احمد ندیم قاسمی کی شاعری، انسان اور خدا


پوچھا تھا اک سوال ازل میں ندیمؔ نے

تک اسے طلب ہے خدا سے جواب کی

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان نے خدا سے آخر کون سا سوال پوچھ لیا تھا جس کا وہ آج تک جواب نہ پا سکا۔ کیا وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ:

زندگی کی حقیقت کیا ہے؟

انسان کی فطرت کیسی ہے؟

گناہ و ثواب کا تصور کہاں سے آیا ہے؟

جنت اور دوزخ کا مفہوم کیا ہے؟

انسان کا اپنی ذات سے کیا رشتہ ہے؟

انسان کا دوسرے انسانوں سے کیا ناطہ ہے؟

انسان کی پوری کائنات میں کیا حیثیت ہے؟

انسان کا خدا سے کیا تعلق ہے؟

اور جب اسے یقین ہو گیا کہ جب تک وہ جنت الفردوس کی آرام دہ اور پرسکون زندگی سے مطمئن رہے گا‘ دودھ اور شہد کی نہروں اور ملائکہ کی صحبت سے محظوظ ہوتا رہے گا وہ اپنی ذات اور کائنات کے کسی راز سے آشنائی حاصل نہ کر سکے گا تو اس نے ایک گناہ کا سہارا لیا تھا‘ ایسا گناہ جس سے اسے ڈرایا دھکایا گیا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ گناہ ہی جنت کی قید سے رہائی کی کنجی ہے

مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیرِ بہشت

مرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہے

اس طرح آدمِ خاکی اپنی ذات اور اپنے چاروں طرف پھیلی کائنات کا عرفان حاصل کرنے کے لیے آسمانوں سے زمین پر اتر آیا۔اس کے بعد جوں جوں اس نے ارتقا کی منزلیں طے کرنی شروع کیں اسے ہر موڑ پر یہی بتایا‘ پڑھایا اور سکھایا گیا کہ اس دنیا‘ اس کائنات اور ان میں بسی ساری مخلوقات کا خالق اور مالک خدا ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے وہی موت۔ اس کی مرضی کے بغیر ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور اوتاروں کے نقشِ قدم پر چلے اور آسمانی کتابوں میں زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرے۔

انسان ایک طویل عرصے تک ان الوہی تصورات کو سینے سے لگائے زندگی گزارتا رہا لیکن جب اس کے اندر کی آنکھ کھلنے لگی اور وہ اپنی ذات کو جاننے‘ اپنے ماحول کو سمجھنے‘ اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور دوسرے انسانوں کا دردِ دل سمجھنے کے قابل ہوا تو اسے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ جہاں وہ حسن‘ موسیقی‘ خوشبو‘ امن‘ آشتی اور محبت کی جھیلوں کی امید لگائے ہوئے تھا وہاں اسے بدصورتی‘ شور‘ جنگ‘ ظلم اور نفرت کے دریا بہتے نطر آئے۔

جب انسان نے اس زمین کی زندگی کی تلخ حقیقتوں سے بے اطمینانی کا اظہار کرنا شروع کیا اور خدا کی طرف شکایت کرنے کے لیے بڑھنا چاہا تو مذہبی رہنمائوں نے اس کا راستہ روک لیا اور اسے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ خدا سے بلا واسطہ کوئی تعلق قائم نہیں کر سکتا۔ ان رہنمائوں نے انسان کو دین اور ایمان کی عظمت کے درس دیے اور شک‘ ناامیدی اور مایوسی کو شیطان کے کارنامے بتائے۔ ان قائدین نے عقیدوں‘ مذاہب‘ روایات اور عبادات کی اتنی گرد اڑائی کہ انسان  راستہ کھو بیٹھا اور بھٹک گیا۔ ان مذہبی رہبروں نے انسان کو گناہ و ثواب کے جھگڑوں میں الجھا دیا۔ اسے حقیقتوں کی بجائے خوابوں‘ اس دنیا کی بجائے اس دنیا سے بہلانے کی کوشش کی لیکن جب انسان نے بلوغت کے چند اور زینے طے کیے اور زندگی کو عقائد سے بالاتر ہو کر دیکھنا شروع کیا تو اسے احساس ہوا کہ ان رہنمائوں کس درس خود فریبی کے سوا کچھ نہ تھا

 وہ جو اک عمر سے مصروفِ عبادات میں تھے

آنکھ کھولی تو ابھی عرصہِ ظلمات میں تھے

اس مقام پر انسان کو احساس ہوا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے اسے انسانوں کی ضرورت تھی خدائوں کی نہیں اور وہ پکار اٹھا

اے خدا کوئی آدمی تو بھیج

سب خدا ہیں تری خدائی میں

اور وہ جان گیا کہ عقائد بت بن کر انسانی ارتقا مین روڑے اٹکاتے ہیں اور بادل بن کر محبت کے سورج کو انسانی آنکھوں سے اوجھل رکھتے ہیں

اگر ہجوم ہو اذہان پر عقائد کا

تو دوپہر بھی مدھم دکھائی دیتی ہے

گھنے درخت اگر چھا رہے ہوں چاروں طرف

تو آسمان بہت کم دکھائی دیتا ہے

میں محبت کا پجاری ہوں عقیدوں کا نہیں

ان بتوں کو مرے رستے سے ہٹایا جائے

جب انسان اپنے اور خدا کے درمیان تمام رکاوٹوں کو ہٹا چکا اور مذاہب‘ عقائد اور مذہبی رہنمائوں سے نبرد آزما ہو چکا اور اسے خدا سے بلا واسطہ مخاطب ہونے کا موقع ملا تو اس نے خدا سے  بڑی صاف گوئی سے کہہ دیا کہ اسے خدا کے یہ کہنے کہ وہ غفور الرحیم ہے‘ ساری دنیا کا خالق و مالک ہے‘ ان داتا ہے اور جو اس زمین پر انسانوں کا حال ہے اس میں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان نے خدا سے ہہ سوال کیا کہ اگر وہ انسانوں کا مائی باپ ہے تو وہ اپنے بچوں کو ظلم کے صحرا میں بھٹکتے اور خون کے شعلوں میں جلتے کیسے دیکھ لیتا ہے اور چپ رہتا ہے۔؟ اس سوال سے ایسا لگ رہا تھا جیسے انسان بچپن کی حدود پار کر کے نوجوانی کے اس مرحلے پر پہنچ گیا تھا جہاں بچے اپنے والدین کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور شکوہ شکایت سے اپنی محبت اور قربت کا اظہار کرتے ہیں۔ انسان نے اتنی ہمت اور جرات پیدا کر لی تھی کہ خدا سے پوچھ سکتا

 تیری رحمت تو مسلم ہے مگر یہ تو بتا

کون بجلی کو خبر دیتا ہے کاشانوں کی

یہ گھٹائیں ہیں کہ وعدے ہیں تری رحمت کے

گھر کے آئیں مگر اک پل نہ برسنے پائیں

اے خداوند ! ہر انسان کا مرنا جینا

تیری منشا ہے تو اتنے جھمیلے کیوں ہیں؟جب انسان کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی گئی‘ اس کا دائرہِ حیات تنگ ہوتا گیا اور اسے زندگی کے بنیادی حقوق سے بھی دستبردار ہونا پڑا تو اس کے لہجے میں غصہ‘ طنز‘ نفرت اور تلخی پیدا ہونی شروع ہو گئی۔ آخو اس نے خدا سے کہہ ہی دیا

تو نے کب مجھ کو دیے میرے حقوق

میں  ترا  فرض   ادا   کیا    کرتا

جن کو برسوں کی عبادت سے بھی نفرت ہی ملی

میں بھی شامل ہوں انہی سوختہ سامانوں میں

انسان جب نوجوانی کے اس دوراہے پر پہنچا تو تضادات کا شکار ہو گیا۔ ایک طرف وہ غصہ اور نفرت کے بادلوں میں گھر گیا اور دوسری طرف اسے احساس ہونے لگا کہ وہ قدرت کی نعمتوں اور رحمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے اپنی کوتاہیوں اور غلط فیصلوں کا الزام خدا کے سر تھوپ رہا ہے اور اپنے اعمال کی ذمہ داری اپنے سر لینے سے کترا رہا ہے۔ اسے احساس ہوا کہ وہ ایک دفعہ پھر خود فریبی کا شکار ہو گیا ہے

ظالموں کی عجیب منطق ہے

آسماں سے وبال آتے ہیں

اپنے اعمال کا وہ بارِ گراں

اپنے اللہ پہ ڈال آتے ہیں

انسان نے بچپن سے نوجوانی کا سفر تو طے کر لیا تھا لیکن پھر بھی اپنے قدموں پر پوری طرح کھڑا نہ ہو پایا تھا اور صدیوں کے رشتے کو نہ توڑ پایا تھا اس لیے جب بھی کسی نفسیاتی یا سماجی بحران کا شکار ہوتا تو اسے خدا یاد آ جاتا ۔ وہ اس نوجوان کی طرح تھا جسے مصیبت میں ماں یاد آ جاتی ہے

 اس انتظار میں تکمیلِ کفر ہو نہ سکی

کبھی تو میرا خدا بھی مرا خدا ہوتا

مرا کوئی بھی نہیں کائنات بھر میں ندیمؔ

اگر خدا بھی نہ ہوتا تو میں کدھر جاتا

آخر ہزاروں سالوں کی ریاضت‘ محنت اور مشقت کے بعد انسان بیسویں صدی کی سیڑھی پر آ کھڑا ہوا اور اسے اندازہ ہوا کہ اس صدی کا آشوب پچھلی تمام صدیوں سے بڑھ کر تھا کیونکہ انسانی تاریخ میں وہ پہلی دفعہ ایسے مقام پر پہنچ گیا تھا اور اس نے اتنے مہلک ہتھیار وضع کر لیے تھے کہ اگر وہ چاہتا تو پوری انسانیت کے قتل یا خود کشی کا مرتکب ہو سکتا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ اس صدی کے بچوں کا نصاب نظرِ ثانی کا مستحق تھا

                   ا۔۔۔ب

ذہنی بچو !

’ا‘ سے آم اور ’ب‘‘ سے بکری کے دن گئے

اب ’ا‘ سے ایٹم پڑھو کہ ایٹم اٹل ہے

اب ’ب‘ سے بم بنے گا

کہ بم ہی آج اور بم ہی کل ہے

بیسویں صدی کے انسان کو احساس ہو گیا تھا کہ اسے نئے دور کے تقاضوں سے انصاف کرنے کے لیے نئے اصول مرتب کرنے پڑیں گے اور ارتقا کا سفر جاری رکھنے کے لیے پرانی روایات کو ترک کر کے نیا طرزِ زندگی دریافت کرنا پڑے گا اور جو اس سفر کو روکنا چاہے اس سے نبٹنا بھی پڑے گا

 یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں

پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں

اور اسے ماضی کے بوسیدی خدائوں اور بتوں کو توڑنا پڑے گا۔

آخر انسان اپنی بلوغت کے اس مقام پر آ گیا جہاں اس نے جان لیا کہ انسان انسانیت کے مستقبل کا نہیں خدا کے مستقبل کا بھی ذمہ دار ہے۔ اگر زمین نہ رہی‘ انسان نہ رہا تو خدائی بھی نہ رہے گی

                             بیسویں صدی کا انسان

مجھے نہ توڑو

کہ میں گلِ تر سہی مگر اوس کی بجائے لہو میں تر ہوں

مجھے نہ مارو

میں زندگی کے جمال اور گہماگہمیوں کا پیام بر ہوں

مجھے بچائو۔۔۔۔کہ میں زمیں ہوں

کروڑوں کرنوں کی کائناتِ بسیط میں صرف میں ہی ہوں جو خدا کا گھر ہوں

                             ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیسویں صدی کے انسان کو اندازہ ہو گیا کہ اس کی بقا کا مسئلہ خدا کی بقا کا مسئلہ بن گیا ہے۔

خدا ازل میں بھی چپ تھا آج بھی چپ ہے۔

آخرِ کار جب ہم اس سفر کی آخری منزل پر پہنچ کر دوبارہ اس سوال کی طرف لوٹتے ہیں جس سے ہم نے اس سفر کا آغاز کیا تھا

 پوچھا تھا اک سوال ازل میں ندیم نے ۔

اب تک اسے طلب ہے خدا سے جواب کی

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر

آدم کو جنت میں شجرِ ممنوعہ کھانے کے بعد

موسیٰ کی کوہِ طور کی سیر کے بعد

ابراہیم کے آتشِ نمرود میں جلنے کے بعد

عیسیٰ کے صلیب پر چڑھنے کے بعد

بدھا کے جنگلوں میں پھرنے کے بعد

اور

سقراط کے زہر کا پیالہ پینے کے بعد

بھی انسان کو سوال کا جواب نہیں ملا تو کیا ایسا تو نہیں کہ انسان نے آج تک

یا تو سوال پوچھنے کا سلیقہ نہیں سیکھا

یا وہ ایسے دروازے پر دستک دے رہا ہے جہاں کوئی رہتا ہی نہیں

اور

یا وہ صحیح سوال سے ہی ناواقف ہے

کیا ایسا تو نہیں کہ انسان کو اپنے ارتقا کے لیے آسمانوں کی بلندیوں کی بجائے اپنی روح کی گہرائیوں میں اترنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے ہمسایے سے محبت کرنے کے لیے خدا اور مذہب سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں اور اپنے اجتماعی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہے جس میں وہ انسان دوستی کے فلسفے کو گلے لگائے‘ رنگ‘ نسل‘ زبان‘ مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر باہمی مشوروں سے اپنے فردا کا منشور طے کر سکے ۔۔۔اور اگر ایسا ہے تو انسان کو نہ تو خدا سے سوال کرنے کی حاجت رہے گی اور نہ جواب کی امید۔۔۔اور ویسے بھی یہ امید اپنا دم توڑ چکی ہے

میری امید کی پتھرا گئیں آنکھیں لیکن

میں نے اس لاش کو سینے سے لگا رکھا ہے

میں نہیں جانتا کہ احمد ندیم قاسمی اپنی ذاتی زندگی میں اس سفر کی کس منزل پر پڑاؤ کیے ہوئے ہیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ان کی شاعری میں جہاں جہاں ان کے تخلیقی سفر کی جھلکیاں اور نظریاتی سفر کی بصیرتیں دکھائی دیتی ہیں وہ مجھ جیسے زندگی‘ ادب اور آدرش کے طالب علموں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔۔۔یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری کو شیوہِ پیغمبری کا نام دیا جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔