مولانا محمد خان شیرانی سے انٹرویو (1)۔


انٹرویو کی اہم سرخیاں

انسانوں کی تین اقسام ہیں، مومن، کافر اور مذبذب۔ مومن اور کافر سے بات کی جا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے بیشتر افراد مذبذب ہیں جو کسی ایک موقف پر قائم نہیں رہتے۔ ان سے کیا بات کی جائے؟

ہر انسان کو اپنا مذہب منتخب کرنے کی اجازت ہے لیکن وہ اپنے مذہب سے بہتر مذہب تو اختیار کر سکتا ہے، اس سے پرانا نہیں۔

احمدیوں پر مسلمانوں کے احکامت ہی لاگو کیے جائیں گے۔

نبی ﷺ نے زمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ خیر اور فتنہ۔ ایک زمانہ وہ ہے جو خیر ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میرا زمانہ خیر کا زمانہ ہے، اس کے بعد جو آنے والا صحابہ کا ہو گا پھر جو تابعین کا ہو گا وہ بھی۔ اس کے بعد پھر فتنے کا زمانہ ہو گا۔ یقینی طور پر ہمارا دور فتنے کا دور ہے۔ اب یہ علما کو دیکھنا ہے کہ وہ فتنے کے زمانے میں خیر کے زمانے والی ہدایات سے راہنمائی نہ لیں۔ اصل میں وہ جو زمانہ ہے فتنے کا اس میں جنگ کی اجازت نہیں ہے کہ جنگ نہ کرو۔ دعوت کرو، سمجھاؤ، دلیل سے سمجھاؤ۔
دنیا ایک گلوبل ویلیج ہے جس کے پانچ حاکم ہیں۔ وہ دنیا میں فتنہ و فساد چاہتے ہیں تاکہ اس پر حکومت کر سکیں۔ پاکستان میں عدم رواداری اور فساد کی وجہ بھی ان طاقتوں کی یہ پالیسی ہے۔

یہ طاقتیں دنیا کو دکھانا چاہتی ہیں کہ اسلام ایک وحشی مذہب ہے اور مسلمان وحشی درندے ہیں۔ وہ اس مقصد میں اب تقریباً کامیاب ہو چکے ہیں، علماء کی برکت سے اور مفتی حضرات کی برکت سے۔

یہ سکیورٹی سٹیٹ ہے یا ویلفیئر۔ جب سٹیٹ سکیورٹی ہو گا تو اس میں اسلام کو بدنام کرنا ہو گا۔

امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں غیر فطری ممالک ہیں۔ اور وہ کہتا ہے کہ تیسری دنیا کے نقشے ازسرنو مرتب ہونے چاہئیں۔

ڈی این اے ٹیسٹ کو حدود میں استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے، تعزیر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فوجداری قوانین تعزیر نہیں ہیں۔

ہلکے پھلکے تشدد کے بیان کی وضاحت
پوری انسانیت ایک امت ہے۔

سی پیک: 2012 ء میں، میں نے بلوچستان کے جو ایم این ایز اور جو سینٹر تھے ان کے لیے کھانا کیا اور ان کو میں نے کہا کہ اب راستہ ہم سے بدل گیا ہے۔
نواز شریف صاحب نے کھل کے بات کی کہ اب یہ راستہ یہاں سے جس کو یہ مشرقی روٹ کہتے ہیں۔ اب یہ راستہ یہاں سے جائے گا۔
ہم چین اور امریکا کی نئی لڑائی میں پھنس جائیں گے۔ اب یہ ہو گا اور ہم اس میں سپاہی کا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ ہمیں تو کرائے کی ضرورت ہے۔ یہاں سے بھی کرایہ ملے، وہاں سے بھی کرایہ ملے۔ ہمارے تمہارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔

انٹرویو – پہلا حصہ

عدنان کاکڑ: مولانا صاحب پاکستان میں شدت پسندانہ رویے کیوں اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں، اس کی کیا وجوہات ہیں اور ان میں کمی کے لیے ہم کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔

مولانا شیرانی: انسانوں کو قرآن کریم تین طبقوں میں تقسیم کرتا ہے۔ مومن وہ ہوتا ہے جو یہ سمجھے کہ میرا خالق اللہ ہے، یہ زندگی عاریتاً مجھے دی گئی ہے اور میں نے اللہ کی ہدایات، انبیا کی شریعت اور سنت کے مطابق بسر کرنی ہے۔

دوسرا طبقہ وہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مخلوق نہیں سمجھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی ذات اور اپنے مال کا خود مالک ہوں۔ یہ فیصلے کے میدان میں ہوا پرست کہلاتا ہے۔ یعنی خواہش کی زندگی گزارتا ہے اور اسے عملی روش کے میدان میں کافر کہتے ہیں۔ کفارہ عربی لغت میں چھپانے کو کہتے ہیں یعنی وہ اللہ کی ملکیت کو چھپا کے اس کو اپنی ذاتی ملکیت کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔

تو یہ دو طبقے ہیں ان کا منظر بھی متعین ہے۔ ان کا راستہ بھی متعین ہے، ان کا مقصد بھی متعین ہے۔ کسی قسم کا ابہام نہیں ہے، نہ ہی مومن کے اور نہ ہی کافر کے درمیان۔ زندگی گزارنے کے حوالے سے ان میں بہت حوالوں سے اتفاق ہے۔ معاشرتی زندگی میں دونوں جھوٹ نہیں بولتے۔ مومن بھی نہیں بولتا، کافر بھی نہیں بولتا۔ دونوں وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ دونوں خیانت بھی نہیں کرتے۔ مومن جو کرتا ہے وہ خدا کے ڈر سے کرتا ہے۔ کافر جو کرتا ہے وہ اپنے شخصی تاثر کو اچھا رکھنے کے لیے کرتا ہے۔ کافر جانتا ہے کہ تاثر خراب ہو گا تو شخصیت کا اعتبار مجروح ہو گا جس کے بعد وہ زندگی میں آگے بڑھ نہیں سکے گا۔ یہ دونوں قانون سازی کے حوالے سے اس پر عمل کے لیے بھی بہت باتوں پر آپس میں اتفاق کرتے ہیں۔ دونوں اتفاق کرتے ہیں کہ قانون کا اطلاق بچے پر دیوانے پر نہیں ہوتا۔ عاقل اور بالغ پر ہی ہوتا ہے۔

کافر مومن دونوں جانتے ہیں کہ ان پر زندگی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے دو قسم کی تکلیفیں اس کو برداشت کرنی پڑیں گی۔ خواہش کی، مخالفت کی آئے گی تو یہ بھی برداشت کرنی پڑے گی راستے کی رکاوٹیں کبھی آئیں گی تو ان کو بھی ہٹانا پڑے گا۔ تو یہ دونوں مشقتیں ان کو برداشت کرنی پڑیں گی۔

مذہب ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ دس دسمبر 1948 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا منشور پاس کیا ہے اس کا آرٹیکل اٹھارہ اس کی تصدیق کرتا ہے کہ مذہب ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ یہ قانون سازی کے میدان میں مومن اور کافر کی پانچ باتیں مشترک ہیں۔ اختلافی مسئلہ ان کے درمیان یہ ہو سکتا ہے کہ جب انسان مقلب ہو اور اس کے کردار کو اچھائی یا برائی میں تقسیم کیا جائے تو معیار کیا ہو۔ خدا پرست کہے گا ہدایت اور سنت ہو گا۔ ہوا پرست کہے گا ہوا و فحش ہو گی۔ اس پہ بات ہو سکتی ہے۔

تیسرا جو مسئلہ اختلافی ہے وہ یہ ہے کہ جب مذہب ہر فرد کا بنیادی حق ہو تو اب یہ فرد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ مثلا ً جس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے اس کو شخصی فرد کہتے ہیں۔ جس کو آئینی فرد کہتے ہیں۔ لیکن ایک ہوتا ہے قانونی فرد جس کو وہ تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ مجھے شخص طور پر حاصل ہیں جس کو ادارہ کہتے ہیں۔ تو اس پہ مذاکرہ ہو سکتا ہے کہ فرد صرف شخصی فرد مراد لیا جائے یا ادارہ بھی۔ تو خدا پرست کہے گا کہ شخص اور ادارہ دونوں اس میں ہو گا کیونکہ اگر ادارہ سیکولر ہو گا اور شخص مذہبی ہو گا تو پھر ادارہ شخص کو منحرف کر لے گا یا پھر ادارے اور شخص کے درمیان تقابل اور تصادم ہو گا یا پھر منافقت ہو گی ان میں سے ایک بات ضرور ہو گی۔

لیکن جو ہوا پرست ہے وہ کہے گا کہ نہیں فرد کی حد تک اگر کوئی مذہب کو اپنانا چاہے تو بے شک اپنائے لیکن ادارہ جو ہے وہ اس سے فارغ ہو گا۔ اس پہ بات کی جا سکتی ہے۔ یا تو بات ہو جائے یا پھر یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایک فیصلہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ایسا صادر کیا جائے کہ ابتدائی طور پر انسان کو اپنی بہتری اور خیر خواہی کے لیے کسی بھی فکر کو اپنانا اس کا حق ہے۔ خدا پرست بنے یا ہوا پرست بنے جو بھی بنے کیونکہ اللہ فرماتے ہیں لا اکراہ فی الدین۔ خیر خواہی کے بارے میں کوئی بھی نظم اگر آپ اپنے لیے پسند کریں تو اس میں کوئی جبر نہیں ہے۔
کیونکہ اللہ کی شناخت عقل سے ہوتی ہے اور اگر وہ کہتا ہے کہ اللہ ہے تووہ شریعت کو مانے گا اور اگر وہ کہے کہ اللہ نہیں ہے تو وہ شریعت کو نہیں مانے گا۔ اور اگر وہ خدا پرستی میں آئے تو پھر وہ خدا پرستی کے کس دائرے کو اپناتا ہے مثلاً ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی یا اسلام جو بھی ہے۔ لیکن اگر وہ کسی بھی دائرے کو خدا پرستی کے لیے پسند کرے تو اس پر دو پابندیاں ہوں گی۔ اپنی پسند یدہ شریعت کے دائرے سے باہر قدم رکھنے کی آپ کو اجازت نہیں ہو گی اور اگر آپ نے کبھی کوئی قدم رکھا تو آپ کے اپنے پسند کی شریعت آپ کے اس انحراف کے لیے جو سزا یا تعزیر مقرر کی ہے وہ آپ کو دی جائے گی۔

اگر آپ اپنی پسندیدہ شریعت کو دوسری شریعت سے بدلنا چاہیں تو آپ پیچھے نہیں جا سکتے یہودی ہندو نہیں ہو سکتا عیسائی یہودی نہیں ہو سکتا۔ آپ کو آگے جانا ہو گا یہودی کو عیسائی ہونا ہو گا عیسائی مسلمان ہو سکتا ہے۔ تو یہ تو ہیں دو طبقے جو مومن خالص ہیں یا کافر خالص ہیں۔

وسی بابا : مولانا آپ نے بہت دلچسپ اور بڑا ہی آنکھیں کھولنے والا جائزہ لیا ہے مجھے کم از کم یہ امید نہیں تھی کہ آپ ہمیں اس طرح سمجھائیں گے ایک تو آپ نے مذہب کو اقوام متحدہ کی شق کے حوالے سے ہمیں بتایا کہ یہ انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس پہ پوچھنا ہے کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ اس حق کو مانتے ہیں۔ اور جو دوسرا مذہب رکھتے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔

عدنان کاکڑ : اس سے آگے میرا ایک سوال ہے کہ آپ نے کہا ہے کہ مذہب میں اعلیٰ درجے سے کم تر درجے میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مذہب اختیار کرنے کی اجازت ہو گی۔ مثلاً ایک مثال ہے کہ ایک چوتھائی دنیا کی آبادی ہندو ہے۔ وہ تو کہتے ہیں ہندو سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ اس پہ دنیا کا اور انسانوں کا اتفاق کیسے ہو گا کہ کون اعلی درجے کا ہے اور کون ادنی درجے کا

مولانا شیرانی: ہمیں اس پہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہندو بے شک ہندو رہے۔ لیکن اگر وہ اپنی شریعت کو کسی دوسری شریعت سے بدلنا چاہے تو ظاہر بات ہے وہ تو پھر خدا کا انکار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ہندو مذہب میں بھی خدا کا انکار ناجائز ہے وہ پیچھے نہیں جا سکتا کہ ہوا پرست بن جائے۔

عدنان کاکڑ : ہندو کی یہ دلیل ہو گی کہ ہندو مت سب سے اعلیٰ مذہب ہے۔ تو اگر ایک مسلمان ملحد تو نہیں ہو سکتا لیکن اس کو ہندو ہونے کی اجازت ہے۔

مولانا شیرانی: سوال تو یہ ہے کہ وہ ہندو رہے لیکن اپنے ہندو ازم کو دوسروں پہ بزور تو مسلط نہ کرے، کوئی ہندو بنے تو یہ الگ بات ہے۔ لیکن ہندو یا یہودی پیچھے نہیں جا سکتا کیونکہ اس کے اپنے مذہب میں اجازت نہیں ہے۔ ہندو سب سے قدیم مذہب ہے۔

عدنان کاکڑ : یعنی جو جدید ترین مذہب ہیں ادھر جانے کی اجازت ہے۔ اسلام جدید ہے تو اس پہ آنے کی اجازت ہے۔

مولانا شیرانی: آپ بے شک آگے بڑھیں لیکن پیچھے نہیں جائیں۔ پیچھے کسی مذہب میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

وسی بابا: اگر وہ پیچھے جائیں تو اس سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ اور اگر وہ پیچھے جاتا ہے تو کیا ہم اسے روکیں گے۔

مولانا شیرانی: میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جس مذہب کو آپ اپنی آزاد مرضی سے منتخب کر چکے ہیں اپنے لئے تو اس پہ آپ کو کاربند ہونا چاہیے۔ اور اگر اس پہ بھی کاربند نہیں ہوں گے تو پھر کوئی نظم نہیں ہو گا۔

وسی بابا : اس میں، میں تھوڑا سا پریشان ہو رہا ہوں۔ یعنی میں اگر اپنے اوپر کچھ اصول لاگو کرتا ہوں۔ مثال کے طور پہ مذہب لاگو کرتا ہوں۔ تو میں جب اس سے دستبردار ہوتا ہوں تو پھر اس کے اصول تو مجھ پہ لاگو ہی نہیں کریں گے۔ فرض کریں ایک ہندو جب کہے گا کہ میں اب ہندو نہیں رہا۔

مولانا شیرانی: اس پر کوئی جبر تو نہیں تھا۔ یعنی آپ کسی نظم کو تو قبول کریں گے۔ یوں تو نہیں ہو گا کہ جنگل ہو گا۔ آپ کسی نظم کو تو قبول کریں گے۔ اس میں آپ پر کوئی جبر نہیں ہے۔ لیکن جب ایک نظم کو آپ خود مان جائیں تو پھر آپ پر دو پابندیاں ہوں گی۔ اپنی مانی ہوئی شریعت کے دائرے سے آپ قدم باہر نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ اگر رکھیں گے تو پھر تو کوئی نظم نہیں ہے جس سے آپ کو قابو کیا جائے۔ نظم تو وہی ہے جو آپ نے قبول کیا ہے۔

عدنان کاکڑ : اس کی ایک مثال لیتے ہیں مثلا ً ایک مسیحی بچہ پیدا ہوا ہے۔ مسیحی گھرانے میں پلا بڑھا ہے۔ جب وہ چوبیس سال کا ہوا ہے اس کو خیال آیا، اس نے مطالعہ کیا یا کسی بھی تبلیغ سے اس کو خیال آیا کہ مسیحیت ٹھیک مذہب نہیں ہے یعنی یہودیت صحیح مذہب ہے یا ہندو مت صحیح مذہب ہے تو اس پہ کون سا اصول لاگو ہو گا۔

مولانا شیرانی: عیسائیت میں بھی یہود پہ جانا جائز نہیں ہے۔ جو مذہب اس نے اپنی آزاد مرضی سے پسند کیا ہے۔ اس کی پابندی تو کرے گا۔ اس میں دو پابندیاں ہیں۔ دائرے سے باہر نہیں جاؤ گے۔ ریورس نہیں جاؤ گے۔

وسی بابا: ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ایک بندہ جب ایک مذہب پر رہے گا اس سے ہم جو اپنے معاملات طے کریں گے تو ایک میزان ہو گا جس پر ہم بات کر سکیں۔

مولانا شیرانی: اگر وہ کسی بھی شریعت کو مانتا ہی نہیں ہے۔ بے شک وہ ہوا پرست بنے۔ لیکن ہوا پرستی کا بھی تو ایک نظم تو ہے۔ اس سے بات تو کر سکتا ہے کہ تمہاری ہوا پرستی بے شک صحیح ہے لیکن جہاں پہ اکثریت آپ سے مشکل میں ہو تو پھر اس وقت تو آپ قابو میں رہیں۔

وسی بابا: مسلمانوں میں تو جو نئی چیزیں آئیں وہ ایک تو شیعہ مسلک تھا یا پھر احمدی۔ یہ جو چیزیں آپ نے ہمیں سمجھائیں اس میں ان کو کہاں فٹ کریں گے۔

مولانا شیرانی: اصل میں قادیانی جو ہیں وہ بنیادی طور پر مسلمان تھے۔ جو راستہ انہوں نے اپنایا ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

عدنان کاکڑ : یعنی ان پر مسلمانوں کے احکامات ہی لاگو ہوں گے۔

مولانا شیرانی: جی ہاں۔

انسانیت کی اصل مشکل نہ مومن ہے اور نہ کافر بلکہ متذبذب طبقہ ہے۔ یہ نہ تو ایمان پر جم کر رہتے ہیں اور نہ کفر پر۔ اس قسم کے لوگ دعویٰ کرتے ہیں خدا پرستی کا لیکن ان کا جو رویہ ہوتا ہے وہ ہوا پرستی کا ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کے فیصلے دلیل، منطق اور معقولیت پہ نہیں ہوتے۔

متذبذب طبقہ اپنی زندگی کے فیصلے دو باتوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ایک خوف کی بنیاد پر جو اسے موت اور غریب ہو جانے کا ہوتا ہے۔ دوسرا لالچ کی بنیاد پر جو اسے دولت اور عزت کے حصول کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اصل مسئلہ ہیں انہی کو منافق کہتے ہیں۔ یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ یہ خدا پرست ہیں یا ہوا پرست ہیں۔ یہ لمحہ بہ لمحہ بدلنے والی روحیں ہیں لہٰذا ان کے لیے نہ ابھی تک کوئی قانون بنا ہے نہ آئندہ بننے کا کوئی امکان ہے۔

نبی ﷺ نے زمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ خیر اور فتنہ۔ ایک زمانہ وہ ہے جو خیر ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میرا زمانہ خیر کا زمانہ ہے، اس کے بعد جو آنے والا صحابہ کا ہو گا پھر جو تعبیر کا ہو گا وہ بھی۔ اس کے بعد پھر فتنے کا زمانہ ہو گا۔ خیر کے زمانے کی مدت کسی صورت تین سو سال سے زیادہ نہیں ہے۔ یقینی طور پر ہمارا دور فتنے کا دور ہے۔ اب یہ علما کو دیکھنا ہے کہ وہ فتنے کے زمانے میں خیر کے زمانے والی ہدایات سے راہنمائی نہ لیں۔

تاریخ دنیا کو دو زمانوں میں تقسیم کرتی ہے۔ پہلے شہروں کی دنیا کا زمانہ ہوتا تھا یعنی ایسی دنیا جو مختلف شہروں کی آزاد اور خودمختار حکومتوں پر مشتمل تھی۔ آج کی دنیا سمٹ کر ایک شہر کی دنیا جیسی رہ گئی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ باتیں ہم اس دنیا کی کرتے ہیں جو شہروں کی حکومتوں کا دور تھا۔ رہتے ہم ایک شہر جیسی دنیا میں ہیں۔ تو پرانی باتیں اس نئے دور میں نہیں چل سکتیں۔
اس ایک شہر جیسی کی دنیا کا انتظام دو ادارے چلا رہے ہیں ۔ یو این کی جنرل اسمبلی جو نمائندگی کرتی ہے انتظامی یونٹوں کی اور ایک ہے سلامتی کونسل جس میں پانچ مستقل ارکان وہ ہیں جو اپنے اپنے ملکوں اور اپنے اپنے محکوم خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تو گویا آج کا جو گلوبل ویلج ہے اس کے مالک اور حاکم پانچ ہیں۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، چین اور روس۔ اب جنرل اسمبلی کوئی بھی فیصلہ صادر کرے یا قرارداد پاس کرے جب تک یہ پانچ مستقل ارکان جو اس کو قبول نہ کریں اور کوئی بھی ان میں سے اس فیصلے یا قرارداد کو اپنے اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ ہم جب باتیں کرتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ ہم کس دنیا میں رہتے ہیں اس میں ہماری حیثیت اور اختیار ہے کیا۔

سیاسی اعتبار سے جو انتظامی ڈھانچے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک انتظامی ڈھانچہ وہ ہوتا ہے جو خدمت کے لیے ہوتا ہے اور دوسرا انتظامی ڈھانچہ وہ ہوتا ہے جو حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔ سیاسی اعتبار سے دو الگ الگ انتظامی ڈھانچے ہوتے ہیں۔ جس کو آپ سیاسی زبان میں یا انگریزی زبان میں ویلفیئر اور سکیورٹی سٹیٹ سے تعبیر کرتے ہیںہمارا پاکستانی جو انتظامی ڈھانچہ ہے یا جو تیسری دنیا کے انتظامی ڈھانچے ہیں، جتنے بھی ہیں یہ سکیورٹی سٹیٹ کے ڈھانچے ہیں، یہ ویلفیئر نہیں ہیں۔

یہ انتظامی ڈھانچے بھی ان ملکوں کے اپنے نہیں ہیں ان بلکہ یہ انہی حاکم قوموں کے مفادات کے محافظ ڈھانچے ہیں جو 45 یا 47 یا اس سے پہلے ان خطوں پر حاکم اور مالک تھے۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پندرہویں صدی میں مغرب سیاست اور حکومت کے میدان میں مذہب سے بغاوت اختیار کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد سائنسی ایجادات اور سیاسی تزویراتی منصوبوں کے تحت وہ دنیا پر قبضہ کرنے کی ریس میں لگ جاتے ہیں۔ یہ ریس جاری رہتی ہے۔

سولہویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی یہاں پہنچتی ہے۔ 1763 ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی اپنی اسٹیبلشمنٹ تشکیل دیتی ہے۔ اس زمانے میں تجارتی کمپنیوں کو اپنی فوج، اپنی عدلیہ اور انتظامیہ بھرتی کرنے کی اجازت تھی تاکہ ایک براعظم سے دوسرے براعظم تجارتی مال بھیجنے کے لیے بحری قزاقوں سے حفاظت حاصل کی جا سکے۔

ہماری اور مسلم ممالک کی اسٹیبلشمنٹ استعماری قوتوں کی بنائی ہوئی ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز بنائی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ معاملات کو جنگ سے نہیں بلکہ جرگوں کے ذریعے طے کریں گے۔ اسی طرح دوسری اقوام پر براہ راست کی بجائے بالواسطہ حکمرانی کا فیصلہ ہوا اور بالواسطہ حاکمیت کے لیے انہوں نے جو تجویز دی وہ یہ تھی کہ جس خطے پر اس وقت جو قوم حاکم ہے اس خطے میں جو تضادات ہیں کسی بھی حوالے سے، ان تضادات کو ابھارا جائے اور ان کو نفرتوں کے درجے پر پہنچایا جائے اور ان کو تصادم کی شکل دی جائے تاکہ تقسیم نفرت کی بنیاد پر ہو جائے اور پھر جب نفرت اس حد تک بڑھ جائے تو پھر ہم ان کو کہیں گے کہ ہم قوموں کو آزادی دینے کے لیے قومی حکومتیں تشکیل دیں گے۔ قومی حکومتیں تو کیا تھیں وہ ٹکڑوں کو تقسیم کرنا مقصود تھا۔

ظاہر بات ہے کہ جب نفرت کی بنیاد پہ تقسیم ہو گی تب اس تقسیم کو برقرار رکھنے کے لیے نفرت کو مزید بھی جاری رکھنا پڑے گا۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ جو انگریزی ڈکشنری ہے اس میں نیشن کی تعریف ایک نہیں ہو گی۔ زبان بھی بنیاد ہو گی، رنگ بھی بنیاد ہو گا، نسل بھی بنیاد ہو گی، شدت پسندی بھی بنیاد ہو گی۔ یہ اس لیے کہ جس قوم کو اپنے خطے میں جس قسم کے تضادات کو ابھارنے کا اپنے لیے بہتر سمجھتے تھے اسی کو نیشن کا بنیاد بنا لیا اور ہمارے ہاں انہوں نے مذہب کو بنیاد بنا لیا۔ یعنی ہندو مسلم قومیت۔

اور دوسری بات انہوں نے یہ طے کی کہ جاگیر جو پرانے زمانے میں افراد کو دیا جاتا تھا مثلاً کوئی نواب تھا تو کوئی خان، کوئی سردار۔ وہ اپنے گھریلو اخراجات جاگیر سے پورے کرے اور اگر اضافی اگر کوئی خدمت لینی ہو تو اس کے لیے مزید مدد دی جائے۔ اس پالیسی کو انہوں نے بدل لیا کہ اب جاگیر افراد کی بجائے اداروں کو دی جائے۔ لہٰذا جو جو بھی اسٹیبلشمنٹ جہاں جہاں ہم نے تشکیل دی ہے اب ہمیں اسی اسٹیبلشمنٹ کو یہ جو تقسیم ہو جائے گی یہ بطور جاگیر ہم ان کو دینا چاہیے تاکہ اسٹیبلشمنٹ اپنے گھریلو اخراجات وہاں سے پورے کرے اور مزید اگر کوئی خدمت ہو تو کولیشن سپورٹ فنڈ سے پوری کی جائے۔

تیسری پالیسی انہوں نے یہ تبدیل کی کہ اپنے محکوم خطوں میں ہم نے فوج رکھی ہے۔ اب اس فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت نہیں ہو گا کیونکہ سرحدوں کا معاملہ ہم جرگے سے طے کریں گے البتہ فوج کے ذمے اس خطے میں جو ہمارے مفادات ہیں اس کی حفاظت ہو گی۔ لہٰذا اس لیے آپ دیکھیں گے کہ سکیورٹی سٹیٹس ہوتے ہیں ان کا مزاج یہ ہے کہ کرپشن اور جرائم کی سرپرستی خود حکومتی ادارے کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ لوگ کرپٹ ہوں۔ مجرم ہوں تو اداروں کے قابو میں رہیں گے اور جو حفاظت ان کے ذمے ہے اس میں آسانی رہے۔

اور اب آپ دیکھتے ہیں کہ اسی حکومت نے جو قومی سلامتی کی پالیسی پاس کی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس ملک کا دشمن سرحد سے باہر نہیں بلکہ جو سرحد کے اندر کے باشندے ہیں اس ملک کے دشمن بنیادی طور پر سرحد کے اندر ہیں۔ اب ہم سارے اس کے دشمن ہیں اور جو مسلح دفاعی ادارے ہیں اس ملک کے فقط وہ خیر خواہ ہیں۔ اب اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے تحفظ پاکستان ایکٹ پاس کیا۔ اس میں ہے کہ اگر مسلح دفاعی اداروں کا پندرہویں گریڈ کا کوئی بندہ ہو اور اس نے اگر موقع پر کسی شخص کو گولی مار دی، کسی بھی شہری کو، یا گولی مارنے کا حکم دیا تو یہ قانون کے مطابق اس لیے ہو گا کہ جس کو گولی ماری گئی ہے یہ تو پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کے مطابق ملک دشمن ہے اور جو خیرخواہ اور وفادار ہے اس نے گولی مار دی۔ تو ٹھیک کیا۔ اگر اس نے یہ کیا کہ گرفتار کیا تو اب پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کے تابع ہے کہ اس نے ملک دشمن اور غدار کو گرفتار کیا۔ ا ب اگر وہ اس فیصلے کو مانتا ہے تو پھر جو سزا ہے وہ بھگت لے اور اگر وہ نہیں مانتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں غدار اور دشمن نہیں ہوں، وفادار ہوں، خیر خواہ ہوں تو پھر یہ پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کے خلاف دعویٰ کرتا ہے۔ یہ دعویٰ پھر اسے خود ثابت کرنا ہو گا۔

جن لوگوں کو ہمارے اداروں نے استعمال کیا تھا، کرپشن میں یا جرائم میں، اور اب وہ ان کوجہاد کے نام سے یا آزادی کے نام سے یا جس بھی نام سے، دوسرا حصہ اس کا یہ ہے کہ وہ سارے اعمال جو کسی زمانے میں آزادی اور جہاد کے نام سے یاد کیے جاتے تھے اب وہ دہشت گردی کے فیصلے کے تابع ہیں یعنی اب پارلیمنٹ نے ان پر فیصلہ دیا ہے کہ یہ سارے اعمال دہشت گردی ہیں اور جو تنظیمیں ان اعمال میں ملوث تھیں جن کو کسی زمانے میں مجاہد یا آزادی کی تنظیمیں کہا جاتا تھا وہ سارے کے سارے اب دہشت گرد ہیں۔ جن افراد نے ان اعمال میں حصہ لیا یا کسی نے اس کو سہولت فراہم کی تو وہ حصہ لینے والا دہشت گرد ہے اور دوسرا سہولت کار ہے۔ اس کے لیے نیشنل ایکشن پلان پاس کیا گیا جس میں بیس نکات ہیں اور ساٹھ تنظیمیں گنوائی گئی ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں اور کالعدم ہیں اور خصوصی طور پر جس شخص نے مذہب اور فرقے کا نام استعمال کیا ہے اس کا مقدمہ آرمی ایکٹ میں چلے گا اور آرمی عدالت میں چلے گا اس کے لیے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کی گئی اور آئین میں بھی تبدیلی کی گئی۔

اب اگر ہم ان چیزوں کو سمجھ جائیں کہ انسان تین طبقوں میں ہے، زمانہ دو طبقوں میں تقسیم ہے۔ تاریخ کے حوالے سے دنیا کی دو قسم ہیں اور سیاست کے اعتبار سے انتظامی ڈھانچے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ تو پھر ہمارے تو انتظامی ڈھانچے ہیں وہ ویلفیئر کے نہیں ہیں وہ سکیورٹی ہیں اور اس میں یہ چیزیں ہوتی رہیں گی اور باقاعدہ اداراتی طور پہ اس کی سرپرستی کی جائے گی۔

عدنان کاکڑ : عدم برداشت، تفرقہ اور آپس کی جو نفرتیں ہیں یہ سکیورٹی سٹیٹ ہونے کی وجہ سے ہیں؟

مولانا شیرانی: جی ہاں۔

عدنان کاکڑ : جب تک ریاست نہیں چاہے گی یہ سب کچھ ختم نہیں ہو گا؟

مولانا شیرانی: جب تک دنیا کے یہی پانچ مالک ہیں یہ اپنی بات منوانے کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ مروڑیں گے تو وہ تو اپنا لاؤ لشکر تو نہیں لائیں گے۔ وہ تو رضا کار ہم سے بھرتی کریں گے۔ پھر ہمیں جھانسہ دیں گے یا جہاد کا یا آزادی کا، تاکہ ایک دوسرے کے خطے میں رضاکار بھرتی کرکے افراتفری اتنی ابھاری جائے کہ وہ بالآخر مجبور ہو جائے کہ وہ بیٹھ جائے گی۔

عدنان کاکڑ : ہمارے ہاں میڈیا میں یا عام اخبارات میں شور مچتا ہے کہ مدارس دہشت گردی کا گڑھ ہیں۔ لیکن ہم حالیہ واقعات دیکھ رہے ہیں، صفورا گوٹھ کا واقعہ ہوا ہے وہ بھی آئی بی اے جو اعلیٰ ترین ادارہ ہے اس کے طالب علم تھے ابھی جومردان کا ولی خان یونیورسٹی میں واقعہ ہوا ہے اس میں اساتذہ اور انتظامیہ سمیت لوگ شامل ہیں۔ تو یہ یونیورسٹیز کیوں انتہا پسندی کا گڑھ بن رہی ہیں جبکہ بدنام مدارس کو کیا جاتا رہا ہے اور رزلٹ نکل رہا ہے ادھر سے۔

مولانا شیرانی: اصل مسئلہ اور ہے۔ ناٹو کا اتحاد 1949 ء میں ہوا۔ 28 مغربی ممالک نے باہم معاونت فراہم کی سوویت یونین اور مارکسزم کے خلاف۔ 1989 ء میں جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان سے نکلنا شروع ہو گئیں تو گویا کہ ایک قسم کی پسپائی اس نے قبول کی۔ وہاں پہ جو نمائندہ تھا اس نے مجاہدین کو دعوت دی میں حکومت بنا کے تمہیں دیتا ہوں یعنی گویا کہ مالک میں ہوں اور مزارع آپ۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ تو جب انہوں نے انکار کر دیا تو تب جا کے اس نے جہاد اور مجاہدین کو بدنام کرنے اور افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کرنے کے لیے مدرسے کو اٹھایا۔ اور مدرسے میں بھی وہ سنجیدگی نہیں تھی کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔ اگر آپ کرنل امام کے انٹرویو پڑھ لیں تو وہ کہتا ہے کہ جب حکومت نے ہمیں مدرسوں سے براہ راست بھرتی کی اجازت دی تو یہ عمل بڑا مفید ثابت ہوا۔ خرچ کم اور کام زیادہ ہوا۔

وسی بابا: مولانا یہ جو آپ کہہ رہے ہیں کہ مدارس جو تھے ان کو بھی باہر والوں نے استعمال کر لیا اپنے مقاصد کے لیے۔

مولانا شیرانی: مدارس کو استعمال کیا یا آپ یوں کہہ لیں کہ مدارس سے انہوں نے بھرتیاں کیں۔ ٹریننگ سنٹر تو اپنے کھولے تھے۔

وسی بابا: مولانا آپ نے یو این او کی بات کی، اور آپ نے دنیا ایک شہر کی بھی بات کی، اس سے مجھے یہ سمجھ آرہی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جو موجودہ سسٹم ہے آپ کی سمجھ اس حوالے سے بہت مناسب اور ٹھیک ہے۔ یہ جو آپ نے کہا کہ طالبان یا مجاہدین نے اس چیز کو سمجھا نہیں اور اس کے خلاف چلے گئے تو اس نے نقصان پہنچایا آپ کے سسٹم کو، تسلیم کرتے ہیں یا اس کے بغیر اب چارہ نہیں ہے۔ یہ جو جس پہ دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ ہم نے اسی میں چلنا ہے یا اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن ہے۔

عدنان کاکڑ : یعنی ہنسی خوشی اس راستے پر چل رہے ہیں یا مجبوری میں راضی ہیں۔

مولانا شیرانی: ایک ہے پسند اور ایک ہے برداشت۔ یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ پسند نہیں ہے۔ برداشت ہے۔

عدنان کاکڑ : یونیورسٹیز میں کیوں انتہا پسندی آئی ہے۔ ادھر تو چلیں مدارس کو کرنل امام یا فوج نے استعمال کر لیا کسی بھی طریقے سے۔ یونیورسٹیز میں تین چار برس سے انتہا پسندی کی لہر کیوں نظر آرہی ہے؟

مولانا شیرانی: اصل بات یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہے کہ 1989 ء میں فوجیں نکلیں افغانستان سے اور 1992 ء میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا۔ اور 92 ء ہی میں مغرب کے تھنک ٹینکوں اور لکھاریوں نے مقالے پڑھنا شروع کیے۔ تقریریں کیں، مضامین لکھے اور کتابیں بھی لکھیں اور ان کا موقف یہ تھا کہ چوتھی عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ یعنی دو گرم جنگیں ہیں 1914 ء سے 1918 ء اور 1939 ء سے 45 ء۔ یہ فوجوں کی جنگیں تھیں۔ پھر 49 ء سے 89 ء تک چالیس سال یہ سرد جنگ تھی۔ سرد جنگ کا معنی یہ ہے کہ جنگ میری تھی لیکن ایندھن کوئی اور بنتے تھے ہم نہیں بنتے تھے۔ اب وہ کہہ رہے تھے کہ یہ چوتھی عالمی جنگ ہے اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ چوتھی عالمی جنگ ہے۔

اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ یہ جنگ مسلم ممالک کے ساتھ ہو گی۔ البتہ اس جنگ کو عنوان دینے میں اختلاف تھا۔ بعض کہتے کہ یہ جنگ ملکوں کی نہیں ہو گی، بلکہ یہ جنگ تہذیبوں کی جنگ ہو گی۔ یعنی ایک ہو گی مغربی تہذیب اور دوسری جانب ہو گی خدا پرستوں یعنی مسلم ممالک کی تہذیب۔ نائن الیون کا جب حادثہ ہوا تو سب سے پہلا ردعمل جو امریکی صدر کا تھا وہ یہی تھا کہ تہذیبوں کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ لیکن بعد میں جب ان کو اس عنوان کی خرابی کا اندازہ ہوا تو انہوں نے سوچا کہ اگر ہم اس کو تہذیبوں کی جنگ کا نام دیں گے تو یہ نہ ہو کہ مسلمان اسلامی تہذیب کو بچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں اور اگر وہ اکٹھے ہو گئے تو پھر پراکسی وار تو نہیں ہو گی پھر تو ہمیں براہ راست میدان جنگ میں جانا ہو گا۔

پھر انہوں نے تاویلیں شروع کر دیں اور پھر جب تاویلیں شروع کیں تو وہ جو دوسرا عنوان تھا وہ یہ تھا کہ یہ دہشت گردی کے ساتھ جنگ ہے۔ اس کو انہوں نے قبول اس لیے کیا کہ جو مسلمان نوجوان ہے اس میں مذہب کاجذبہ ہے تو جہاد کے نام سے ہمارے ہاتھوں چڑھ جائے گا اور اگر اس میں قومیت کا جذبہ ہے تو پھر آزادی کے نام سے ہمارے ہاتھ چڑھ جائے گا۔ تو ہم دہشت گردی ابھاریں گے بھی خود اور پھر ہمارے جو زیر اثر حکومتیں ہیں مسلمان ہیں ان کے ذریعے سے دبائیں گے بھی خود۔ اور جو ابھارنے والی قوت ہے وہ بھی مسلمان ہوں گے اور جو دبانے والی قوت ہے وہ بھی مسلمان ہو گی۔ مقصد یہ تھا کہ دنیا کو یہ دکھا دیا جائے کہ اسلام ایک وحشی مذہب ہے اور مسلمان وحشی درندے ہیں۔ اب اس کی سیاست، مذہب اور حکومت کے میدان میں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہونی چاہیے۔ لہٰذا اسلام کوئی کرے تو اپنی ذات کی حد تک کرے لیکن حکومت اور سیاست میں نہ ہو۔ وہ اس مقصد میں اب تقریباً کامیاب ہو چکے ہیں، علماء کی برکت سے اور مفتی حضرات کی برکت سے۔

عدنان کاکڑ : ایک مشہور پیر صاحب کا ایک بیان بھی گردش میں رہا ہے کہ اسلام امن کا مذہب نہ تو کبھی رہا ہے اور نہ ہی  اب ہے اور جو ایسا سمجھتے ہیں وہ غلط سمجھتے ہیں۔ اب تو علما کی طرف سے بھی یہ چیزیں آرہی ہیں جن کا حلقہ اثر موجود ہے۔

مولانا شیرانی: قرآن عربی زبان کا لفظ ہے اور جس لفظ سے اس قرآن کو لیا گیا ہے وہ عربی زبان میں دو قسم کا ہے یا تو قرء ہے یا قرن ہے۔ دونوں کا معنی ہے جوڑنا۔ قرآن کا معنی جوڑنے والا کتاب ہے۔ تو پھر جب کتاب بھی کہتی ہے کہ میں جوڑنے والا ہوں اگر مجھ پر کوئی عمل کرے۔ اور اسلام بھی کہتا ہے کہ میں سلم ہوں اگر میری ہدایات کے مطابق کوئی چلے۔ ایمان کا بھی معنی یہ ہے کہ اگر ایمان کے تقاضے کوئی پورے کرے تو وہ امن کی ضمانت دے گا۔ پھر کون، کیسے کہتا ہے کہ یہ امن کا، اور سلامتی کا دین نہیں ہے۔

عدنان کاکڑ : عام طور پر مشہور کیا جاتا ہے کہ بریلوی امن پسند ہوتے ہیں اور دیوبندی دین کے معاملے میں سخت موقف رکھتے ہیں۔ اور اب ہمیں بریلوی سائیڈ سے پتا چل رہا ہے کہ اسلام امن کا مذہب نہیں ہے اور دیوبندی سائیڈ سے پتا چل رہا ہے کہ یہ تو ہے ہی سراپا امن۔

مولانا شیرانی: اصل بات یہ ہے کہ اگر سکیورٹی سٹیٹس ہیں۔ تو انہوں نے تضادات کو ابھارنا بھی ہو گا اور نفرتوں کے درجے پہ پہنچانا بھی ہو گا تاکہ لوگ آپس میں الجھے رہیں اور وہ ثالث کے مقام پر فائز رہیں۔ سکیورٹی سٹیٹ کا یہی مزاج ہوتا ہے۔

(دوسرا اور آخری حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مولانا محمد خان شیرانی سے انٹرویو (1)۔

Comments are closed.