ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں !


ranaمدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیغمبر کی امّت زلیخا کی بیٹی
ثنا خوان تقدیس مشرق کو لاو¿
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں !

ہندوستان کے عظیم شاعرساحرلدھیانوی کا یہ شہرہ آفاق قطعہ ہندوستان کی کوئی ستر، اسی برس قبل کی عورت کی مظلومیت کے بارے میں کہا گیا تھا، افسوس صد

افسوس کہ  سترسال کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا۔ اس خطے کی عورت آج بھی دنیا کی مظلوم ترین مخلوق ہے ۔

بظاہر خواتین کو آئین میں مردوں کے برابر حقوق تفویض کیے گیے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ اور سماج نہ صرف عورت کو برابر کی جنس ماننے سے انکاری ہے بلکہ اس پر ہر قسّم کا تشدد جو کہ قبل از اسلام غلاموں کے ساتھ کیا جاتا تھا، اس کو جائز سمجھتا ہے۔

اس میں جہالت اور بے علمی کا تو قصور یقینا ہے لیکن اس میں بہت بڑا حصّہ ان نام نہاد مولویوں اور خود ساختہ مفتیان کا بھی ہے۔ پاکستان کے ان فسادی مذہبی عناصر کا مکروہ چہرہ دیکھیں جودن رات عورت کو مرد کے مقابلے کم تر ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، کیا ہم بھول گئے ہیں کہ اسی مولوی اور مفتی نے محترمہ فاطمہ جناح اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو ووٹ دینا اسلامی شریعت کے خلاف قرار دیا تھا اور فتویٰ دیا تھا کہ جو خاتون کو ووٹ دے گا، اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔

ہمارے اس نام نہاد مہذب معاشرے میں کونسا ظلم ہے جو عورتوں کے ساتھ نہیں ہوتا غیرت کے نام پر قتل سے لے کر تیزاب پھینکنے تک کمسنی میں شادی، بے جوڑ شادیاں، زنا بالجبر اور زندہ عورتوں کو دفن کردینا ابھی چند سال پہلے کی بات ہے، پیدا ہوتے ہی بیٹیوں کو قتل کردینا کون کہتا ہے کہ یہ معاشرہ اسلامی ہے۔

یہاں کی عورت تو قریش مکّہ کے قبل از اسلام معاشرے سے بھی بدتر حالات کا شکار ہے. پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں تو صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، ان دگرگوں حالات میں حکومت پنجاب نے ایک انتہائی مستحسن قدم اٹھایا ہے ۔ تحفظ نسواں کا نیا قانون، خدا کرے کہ ہمارے ارباب اختیار اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرواسکیں، پاکستانی مولوی اور مفتی کبھی اس کی حمایت نہیں کریں گے ، یہ مذہب کی آڑ لے کر اس کی مخالفت کریں گے کیونکہ یہ مخلوق خود شاید کسی ماں کے بطن سے پیدا نہیں ہوئی، شاید آسمان سے ٹپکی ہو یا زمین سے اگائی گئی ہو۔

کل ایک ٹیلیویژن پروگرام میں مفتی نعیم صاحب نے جو ہرزہ سرائی کی، موصوف کو توخواتین کے ساتھ یا ان کے بارے میں بات کرنے کی کی بھی تمیز نہیں، یہ کیسے لوگوں کو عورتوں کا احترم سکھائیں گے۔

کیا ان حضرات کے گھروں میں مائیں بہنیں اور بیٹیاں نہیں ہیں کیا یہ ان کے لیے بھی ایسے ہی کلمات استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کے مقتدر حلقوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب تک ہم ان ملاو¿ں سے اپنے معاشرے کو آزاد نہیں کروائیں گے ہم ایک مہذب اور روشن خیال قوم نہیں بن سکتے.

پاکستان کی نصف آبادی عورتوں پر مشتمل ہے، آج کے دور میں اس مظلوم اکثریت کو دبا کر نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں یکساں مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ مردو زن مل جل کر نہ صرف ملک کی خدمت کرسکیں بلکہ ایک صحت مند معاشرے اور خاندان کی تشکیل کرسکیں، یاد رکھیے عورت ہر اعتبار سے قابل احترام ہے اور اس کا ہر روپ اللہ کی رحمت ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan