’وہ سب‘ بھی ’ہم سب‘ ہیں


khawaja kaleem

شاید بدھ کا دن تھا ۔ فیصل آباد سے واپسی پر اسلام آباد میں داخل ہو رہا تھا ، خبر ملی کہ وجاہت مسعود صاحب نے دنیا پاکستان کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ گو میرے لئے یہ کوئی انہونی نہ تھی کیونکہ کارکن صحافی اس صدمے سے دوچار ہونے کے لئے روزانہ تیار ہو کر گھر سے نکلتا ہے۔ تھوڑا افسردہ بھی ہوا کہ ایک کارکن صحافی ہونے کے ناتے ان ساری مصیبتوں سے میں کئی بار گز ر چکا ہوں جو کسی صحافی کو کسی ادارے سے نکلنے یا نکالے جانے کی صورت میں ایسے گلے لگتی ہیں جیسے برسوں بعد ملنے والی محبوبہ ’ٹھا ہ کر کے‘ سینے سے لگتی ہو۔ سچی بات ہے اس سب کے باوجود محسوسات میں وہ دکھ نہیں تھا جو کسی بھی انسان کے بے روزگار ہونے سے ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شے نظروں سے اوجھل ہو لیکن یقین ہو کہ گم ہونے کے باوجود انسان اس شے سے محروم نہیں ہوا بلکہ یہ گمشدگی عارضی ہے ۔ سفر میں ہونے کی وجہ سے فوری طور پر وجاہت صاحب یا دوسرے صحافی دوستوں سے فوری طور پر بات بھی نہ کرسکا اور بعد میں مصروفیت آڑے آگئی ۔ لیکن صرف دو دن بعد جو خبر ملی اس نے مجھے خوشی سے سرشار کر دیا۔ معلوم نہیں کیوں؟ حالانکہ اس میں میرا ذاتی طور پر کوئی مالی مفاد بھی وابستہ نہیں تھا لیکن ایک روحانی مسرت ضرور تھی جو ایک انسان کے سکھ سے دوسرے انسان کو ملتی ہے ۔اس خبر نے مجھے مجبور کیا کہ میں سارے کام چند منٹ کے لئے معطل کردوں ۔میں نے وجاہت مسعود صاحب کو فون کیا۔’ ہم سب‘ کے منظر عام پر آنے کی مبارک باد دی اور نیک خواہشات کااظہار کیا۔ وجاہت مسعود صاحب سے میری یاد اللہ بہت پرانی نہیں ہے۔ محترم رضی الدین رضی صاحب سے برسوں پرانا واسطہ ہے اور انہی کے مشورے سے جب میں نے ’دنیا پاکستان‘ میں لکھنا شروع کیا تو وجاہت مسعود صاحب سے تعلق بن گیا۔ اس تھوڑے سے عرصے میں جو میں سمجھ پایا ہوں کہ وجاہت مسعود ایک ایساانسان ہے جو اپنے نظریات پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے نظریے کو سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔
قریب چودہ برس پہلے کہ بات ہے جب میں نے قلم سے اپنا رشتہ جوڑا۔ رضی الدین رضی صاحب جنگ ملتان میں میگزین کے انچارج تھے ، میں نے سیر ت النبی ﷺ پر ایک کالم لکھا جس میں دنیا بھر کی بہت بڑی شخصیات جو کہ تمام کی تمام غیر مسلم تھیں ان کی حضور اکرم ﷺ کے بارے میں رائے کا جائزہ لیا۔ امید نہیں تھی لیکن رضی صاحب نے اس تحریر کو خصوصی اشاعت میں نمایاں جگہ دی جو عملی طور پر میری حوصلہ افزائی کا باعث بنی۔ اس کے بعد سے قلم اوررضی صاحب، دونوں سے ایک تعلق استوار ہوگیا۔ گو ملاقاتوں میں بہت طویل وقفے رہے لیکن باہم رابطے میں رہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک اخبار کے سنڈے میگزین میں میرا ایک سفرنامہ شائع ہوا تو رضی صاحب نے نیک تمناو¿ں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے قلم سے اپنا رشتہ برقرار رکھا‘۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں وجاہت مسعود سے رابطہ کروں اور ’دنیا پاکستان‘ کے لئے کچھ تحریر کروں ۔
پاکستان میں جب سے ذرائع ابلاغ نے ترقی کی ہے ،خاص طور پر ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوئی ہے تب سے عوام میں کافی آگہی پید اہوئی ہے لیکن ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ تجزیہ کار اور تبصرہ نگار کھمبیوں کی طرح پیدا ہوئے ہیں۔ بعض تو ایسے ’ سینئر تجزیہ نگار‘ ہیں کہ جن کی کل صحافتی زندگی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہے اور بعض کی تو یہ بھی نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لکھنے والوں کو کسی حوالے یا سفارش کے بغیر مناسب فورم ملنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ لیکن میں نے جب ’دنیا پاکستان‘ کے وجاہت مسعود کو اپنا تعارف کرایا تو کچھ دیر بات چیت کے بعد کہنے لگے ’ آپ کالم بجھوادیں، میں لگا دوں گا‘اور ہوا بھی ایسے ہی ۔ بعد میں جب بات چیت آگے بڑھی تو وجاہت صاحب نے نہ صرف حوصلہ افزائی بلکہ رہنمائی بھی کی۔ سو اس طرح ایک قلبی لگاو پید ا ہوا جس نے ’دنیا پاکستان‘ سے وجاہت مسعود کی علیحدگی پر مجھے افسردہ اور ’ ہم سب‘ کے آغاز پر خوش کر دیا۔ شاید یہی حسن سلوک ہے کہ جس کی بدولت صرف ایک دن میں بہت سے سینئر لکھاریوں کے ساتھ ساتھ نئے اور اچھا لکھنے والے بھی وجاہت مسعود صاحب کی زیر ادارت ’ ہم سب ‘میں متحد ہو گئے۔ کوئی بھی نیا ادارہ جب اپنا آغاز کرتا ہے تو سب سے پہلے جوبنیادی مسائل درپیش ہوتے ہیں وہ مالی معاملات ہوتے ہیں خاص کر ایک کارکن صحافی روپے پیسے کی اہمیت کو جانتے بوجھتے بھی بعض ادارتی معاملات پر سمجھوتے سے انکار کر دیتا ہے کیونکہ یہ اس کی پیشہ ورانہ دیانت اور کردا ر کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے اور خاص طور پر جب کوئی بڑا سیٹھ یا سرمایہ دار کسی صحافتی ادارے کی پشت پناہی نہ کرے تو اس کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ لیکن ’ ہم سب‘ کی اٹھان مجھے یہ بتا رہی ہے کہ جس طرح اتحاد کی طاقت نے دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں میں اس ادارے کو غائب سے حاضر کی دنیا میں لا کھڑ اکیا ہے اگر یہی اتحاد برقرار رہا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ سب بھی ’ ہم سب ‘پر رشک کریں گے جو آج ’ہم سب ‘ کا حصہ نہیں ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “’وہ سب‘ بھی ’ہم سب‘ ہیں

  • 14-01-2016 at 1:04 am
    Permalink

    واہ۔ بے ساختہ اور بہت عمدہ

Comments are closed.