عورت پر انگلی اٹھانے والے…. وقت کا فیصلہ سن !


ramish-fatima2تصویر کائنات کے رنگ وجودِ زن سے ہیں اور رنگ میں بھنگ وہ ڈالتے ہیں جنہیں رنگولی سے نفرت ہے، جن کا لباس سفید اور کرتوت سیاہ ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ عورت فاحشہ ہے، جنت سے نکلوا دیا، دامنِ یوسف ہو یا ہابیل قابیل، ہر جگہ فتنہ اسی عورت نے پھیلایا۔

قلوپطرہ کی مثال لائیں یا ازابیلا کی ، گناہ پہ اکساتی ہے، اداؤں سے دل لبھاتی ہے ، جذباتی ہے، جلدی غصہ کر جاتی ہے۔

یعنی عورت اتنی طاقتور ہے کہ جنت سے نکلوا دے، جو شکوہ نکالنے والے سے تھا ، وہ بھی عورت پہ ڈال دیا۔

ایسا ہے صاحبانِ عقل و دانش کہ عورت جذباتی ہے تو رشتے نبھاتی ہے، جذباتی نہ ہوتی تو کیا کسی سے روز تھپڑ کھا کر رات اسی کی پہلو نشین ہوتی؟جہاں چھوڑ کے جا سکتی تھی وہاں اولاد کو پاﺅں کی زنجیر کیوں بنا لیتی ہے؟ اور اگر چلی جائے تو آپ نے خبر ہی لگانی ہے پانچ بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار۔پانچ بچوں کا باپ کیوں آشنا کے ساتھ فرار نہیں ہوتا؟

یہ بھی کیا جذباتیت ہوئی کہ کاری کی جائے تو بھی محبت کرنا نہیں چھوڑتی؟ کیوں بھول جاتے ہیں وہ کچے گھڑے کہ دریا پار ہماری جذباتیت نے ہی کرائے اور آپ دوسرے کنارے پہ منتظر ہی رہے۔کہیں مردوں کے جھگڑے میں ونی دی جائے تو بھی چل پڑتی ہے، کہیں قرآن سے بیاہی جائے تو بھی زندہ رہتی ہے۔

کسی کی بہن سے دن بھر میسجنگ کرنے والے اپنی بہنوں کے موبائل چیک کرتے پائے جاتے ہیں۔ کتنی بہنیں ہیں جو غیرت کے نام پہ جلدی غصے میں آئیں گی اور اپنے بھائی کو قتل کر ڈالیں گی؟ کتنی عورتیں ہیں جو اپنی جذباتیت میں آ کر تیزاب پھینکنے کے الزام میں گرفتار ہیں ؟ کہاں ہم نے بولی لگائی اور آپ کا جسم بیچا؟ کہاں نوچا ہم نے آپ کو؟ دکھائیں وہ وحشت کے نشان جسے سرخی پاوڈر تلے چھپائے پھرتے ہیں؟

کتنی ہی عورتیں ہیں جو آئے روز دست درازیوں پہ چپ رہتی ہیں؟ اگر یہ بول پڑیں تو سوچا ہے کتنی دستاریں اچھالی جائیں گی؟ وہ اسکرین شاٹ جو آپ دوسروں کو دکھا کے اتراتے ہیں تب غیرت کہاں مر جاتی ہے؟ وہ عورت جس کے ساتھ آپ رات گزار سکتے ہیں دنیا کے سامنے اسے اپنانے سے کیوں شرماتے ہیں ؟

انکار کا حق آپ کے پاس ہی کیوں ہے؟ اگر ہم کہیں کہ ہم کوئی ڈھور نہیں کہ گلے میں مستقل رسیاں ڈالے رہیں تو ہم بے حیا، نظریاتی کونسل والے خلع کا حق بھی آپ کی مرضی سے عطا کریں۔آپ کہیں راستہ بدلنا چاہیں تو مذہب کا جواز تراشتے ہوئے دو کیا، چار بھی لے آئیں۔

اگر ہماری جسمانی ساخت مختلف ہے تو پھر ہمارے کرنے کے کام بھی مختلف ہیں؟

پھر تو مسئلہ ہی حل ہو گیا نا۔ عورت کمائے، گھر سنبھالے، ساتھ بچہ بھی پیدا کرے تو مطلب یہ کہ حرافہ آپ سے آگے نکل گئی کہ کفالت کا بوجھ سر پہ اٹھائے۔ بچہ پیدا کرنا ایسا کام ہے جس کا درد آپ کے ظرف میں نہیں تھا تو قدرت نے آپ کو نہیں نوازا۔ ورنہ یقین مانیں انتہائی بدمزہ کام ہے اپنی جان پہ کھیل کر آپ جیسوں کی نسل کو آگے بڑھانا۔لیکن وہ پھر بھی کرتی ہے کہ جذباتی جو ٹھہری۔

جذبات کا ایسا ارزاں مول بھی کہاں ہوتا ہو گا جو آپ کے بازار میں ہے۔

زن مرید ہونا گالی سے بھی بدتر ہے اور بیوی کو غلام سمجھنا ، مار پیٹ کرنا مردانگی کی روشن ترین مثال ہے۔ایک بل پاس ہوا ہے تو ایسا طوفانِ بدتمیزی اٹھا دیا کہ خدا کی پناہ۔ ارے رکو!
ابھی کونسا عملدرآمد ہو گیا کہ بہت سے قانون پہلے ہی سڑ رہے ہیں، استعمال نہ ہوئے۔

آپ کی بدتہذیبی پہ کیا گلہ کرنا کہ ’ہمارے لہو سے تر ہے قبائے خواجہ….‘ ۔ آپ تو بے ردا کرنے والے ہیں۔ کسی نے ایان علی پر حاملہ ہونے کا الزام لگانے والے پوچھا کہ اس نے کذب سے کام کیوں لیا؟ کیا کوئی اب پوچھے گا کہ شرمین عبید پر تہمت تراشنے والے کے پاس کیا ثبوت ہے ؟ آپ اتنا کچھ سہہ سکتے تو عورت ہوتے۔

ہماری پائل کی چھنکار آپ کو چبھتی ہے، ہماری ہنسی کی کھنک آپ کی سماعتوں پہ گراں گزرتی ہے، ہماری چوڑیوں کی چھن چھن آپ کو راغب کرنے کی کوشش ہے، ہماری خوشبو سے آپ کا نفس بے قابو ہوتا ہے، ہماری زلفِ پریشاں سنوارنے کو آپ کی انگلیاں بے چین رہتی ہیں،ہماری آنکھوں کی مستی آپ کو ستاتی ہے، ہمارے ہونٹوں کی ہنسی تکلیف دیتی ہے، ہمارے قہقہے کی آواز آپ کا دل جلاتی ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کتاب ہو تو آپ کتاب کے دشمن ہیں۔ ہم قلم اٹھائیں تو آپ چاہتے ہیں بس آپ ہی کا قصیدہ لکھا جائے، ہم اگربات کریں تو آپ کے حق میں کریں، صاحب بات یہ ہے کہ آپ چاہتے ہیں سانس لینے کے لیے بھی آپ سے اجازت لی جائے۔

ہم آدھے، ہماری گواہی آدھی، ہمارا وجود آدھا، ہماری وراثت آدھی، اور اس آدھے ادھورے وجود نے تمہیں اتنی مشکل میں ڈالا ہے کہ تم سے اپنا آپ سنبھالے نہیں سنبھل رہا؟
ہم بد تہذیب، ہم بے حیا، ہم فاحشہ ، ہم بدکار…. تم پہ بات آئے تو خطاکار ، سیاہ کار ، بے کار …. بس مذہب کا لبادہ اوڑھے ہماری تذلیل کرتے پھرو۔

ہم روشنی ہیں جو تمہاری آنکھوں کو چبھ رہی ہے اور تاریکی مٹا رہی ہے۔ ہم سراپا محبت ہیں کہ جو دروازے تم نہیں کھول سکتے، وہ ہم نے کھولے۔ ہم اعلی ظرف ہیں کہ اختلاف پہ تمہیں گولی نہیں مارتے۔

ہم ملالہ ہیں، شرمین ہیں، نرگس ماول والا ہیں، پروین رحمان ہیں، سبین محمود ہیں، روتھ فاﺅ ہیں ، انجیلا مرکل ہیں، ارے ہم بے نظیر ہیں…. ہم بامراد ہیں اور …. یہی وقت کا فیصلہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “عورت پر انگلی اٹھانے والے…. وقت کا فیصلہ سن !

  • 27-02-2016 at 2:46 am
    Permalink

    ramesh fatima bahut khoob.. sach krwa hota hy, inn ko sach sunni ki adat dalni ho gi.

  • 27-02-2016 at 5:14 am
    Permalink

    Excellent Ramis Fatima, i have no words to praise your words, your thought your style. All superb. Keep writing

  • 27-02-2016 at 10:37 am
    Permalink

    Ramish dear, kyoun in logon ki rozi roti k peche pari ho. Ye agar intshar nahi phelayen ge tu fund milna band ho jae ga. In se behas karna in ka rate barhana hea. Tum apna kam karo, logon ki zindigian bchao. Behas mat karo, wese bhi in k elawa baqi sub kafir hean.

  • 27-02-2016 at 10:45 am
    Permalink

    You are a wonderful writer Ramish! I am impressed by your maturity in your words! We see so much of oppression of women in our country that it has become a norm to accept all the injustices as a part of being a woman! It’s time that we women know our basic human rights, our place in society and our value in our religion! It is refreshing to see that our young generation does not shy away from focusing light on the very important subject of women’s rights as a human being! Keep it up

  • 27-02-2016 at 3:34 pm
    Permalink

    رامش آپ کی تحریر کی کاٹ ہر نیے بلاگ کے ساتھ بڑھ رہی ہے….یہ تحریر بہت خوب ہے….میٹھی چھری سب کچھ چیر پہاڑ….اپنی ہاؤس جاب سرجری میں کر رہی ہو کیا.

  • 27-02-2016 at 4:25 pm
    Permalink

    بہت خوب رامش فاطمہ ، آپ نے کمال کا کالم لکھا ہے، خدا آپ کو برکت دے۔ بہت اچھا لگا آپ کا کالم پڑھ ۔

  • 27-02-2016 at 5:26 pm
    Permalink

    اس خوبصورت تحریر سے مجھے اے حمید کا ایک افسانہ “مٹی کی مونا لیزا” یاد آ گیا

  • 27-02-2016 at 5:56 pm
    Permalink

    Shamefully agreed!

  • 27-02-2016 at 10:32 pm
    Permalink

    Highly outstanding and mind blowing

  • 28-02-2016 at 7:59 pm
    Permalink

    عورت ،عورت کو کسی طرح نہ برداشت کرے،،چاہے بہو ،ساس،نند،یا بھابھی کا روپ ہو،،
    شوہر کو اپنی ماں جو کہ ایک عورت بھی ہے،،اس سے علیھدہ کرنے کے لیے روز فساد کھڑا کرے،
    ارے جناب جب مرد اتنی ظالم مخلوق ہے تو اسے پیدا کرنا بند کر دے ۔۔اس کا بھی تو ایک عورت کے ناطے اختیار اپکے پاس ہی ہے نا

Comments are closed.