پروفیسر ہود بھائی سے ڈرتے ہو؟


چند روز قبل ہی محترم ڈاکٹر پرویز ہو بھائی کا کالم ”سائنس کی درسی کتابوں میں سائنس پڑھائی جا رہی ہے کہ دینیات؟“ شایع ہوا ہے۔ اس کے بعد جو ان پر کفر کے فتوے جاری کیے جارہے ہیں، وہ اس ملک میں کوئی نئی بات اس لیے بھی نہیں ہے کہ جس ملک کے بعض افراد اپنے قائد کو کافر اعظم قرار دے سکتے ہیں۔ اگر وہ ڈاکٹر عبدالسلام جیسے سائنسدان کو کافر قرار دے کر اسے ملک سے جلاوطن ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں تو ڈاکٹر پرویز ہودبھائی اسی صف میں کیوں نہیں آ سکتے؟

ان کا مضمون شایع ہوتے ہی دیسی ملاؤں سے لے کر بدیسی ملاؤں تک کے سینوں میں ایسی آگ بھڑک اٹھی ہے کہ خدا کی پناہ۔ ہر کوئی خود کو ”دیندار اور پارسا“ ثابت کرنے کے لیے میدان میں اتر آیا ہے مگر کوئی اس سچ کو ماننے کو تیار نہیں ہے جو ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے اپنی تحریر میں بیان کیا ہے۔

سائنس ایک سچائی ہے، جسے اوریا مقبول جان جیسے ”اعلیٰ دماغ“ رکھنے والے جھوٹ کہتے ہیں۔ آج ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں اور ہر اس آسائش کا مزا لے رہے ہیں جس کا صرف خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا تو یہ سب سائنس کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ یہ وہی سائنس ہے جس کی مختلف ایجادوں کے بارے میں ہمارے مذہبی ٹھکیداروں نے فتوے جاری کیے تھے۔ جب جرمنی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا تو ایسے ترکی جیسے ملک نے اس لیے اپنے ہاں قبول نہیں کیا کہ وہ سمجھے تھے کہ یہ ایک غیر اسلامی ایجاد ہے اور اس کا استعمال کفر کے زمرے میں آتا ہے۔ اور کئی دہائیوں تک پرنٹنگ پریس ترکی میں ممنوع رہا۔

ہم جتنی نفرت سائنس کی سچائی سے کرتے ہیں اگر اس کی چوتھائی بھی قبول کرتے تو آج ہم ذہنی طور کچھ اور ہوتے اس طرح ایک پروفیسر کو دشنام کا نشانہ نہ بناتے۔

ہمارے اسکولوں میں سائنس کے لیے کتنی جگہ ہے؟ بلکہ ہمارے ہاں اسکولوں کو تو چھوڑیں اس ملک میں تو مدرسوں کے لیے بہت جگہ ہے مگر دیگر تعلیمی اداروں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اور اگر کہیں اسکول قائم بھی ہیں تو وہاں پڑھانے والوں کے دماغ بند ہیں۔ ان کے دماغوں پہ عقائد اور اوہام کے پردے چڑھے ہوئے ہیں۔ جہاں علم کی بجائے جہالت کا درس دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ان کے لیے ایسی خبریں کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ کائنات کی الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانا کوئی اتنا مشکل کام نہیں رہا اور کائنات میں کیا کیا ہو رہا ہے، یہ جاننا اب اتنا مشکل نہیں رہا ہے۔ اس وقت دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے، ایک انتہاپسندی کی دنیا ہے اور دوسری سائنس کی دنیا ہے۔ سائنس دنیا کے لیے آسائشیں پیدا کرنے، کائنات کے اندر جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے مگر انتہاپسندی والی دنیا میں انسان کی تذلیل کرکے اس کا خون بہا کر اسے قتل کیا جا رہا ہے۔ ہم آج بھی پھلوں، سبزیوں، اور جانوروں کی کھالوں پہ مقدس نام ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔

آج بھی کتنے ہی سائنسدان ”برونو کو سائنس“ کا شہید کہتے ہیں۔ برٹالٹ بریخت نے اپنے ڈرامے گلیلو میں برونو کے اس خیال کا ذکر کیا ہے۔ جس میں وہ کائنات ٹٹولنے کی بات کرتا ہے۔ جس سماج میں سائنس کو جگہ نہیں ملتی وہاں انتہاپسندی جنم لیتی ہے۔ ہم اپنے ہی سماج کو دیکھیں ہم کیا کر رہے ہیں۔ مگر سائنس ایسے ہی اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ جس طرح فتویٰ دینے والے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔

کن حضرات کا ماننا ہے کہ پروفیسر صاحب اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتے وہ فزکس کے پروفیسر ہیں اس لیے فزکس ہی پڑھاتے رہیں، زیادہ تبلیغی نہ بنیں۔ ایک انسان جو پیشے سے استاد ہے۔ وہ اگر نصاب کی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے تو کون سا انہوں نے اپنے شبعے سے ہٹ کر بات کی ہے۔ کسی بھی اچھائی کا حصہ بننے کے لیے نہ تو کسی ڈگری کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان لوگوں کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے جو خود کو افلاطون سمجھ بیٹھے ہیں۔ کیا کبھی کسی اسکول یا کالیج میں یہ ہوا ہے کہ کسی مذہبی کتاب میں الجبرا کے حوالے دیے گئے ہوں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہو کہ ساری الجبرا اس کے باہر نہیں ہے۔

ہر شبعے کے اپنے اپنے لوازمات ہوتے ہیں، اگر آپ انجینئر بننا چاہتے ہیں تو آپ کو انجینئرنگ پڑھنی پڑے گی، آپ میڈیکل سائنس پڑھ کر انجینئر نہیں بن سکتے۔ اسی طرح اگر آپ کو مذہبی اسکالر بننا ہے تو آپ کو مذہبی تعلیم حاصل کرنا پڑے گی۔ لہٰذا سائنسدان پیدا کرنے یا سائنسی معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے آپ کو سائنس لازمی پڑھنی پڑے گی۔ اور اگر ریاستی سطح پر سائنس سے ہمارا رویہ ایسا ہی ہے جیساکہ پرویز ہودبھائی نے بیان کیا ہے تو ہم کبھی بھی سائنس کو نہ اپنا سکتے ہیں اور نہ ہیں سائنس ہمیں اپنا سکتی ہے۔

مگر کیا ہمارے ہاں بسنے والے لوگوں کے ذہن اتنے کمزور ہیں کہ وہ ایک پروفیسر کی تحریر کو بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ شاید ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ آنے والے وقت میں جس تیزی سے سائنس کا طوفان پوری دنیا میں برپا ہو رہا ہے ہم شترمرغ کی طرح بنیاد پرستی اور انتہاپسندی کی ریت میں اپنی گردن چھپائے بیٹھے رہیں گے۔

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 16 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez