ارتقاء کی سائنس اور ذیابیطس


آج کا مضمون اس لئے لکھا ہے تاکہ کل صبح اٹھ کر اس کو پڑھنے والے یہ نہ سوچ رہے ہوں‌ کہ ارتقاء حقیقت ہے یا نہیں‌ بلکہ یہ سوچیں کہ ارتقاء کی سائنس کی سمجھ کو ہم اپنی فیلڈ میں‌ استعمال کرکے کس طرح‌ فائدہ حاصل سکتے ہیں۔ ارتقاء صرف لیبارٹری میں‌ نہیں، صرف ترقی یافتہ ممالک میں‌ نہیں بلکہ ساری دنیا میں ہورہا ہے۔ ہمارے اردگرد ہورہا ہے بلکہ ہم خود بھی ارتقاء پزیر ہیں۔ وقت نہایت وسیع ہے اور ہماری زندگی ایسے ہے جیسے کوئی پلک جھپک لے۔ اس لئے ہماری نظر ایک طویل مووی کی صرف ایک تصویر ہے۔ آگے پیچھے کا کافی سوچنے اور کھودنے سے پتا چلتا ہے۔

سارے پائلٹ پائلٹ نہیں‌ ہوتے اور سارے ڈاکٹرز ڈاکٹرز نہیں‌ ہوتے۔ کچھ ڈاکٹرز نے صرف دوائیں یاد کی ہوتی ہیں جن کو لکھ کر وہ تنخواہ لیتے ہیں اور گھر جاتے ہیں۔ انہوں‌ نے اس سے زیادہ کچھ سوچنے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں‌ کی ہوتی۔ ساری زندگی یہی کوشش رہنی چاہئیے کہ سب سے اوپر جو جگہ خالی ہے وہاں پر اور کیا سیکھ کر رکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں‌ جو ہمیں‌ نہیں‌ پتا وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو ہمیں‌ پتا ہے۔

زیابیطس کوئی نئی بیماری نہیں‌ ہے بلکہ دنیا میں‌ طویل عرصے سے موجود ہے۔ دو ہزار سال پہلے یونانی اور ہندوستانی طبیبوں کی تحریروں سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو زیابیطس کو سمجھتے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ ان مریضوں کا پیشاب میٹھا ہوتا ہے کیونکہ اس کے گرد چونٹیاں‌ جمع ہوجاتی تھیں۔ بیسویں صدی تک زیابیطس کا ورزش اور خوراک کے علاوہ کوئی علاج دستیاب نہیں‌ تھا۔ 1921 میں‌ بینٹنگ اور بیسٹ نے انسولین ایجاد کی۔ انسولین کی ایجاد پر نوبل پرائز بھی دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ٹائپ ون زیابیطس کے مریض تشخیص کے 12 مہینے کے اندر چل بستے تھے۔ انسولین نے بہت سی جانیں بچائی ہیں۔ انسولین کے بعد سلفانل یوریا کلاس اور پھر گلوکوفاج نکلی جو آج بھی کافی استعمال ہوتی ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں‌ میں‌ ذیابیطس کے میدان میں‌ کافی زیادہ ریسرچ ہوئی ہے اور کافی ساری بالکل نئی دوائیاں نکلی ہیں۔ ہماری نسل کے ڈاکٹرز کافی خوش قسمت ہیں‌ کہ اب ہم ذیابیطس کو اتنی گہرائی میں‌ سمجھ سکتے ہیں اور محفوظ اور مشاق دواؤں‌ میں‌ اضافہ ہوا ہے۔

آج کے مضمون سے ایک ذیابیطس کی بالکل نئی کلاس کی دوائیوں کے بارے میں‌ سیکھیں گے۔ ان میں سے دو کی میں‌ اسپیکر ہوں۔ ان کے بارے میں لیکچر دینے سے مجھے پیسے بھی ملے ہیں۔ جن قارئین کو یہاں‌ کانفلکٹ آف انٹرسٹ محسوس ہو وہ پڑھنا بند کرسکتے ہیں۔ اس دوا کی کلاس سے یہ بھی سیکھیں‌ گے کہ ایوولیوشن کی سائنس کو کس طرح‌ ایک عملی مثال میں‌ دیکھا جاسکتا ہے۔

“سروائول آف دا فٹسٹ“ کے آئیڈیا کے مطابق جو اسپی شیز ماحول کے مطابق ڈھل جاتی ہے وہ ہی اپنی نسل بڑھاتی ہے۔ اصل میں‌ یہ صرف ایک چانس کی بات ہے۔ کچھ تبدیلیاں‌ فائدہ مند ہوتی ہیں‌ کچھ نہیں‌ وہ حالات، ماحول اور تبدیلی پر منحصر ہوتا ہے۔ ایسی ایک جنیٹک میوٹیشن کا نام ہے ”فیمیلیل رینل گلوکوزیوریا“ یا ایف آر جی۔ یہ جن خاندانوں‌ میں‌ پائی جاتی ہے، ان کو تمام زندگی ذیابیطس نہیں‌ ہوتی اور نہ ہی ان کے گردے خراب ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ ان افراد میں‌ گردوں میں‌ سے گلوکوز کو خارج کرنے کا تھریشولڈ عام افراد کے مقابلے میں‌ کافی کم ہے۔ اس پر مزید ریسرچ سے یہ معلوم ہوا کہ جو پروٹین رسیپٹرز گردوں کی نالیوں‌ میں‌ سے گلوکوز کو واپس خون میں‌ ڈالتے ہیں‌ وہ ان افراد میں‌ درست طریقے سے کام نہیں‌ کرتے اس لئے وہ گلوکوز پیشاب میں‌ بہہ جاتی ہے۔ اس سے انہوں‌ نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اگر ہم کوئی ایسا کیمیکل بنا لیں جو ذیابیطس کے مریضوں‌ میں‌ بھی یہ دروازے بند کردے تو اس طرح‌ ہم ان کے خون میں شوگر کی مقدار کم کرسکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی حیران کن آئیڈیا تھا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوا اور آج مارکیٹ میں‌ اس کلاس کی کئی مختلف دوائیں موجود ہیں۔ ان کو استعمال کرنے کا میرا تقریباً تین سے چار سال کا تجربہ ہے کیونکہ پہلی دوائی امریکہ میں‌ 2013 میں‌ آئی تھی۔ ایک نئی دوا آج مارکیٹ‌ میں‌ لانے کے لئے 14 سال اور ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

لاڑکانہ میں‌ ہمارا فائنل ائیر کا امتحان ہورہا تھا۔ سب اسٹوڈنٹس ایک ایک مریض لے چکے تھے۔ جب میں‌ ہسپتال پہنچی تو کوئی مریض‌ نہیں‌ بچا تھا اور کوئی اسٹوڈنٹ اپنا مریض‌ میرے ساتھ بانٹنے پر تیار نہیں‌ تھا۔ وہ کمینے نہیں بن رہے تھے، ہر کوئی اپنے اپنے امتحان کے لئے ٹینشن میں‌ تھا۔ میڈیسن کے وارڈ کے بیچ میں‌ پریشان کھڑی تھی تو دو آدمی ایک مریض کو کاغزات کے ساتھ ایک بستر پر لارہے تھے۔ ان کو کیا پرابلم ہے؟ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ موتیے کے آپریشن کے لئے گئے تھے تو شوگر 300 سے اوپر آئی اس لئے سرجن نے ہسپتال بھیجا ہے۔ اچھا یہ مریض مجھے دے دیں۔ سر زبیری ہمارے اٹینڈنگ ہوتے تھے۔ انہوں‌ نے پیپر دیکھا اور سر اٹھائے بغیر کہا، ذیابیطس! ذیابیطس تو بہت پیچیدہ سبجیکٹ ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ یہی آپ کو چاہئیے؟ جی ہاں! میں‌ نے جی کڑا کے جواب دیا تو انہوں‌ نے سائن کر کے مجھے دے دیا۔ اس وقت مجھے نہیں‌ معلوم تھا کہ کبھی میں‌ ذیابیطس کی ماہر بن جاؤں‌ گی۔

فاسٹ فارورڈ! سان ڈیاگو میں‌ ذیابیطس کی کانفرنس ہورہی تھی۔ ائیر پورٹ سے باہر نکلی تو سیڑھیوں‌ کے پاس ایک صاحب کھڑے تھے۔ ان کی شکل اتنی جانی پہچانی لگ رہی تھی لیکن یاد نہیں‌ آرہا تھا کہ ان کو کہاں‌ دیکھا ہے۔ انہوں‌ نے مجھے اپنی طرف دیکھتے دیکھا تو ہاتھ بڑھا کر کہا ہائے میں‌ رالف ڈیفرانزو ہوں۔ آف کورس یہ رالف ڈیفزانزو ہیں۔ اتنے لیکچر ان کے آن لائن دیکھے ہوئے تھے۔ آج دنیا جتنا بھی ذیابیطس کے بارے میں‌ جانتی ہے اس میں‌ ڈاکٹر ڈیفرانزو کا ایک بڑا ہاتھ ہے۔ وہ بوڑھے ہیں اور ان کو آج کل کے گیجٹس کا بھی کچھ زیادہ پتا نہیں‌۔ اب بھی کاغذ اور پینسل سے لکھتے ہیں۔ جب وہ منہ کھولتے ہیں‌ تو معلومات کے ہیرے گرتے ہیں۔ ان دو بچوں‌ کو پالنے اور کالج میں پڑھانے کے لئے فل ٹائم کام نہ کرنا ہوتا تو میں‌ ڈاکٹر ڈیفرانزو کی لیبارٹری میں‌ جھاڑو لگانے کی جاب بھی قبول کرلیتی۔

بنیادی سائنس کی ریسرچ کے بعد کلینکل ریسرچ کا مرحلہ آتا ہے۔ پلاسیبو کنٹرولڈ رینڈومائزڈ کلنکل ٹرائل کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے جس میں‌ مریضوں‌ کے دو گروپ بنائے جاتے ہیں جو بالکل ملتے جلتے ہوں اور ان میں‌ سے ایک گروپ کو اصلی دوا ملے اور دوسرے کو نقلی لیکن ان کو معلوم نہ ہو کہ کون سی ملی ہے۔ پھر پہلے سے طے کیے ہوئے نتائج کا موازنہ کیا جائے۔ فارزیگا، انووکانا اور جارڈینس اس کلاس کی مختلف دوائیں ہیں جن کو کافی سارے کلنکل ٹرائلز میں‌ آزمایا گیا ہے اور یہ اچھا کام کرتی ہیں۔ ان سے نہ صرف بلڈ شوگر کم ہوتی ہے بلکہ بلڈ پریشر اور وزن میں‌ بھی فائدہ ہوتا ہے۔ ان دواؤں کے کچھ سائڈ افیکٹس بھی ہیں۔ 2015 میں‌ جب میں‌ انڈیا گئی تھی تو یہ دوا وہاں‌ ابھی نہیں‌ پہنچی تھی۔ ابھی تک شاید ساؤتھ ایشیا نہ پہنچی ہو لیکن پائپ لائن میں‌ ہوگی۔ ذیابیطس کو کنٹرول میں‌ رکھ کر اس کی پیچیدگیوں‌ سے بچا جاسکتا ہے۔

آج یہ سوال نہیں‌ رہا ہے کہ ارتقاء ہوتا ہے کہ نہیں، آج کا سوال یہ ہے کہ ہم ارتقاء کی سائنس کو اپنے فائدے کے لئے کیسے استعمال کرسکتے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔