو گیا ہے جس کا سایہ بھی اس کو زندگی بھر راتوں کو ڈراتا رہے گا۔

سوشل میڈیا اور روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس کے ایک ہم جماعت لڑکے نے اس پر خنجر کے 23 وار کیے کیونکہ یہ لڑکی اس میں دلچسپی لینے سے انکاری تھی اور اس سے دور رہنا چاہتی تھی۔ سوشل میڈیا پر اس لڑکی کی گردن کے زخموں کی تصاویر موجود ہیں۔

روزنامہ ڈان کی 4 مئی 2016 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابقہ 21 سالہ خدیجہ صدیقی جو کہ لاہور کے ایک نجی کالج میں قانون کی طالبہ تھیں، اپنی چھے برس کی چھوٹی بہن صوفیہ صدیقی کو اس کے سکول سے لینے کی خاطر گئیں۔ وہ گاڑی تک پہنچی ہی تھیں کہ ہیلمٹ پہنے ہوئے ایک شخص ان کی طرف لپکا۔ صوفیہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں اور خدیجہ بیٹھ رہی تھیں کہ حملہ آور نے ان کو دھکیلا اور ان پر خنجر کے وار شروع کر دیے۔ ننھی صوفیہ اپنی بڑی بہن کو بچاتے ہوئے زخمی ہو گئی۔

خدیجہ کے ڈرائیور نے حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس کا ہیلمٹ سر سے ہٹ گیا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے اسے ایک مشہور وکیل کے بیٹے شاہ حسین کے طور پر شناخت کیا جو لا کالج میں خدیجہ کا ہم جماعت تھا۔

روزنامہ پاکستان ٹوڈے کی خبر کے مطابق شاہ حسین نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی اور کیس کی دوسری سماعت اپنے ساتھی وکلا کے ساتھ خدیجہ کے وکیل اظہار احمد کو پر مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ اظہار احمد نے خدیجہ کی وکالت سے انکار کر دیا۔ خبر کے مطابق خدیجہ صدیقی کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر مسلسل یہ دھمکیاں دی جاتی رہیں۔

بہرحال یہ تو ماضی کا قصہ ہے۔ دفعہ 324 یعنی اقدام قتل کا یہ ملزم ضمانت پر رہا ہے۔ اور اب خبر آئی ہے کہ حملہ کرنے کا ملزم شاہ حسین اور خنجر کے 23 وار کھا کر معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والی خدیجہ شاہ ایک ہی چھت تلے امتحان دیں گے۔ اسے ستم بالائے ستم کہیں، مرے کو مارے شاہ مدار کہیں، یا انصاف کی موت کہیں؟ کیا ججوں کی اپنی بیٹیاں نہیں ہوا کرتیں؟

صرف قانون کی کتاب میں یہ الفاظ لکھ دینے سے عدالت کا احترام نہیں ہوتا کہ عدالت کا احترام کیا جائے۔ عدالت کو غریب اور کمزور کو انصاف دے کر اپنا احترام کرانا ہوتا ہے۔ ایسے کیس دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ عدالت کا احترام نہیں کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے نظریہ ضرورت ابھی بھی زندہ ہے، جمہوری حکمران کے خلاف بھی اور جمہور کے خلاف بھی۔ کیا چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار کو ہی اس کیس کا بھی ازخود نوٹس لینا پڑے گا یا ماتحت عدلیہ بھی کوئی کام کیا کرتی ہے؟ بظاہر تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ آستین کا لہو جتنا جی چاہے پکارے، زبان خنجر اور قلمِ منصف خاموش ہی رہیں گے۔

چھٹی صدی قبل از مسیح کے یونانی فلسفی اناچارسس نے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون ایک مکڑی کے جالے جیسا ہوتا ہے۔ وہ کمزور کو پکڑ لیتا ہے لیکن دولت اور طاقت والے اسے تار تار کر دیتے ہیں۔

ہمیں یقین ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان پینل کوڈ کے دیباچے میں اناچارسس کے یہ الفاظ سیاہ حروف میں لکھے جا چکے ہیں۔


اسی بارے میں

خنجر کے 23 وار کرنے والا لڑکا اور مظلوم طالبہ ایک چھت تلے امتحان دیں گے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 632 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar