پاکستان کی تاریخ کا متبادل بیانیہ


daud-zafar-nadeem

تحریک پاکستان، نظریہ پاکستان اور تفہیم پاکستان کے حوالے سے ایک متبادل بیانئے کے حوالے سے میں اوائل عمر سے متحرک رہا ہوں مگر مجھے اس وقت نہایت حیرت ہوئی جب نصابی کتابوں کا ایک معروف مروجہ موقف ہمارے ایک دوست نے متبادل تفہیم کے نام سے پیش کیا، اور ظاہر کیا کہ نصابی کتابوں کا یہ معروف موقف اپنی توانائی کھو رہا ہے اسے دوبارہ سے بحال اور فعال رکھنے کی ضرورت ہے حالانکہ نصابی کتابوں کا یہ موقف پورے سرکاری وسائل کے ساتھ آج بھی مروج بیانیہ ہے متبادل بیانیہ ان لوگوں کا ہے جو ذرا مختلف موقف رکھتے ہیں۔

پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے تاریخ کے نام پر جو کھیل کھیلا جاتا ہے اس پر سخت حیرت ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہر قوم اور ہر نظریہ ایک مخصوض عینک سے تاریخ کی تفہیم کو دیکھتے ہیں اور اس کی اپنی تعبیر کرتے ہیں مگر کسی بھی علاقے کی تاریخ بیان کرتے وقت اس کا جغرافیہ بہت اہم ہوتا ہے۔ کوئی علاقہ ہوا یا خلا میں موجود نہیں ہوتا وہ ایک جیتی جاگتی زمینی حقیقت ہوتا ہے۔ ہمارا پاکستان زمین کے جس خطے میں آباد ہے وہ وادی سندھ کے نام سے ہزاروں سال سے موجود ہے۔ ہم گنگا اور جمنا کی وادی سے الگ ایک تاریخی تشخص رکھتے ہیں محمد بن قاسم کا حملہ ہماری اس تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے مگر اسلام کی تبلیغ اور فروغ میں اس کا کردار بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

وادی سندھ میں بعض افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں مدینہ جا کر ایمان لا چکے تھے۔ مکہ سے ساتھ وادی سندھ کے تجارتی روابط موجود تھے اور وہاں سے اسلام کی کرنیں حضورؐ کی زندگی میں وادی سندھ میں داخل ہو چکی تھیں حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان کے دور میں خراسان کی فتح کے ساتھ وادی سندھ کے بعض علاقوں میں یہ تعلق زیادہ اہم ہو گیا۔ عرب ملوکیت کے دور کے آغاز پر عراق کے صوبے پر ایک انتہائی ظالم شخص حجاج بن یوسف کو گورنر تعینات کیا گیا تاکہ عراق سے بنو امیہ کے باغیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

جب حجاج بن یوسف کے مظالم کی وجہ سے بہت سے شیعان علی وادی سندھ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد جب عراق میں ابن اشعت کی بغاوت ہوئی جس کی تائید بہت سے نامور تابعیین نے کی تھی تو حجاج بن یوسف نے اس بغاوت پر قابو پا کر ظلم کی اخیر کر دی تھی جس کا تذکرہ اس زمانے کی تاریخ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مظالم کی وجہ سے بہت سے لوگ وادی سندھ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس پر حجاج بن یوسف وادی سندھ کے راجہ سے سخت ناراض ہوا اور اس نے ان لوگوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جو سندھ کے راجہ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس لئے محمد بن قاسم سے قبل بھی حجاج بن یوسف نے دو فوجی مہمات روانہ کیں جو کامیاب نہ ہو سکیں۔

اس کے بعد وادی سندھ اور عرب ملوکیت میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور عرب کے تجارتی جہازوں کو بھی بحیرہ عرب میں اپنی تقل وحمل میں مسئلہ پیدا ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب پوری دنیا میں عرب لشکروں کی پیش رفت جاری تھی اور غلاموں اور کنیزوں کے کاروبار کو اہم ترین کاروبار کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ اس لئے یہ افسانہ کہ حجاج بن یوسف کسی مظلوم عورت کے نوحے پر ایک فوجی مہم روانہ کر رہا تھا۔ ایک دلچسپ بات ہے کہ اسے مکہ معظمہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی اور صحابی رسولؐ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ جنابہ اسما کا نوحہ اور اجتجاج نظر نہیں آیا جو انھوں نے اپنے بیٹے، صحابی رسولؐ اور ام المومنین حضرت عائشہ کے منہ بولے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو سولی سے نہ اتارنے پر پڑھا تھا۔

بہر حال محمد بن قاسم کی ذاتی خوبیاں کتنی ہی بڑھا چڑھا کر بیان کی جائیں، یہ حقیقت ہے کہ اسلام اس کی آمد سے پہلے وادی سندھ میں موجود تھا اور محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ اسلام کی تبلیغ کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ عرب ملوکیت کے مفادات کے تحفظ کے لئے تھا اور اس کا ایک مقصد عرب کے تجارتی راستے کو محفوظ بنانا تھا اور دوسری طرف بنو امیہ کے ان مخالفوں کو گرفتار کرنا تھا جو سندھ میں پناہ لے چکے تھے۔

اس کے بعد جب سلیمان کا دور آیا تو اس نے پوری دنیا میں حجاج کے بھیجے لشکروں کے مظالم کی تحقیق کی اور اسی لئے اس نے سندھ سے محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے بلایا اس کے مظالم کی وجہ سے اس پر خلیفہ کے مقرر کردہ قاضی نے مقدمہ چلایا اور اسے سخت سزا دی۔ یہ ساری باتیں ہم تاریخ سے حذف کر دیتے ہیں سلیمان کو ایک طرف ہم اس بات پر داد دیتے ہیں کہ اس نے اپنے جانشین کے طور پر عمر بن عبدالعزیز کو نامزد کیا تو دوسری طرف ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے عرب ملوکیت کی فتوحات کو بریک کیوں لگادی اور فاتحین کے مبینہ مظالم، کرپشن اور بے اعتدالیوں کو معاف اور نظر انداز کرنے کی بجائے مقدمے کیوں چلانے شروع کئے۔

تاریخ کو اگر دیکھنا ہے تو پورا دیکھیں اس کو اس طریقے سے مت لیں کہ اپنے پسندیدہ واقعات کو اپنا لیں اور پورے تناظر کو نظر انداز کردیں۔ وادی سندھ میں اسلام صوفی دانشوروں کی پرامن مساعی کی وجہ سے پھیلا اور کسی راجے نے ان کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالی۔ عرب حملے کی وجہ عرب ملوکیت کے مفادات تھے جبکہ اس کے بعد وسط ایشیا اور افغانستان کے حملہ آوروں کا مقصد بھی ان کی مالی ضروریات تھیں۔ اس کا اسلام کے ساتھ جوڑنا اور ان حملہ آوروں کو عظیم مسلم ہیرو بنا کر پیش کرنا ایک غلط عمل ہے اور یہ دشمنوں کے اس موقف کی تائید کرنے والی بات ہے کہ اسلام کو ظالم جکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے دنیا میں تلوار کے ذریعے پھیلایا۔


Comments

FB Login Required - comments