شام میں جنگ بندی


mujahid ali کل نصف شب سے شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل شروع ہوگا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت اور فری سیرین آرمی کے نام سے اس کے خلاف برسر پیکار گروہوں کے اتحاد نے اس جنگ بندی پر عمل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم جنگ بند کرنے کا یہ معاہدہ امریکہ اور روس کے درمیان باہمی اتفاق رائے سے ممکن ہو¿ا ہے۔ لیکن دونوں ملک بدستور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اس موقع پر ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ شام میں امن کے لئے سب دھڑوں کو معاہدہ کا احترام کرنا ہوگا۔ روس پر اس حوالے سے خاص طور سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی قسم کا بیان روس کے وزیر خارجہ سرگی لاوروف نے بھی جاری کیا ہے اور جنگ بندی کے حوالے سے امریکہ کو متنبہ کیا ہے۔

تاہم اس جنگ میں ملوث سب فریق اس بات پر متفق ہیں کہ شام میں جنگ ختم کرکے ہی اس علاقے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی حتمی انجام تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ شام میں پانچ برس سے خانہ جنگی جاری ہے جس کے نتیجے میں دولت اسلامیہ کے نام سے دہشت گرد گروہ نے قوت پکڑی اور شام اور عراق کے وسیع علاقے پر قبضہ کرکے اسلامی خلافت کا اعلان کردیا۔ صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ حکومت نہیں ہے بلکہ مجرموں کا ایک گروہ ہے جو دہشت کے ذریعے دنیا کو خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔ شام میں جنگ بندی کے موجودہ معاہدے کا اطلاق داعش اور القاعدہ کی مقامی شاخ نصرہ فرنٹ پر نہیں ہوگا اور سب فریق اپنے اپنے طور پر ان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ ایک لحاظ سے یہ ایک مثبت بات ہے لیکن اس بات کا اندیشہ موجود رہے گا کہ داعش یا نصرہ فرنٹ کے خلاف کارروائی کو روس یا دمشق حکومت کی باغیوں کے خلاف فوج کشی کا نام دے کر جنگ بندی ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

شام میں جمہوریت بحال کرنے کے نام سے شروع ہونے والی تحریک کے نتیجہ میں اڑھائی لاکھ لوگ جاں بحق اور ملک کی نصف آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ان میں سے اکثر نے لبنان، اردن اور ترکی میں پناہ لی ہوئی ہے۔ گزشتہ گرمیوں سے بڑی تعداد میں شامی پناہ گزینوں نے یونان کے راستے یورپ کا رخ بھی کیا ہے جس کی وجہ یورپ ایک غیر متوقع اور ناقابل قبول سیاسی اور سماجی صورت حال کا شکار ہو چکا ہے۔ اس پس منظر میں شام مین جنگ بندی یورپ اور امریکہ کے لئے بے حد ضروری ہے لیکن ان کے علاقائی حلیف ترکی اور سعودی عرب بشار الاسد یا روس پر اعتماد نہیں کرتے۔ اس لئے آنے والے دو ہفتے اس تنازعہ میں ملوث سب فریقوں کا کڑا امتحان ہوگا۔ بشار الاسد کے مستقبل کے سوال پر شدید اختلاف اس بداعتمادی کی بنیاد ہے۔ روس اس بات پر تیار نہیں ہے کہ مستقبل میں شام کے کسی سیاسی حل میں بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا جبکہ امریکہ اور اس کے یورپی اور علاقائی حلیف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بشار اور ان کے ساتھی شام کی سیاست سے دست بردار ہوجائیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali