جب قیامت کی جھوٹی پیش گوئی کرنے والا تائب ہوا


وہ الیکٹرانک میڈیا کی ایک بااثر مذہبی شخصیت تھا۔ اس کے بیانات نہایت دلچسپی اور عقیدت سے سنے جاتے تھے۔ لاکھوں لوگ اس کی بات پر ایمان لاتے تھے۔ وہ آسمانی کتاب کی روشنی میں لوگوں کے سوالات کے جواب بھی دیتا تھا اور وعظ بھی کہتا تھا۔ لوگوں کو گناہ اور ثواب کی باتیں بتایا کرتا تھا۔ ان کی شادی، جنس اور تعلیم کے بارے میں راہنمائی کرتا تھا۔ وہ بتاتا تھا کہ کس طریقے سے اس کے ماننے والے جنت میں جا سکتے ہیں۔

پھر ایک دن اس نے یوم قیامت کی پیش گوئی کر دی۔ اس نے بتایا کہ اس دن برگزیدہ لوگ آسمان پر اٹھا لیے جائیں گے اور اس کے بعد دنیا زلزلوں، سیلابوں، آسمان سے آگ برسنے وغیرہ جیسی آفات میں مبتلا ہو جائے گی اور چھے ماہ کے اندر اندر مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ اس شخص نے یوم قیامت کی نشاندہی مذہبی لٹریچر کو بنیاد بنا کر خوب حساب کتاب جوڑنے کے بعد کی تھی۔

کروڑوں روپے کی تشہیری مہم چلائی گئی اور قوم کو آنے والی قیامت سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے ماننے والوں نے کام کاج کرنا چھوڑ دیا۔ وہ اپنی جمع پونجی کو ٹھکانے لگانے لگے۔ ایک شخص کی جمع جتھا ڈیڑھ کروڑ روپیہ تھی، اس نے ساری کی ساری قیامت کے پیغام کی تشہیر پر لگا دی۔ ایک جوڑے نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور وہ دونوں میاں بیوی اپنی بیٹی کو لے کر در در پھرتے رہے اور آنے والی قیامت سے لوگوں کو آگاہ کرنے لگے۔ اس روزِ قیامت سے عین ایک دن پہلے ایک عورت نے اپنی چودہ اور گیارہ سال کی بیٹیوں کو قتل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ بچے قیامت کے دن سے محفوظ رہ سکیں مگر خوش قسمتی سے اس کے دوست عین وقت پر پہنچ گئے اور ان لڑکیوں کی جان بچا لی گئی۔

قیامت کا دن آ گیا۔ پیش گوئی کے مطابق اس دن آسمان شق ہونا تھا اور دو کروڑ برگزیدہ لوگ آسمان پر اٹھا لئے جانے تھے۔ بے شمار آنکھیں 21 مئی 2011 کے دن آسمان کو تکتی رہیں مگر کچھ نہ ہوا۔ شام تک ہیرالڈ کیمپنگ کے ماننے والے مایوس ہونے لگے تھے۔ انہوں نے تو اپنی جمع پونجی اس آس پر لٹا دی تھی کہ آج وہ آسمان پر اٹھا لئے جائیں گے اور جنت میں داخل ہو جائیں گے اور آج کے بعد ان کو دنیا کے مال و متاع کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ہیرالڈ کیمپنگ سارا دن گھر میں چھپا رہا اور میڈیا کا سامنا نہ کر پایا۔ چند دن بعد ہی 9 جون کو اس پر فالج کا حملہ ہوا۔ کچھ عرصے بعد وہ صحت یاب تو ہوا مگر میڈیا پر دوبارہ نہ آیا۔

اس سے پہلے بھی وہ 1994 میں قیامت آنے کی پیش گوئی کر چکا تھا۔ اس پیش گوئی کی ناکامی کا سبب اس نے یہ بتایا تھا کہ اس سے حساب کتاب جوڑنے میں غلطی ہو گئی تھی اور اب نئے حساب کتاب کی رو سے برگزیدہ لوگوں کو 21 مئی 2011 کو آسمان پر اٹھا لیا جانا تھا اور 21 اکتوبر 2011 کو دنیا کی مکمل تباہی کا دن تھا۔

یہ دوسری پیش گوئی بھی غلط نکلنے کے بعد ہیرالڈ کیمپنگ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اب وہ اس بات کو ماننے لگا ہے کہ کوئی شخص روز قیامت کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی یوم قیامت بتانے کی کوشش ایک گناہ تھی اور اس کے نقاد درست کہتے تھے کہ کہ انجیل مقدس کی آیت کے مطابق ’اس دن اور گھڑی کا کسی شخص کو علم نہیں ہے‘۔ اس نے بتایا کہ اب وہ انجیل مقدس کو تاریخیں جاننے کے لئے نہیں بلکہ صدق دل سے اسے سمجھنے کے لئے پڑھتا ہے۔

ڈیڑھ سو سے زیادہ ریڈیو سٹیشن رکھنے والی اس کی کمپنی ’فیملی ریڈیو چینل‘ کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے سننے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی اور اسے بہت سے عملے کو فارغ کرنا پڑا اور کئی ریڈیو سٹیشن بیچنے پڑے۔ سنہ 1961 سے جاری اس کا پروگرام ’اوپن فورم‘ بھی بند کر دیا گیا۔

15 دسمبر 2013 کو ہیرالڈ کیمپنگ وفات پا گیا۔

گزشتہ دنوں ممتاز مبینہ مذہبی عالم اور دانشور جناب اوریا مقبول جان صاحب نے بتایا کہ بعض احادیث کی روشنی میں انہوں نے حساب کتاب جوڑ کر یوم قیامت معلوم کر لیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ احادیث کون سی کتاب میں ہیں۔ بہرحال ان کو یہ سمجھ آئی ہے کہ امت مسلمہ کی عمر ایک دن ہے اور ایک دن برابر ہوتا ہے ایک ہزار سال کے۔ لیکن اب تو اسلام کو پندرہ سو سال ہونے والے ہیں۔ تو انہوں نے مزید غور کیا تو علم ہوا کہ آدھا دن یعنی پانچ سو سال مزید بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ 1438 ہجری ہے اور 1500 میں سے 1438 نکالیں تو تقریباً ستر سال رہ گئے ہیں۔ اسی میں یاجوج ماجوج نے آنا ہے اور اسی میں دجال کا ظہور ہونا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قیامت صرف زمین پر آنی ہے اور باقی کائنات پر نہیں۔ انہوں نے یہ راہنمائی بھی کی کہ انسان کسی دوسرے سیارے پر زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ لیکن وہ حساب ٹھیک سے جوڑا کریں تو اچھا ہو گا۔ ہم 1500 میں سے 1438 نکال رہے ہیں تو 62 کا ہندسہ آ رہا ہے۔ ہمارا کیلکولیٹر خراب لگتا ہے۔ اوریا صاحب غلط نہیں کہہ سکتے۔

ویسے ہم کنفیوز ہیں کہ یہ 1500 سال پہلی وحی سے اسلام کے نزول کے بعد سے گنے جانے چاہئیں یا ہجرت کے بعد سے۔ پہلی صورت میں تو اوریا صاحب کے حساب میں مزید غلطی ہو سکتی ہے اور ان کے مطابق قیامت میں پچاس برس سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔ اب 49 یا 62 یا بقول ان کے 70 برس بعد اگر قیامت نہ آئی تو ان کا کوئی جانشین ویسے ہی قرآنی آیات پر غور کر کے بتا دے گا کہ روز قیامت کے بارے میں کسی انسان کا پیش گوئی کرنا غلط ہے جیسے ہیرالڈ کیمپنگ نے پیش گوئی غلط نکلنے پر انجیل کی آیات پر دوبارہ غور کیا تھا۔

قیامت کا روز جاننے کی فکر میں مبتلا افراد کے لئے تین قرآنی آیات اور ایک حدیث کا مطالعہ کرنا دلچسپی کا باعث ہو گا۔ تلاش کرنے والوں کو یقیناً مزید نشانیاں بھی مل جائیں گی۔

یہ لوگ آپؐ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا۔ آپؐ فرما دیجئے اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی ظاہر نہ کرے گا۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپؐ اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپؐ اس کی تحقیقات کر چکے ہیں۔ آپؐ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ الاعراف 187

(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو؟ اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو معلوم ہے۔ النازیات 42

بلاشبہ اللہ ہی کے پاس ہے علم (قیامت کی) اس گھڑی کا اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ (ماؤں کے) رحموں میں کیا ہے اور کسی شخص کو پتہ نہیں کہ وہ کل کیا کرے گا اور نہ ہی کسی کو یہ پتہ ہے کہ اس کی موت کس دھرتی میں آئے گی بلاشبہ اللہ ہی ہے (سب کچھ) جانتا (ہر چیز سے) پوری طرح باخبر۔ سورہ لقمان۔ 34

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1885 مکررات 10 متفق علیہ 5

ابراہیم بن منذر، معن بن عیسیٰ، امام مالک، عبداللہ، دینار، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ غیب کی پانچ باتیں یا کنجیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ایک تو یہ کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ دوسرے یہ کہ عورتوں جانوروں وغیرہ کے رحموں میں کیا ہے۔ یعنی نر ہے یا مادہ یا کچھ اور۔ تیسرے یہ کہ بارش کب ہوگی۔ چوتھے آدمی کہاں مرے گا۔ پانچویں قیامت کب آئے گی۔ یہ باتیں صرف اللہ جانتا ہے۔



Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 690 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar