مفتی سیف اللہ ربانی سے مکالمہ


مفتی ali arqamسیف اللہ ربّانی کا تعلق معروف دینی درس گاہ جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کراچی سے ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ  کے سلسلے میں جامعہ بنوریہ جانا ہُوا۔ تو اس دوران مفتی ربّانی صاحب کے ساتھ کچھ دیر بیٹھنے اور عمومی معاملات پر گُفتگُو کا موقع ملا۔ گُفتگُو کے دوران میں نے ان سے مذہبی عدم برداشت اور فرقہ ورانہ مباحث کی کثرت کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے جواب میں ایک واقعہ سُنایا۔

مولانا احمد علی لاہوری جو ساٹھ اور ستّر کی دہائی کے نامور دیوبندی عُلماء میں سے تھے اُن کے ہاں اُس وقت کے ایک معروف اہل حدیث عالم مولانا داؤد غزنوی نے آنے کا قصد کیا اور اطلاع دے دی۔ اب دیوبندی مکتب فکر اور اہل حدیث میں بعض فقہی معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ جس میں نماز کے دوران سورہ فاتحہ کے بعد بلند آواز میں آمین کہنے کا معاملہ بھی ہے جسے آمین بالجہر کہتے ہیں۔ لاہوری صاحب  نے غزنوی صاحب کے آنے سے پہلے ہی اپنے شاگردوں، مریدین  اور دیگر مُتعلقین سے کہ دیا کہ چوں کہ آنے والے مہمان یعنی مولانا داؤد غزنوی اور ان کے ہمراہ دیگر افراد کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے ہے اس لئے جب وہ نماز میں
شریک ہوں تو سب آمین بالجہر میں اُن کا ساتھ دینا اور خاموش نہ رہنا۔ادھر مولانا غزنوی نے اپنے ہمراہ جانے والوں سے کہا کہ چوں کہ ہمارے میزبانوں کا تعلق حنفی دیوبندی مکتب فکر سے ہے اس لئے ان کے ہمراہ نماز پڑھتے ہوئے کوئی زور سے آمین نہیں کہے گااور احتراماً ان کے مسلک کی رائے کو اپنائے گا۔  اب جب یہ صاحبان اکٹھے ہوئے اور نماز کا وقت آیا تو لاہوری صاحب نے امامت کے لئے اصرار کرکے مولانا غزنوی کو آگے کردیا۔ اس دوران جب وہ سورہ فاتحہ پڑھ چکے تو مولانا لاہوری اور ان کے ساتھیوں نے زور سے آمین کہا لیکن مولانا غزنوی کے ساتھی چُپ رہ گئے۔

12316360_10208132069849728_7037458739535579850_nتو یہ تھا اُس زمانے کے معتبرعلماء میں باہمی احترام کا حال اب جہاں اس کے برخلاف لوگ عمل کرتے ہیں، کج بحثی اور جوتم پیزار بلکہ تشدد کی نوبت آجاتی ہے تو بھائی سیدھی سی بات ہے کہ اُن کے پیٹ کا مسئلہ ہے۔

پھر مولانا نے اپنے ذاتی عمل سے ایک مثال دی کہ اکثر  و بیشتر عُلماء سے لوگ جن عائلی یعنی گھریلو مسائل، میاں بیوی کے درمیان معاملات کے سلسلے میں رُجوع کرتے ہیں جن میں سرفہرست ایک ساتھ تین طلاقوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ اب اگر اہل سُنت علماء کی آراء کو دیکھا جائے تو بہ یک وقت تین طلاقوں کی صورت میں رجوع یا واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا اور علیحدگی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے لیکن ذاتی طور پر میں اس معاملے میں اہل حدیث مسلک سے رجوع کا مشورہ دیتا ہوں اور ایسے لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ کسی اہل حدیث عالم کے پاس چلے جائیں اور اُ ن سے فتوٰی لے لیں کیوں کہ اُن کے ہاں ایک وقت میں جتنی بھی طلاقیں دی جائیں وہ ایک ہی طلاق گنی جاتی ہیں اور رجوع کی صورت برقرار رہتی ہے لہذا علیحدگی کے مضمرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور پھر حلالے کی جو صورتیں تجویز کی جاتی ہیں وہ  اکثر غلط ہوتی ہیں اور میں ذاتی طور پر اسے ناپسند بھی کرتا ہوں اس لئے اس سے بہترہے کہ وہ اہل حدیث عالم سے رائے لے کر اپنا گھربھی بچالے اور کسی شعبدہ باز کے کہنے میں آکر حلالے کی مروجہ صورتوں سے محفوظ رہے۔

میں نے مولانا کی اس رائے کو آگے نقل کرنے یا تحریری صورت میں لانے کی اجازت چاہی جو انہوں نے ازراہ عنایت دے دی اسی لئے یہاں تحریر کررہا ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مفتی سیف اللہ ربانی سے مکالمہ

  • 27-02-2016 at 8:13 pm
    Permalink

    میرا سوال مفتی صاحب سے ہے کہ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ حنفی علماء اب اپنی رائے سے رجوع فرما کر آج کل کے لوگوں کے مزاج کو دیکھتے ہوئے طلاق کے اس گھمبیر مسئلہ کو حل فرمائیں اور تین طلاق کو ایک ہی قرار دیں. آخر کیا وجہ ہے کے پچھلے فقہاء کی راءے سے حالات کےبدلنے کی وجہ سے بھی رجوع نہیں کیا جاسکتا؟

Comments are closed.